اداکارہ مدیحہ گوہرکی خدمات ناقابل فراموش

MADEEHA-GAUHAR
اسٹیج اور ٹی وی کی معروف فنکارہ اور حقوقِ انسانی کی سرگرم کارکن مدیحہ گوہر 25 اپریل 2018ء کو 62 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ وہ گزشتہ 3 برس سے معدے کے کینسر میں مبتلا تھیں۔مدیحہ گوہر ایک پاکستانی ادا کارہ تھیں۔وہ 1956ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔مدیحہ نے 1978 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا، پھر مزید تعلیم کے لیے لندن چلی گئیں اور یونیورسٹی آف لندن سے تھیٹر کے فن میں ماسٹرز کیا۔مدیحہ گوہر کو زمانہ طالب علمی سے ہی ادکاری کا شوق تھا۔ وہ کینئرڈ کالج لاہور اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے ڈرامہ کلب کی بھی صدر رہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں  بزنس مین کی رفیقۂ حیات بننے والی اداکارائیں

 

1983ء میں پاکستان واپسی کے بعد انہوں نے1984میں اپنے خاوند، ڈراما نویس اور ڈائریکٹر شاہد محمود ندیم کے ساتھ لاہور میں’اجوکا‘ تھیٹر کی بنیاد رکھی تھی جو پاکستان کی صفِ اول کی تھیٹر کمپنی ہے۔ جہاں انہوں نے خود بھی اداکاری کے جوہر دکھائے اور متعدد اسٹیج ڈراموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔انہوں نے پاکستان کے علاوہ ہمسایہ ملک بھارت، بنگلہ دیش، مصر، ایران، امریکہ اور برطانیہ میں بھی اپنے تھیٹرز پیش کیے۔
خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم تنظیم ’اجوکا‘، ایشیا اور یورپ میں فعال ہے۔ مدیحہ گوہر کے اسٹیج ڈرامے سماجی اور معاشرتی حالات و واقعات پر مبنی ہوتے تھے۔ انہوں نے پاکستان سمیت بھارت، بنگلا دیش، نیپال سری لنکا اور برطانیہ کے بھی کئی تھیٹرز میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ فنکار ہونے کے علاوہ مدیحہ گوہر بطور سماجی کارکن بھی کام کرتی تھیں، خصوصاً حقوق نسواں کے لیے ان کی آواز ہمیشہ آواز بلند نظر آتی تھی۔ 2006ء میں انہیں نیدرلینڈ میں ’پرنس کلوڈ ایوارڈ‘ سے نوازا گیا اور 2007 میں انہوں نے ’انٹرنیشنل تھیٹر پاستا ایوارڈ‘اپنے نام کیا۔ مدیحہ گوہر کچھ عرصہ درس و تدریس کے ساتھ بھی منسلک رہیں تاہم سابق فوجی صدر ضیاالحق کے دور میں انہیں سرکاری نوکری سے برخاست کر دیا گیا تھا اور پاکستان ٹیلی ویڑن پر ان کے ڈراموں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
1956 میں پیدا ہونے والی مدیحہ گوہر کی پرورش ایک علمی اور ادبی ماحول میں ہوئی۔ ان کی والدہ خدیجہ گوہر خود بھی قلم کار تھیں۔ ان کے انگریزی ناول کا اردو ترجمہ ’امیدوں کی فصل‘ کے نام سے ہو چکا ہے۔مدیحہ کی بہن فریال گوہر ادب، آرٹ اور کلچر میں اپنا خاص مقام رکھتی ہیں اور شوہر شاہد محمود ندیم پاکستانی میڈیا کی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔مدیحہ گوہر کا لکھا اور پیش کردہ تھیٹر ’برقع وگینزا‘ نے خاصی شہرت حاصل کی تھی جس میں انہوں نے لوگوں کے دہرے معیار اور دہرے چہروں کو اپنا مرکزی خیال بنایا۔بہرکیف مدیحہ گوہر کے انتقال پربرصغیرکے ان کے ساتھی اداکار کے علاوہ مداح بھی غم میں مبتلا ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *