بینجورین یونیورسٹی ، اسرائیل میں تحقیقی مقالہ پیش کریں گی دربھنگہ کی انعم

Anam
دربھنگہ:دربھنگہ کی انعم (ساکن محلہ چک رحمت ، بھیگو ، دربھنگہ) اسرائیل کے بینجورین یونیورسٹی میں اسرائیل۔فلسطین کو امن کا راستہ بتائیں گی۔ وہ اس بات کو لے کر کافی پرجوش ہیں کہ اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرنے جارہی ہیں۔ یہ پروگرام اسرائیل کے سترہویں یومِ قیام کے موقع پر منعقد ہونے والے عالمی کانفرنس کا حصہ ہے۔ ’’اسرائیل۔فلسطین مسائل کے حل میں ادب کا کردار ‘‘ کے موضوع پر وہ اپنا تحقیقی مقالہ پیش کریں گی۔ یہ تحقیقی مقالہ انعم نے دسمبر ۲۰۱۷ء میں بھیجا تھا جسے منظور کرلیا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں حصہ لینے کے لئے انھیں 500؍ امریکی ڈالروں کا وظیفہ بھی دیا گیا ہے۔ اسرائیلی سفارت خانہ نے انعم کو ویزا جاری کردیا ہے۔ 14؍ سے 16؍ مئی 2018ء تک بینجورین یونیورسٹی کے کانفرنس میں حصہ لینے کے بعد وہ یروشلم جائیں گی جہاں دنیا کی معروف درس گاہ تل ابیب یونیورسٹی میں دانشوروں کے ساتھ مذاکرہ میں حصہ لیں گی۔
واضح ہو کہ اسی سال مارچ میں اسرائیل حکومت کی معروف اسکالرشپ ’’اسکالر شپ مڈل ایسٹ اسٹڈیز ‘‘کے لئے بھی ان کا انتخاب ہوچکا ہے۔ انعم فی الحال دی انگلش اینڈ فارن یونیورسٹی حیدرآباد (اِفلو) میں انگریزی ادب میں تحقیق کر رہی ہیں۔ ان کا تحقیقی مقالہ یہودی قلم کار سینڈی تولان کی مقبول عام کتاب ’’الیمنٹری‘‘ (مطبوعہ ۲۰۰۶ء)پر مبنی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے اسرائیل۔فلسطین کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے مشترکہ پرامن مستقبل کی جانب اشارہ کیا ہے۔ انعم نے کہا کہ کوئی بھی شخص جب اپنے ماضی کو یاد کرنے لگتا ہے تو وہ ایک مثبت حالت میں ہوتا ہے۔ ان حالات میں سخت سے سخت مسائل کا حل بھی بہتر طریقے سے نکالا جاسکتا ہے۔
انعم نے یہ بھی بتایا کہ سال2010ء میں میٹرک کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے وہ پٹنہ چلی گئیں ۔ اسی سال ستمبر میں ان کی دادی کا انتقال ہوگیا۔ بچپن کے ایک سانحہ کا ذکر کرتے ہوئے انعم نے کہا کہ لیموں توڑتے ہوئے کانٹا چبھا اور دادی نے ایک کہانی سنائی جو اب تک مجھے یاد ہے۔ جب کتاب ’’لیمن ٹری‘‘ کے تجزیہ کا وقت آیا تو بچپن کا وہ واقعہ یاد آیا اور اس سے متاثر ہوکر میں نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان انسانی رشتوں پر تحقیق کرنے کا ارادہ کرلیا۔ انعم کے والد پروفیسر ایم نہال (ڈائریکٹر ،ڈبلیو آئی ٹی ، ایل این ایم یو ، دربھنگہ) اور والدہ محترمہ شبینہ نسیم اپنی بیٹیوں کی ترقیوں سے کافی خوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انعم سماج کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *