مذبح خانوں پر یوگی کا کستا شکنجہ پریشانی میں مسلمان اور دلت

اترپردیش میں منظور شدہ 38 مذبح خانے(سلاٹر ہائوس) ہیں۔ان مذبح خانوں کی وجہ سے انیمل ہسبنڈری ڈپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست سالانہ 26 ہزار 685 کروڑ روپے کا گوشت ایکسپورٹ کرتی ہے۔چونکہ پورے ملک میں سب سے زیادہ مذبح خانے اسی ریاست میں ہیں لہٰذا ہندوستان کو چمڑے کی مصنوعات اور گوشت کی برآمدات کا ایک اہم ملک بنانے میں اس کی بڑی حصہ داری ہے۔ لیکن بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد گئو کشی کے خلاف جو مہم چل رہی ہے ،اس کی وجہ سے مویشیوں کے لانے لے جانے اور چمڑے کے ٹرکوں پر ہندو تنظیموں کے کارکنوں کے حملوں کے سبب یہ کاروبار اس وقت ایک بحران سے گزر رہا ہے۔ بہت سے لوگ اب یہ کاروبار چھوڑ رہے ہیں۔
کستا شکنجہ بڑی وجہ
اس کارو بار کے ختم ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ریاست اترپردیش میں یوگی حکومت سلاٹر ہائوس پر دھیرے دھیرے شکنجہ کستی چلی جارہی ہے اور جوں جوں اس کا شکنجہ کستا جارہا ہے ،ویسے ویسے گوشت اور چمڑے کی صنعت کمزور ہوتی جارہی ہے۔اس کا اثر یو پی کی معیشت پر پڑنا طے ہے۔اگر حکومت ایکسپورٹ پر پابندی لگاتی ہے تو اس سے ریاست کو11 ہزار 350 کروڑ روپے کی آمدنی متاثر ہوگی ۔ظاہر ہے اس خسارے کا بوجھ براہ راست یا بالواسطہ ریاست کے عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
یوگی حکومت نے سرکار بننے کے کچھ دنوں بعد ہی ریاست میں تمام غیر قانونی مذبح خانوں کو بند کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ان کی ہدایت کی زد میں ریاست کے 80 ایسے مذبح خانے آگئے جو غیر قانونی طورپر چل رہے تھے یا پھر ان کے لائسنس کی تجدید نہیں ہوئی تھی ۔حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ایک عرضی الٰہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کی گئیجہاں اس کی سنوائی چل رہی ہے۔ اسی بیچ حکومت نے عدالت میں اس مقدمہ کو اپنے حق میں کرنے کے لئے ایک چال چل دی جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔یعنی اس آرڈیننس کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کرنے کی وجہ سے وہ سلاٹر ہائوس تو بند ہو ہی جائیں گے جو غیر قانونی ہیں ،ساتھ ہی وہ سلاٹر ہائوس بھی بند ہوجائیں گے جن کے لائسنس کی تجدید نہیں ہوئی ہے۔
دراصل اترپردیش میں کم و بیش 80 مذابح پر عائد کی گئی پابندی کے خلاف قانونی لڑائی کے دوران یوگی حکومت نے ایک آرڈیننس جاری کرکے مذکورہ پابندی کو قانونی اور مستقل شکل دے دی ہے۔حکومت کے تازہ آرڈیننس کا اثر اس ضمن میں عدالت میں جاری مقدمے پر بھی پڑے گا ۔ چونکہ یو پی سلاٹر ہائوس ایکٹ میں ترمیم کرکے جاری کئے گئے اس آرڈیننس کوالٰہ آباد ہائی کورٹ میں بھی پیش کردیاگیا ہے، اس لئے مقدمے پر اس کا اثر پڑنا طے سمجھا جارہاہے اور یہی یوگی حکومت کی منشا بھی ہے ۔ نئے قانون میں میونسپل کارپوریشن اور نگر پنچایت کے مذبح چلانے یا اس کی منظوری دینے کے اختیارات کو ختم کردیا گیا ہے۔ مقدمے کے عرضی گزار جاوید محمد کا کہناہے کہ حکومت نے آئینی جوابدہی سے بچنے کے لئے آرڈینس کا سہارا لیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اصل نقصان مسلمان کا
قابل غور ہے کہ ریاستی حکومت بارہا کہہ چکی ہے کہ صرف غیر قانونی مذبح خانے بند کروائے جا رہے ہیں لیکن کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یوگی حکومت ایسا کرکے مسلمانوں کو معاشی اعتبار سے کمزور کرناچاہتی ہے۔کیونکہ جب کاروبار ٹوٹ جائے گا، اس کے پاس پیسہ نہیں ہو گا، تو ظاہر ہے وہ غلام بن کر رہے گا۔حالانکہ ریاستی حکومت کہتی ہے کہ یہ کارروائی کسی کمیونٹی کے خلاف نہیں ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب اس کاروبار سے زیادہ تر مسلمان ہی وابستہ ہیں تو پھر دوسری کمیونیٹی کو کمزور کرنے کی بات ہی کہاں سے پیدا ہوگی؟یہاں پر یہ پہلو بہت اہم ہے کہ ملک میں جتنے بھی سلاٹر ہائوس چل رہے ہیں ،ان میں زیادہ تر کے مالکان غیر مسلم ہیں یا ان میں ان کا شیئر ہے لیکن ان میں کام کرنے والے مزدور اور ٹکنیشین کی اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
مذبح خانے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک روایتی مذبح خانے جو میونسپل کارپوریشن کے ہوتے ہیں اور دوسرے جدید مشینوں والے مذبح خانے جو نجی ملکیت میں ہوتے ہیں اور جہاں کا گوشت صرف برآمد کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ جدید اور نجی مذبح خانوں کے لیے لائسنس لینا پڑتا ہے جو ہنوز کسی کے لئے بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کی پچھلی حکومت نے کئی برس سے نئے لائسنس جاری نہیں کیے تھے اور موجودہ لائسنسوں کی تجدید نہیں کی گئی تھی۔دوسری بات یہ کہ 2014 میں سپریم کورٹ نے گوشت کی دکان اور مذبح خانوں کے لیے کئی کچھ ہدایات جاری کی تھیں۔ ان کے بارے میں متعلقہ طبقہ، تنظیم یا قریشی برادری میں سے کسی کو مطلع نہیں کیا گیا۔رامپور کے زاہد قریشی کے مطابق، پچھلی حکومت نے سپریم کورٹ کے اس حکم کو دبا دیا تھا۔عدالت کا حکم مذبح خانوں کو بہتر بنانے سے متعلق تھاجسے اب تک لاگو نہیں کیا گیا۔ اب یہ ذمہ داری یوگی حکومت کی ہے کہ وہ اس تجدیدی عمل کو موثر بنائے اور جن کے لائسنسن کی تجدید نہیں ہوپائی ہے ،اس کی تجدید کی جائے نہ کہ اس کو مستقل طورپر بند کرنے کی راہ پیدا کی جائے۔یوگی حکومت کا آرڈیننس جاری کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ان مذبح خانوں کو مستقل طور پر بند کرکے ہزاروں لوگوں کو بے روزگار بنادینا چاہتی ہے۔
جب سے غیر قانونی مذبح خانوں کو بند کرنے کا حکم آیا ہے،اس پر سیاست چل پڑی ہے۔ کچھ سیاسی لوگ تو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ مسلمان کچھ وقت کے لئے گوشت کھانا اور فروخت کرنا بند کر دیں۔سابق ایم پی شفیق الرحمن برق نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’میں تو مسلمانوں سے یہ کہتا ہوں کہ تم گوشت خریدنا، فروخت کرنا، کاٹنا اور کھانا بند کر دو۔ جب تک تمہارا مسئلہ حل نہیں ہوتا، آپ عزت سے دوسرا کوئی کام کرو۔ یہ مسئلہ ان (حکومت ) کو خود حل کرنا پڑے گا۔‘‘لیکن قریشی برادری کے زاہد قریشی کے مطابق ،مشورہ دینا آسان ہے۔ اس معاشرے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ گوشت کے کاروبار سے منسلک ہیں جن کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں۔نئے روزگار تلاش کرنا یا نئے روزگار سے جڑنا اتنا آسان نہیں ہوتا،جتنی آسانی سے بیان دے دیا جاتا ہے۔کیونکہ اس کے لئے وسائل کی ضرورت پڑتی ہے۔
دلت بھی متاثر
اتر پردیش میں مذبح خانوں کے خلاف کی جا رہی کارروائی سے گوشت کے کاروبار پر منحصر مسلمان ہی نہیں، بلکہ دلتوں کی روزی روٹی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔مذبح خانوں اور چمڑے کی صنعت سے مسلمانوں کے علاوہ دلتوں کی بھی ایک بڑی آبادی وابستہ ہے۔میرٹھ یونیورسٹی کے پروفیسر ستیش پرکاش کے مطابق مذبح خانے بند ہونے کا سب سے زیادہ اثر دلتوں پر پڑے گا۔ چمڑے کام دلتوں کا آبائی کاروبار ہے، جو وہ صدیوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے بند ہونے سے بڑی تعداد میں دلتوں کی روزی روٹی ماری جائے گی۔
چمڑے کی درآمد میں ہندوستان کو پانچواں مقام حاصل ہے جو قدرتی طور پر مرنے والی مردہ گائے اور قانونی نوعیت کے مسلخوں میں ذبح ہونے والے بھینسوں کے چمڑے پر مشتمل ہے۔قابل ذکر ہے کہ جرمنی، اٹلی، فرانس، ہانگ کانگ، نائیدر لینڈ ڈنمارک ، اسپین ، فرانس ، چین ، ویٹنام اور بلجیئم ایسے ممالک ہیں جہاں چمڑے کی اشیاء کا بہت ڈیمانڈ ہے اور ان ملکوں کو 75 فیصد برآمد ہندوستان سے کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ افریقی ممالک، جنوب افریقہ، جاپان، متحدہ عرب امارات، کوریا، نیوزی لینڈ اور امریکہ بھی ہندوستان کی چمڑوں کا بڑا مارکیٹ ہے۔لیکن جب سے سلاٹر ہائوس پر قدغن لگنے لگا ہے ،یہ کاروبار چرمڑانے لگا ہے اور لاکھوں لوگوںکی روزی روٹی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ان میں اکثریت مسلمان اور دلتوں کی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *