مگدھ بہار کے 15اضلاع اب بھی گھر گھر ٹوائلٹ کے خواب سے بہت دور

کھلے میں رفع حاجت سے نجات ( او ڈی ایف ) کو لے کر پورے ملک اور ریاست میں ’بیداری مہم ‘ چل رہی ہے۔ ہر طرف او ڈی ایف کی چرچا ہورہی ہے۔ بہار میں مگدھ کے پانچ اضلاع میں بھی کھلے میں ٹوائلٹ سے نجات کے لئے گھر گھر ٹوائلٹ بنانے کو لے کر مہم چلائی جارہی ہے۔ اس کے لئے سرکار کی طرف سے مقررہ رقم فائدہ اٹھانے والوں کو دی جارہی ہے۔ مختلف پروگراموں جیسے نکڑ ناٹک، گیت و سنگیت کے ذریعہ سے گائوں گائوں، شہر شہر میں بیداری لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔لوگوں کو ٹوائلٹ کی ضرورت نیز کھلے میں رفع حاجت سے ہونے والی پریشانیوں اور بیماریوں کے بارے میں بتایا جارہا ہے۔ لوگوںکو بیدار کیا جارہا ہے۔ مہم پر لاکھوں کروڑوں کی رقم خرچ کی جارہی ہے لیکن اس میں جتنی رفتار ہونی چاہئے تھی ،ویسی رفتار نظر نہیں آتی ہے۔
مگدھ ڈویژن کے ہیڈکورارٹ گیا ضلع کو پوری طرح 2 اکتوبر 2018 تک کھلے میں ٹوائلٹ سے پاک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی گیا ضلع کے ہر گھر میں ٹوائلٹ کی تعمیر آئندہ گاندھی جینتی تک ہو جائے گی لیکن جو صورت حال ہے، اس میں نہیں لگتا ہے کہ گیا ضلع پوری طرح کھلے میںٹوائلٹ سے پاک ہو پائے گا۔ گیا ضلع کے 24ڈویژنوں میں کل 333 پنچایتیں ہیں۔ان پنچایتوںمیں اگر دیکھا جائے تو بہت کم گائوں کو کھلے میں رفع حاجت سے پاک کیا جاسکا ہے۔
مثال کے طور پر میں ضلع کے بانکے بازار ڈویژن کو لیا جاسکتاہے۔ اس ڈویژن کی 11 پنچایتوں کے 99 گائوں کے 155 وارڈ میں سے صرف 15 وارڈ کو ہی او ڈی ایف کیا جاسکا ہے ۔پورے طور پر ایک پنچایت کو او ڈی ایف کے لئے چنا گیا تھا لیکن کام نہیں ہو سکا۔ اس پنچایت کے 17 وارڈ میں سے 12 وارڈ ہی او ڈی ایف ہو سکے ہیں۔ اس پنچایت کے ہر وارڈ میں ایک ایک ایجنسی کو ٹوائلٹ بنوانے کی ذمہ داری دی گئی تھی جس وارڈ کو او ڈی ایف کیا گیا، وہاں بنائے گئے ٹوائلٹ کی حالت بہت خراب ہے۔
حالانکہ اس ڈویژن کے گوئٹھا اورروشن گنج پنچایت کو 2005 میں ہی کھلے میں رفع حاجت سے پاک کر دیا گیا تھا۔ یہاں کے مکھیا کو صدر جمہوریہ کے ذریعہ ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ اس ڈویژن میں بنائے گئے 1944 ٹوائلٹ پر 2 کروڑ 33 لاکھ 28 ہزار روپے خرچ کئے گئے تھے۔بیہر گئی پنچایت کے ایک گائوں میں 199 خاندان کے بیچ 23 لاکھ 88 ہزار روپے خرچ کئے گئے ہیں۔ بیہر گئی کے کمال الدین آزاد نے بتایا کہ ہم نے اپنے پیسے سے ٹوائلٹ بنوایا ہے۔ سرکار سے ملنے والی رقم کے لئے ڈویژن کا چکر کاٹتے کاٹتے تین ماہ گزر گئے لیکن رقم نہیں ملی۔ گائوں کے منوج یادو، انیتا دیوی نے بتایا کہ سرکار کو کوئی آسان قانون بناکر ٹوائلٹ بنانے والے کے کھاتے میں مقررہ رقم دینی چاہئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

گیا ضلع کے جھارکھنڈ کی سرحد سے لگے ڈومریا ڈویژن کی بھی کم و بیش یہی حالت ہے۔ یہاں کے سیورا پنچایت کو پہلے ہی او ڈی ایف کیا جا چکا ہے۔ دیگر پنچایتوں میں بھی ٹوائلٹ بنوانے کا کام کچھوا رفتار سے ہو رہا ہے۔ ایک سے 10اپریل 2018 تک چھتیس گڑھ سے آئی ایک ٹیم نے شام کی چوپال لگا کر نکڑ ناٹک کے ذریعہ ٹوائلٹ کی ضرورت سے لوگوں کو آگاہ کرایا ۔وہیں گائوں والوں کی دلیل ہے کہ ابھی کھیتوں میں فصل کو سمیٹنے کا وقت ہے۔ فصلوں کو جب ہم گھر لے آئیں گے ،تبھی دوسرے کام میں لگیں گے۔
جہان آباد ضلع کے 7 ڈویژنوں کے 93 پنچایتوں میںبھی کھلے میں ٹوائلٹ سے نجات کے لئے بیداری مہم چلائی جارہی ہے۔ لیکن نتائج بہت مثبت نہیں ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جہان آباد کے مودن گنج کے 43 اور کاکو ڈویژن کے ایک وارڈ کو او ڈی ایف اعلان کیا گیا ہے۔ 2 اکتوبر 2018 تک مودن گنج ڈویژن کو پورے طور سے او ڈی ایف کرنے کا ہدف ہے۔ اس سے پہلے مخدوم پور ڈویژن کی تین پنچایتوںکو او ڈی ایف طے کیا گیاتھا ،بعد میں او ڈی ایف کے لئے مقررہ پنچایتوں کی جانکاری لی گئی تو یہ اسکیم پوری طرح فیل ثابت ہوئی۔ یہی حال جہان آباد سے لگے پانچ ڈویژنوں اور 65 پنچایتوں والے ارول ضلع کا ہے۔ یہاں بھی شام کی چوپال اور صبح کی نگرانی کے بعد بھی ٹوائلٹ تعمیر کی رفتار اچھی نہیں ہے۔
اورنگ آباد ضلع میں کل 11 ڈویژن ہیں۔ یہاں پنچایتوں کی تعداد تقریباً 250 ہے۔ اورنگ آباد ضلع کو ایک سال کے اندر او ڈی ایف مقرر کئے جانے کا ہدف رکھا گیاہے۔ اس ضلع کے دیو ڈویژن کے پوئی پنچایت کو 31 دسمبر 2017 تک کھلے میں ٹوائلٹ سے پاک کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لوگ بتاتے ہیں کہ زمینی حقیقت اس دعوے سے دور ہے۔ اوبرا ڈویژن کے اوب پنچایت کے کجبا گائوں میں اسٹیٹ سینٹرل اسکول میں ٹوائلٹ نہیں رہنے کی وجہ سے طلباء و طالبات ،اساتذہ کو کھلے میں ٹوائلٹ کے لئے جانا پڑتاہے۔ یہاں کی ایک خاتون ٹیچر نے بتایا کہ سرکار سوچھتا ابھیان کے تحت نکڑ ناٹک اور دیگر پروگراموں پر لاکھوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ اگر اس رقم کو ٹوائلٹ کی تعمیر میں لگایا جاتا تو تصویر دوسری ہوتی۔ ابھی تشہیر زیادہ کام کم ہو رہا ہے۔
مگدھ کے پسماندہ ضلع کی شکل میں نوادہ کو جانا جاتاہے۔ اس ضلع میں کل 14ڈویژن ہیں۔ 187 پنچایتوں کے 1099 گائوں والے نوادہ ضلع میں بھی کھلے میں ٹوائلٹ سے نجات کے لئے ٹوائلٹ کی تعمیر کی رفتار بہت سست ہے۔ جھارکھنڈ کی سرحد سے لگے کوا کول ، گوبند پور، اکبر پور،رجولی وغیرہ ڈویژنوں میں تو ٹوائلٹ تعمیر کی بات کی جارہی ہے۔ کچھ پنچایتوںکو فاسٹ او ڈی ایف ہو جانے کی بات کہی جارہی ہے۔ 2 اکتوبر 2018 تک اس معاملے میں بہت حد تک ہدف حاصل کر لینے کا دعویٰ سرکاری سطح پر کیا جارہاہے لیکن ٹوائلٹ تعمیر کی جو رفتار ہے ،اس سے ہدف حاصل کرنے میں شبہ ہے۔
گیا ضلع کو تیز رفتاری سے ہدف پالینے کا بھلے ہی سرٹیفکیٹ مل گیاہے لیکن ٹوائلٹ تعمیر کی زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ جہاں کوئی ایجنسی ٹوائلٹ تعمیر کررہی ہے ، وہاں وہ اعدادو شمار کا کھیل کرکے رقم نکال لے رہی ہے۔دوسری طرف جو لوگ خود خرچ کرکے ٹوائلٹ تعمیر کررہے ہیں، انہیں رقم لینے کے لئے کافی پریشان ہونا پڑ رہا ہے۔ اس میں بھی دلالوں کی چلتی ہے۔ انہی سب وجوہات سے مگدھ کے اضلاع میں او ڈی ایف کی دستیابی تمام کوششوں کے بعد بھی مثبت نہیں ہو رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *