اے ایم یو طلباء یونین کے صبرو ضبط نے شرپسندوں کے عزائم توڑ دیئے

کسی بھی تعلیمی ادارے کو جب نقصان پہنچتا ہے تو اس کے مضر اثرات نہ صرف طلباء پر پڑتے ہیں بلکہ اس سے پوری قوم متاثر ہوتی ہے ۔مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ہو یا ملک کا کوئی بھی تعلیمی ادارہ ، وہ بلا تخصیص مذہب و ملّت وطن عزیز کے تمام طبقوں کے لئے نشان امتیاز اور سرمایہ افتخار ہوتے ہیں۔ایسے میں ان عناصر کو خاص طور پر بیدار ہونے اور حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو نشانہ بنارہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ 2 مئی کو بانی پاکستان محمد علی جناح کی ایک تصویر کو مسئلہ بنا کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جو کچھ بھی ہوا ،وہ قابل مذمت ہی نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کیلئے خطرناک اشارے بھی دیتا ہے۔
جس ماحول میں یہ ہنگامہ ہوا۔اس سے اشارہ ملتا ہے کہ شرپسند عناصر اس ایشو کو طول دے کر ہندو مسلم رنگ دینا چاہتے تھے مگر طلباء یونین کے صبر وتحمل کی وجہ سے یہ عناصر اس ہنگامے کو ہندو بنام مسلم یا جناح بنام قومیت میں تبدیل نہیں کر پائے۔ اے ایم یو کی طلباء یونین کے پیچھے وہاں کے اساتذہ کی دانشمندانہ قیادت تو کھڑی ہی رہی ، ملک بھر کی یونیورسٹیوں ، سماجی کارکنوں اور بیرون ملک سے بھی ان کی بھرپور حمایت کی جا تی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ مسئلہ ہندو مسلم تنازع کا رخ لینے کے بجائے سابق نائب صدر حامد انصاری کے وقار، ان کی حفاظت اور طلباء کی سیکورٹی تک ہی محدود رہ گیا ہے۔
اساتذہ نے تاریخ رقم کی
اے ایم یو کی تاریخ میں پہلی بار اساتذہ نے جلوس نکال کر صدر جمہوریہ کے نام مکتوب پیش کیا اور انصاف کی گہار لگائی ہے۔نیز اسی سلسلہ کے تحت اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی کا وفد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے بھی ملاقات کرچکا ہے اور اے ایم یو کے خلاف جاری سازش نیز 2 مئی کے کے حالات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ہندو یوا واہنی کے کارکنوںکے خلاف سخت قانونی کارروائی کے علاوہ ایف آئی آر درج کرانے جا رہے طلبا پرپولیس کی بربریت کی بھی شکایت کی۔دہلی صدر ایڈوکیٹ ارشاد احمد کے مطابق وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا گیاہے کہ جن پولیس افسران کے کہنے پر پولیس اہلکاروں نے اے ایم یو طلبا پر بربریت کی انتہا کردی تھی، ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے اور ہندو واہنی کے کارکنان اور ان کے ساتھ دینے والے دیگر افراد کی شناخت کرکے ان پر این ایس اے کے تحت گرفتار کرکے مقدمہ چلایا جائے اور طلباء پر لگائے جانے والے فرضی مقدموں کو بھی واپس لیا جائے۔
اے ایم یو کے اسٹوڈنٹس یونین ہو یا اولڈ بوائر ایسوسی ایشن ،اس سلسلہ میں سب کا رول مثبت اور صبر و تحمل سے بھرپور رہا ہے۔ ورنہ عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایسی صورت میں یورنیوسٹیوں میں طلباء مشتعل ہوکر توڑ پھوڑ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔مگر اے ایم یو کے طلباء نے جس طرح سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ،اس پر خود سید حامد انصاری نے اپنے ایک خط میں طلباء کی تعریف کی ہے اور اے ایم یو کے مطالبہ کو جائز ٹھہراتے ہوئے ہنگامہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے طلباء کو یہ بھی نصیحت کی کہ وہ کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے ان کی تعلیم متاثر ہو۔ البتہ انہوں نے اس خط میں کچھ تشویشات کا بھی اظہار کیا جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے بارے میں سب کو معلوم تھا جس میں انہیں طلباء یونین کی تاحیات رکنیت دی جانی تھی اور کینیڈی آڈیٹوریم میں ان کی ایک تقریر بھی شامل تھی۔پروگرام سے متعلق افسروں کو باضابطہ اس کی اطلاع دی گئی تھی اور وہ ایسے موقع پر ہونے والی سیکورٹی سمیت سبھی بندوبست سے باخبر تھے۔اس کے باوجود کیمپس میں داخل ہونے والے لوگوںکا یونیورسٹی گیسٹ ہائوس تک پہنچنا ایک راز بنا ہواہے ۔‘

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مسئلہ مخصوص ذہنیت کا
حالیہ واقعہ صرف محمد علی جناح کے بانی پاکستان ہونے کی وجہ سے رونماہواہو؟ ایسا نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ملک میںکچھ ایسی ذہنیت کے لوگ ہیں جن کو ہندوستان میں مسلمانوں کے وجود سے ہی چڑ ہے اور وہ ہر اس نشانی کو ملک سے کھرچ کر پھینک دینا چاہتاہے جس کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔چاہے ہندوستان کا مسلمان اس نشانی کو اپنا آئیڈیل مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اور چاہے ہندوستان کا مسلمان خود کو اس سے الگ تھلگ کرکے دیکھتا ہو۔
اسی ذہنیت نے نئی دہلی میں اورنگ زیب روڈکے نام پر ہنگامہ کھڑا کیا اور اس کا نام بدل کر اے پی جے عبدالکلام رکھ دیا گیا۔اس تبدیلی کا مقصد بھی یہی تھا کہ مسلمان مشتعل ہوکر رد عمل کا اظہار کریں مگر اورنگ زیب مسلمانوں کا کوئی آئیڈیل نہیں ہے لہٰذا کہیں سے کوئی رد عمل نہیں آیا اور یہ عناصر اپنے مقصد میں ناکام رہے۔اب یہی ذہنیت ان دنوں اکبر روڈ کے نام پر سوال کھڑا کررہی ہے اورغالباً اسی ذہنیت کے لوگوں نے جناح کی ایک تصویر کو لے کر اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا کیا ہے۔ورنہ سب کو معلوم ہے کہ جناح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی ممبران میں سے ہیں۔وہ ہندوستان میں ایسے چندلیڈروں میں سے ایک تھے جو آزادی سے پہلے ہندو مسلم اتحاد کی علامت کے طور پر جانے جاتے تھے ، لیکن بٹوارے کے بعد جو کچھ بھی ہوا ،اس کا بیان انتہائی تلخ ، تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے۔
مگر تاریخ کی حقیقت کو ہم مسترد نہیں کرسکتے۔ جناح تقسیم سے پہلے طلبا ء 1938 میںیونین کے تا حیات رکن بنائے گئے تھے اور یونین کے دستور کے مطابق تمام ایسے ارکان کی تصویر اسٹوڈنٹ یونین ہال میں لگائی جاتی ہے۔اسی دستور کے تئیں محمد علی جناح کی تصویر بھی لگی ہوئی ہے۔اس سے قومیت یا ذات برادری کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجے سنگھ جیسے دیگر بہت سے سیاست داں تصویر لٹکائے جانے کو جائز ٹھہراتے ہیں۔
سینئر کالم نویس کلدیپ نیر اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تعلیم و تعلم کا مرکز ہی نہیں ہے۔یہ مطالبہ پاکستان کی تحریک کی نمایاں محاذ پر تھا اور آج بھی اس کا میلان ہر اس بات کی طرف رہتا ہے جسے ملت کے لئے مفید تصور کیا جائے۔ اے ایم یو احاطے کے معروف ترین مقام کینی ہال کی دیوار پر محمد علی جناح کی تصویر باعث حیرت نہیں ہے۔یہ وہاں ملک کی تقسیم سے پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے لیکن تعجب مجھے اس پر ہے کہ وہ یکم مئی کو ہٹائی کیوں گئی اور تین مئی کو دوبارہ لگا کیوں دی گئی۔‘
اس تصویر کو لے کر کہ آج تک کوئی تنازعہ نہیں ہوا تو پھر اب کیوں؟دراصل یہ اس منصوبہ بند سازش کا حصہ ہوسکتا ہے جس کے تحت کچھ لوگ ہندوستان کو ’ہندو راشٹر‘ بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے کبھی جناح، کبھی نماز، کبھی گائے، کبھی ’لَو جہاد‘، کبھی بنگلہ دیشی مسلمان، کبھی روہنگیا، کبھی مسلمان راجائوں کے ہاتھوں ہندو عورتوں کی بے عزتی جیسے ایشوز اچھالے جاتے ہیں۔بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہندوستان آئے ہندئوں کو شرنارتھی اور مسلمانوں کو درانداز، اسی سازش کے تحت کہا جاتا ہے اور پھریہ مہم چلائی جاتی ہے کہ ایسے ہندئوں کو ہندوستان کی شہریت دے دی جائے اور ایسے مسلمانوں کو ہندوستان سے باہر نکال دیا جائے۔
علی گڑھ یونیورسٹی میں 2 مئی کو منصوبہ بند سازش کے پیچھے کرناٹک میں 12 مئی کو اسمبلی انتخابات اور اس کے بعد اترپردیش میں کیرانہ لوک سبھا سیٹ اورنور پور اسمبلی سیٹ کے لئے ہونے والے ضمنی انتخابات کو بھی بتایا جاتا ہے۔ تاکہ اس موقع پر بھی ہندو مسلم کارڈ کھیل کر الیکشن کو اپنے حق میں کیا جاسکے۔ اس کے لیے 80 سال قدیم جناح کی تصویر سے بہتر چیز اور کیا ہو سکتی ہے۔ دھیان دینے کی بات ہے کہ کیرانہ اور نور پور مغربی اتر پردیش میں ہیں اور علی گڑھ بھی مغربی اتر پردیش میں ہے۔ علی گڑھ میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا اثر کیرانہ اور نور پور میں فوراً پڑ سکتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی اسی مقصد سے یہ ہنگامہ کھڑا کیا گیا ہے تو یہ ہمارے ملک کی سیاست اور امن و آشتی کے لئے افسوسناک پہلو ہے کیونکہ اگر ہم اسی طرح تاریخ میں ویلن ڈھونڈکر تعلیمی اداروںکو ہراساںکرتے رہے تو اس سے نقصان ہمارے ملک کا ہی ہوگا ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *