اے ایم یو: علم و دانش کے محاذ پر عالمی قیادت کے سنہرے مستقبل کی جانب گامزن

VC-AMU
ملک کی پانچ ممتاز یونیورسٹیوں میں شمار کئے جانے اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یوجی سی) کے ذریعہ دوئم زمرہ (Category II) کی خود مختاری عطا کئے جانے کے ساتھ ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے متعدد تعلیمی، ترقیاتی اور طلبہ پر مرکوز اقدامات کئے ہیں۔ یونیورسٹی کو نئے ریسرچ اسکالر ہاسٹل کے لئے 30؍کروڑ اور نرسنگ کالج کے لئے 20؍کروڑ روپئے دئے گئے ہیں ۔ صنعتوں کے نئے تقاضوں کو پورا کرنے اور تعلیم و تدریس میں نئے اقدامات کے لئے یونیورسٹی نے سبھی شعبوں کے نصاب تعلیم پر نظرثانی کی ہے اور مختلف مقبول عام تعلیمی پروگرام شروع کئے جانے کا منصوبہ ہے، جس میں چینی، فرانسیسی، چینی، ہسپانوی، روسی اور جرمن زبانوں میں پوسٹ گریجویٹ کورس اور ایم ووک، ایم ڈی ایس (پیڈیاٹرکس) جیسے کورسیز شامل ہیں۔ یہ سب پروفیسر طارق منصور کی مخلصانہ جدوجہد کا ثبوت ہے، جنھوں نے ایک سال قبل بطور وائس چانسلر اس عظیم تاریخی ادارے کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔
بطور وائس چانسلر پروفیسرطارق منصور نے آج ایک سال کی مدت پوری کرلی۔ انھوں نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ گزشتہ سال یونیورسٹی نے کئی محاذوں پر کامیابیاں حاصل کیں، لیکن ہمیں اس پر اکتفا نہیں کرنا ہے بلکہ اور بہتر کرنے کے لئے ہمیں مزید کوشش کرنی ہوگی۔
پروفیسر منصور نے کہاکہ اس دوران یونیورسٹی میں دو بڑے پروگرام منعقد کئے گئے جن میں بانئ درسگاہ سرسید احمد خاں کی دوصد سالہ تقریبات اور جلسۂ تقسیم اسناد شامل ہیں۔ انھوں نے کہاکہ یونیورسٹی کے ذاکر حسین انجینئرنگ کالج میں ایم ٹیک کورسیز کو نیشنل بورڈ آف اکریڈیٹیشن (این بی اے) کی توثیق حاصل ہوئی ہے، جب کہ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی) کو حالیہ این آئی آر ایف رینکنگ میں نواں مقام دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں جاری ٹائمس ہائر ایجوکیشن کی ایمرجنگ ایکنامیز یونیورسٹی رینکنگ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ہندوستان کی پانچویں بہترین یونیورسٹی قرار دیا گیا ہے ۔
جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں کارڈیالوجی سنٹر، اے آرٹی یونٹ، ڈسٹرکٹ اَرلی انٹرونشن سنٹر، اور لو وِژن کلینک کو فعال کیا گیا ہے اور پیڈیاٹرک کارڈیالوجی نیز کارڈیوویسکولر سرجری کی شروعات کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے مختلف کورسیز بشمول پی ایچ ڈی، ایل ایل ایم، بی اے۔ایل ایل بی، ایم ڈی پیتھالوجی، اور ریڈیوتھیریپی اور ویمنس کالج میں مختلف انڈرگریجویٹ کورسیز کی سیٹوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
واضح ہو کہ پروفیسر طارق منصور کی ذاتی دلچسپی اور کوششوں سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی، کالج آف نرسنگ، اور پیرا میڈیکل کالج کے قیام کو منظوری حاصل ہوچکی ہے اور یہ ادارے جلد ہی تعلیمی سرگرمیاں شروع کردیں گے۔
گزشتہ ایک برس میں یونیورسٹی نے طلبہ و طالبات کے کیمپس پلیسمنٹ کی سمت میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ریکرو فیسٹ اور دیگر کیمپس پلیسمنٹ مہم کے تحت ایچ ڈی ایف سی، وولٹاس، وپرو،لارسن اینڈ ٹیوبرو، ٹی سی ایس، مہندرا، ہیرو موٹرس اور ٹاٹا اسٹیل سمیت کئی قومی و بین الاقوامی کمپنیوں نے یونیورسٹی کا دورہ کیا اور ایک ہزار سے زائد طلبہ وطالبات کو ملازمت کے مواقع فراہم کئے۔
بین الاقوامی معیارات کے مطابق طلبہ کے درمیان رسائی حاصل کرنے کا ایک میزان اعلیٰ تعلیمی اداروں سے مفاہمت بھی ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لئے اے ایم یو نے بروکلن کالج آف سٹی یونیورسٹی آف نیویارک، مساچوسٹس جنرل ہاسپٹل یوایس اے، برونئی کی اسلام سلطان شریف علی یونیورسٹی، اور ملیشیا کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ساتھ مفاہمتی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کیمپس کو گرین کیمپس بنانے کے لئے متبادل توانائی کو فروغ دینے کے ساتھ ہی توانائی کی بچت کی سمت میں بھی کئی اقدامات کئے ہیں جن میں شمسی توانائی کی کئی یونٹوں کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ حکومت ہند کے ’نمامی گنگا مشن پروجیکٹ‘ میں بھی اے ایم یو نے سرگرم رول ادا کیا ہے۔
یونیورسٹی کے مختلف شعبوں اور سنٹروں میں جاری مختلف پروگراموں جیسے کہ یوجی سی کے ڈی آر ایس، سی اے ایس اور ڈی ایس ٹی پروجیکٹوں کی کامیابی کے ساتھ توسیع ہوئی ہے۔
ڈھانچہ جاتی سہولیات کی ترقی کے محاذ پر یونیورسٹی نے ویمنس کالج آڈیٹوریم، فیکلٹی آف لاء کے نئے اکیڈمک بلاک ، یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس، نئے اقامتی بلاک اور نئے ڈائلیسس یونٹ کی تعمیر و توسیع اور مرمت و تزئین کی ہے۔ اس کے علاوہ جے این ایم سی لائبریری کی ایئرکنڈیشننگ کے ساتھ ہی کالج میں نئے امتحان سنٹر کی تعمیر کی گئی ہے اور رائڈنگ کلب میں پانچ نئے گھوڑے شامل کئے گئے ہیں۔
یونیورسٹی اسکولوں کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور طلبہ و اساتذہ کے لئے سازگار ماحول تیار کرنے کی سمت میں کئی اقدامات کئے گئے ہیں جن میں اے بی کے اسکول میں نئے پرائمری بلاک کی تعمیر ،عبداللہ اسکول میں نئے کلاس رومس کی تعمیر اور پرانے کمروں کی تزئین، اے ایم یو گرلس سینئر سکنڈری اسکول میں کمروں کی تزئین، نئے ایڈمنسٹریٹیو بلاک کی تعمیر اور نئے کمپیوٹر لیب کا قیام، سید حامد سینئر سکنڈری اسکول میں کیمسٹری لیب کی تعمیر اور اے ایم یو سٹی گرلس ہائی اسکول میں وسیع پیمانہ پر تزئین کے کام شامل ہیں۔ یونیورسٹی میں 68؍کلاس رومس کو اسمارٹ کلاس رومس بنایا گیا ہے۔
یونیورسٹی میں آئی سی ٹی ڈیولپمنٹ کے محاذ پر ایل اے این (LAN) کے فروغ کے ساتھ ہی کور آئی فائیو اور کور آئی سیون پروسیسر سے لیس 400؍نئے کمپیوٹر حاصل کئے گئے ہیں ۔
ادب و ثقافت اور کھیل کود کے میدان میں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کی کامیابیاں قابل ستائش ہیں۔ یونیورسٹی ڈراما کلب اور ڈبیٹنگ کلب کی ٹیموں نے رانچی میں منعقدہ 33ویں آل انڈیا انٹر یونیورسٹی نیشنل یوتھ فیسٹیول میں نیشنل چیمپئن شپ کا خطاب حاصل کیا ، جب کہ انبالہ میں منعقد ہ نارتھ زون انٹر یونیورسٹی چیمپئن شپ میں ان ٹیموں نے فتح کا پرچم لہرایا۔ اس کے علاوہ کلچرل ایجوکیشن سنٹر کے مختلف کلبوں کے زیر اہتمام ’فلمساز‘ ، اِنسمبل، اِنّوویشیا اور آرٹ نِشے جیسے متعدد ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد کئے گئے۔
کھیلوں میں اے ایم یو کی رولر اسکیٹنگ جونئیر ہاکی ٹیم نے کروکشیتر میں منعقدہ 55ویں نیشنل رولر اِسکیٹنگ چیمپئن شپ جیتی، جب کہ رولر اسکیٹنگ ہاکی ٹیم ، چنڈی گڑھ میں منعقدہ آل انڈیا انٹر یونیورسٹی رولر ہاکی مقابلہ میں سکنڈ رَنر اپ رہی ۔
اے ایم یو کے طلبہ نے انٹرپریینئرشپ اور اِنّوویشن کے متعدد پروگراموں جیسے کہ روبوکون، اے یو وی چیلنج، راشٹرپتی بھون میں منعقدہ فیسٹیول آف اِنّوویشن اینڈ انٹرپرینئرشپ اور کوئمبٹور میں منعقدہ فارمولا ریسنگ کار مقابلہ میں اپنی شاندار موجودگی درج کرائی اور اپنے اختراعی پروجیکٹوں کے لئے انعامات حاصل کئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *