سول سروسز امتحانات میں 51مسلمان کامیاب

یوپی ایس سی سول سروسز کے نتائج کا گزشتہ جمعہ کواعلان کردیا گیا ۔ اس امتحان میں حیدرآباد کے دوری شیٹی انوپ نے ملک بھر میںٹاپ کیا ہے جبکہ ہریانہ کی انوکماری نے دوسرا مقام حاصل کیا ہے اور سچن گپتا آل انڈیا رینکنگ میں تیسرے نمبر پر آئے ہیں۔ یوپی ایس سی 2017 کے امتحان میں 990 امیدوار کامیاب ہوئے، جن میں750 مرد اور 240 خواتین شامل ہیں۔ سول سروسز 2017کے امتحان میں مسلم امیدواروں نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس بار5.15 فیصد کے حساب سے سب سے زیادہ 51 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹاپ 100رینک پانے میں بھی 6 مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان میں 3 مرد اور 3 خواتین شامل ہیں۔ سعد خاں نے 25 واں، سمیرہ ایس نے 28واں، فضل الحسیب نے 36واں، جمیل فاطمہ نے 62واں، حسین زہرہ رضوی نے 87واں اور آذر ضیاء نے 97واں مقام حاصل کیا ہے۔
حیرت انگیز کامیابی
مگرسب سے حیرت انگیز کامیابی ریاست کیرالہ میںایک یتیم خانہ کے مدرسہ کے فارغ شاہد ٹی کومتھ ہیں۔ یہ اس ریاست سے کل 33 مسلم و غیر مسلم امید وا روں میںسے ایک ہیں۔ 693 واںمقام حاصل کرنے والے شاہدٹی کومتھ نے اپنی محنت و لگن سے یہ ثابت کردیا ہے کہ خالص مدرسے میں پڑھنے والے بچے بھی سول سروسز کے امتحان میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اور سول سروینٹ بن سکتے ہیں۔
28 سالہ شاہد کیرالہ کے کوجھیکوڈ ضلع کے تروولّور گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ ان کے والد رحمان کوموسالیار مدرسے میںاستاد ہیں اور ان کی ماں سلیکھا ایک خاتون خانہ ہیں۔ گھر کی مالی حالت اچھی نہیں تھی۔ انھیںدس سال کی عمر میں کوجھیکوڈ میںکپّا میںایک یتیم خانہ کے مدرسے میںپڑھنے کے لیے مجبور ہونا پڑا، گویاانھیںمین اسٹریم اسکول میںتعلیم پانے کا موقع ہی نصیب نہیںہوا ۔ بارہ سال کی مذہبی تعلیم کے بعد وہ مدرسہ میںاستاد بن کر 6000 روپے ماہانہ تنخواہ پانے لگے۔ پڑھائی کے دوران ہی شاہد نے دسویںاور بارہویںکی پڑھائی کی اور ڈسٹینس لرننگ کے ذریعہ انگریزی کی ڈگری حاصل کی۔2012 میںڈگری حاصل کرنے کے بعد انھوںنے کچھ دنوںانڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل)کے ذریعہ چلائے جانے والے ملیالم روزنامہ ’چندریکا‘ میںکام کیا۔ صحافت کے میدان میںکام کرنے کے بعد انھیں باہری دنیا دیکھنے کا موقع ملااور انھوں نے اپنا کریئر بنانے کے لیے کوشش شروع کردی۔ آئی یو ایم ایل کے اسٹوڈینٹ ونگ ایم ایس ایف کے ذریعہ اسپانسرڈ دہلی میںکوچنگ کلاسیں کیں اورپھر وہ سول سروس کے امتحان میںکامیاب ہوگئے۔
مسلمانوںمیںبیداری بڑھی
ماضی کے دھندلکوں میںجھانکا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سول سروسز میںمسلمانوں کی نمائندگی بہت کم رہی ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزررہا ہے اور ملک کے سیاسی و سماجی حالات کروٹ بدل رہے ہیں، مسلمانوں میں بھی تعلیم کے تئیں کچھ بیداری آتی دکھائی دے رہی ہے ۔ 2013 سے اب تک کے ڈیٹا پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں میںرفتہ رفتہ سول سروس کے تئیں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ 2013 میں سول سروسز کے امتحان میں مجموعی طور پر 1122 امیدوار وں نے کامیابی حاصل کی تھی، جس میں 3.03فیصدکے حساب سے 34 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے۔ 2014 کے امتحان میں کل 1236 امیدواروں نے سول سروسزکا امتحان پاس کیا، جس میں 3.23 فیصد کے حساب سے 40 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے۔ 2015 میں مجموعی طور پر 1078 طلبہ نے سول سروسز کے امتحان میںکامیابی پائی۔ ان میں 37 مسلم طلبہ 3.43 فیصد کے حساب سے کامیاب ہوئے۔ 2016 میں کل1099 اسٹوڈینٹس نے اس امتحان میں کامیابی پائی، جس میں 4.54فیصد کے حساب سے 50 مسلم اسٹوڈینٹس نے کامیابی پائی۔ اور اس بار 2017 کے سول سروسز کے امتحان میں5.15 فیصد کے حساب سے 51 مسلم امیدوار وں نے کامیابی حاصل کی ہے، جو اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔
2011 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میںمسلمانوںکی کل آبادی 14.23 فیصد ہے لیکن تعلیم و وسائل کی کمی کی وجہ سے سرکار کی اہم خدمات میں مسلمانوں کی حصہ داری بہت کم ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سرکاری ملازمتوں میںمسلمانوں کی نمائندگی محض8.57 فیصد ہے۔ مسلمانوں کے حالات پر جسٹس سچر کمیٹی کی رپورٹ میں بھی بتایا گیا تھا کہ سول سروسز میںمسلمانوں کی نمائندگی صرف 3 فیصد ہے جبکہ پولیس سروس میں محض 4 فیصد مسلمان ہیں۔’انڈین ایکسپریس‘ کے ایک مضمون کے مطابق 5.73 لاکھ مسلمانوں پر ایک آئی اے ایس یا آئی پی ایس افسر ہے جبکہ غیر مسلموں میں1.08 لاکھ پر ایک آئی اے ایس یا آئی پی ایس افسر موجود ہے۔
بہرحال جیسے جیسے وقت کروٹ لے رہا ہے، سیاسی اور سماجی حالات میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ سماجی اور ملی تنظیمیں،ادارے مسلمانوںمیں تحریک پیدا کررہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں۔ رفتہ رفتہ ان کی تحریک کے نتائج بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ یہ مسلمانوں میں تعلیم کے تئیںبیداری کا ہی نتیجہ ہے کہ اس بار کے سول سروسز کے امتحان میں مسلم طلبہ کے پاس ہونے کا تناسب 3 فیصد سے بڑھ کر 5.15 فیصد پرپہنچ گیا ہے۔ امید ہے کہ مستقبل میں اس فیصد میںاور بھی اضافہ ہوگا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

چہار سو خوشی
سول سروس امتحان کے نتائج سے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی بھی کافی خوش ہیں ۔ انھوںنے کہا کہ اگر 990 میںسے 131 بچے اقلیتی طبقے کے سروسز میںمنتخب ہوتے ہیں اور ان میں51 بچے مسلم ہوتے ہیں، تو یہ ہم سب کے لیے خوشی کی بات ہے کیونکہ یہ ہندوستان کی تاریخ میںپہلی بار ہورہا ہے۔ انھوںنے کہا کہ مسلم بچوںمیںقابلیت ہے، اہلیت ہے، صلاحیت ہے اور اس کی بنیاد پر وہ سول سروسز کے امتحان میںکامیاب ہوئے ہیں ۔ انھوںنے کہا کہ ہمارا تعاون صرف یہ ہے کہ ہم نے بھی کچھ بچوںکو مفت کوچنگ کا اہتمام کیا۔ اس بار ہم نے 126 بچوںکو مفت کوچنگ کرائی تھی، جن میںسے 12 بچوں نے کامیابی حاصل کی۔ انھوںنے کہا کہ ’نئی اڑان‘ اور ’نیا سویرا‘ کے نام سے ہمارا مفت کوچنگ چل رہا ہے اور اس میںنہ صرف سول سروسز بلکہ میڈیکل اور انجینئرنگ کے لیے بھی مفت کوچنگ کرائی جاتی ہے۔ انھوںنے کہا کہ پہلے ایک بچے پر پچاس ہزار روپے دیے جاتے تھے لیکن اب یہ رقم ایک لاکھ روپے کردی گئی ہے تاکہ بچے اچھی سے اچھی کوچنگ حاصل کرسکیں۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مولانا اسرار الحق قاسمی بھی سول سروسز کے امتحان میں مسلم بچوںکی کامیابی سے بہت خوش ہیں۔ انھوں نے سول سروسز کے امتحان میںکامیاب ہونے والے تمام مسلم امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میںاپنے سماجی و آئینی حقوق حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی آنے والی نئی نسل کو تعلیم کے میدان میںاتاریں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں اور بچیوں میں اعلیٰ سے اعلیٰ قابلیت پیدا کرنے کی کوشش کریںکیونکہ جب تک ہمارے اندر امتیازی صلاحیت نہیںہوگی ، ہم اتنی بڑی آبادی والے ملک میںکوئی قابل قدر مقام حاصل نہیں کرسکتے۔
؎سول سروسز کے امتحان میںپاس ہونے والے امیدوار وں میںایسے بھی ہیں جو شہر سے دور دراز کے گاؤں میںرہتے ہیں ، جہاں کوچنگ کا بھی کوئی انتظام نہیںتھا۔ اس کے علاوہ ایسے بھی اسٹوڈینٹ کامیاب ہوئے ہیں، جنھوں نے اردو کو اپنا آپشنل سجیکٹ بنایا۔ یہ پڑھ کر بھی آپ حیران ہوں گے کہ اس امتحان میںایسے بھی امیدوار ہیں جو مدرسے میںپڑھے ، انھیںمین اسٹریم کی پڑھائی بھی نصیب نہ ہوسکی اور وہ سول سروس کے امتحان میںکامیاب ہوئے۔ ایسے بھی امیدوار ملیںگے جو پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اپنی نوکری بھی کرتے رہے ، کوچنگ کا انھیں موقع نہیں ملا اور وہ سول سروس کے امتحان میںکامیاب ہوئے۔ اور ایسے بھی امیدوار بھی ملیںگے جو افسر شاہی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور گھروالے انھیںبھی ایک افسر کے طور پردیکھنا چاہتے تھے۔ اور انھوں نے اپنے اور اپنے گھروالوں کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔
چند خوش آئند مثالیں
ذیل میںہم کچھ دستیاب ان خوش نصیب طلبہ کے بارے میںشائع کررہے ہیں، جنھوں نے سول سروسز کے امتحان میںکامیابی پائی ہے اور اپنے علاقے اور خاندان کا نام روشن کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا بھی شاندار کریئر بنایا ہے۔
جنید احمد ، نگینہ (یوپی)
اترپردیش کے بجنور ضلع کے نگینہ سے تعلق رکھنے والے جنید احمد ریونیو سروس کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ انھو ں نے سول سروسز کے امتحان میں 352 واں رینک حاصل کیا ہے۔جنید احمد نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن میںپائی اور ثانوی تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا۔ شاردا یونیورسٹی سے گریجویشن کیااور پھر بی ٹیک کرنے کے بعد انھوں نے یو پی ایس سی کی تیاری شروع کردی۔ چوتھی کوشش میں وہ کامیاب ہوگئے۔جنید اپنے بھائی بہنوں میںدوسرے نمبر پر ہیں۔ ان کے والد جاوید حسین نگینہ میںوکالت کرتے ہیں۔ جنید نے حج ہاؤس کے زیر اہتمام چلنے والے یوپی ایس سی کوچنگ میںدو سال تیاری کی اور پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ کوچنگ اکیڈمی میںپڑھائی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ محنت و لگن سے کسی بھی امتحان میںکامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔
سیرت فاطمہ، جسرا (یوپی)
یو پی ایس سی سول سروسز کے امتحان میں 810 واں رینک حاصل کرنے والی سیرت فاطمہ کی کامیابی مسلم خواتین کے لیے مشعل راہ بن سکتی ہے۔ سیر ت فاطمہ کا تعلق الہ آباد سے پچاس کلو میٹر دور جسرا گاؤں کے ایک متوسط گھرانے سیہے۔ان کے والد لیکھ پال کے عہدے پر فائز ہیں۔ دوبہنوں اور دوبھائیوں میںسیرت فاطمہ سب سے بڑی ہیں اور ایک پرائمری اسکول میںٹیچر ہیں۔ دور دراز کے گاؤں میں رہ کر یوپی ایس سی سول سروس امتحان پاس کرنا یقینی طور پر سیرت فاطمہ کی جدوجہد اور محنت و لگن کی عکاسی کرتا ہے۔
آذر ضیائ، کولکاتہ (مغربی بنگال)
مغربی بنگال کے کولکاتہ سے تعلق رکھنے والے آذر ضیاء یوپی ایس سی سول سروسز کے امتحان میںآئی اے ایس کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ انھوںنے 97واں رینک حاصل کیا ہے۔ آذر کے والد محمد ضیاء الدین مغربی بنگال کیڈر سروس کے افسر رہے ہیں۔ خاندان والے انھیںبھی افسر دیکھنا چاہتے تھے اور آذر نے سب کے خوابوں کو شرمندہ ٔ تعبیر کردیا۔ آذر ضیاء نے ایم بی اے کرکے کارپوریٹ میںملازمت کی۔ دو سال قبل وہ ایشیا پینٹ کے برانڈ منیجر ہواکرتے تھے۔ کارپوریٹ میںتین سال ملازمت کرنے کے بعد انھوںنے سول سروسز کے امتحان کی تیاری کی اور اپنے مقصد میںکامیاب ہوئے ۔
عاصم خاں، اعظم گڑھ (یوپی)
اترپردیش کے اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والے عاصم خاں بھی آئی اے ایس کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ ان کا رینک 165 ہے۔ عاصم کے والد وثیق احمد بزنس مین ہیں۔ عاصم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سول سروس کی تیاری شروع کردی۔ تین سال کی سخت محنت کے بعد انھوں نے اپنے مقصد میںکامیابی حاصل کرلی۔
محمد ندیم ، بیدر (کرناٹک)
کرناٹک کے بیدر شہر سے تعلق رکھنے والے محمد ندیم نے سول سروس کے امتحان میں656 واں مقام پایا ہے۔ انجینئرنگ کرنے کے بعد ندیم نے سول سروس کے امتحان کی تیاری شروع کی۔ وہ 10-12 گھنٹے پوری توجہ کے ساتھ پڑھتے تھے۔ ندیم نے پولیٹکل سائنس کو آپشنل لے کرکامیابی حاصل کی ہے۔ محمد ندیم کے والد نعیم الدین اسسٹنٹ لیکچرر ہیں۔ کرناٹک کے سب سے پسماندہ ضلع سے تعلق رکھنے والے ندیم نے نوجوانوںکے لیے ایک مثال پیش کی ہے۔
شیخ سلمان اور محمد نوح، اورنگ آباد (مہاراشٹر)
اورنگ آباد ضلع سے شیخ سلمان نے 339 واں اور محمد نوح نے 326 واںمقام حاصل کیا ہے۔ محمد نوح نے سول سروس کے امتحان میںکامیابی اردو سبجیکٹ کے ذریعہ جنرل زمرے سے حاصل کی ہے۔ ان کا انتخاب آئی آر ایس انکم ٹیکس کے لیے ہوا ہے۔ نوح نییہ کامیابی پانچ کوششوں کے بعد حاصل کی ۔ انھوں نے تین بار میتھس کے ذریعہ امتحان میںشرکت کی لیکن کامیابی نہیں ملی ۔ اس بار اردو کو آپشنل سبجکٹ کے طور پر چنا تو کامیابی نے ان کے قدم چوم لیے۔ محمد نوح نے مراٹھواڑہ یونیورسٹی سے 2011میں بی ٹیک کیا تھا۔ 2013 سے انھوںنے یو پی ایس سی کی تیاری شروع کردی۔ دو سال زکوٰۃ فاؤنڈیشن میں اور تین سال جامعہ ملیہ اسلامیہ میںسول سروس کے امتحان کی تیاری کی۔محمد نوح کی کامیابی نے اس بات کو ثابت کردیا ہے۔ جولو گ ارادہ کریں اور سچی لگن و محنت سے اپنی جدو جہد جاری رکھیں تو کامیابی ضرور ملتی ہے ۔
جموںو کشمیر سے 15 کامیاب
2009 میںسول سروسز کا امتحان ٹاپ کرنے والے ڈاکٹر شاہ فیصل بہار کے عامر سبحانی کے بعد ملک کے نہ صرف پہلے مسلمان تھے بلکہ وہ پہلے کشمیری بھی تھے جنھوں نے آئی اے ایس کے امتحان میںاول مقام حاصل کیا تھا۔ ان کے ٹاپ کرنے کے بعد ریاست جموںو کشمیر کے نوجوانوں میںایک نیا جوش و جذبہ پیدا ہوااور وہاںکے نوجوان اب سول سروس کے امتحان میںبڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اس بار بھی ریاست جموں و کشمیر کے مجموعی طور پر (مسلم و غیر مسلم) 15 امیدوار سول سروس کے امتحان میںکامیاب ہوئے ہیں۔ ان میںسے 3 امیدوار ٹاپ 100 کے رینک میںشامل ہیں۔ مسلم امیدواروں میں شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع سے تعلق رکھنے والے فضل الحسیب نے اس بار سول سروس کے امتحا ن میں36 وا ں رینک حاصل کیا ہے جبکہ سری نگر کے انابت خالق نے 378واں رینک حاصل کیا ہے ان کے علاوہ پونچھ ضلع کے مہندر علاقہ سے عامر بشیرنے843واں، سید عمران مسعود نے 198واں اور محمد فاروق نے 939 واں رینک حاصل کیا ہے۔
علمہ افروز، کندرکی (یوپی)
اترپردیش کے مرادآباد ضلع کے کندرکی کی رہنے والی علمہ افروز نے سول سروس کے امتحان میں217 واں رینک حاصل کیا ہے۔ علمہ افروز کندرکی نگر پنچایت کے سابق چیئرمین قاضی حبیب احمد کی پوتی اور قاری افروز احمد کی صاحبزادی ہیں۔ پڑھائی کا شوق انھیںبچپن سے تھا۔ وہ اپنی تعلیم کے سلسلے میںفرانس، امریکہ اور انگلینڈ تک جاچکی ہیں۔
فرقان اختر، سنت کبیر نگر (یوپی)
اترپردیش کے سنت کبیر نگر کے رہنے والے فرقان اختر نے سول سروس کے امتحان میں 444 واںمقام حاصل کیا ہے۔ ان کی کامیابی کی سب سے نمایاں یہ بات رہی کہ وہ ملک کی مشہور کمپنی ٹاٹا کنسلٹینسی گھنٹے کی نوکری کرتے رہے اور بغیر کسی کوچنگ میںشامل ہوئے انھوں نے سول سروس کے امتحان میںکامیابی حاصل کی ۔
تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیںکرسکتی اور جو قوم ترقی نہیںکرتی وہ دنیا میںذلیل وخوار ہوکر رہ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں اور بچیوں کی تعلیم پر بھرپور توجہ دیں اور انھیںپڑھا لکھا کر کسی قابل بنائیں۔ ہندوستان میں مسلمان غربت کی وجہ سے ، وسائل کے فقدان یا کسی بھی سبب تعلیمی میدان میںبہت پچھڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے سرکاری ملازمتوں میںان کی تعداد بہت کم ہے اور خاص طور سے سول سروسزاور عدلیہ میںتو ان کی موجودگی برائے نام ہی ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، مسلمانوں میں بھی تعلیم کے تئیں بیداری آرہی ہے اور ان میںملک کی اعلیٰ ترین سرو س کے تئیں کشش اور لگن پیدا ہونے لگی ہے، جس کے دھیرے دھیرے نتائج بھی برآمد ہونے لگے ہیں۔ امید ہے کہ مستقبل میں سول سروسز کے امتحان میں شرکت کے لیے مسلم بچوں اور بچیوںکی تعدا د میںاور بھی اضافہ ہوگااور سول سروسز میں مسلمانوںکی تعداد میںغیر معمولی اضافہ ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *