بچوں کا گھر اور میڈ(این جی او) کا ڈریم کیمپ

dream-camp
بچوں کا گھر میں میک اے ڈفرینس (میڈ) این جی او گزشتہ دس برس سے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنے رضاکاروں کے ذریعہ اہتمام کرتے آ رہے ہیں ۔ میڈ کے رضاکار بچوں کو اسکولی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت کی ترقی کے لئے ورکشاپ کا بھی اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ اسی کوشش کی ایک اہم کڑی ہے ڈریم کیمپ جس میں پچھلے آٹھ برس سے بچوں کا گھرکے بچے شامل ہو رہے ہیں۔ چند روز قبل گریٹ ہیریٹیج ریزورٹ گریٹر نوئیڈا میں دو روزہ ڈریم کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس ڈریم کیمپ میں بچوں کا گھر کے 80بچوں نے حصہ لیا اور کھیل کود ، ڈرامہ اور مختلف پروگرام کے ذریعہ اپنی شخصیت کو پیش کیا۔ ان بچوں کے لئے یہ ڈریم کیمپ حقیقت میں ایک خواب ہی تھا جو پورا ہو گیا۔ اس تین ستارہ ریزورٹ میں بچوں کو رہنے کے لیے بہترین کمرے، لذیذ پکوان، سوئمنگ پول و کھیل اور تمام تر آسائشیں فراہم کرائی گئیں۔ جس سے بچے بہت لطف اندوزو مطمئن ہوئے ۔ اس ڈریم کیمپ میں بچوں کا گھر کی منتظمہ کمیٹی کے رکن مسرورالحسن صدیقی (ایڈوکیٹ) نے بچوں کے ساتھ شرکت کی ۔ میڈ نے مسٹر صدیقی کی عزت افزائی کرتے ہوئے ان کے ہاتھوں کیمپ کا رسمی افتتاح ربن کٹوا کر کرایا۔
اس موقع پر مسرور الحسن صدیقی( ایڈوکیٹ) نے میڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بچوں کا گھر اور میڈ کی مشترکہ کاوشوں سے بچوں کی تعلیم و تربیت میں نمایاں کار کردگی نظر آ رہی ہے اور ہم بچوں کو ایک بہتر مستقبل فراہم کرانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ یہ بہت بڑی بات ہے کہ یتیم بچوں کو تین ستارہ ریزورٹ میں وقت گزارنے کا موقع مل رہا ہے۔ جو ان کے لئے ایک خواب ہی ہے۔بچوں کے لئے قیام و طعام فراہم کرنا ہی سب کچھ نہیں بلکہ ان کی شخصی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ وہ باہر کی دنیا دیکھیں اور مختلف شعبوں کے لوگوں سے ملیں اور اس کام میں میڈ این جی او اور اس کے رضاکار بخوبی بچوں کا گھر کو تعاون فرما رہے ہیں۔ مسٹر صدیقی نے بتایا کہ اس ڈریم کیمپ میں جانے کے لئے بچے بہت پہلے سے ہی تیاری کر رہے تھے۔ ڈریم یمپ پہنچ کر انہوں نے اس کے ایک ایک لمحہ کو خوشی سے جیا اور میڈ این جی او کے رضاکاروں کے ذریعہ کرائی گئی مختلف ایکٹوٹیز میں حصہ لیا سبھی کی واہ واہی حاصل کی۔
میڈ این جی او کے رضاکاروں نے بات چیت میں بتایا کہ وہ بچوں کا گھر کے بچوں کے برتاؤ ، ان کے رکھ رکھاؤ ، صفائی ستھرائی اور بڑوں کا ادب کرنے کے طریقہ سے پوری طرح مطمئن ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ہی ڈریم کیمپ وہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں مختلف یتیم خانوں و چلڈرن ہوم کے بچوں کے ساتھ لگاتے ہیں مگر بچوں کا گھر کے بچے سب سے بہتر اورمنفردہیں ان میں ہر وقت کچھ نیا کرنے اور سیکھنے کی لگن نظر آتی ہے۔ڈریم کیمپ کے اختتام پر مسٹر صدیقی نے میڈ این جی کی ڈائرکٹر مس لائے نیلسن اور کارڈینیٹر مس شریااور سبھی رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ میڈ اور بچوں کا گھر کی زیرِ اشتراک یہ مہم آگے بھی چلتی رہے اور بچوں کو بہتر انسان بنانے کے مشن میں ہمیں ہمیشہ کامیابی حاصل ہو ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *