عالمی یوم صحت:جانئے تندرستی کے راز

World-Health-Day-7th-April
عالمی یوم صحت آج 7اپریل کومنایاجارہاہے ۔یوم صحت منانے کا مقصد لوگوں کو عالمگیر صحت پر متوجہ کرنا ہے۔ بیماریوں سے بچاؤکا شعور اجاگرکرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں، متوازن غذا اور ورزش کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔
عالمی یوم صحت (World Health Day) اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے 1950ء سے ہر سال دنیا بھر میں 7 اپریل کو صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں صحت و امراض سے بچاؤ کے لیے شعور اجاگر کرنا ہے۔ 1948ء میں یہی دن تھاجس روز عالمی ادارہ صحت کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ہر سال صحت کے کسی خاص موضوع کے تحت تمام دنیا کے ممالک اِس دن کو مناتے ہیں۔
عالمی یوم صحت منانے کے مقاصدیہ ہیں:ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات اور احتیاط سے متعلق لوگوں کو آگاہ کرنا۔دوسری پیچیدہ بیماریوں سے تفصیلی آگاہ کرنااور ان سے حفاظت کے طریقے بتانا۔لوگوں کو اپنی صحت کا خیال رکھنے پرآمادہ کرنا۔ان عالمی صحتی اداروں کی حوصلہ افزائی کرناجو اپنے ملک میں صحت مند ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔بیماریوں سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کی بیماریوں سے حفاظت کرنا۔مسافروں کی تربیت کرنا اور انھیں بتانا کہ وہ سفر کے دوران خود کو بیماریوں سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق تمام بیماریوں جیسے دل کا عارضہ ذیابیطس ڈپریشن ہیپاٹائٹس گردے کے امراض سے بچاؤکے لیے وقت پر کھانا اور سونا ہی بہترین حل ہے۔ماہرین صحت کہتے ہیں کہ صحت بخش غذا کے ساتھ ساتھ صاف ستھرا ماحول،چہل قدمی اور سماجی میل جول ذہنی و جسمانی صحت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ذہنی دباؤ کا مرض یعنی ڈپریشن اس وقت دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتا ہوا دماغی مرض ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کا ہر تیسرا شخص ڈپریشن کا شکار ہے اس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان خدا کا شکرادا کرے اس لئے کہ شکر گزاری دل و دماغ کو سکون پہنچاتی ہے۔
عالمی یوم صحت عالمگیر سطح پر تمام بیماریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔جس کے لئیورلڈہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیوایچ او)اور دوسری ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے مختلف جگہوں پر پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں جس میں اسکول ،کالج اور دوسری عوامی جگہیں شامل ہو تی ہیں۔اپنے قیام سے اب تک WHO نے صحت کے بہت سے مسا ئل پرکام کیا ہے جن میں چکن پوکس،پولیو،اسمال پوکس اور ٹی بی وغیرہ شامل ہیں۔WHO نے دنیا بھر سے بیماریاں ختم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
صحت کے عالمی دن کے موقع پر ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی پر بڑھتا ہوا انحصار اور ورزش سے دوری انسانی صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل کی بنیادی وجہ ہے، معیاری اور صحت مند زندگی کے لئے ورزش اور صاف ستھری غذا کے استعمال کو معمول بنانا ہوگا۔صحت مندرہنے کیلئے یہ چیزیں ضرورکریں:مکمل نیند لیں۔ صبح جلدی اٹھیں۔ چہل قدمی یا ورزش کریں۔گھر اور آفس کے مسائل سے کچھ وقت نکال کر کوئی ایسا کام کریں جس سے آپ کو سکون اور خوشی ملتی ہو اور جس سے ذہنی صلاحیت بھی تیز ہو۔اپنا مکمل چیک اپ کرائیں۔ بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول لیول چیک کرائیں۔صحت مند طرز زندگی اپنانے کا عہد کریں۔دوسروں کو صحت مند زندگی گرارنے کی طرف راغب کریں۔
ماہرین صحت کا مزید کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی بھرمار اور روزمرہ استعمال کے آلات پیدا ہونے والی شعاعیں اور ورزش سے دوری عالمی سطح پر صحت کے بڑھتے ہوئے بگاڑ کے ذمہ دار ہیں۔نیند اور ورزش میں کمی، وقت پر نہ کھانا، زیادہ اور غیر معیاری خوراک اورجسمانی سرگرمیوں میں کمی عا م انسانوں کی صحت کو سخت نقصان پہنچا رہا ہے۔
خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت یا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ ہے، جو عالمی سطح پر عوامی صحت بارے کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کا مرکزی دفتر سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں واقع ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا قیام 7 اپریل 1948ء کو عمل میں لایا گیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *