کرناٹک کے انتخاب کے ساتھ 2019 کا کائونٹ ڈائون شروع

کرناٹک کا الیکشن بھی ملک کے لئے ایک سیکھ لے کر آنے والا ہے۔لگ بھگ سبھی لوگ مان رہے تھے کہ اس بار کرناٹک میں بی جے پی اپنی سرکار بنا سکتی ہے لیکن پہلی بار بی جے پی کو کرناٹک میں لنگایت سماج کے لئے ریزرویشن کو لے کر ایسے سوال کا سامنا کرنا پڑا کہ بی جے پی چکرا گئی۔ خود یدورپا،جنہیں بی جے پی نے وزیراعلیٰ عہدہ کا امیدوار بنایاہے ،لنگایت سماج کے لیڈر ہیں۔ سارے لنگایت ان کے ساتھ تھے۔ لیکن اب لنگایت کا ایک بڑا طبقہ ان سے دور چلا گیا ہے اور ووٹ سیدھے کا نگریس کی جھولی میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس سوال پریدورپاکو کانگریس سرکار کے فیصلے کی حمایت کرنی پڑی اور بی جے پی کاکوئی بھی لیڈر اس سوال کو اپنے حق میں گھمانے میں ناکام رہا۔ ان دنوں کرناٹک میں بی جے پی کی طرف سے امیت شاہ نے مورچہ سنبھال رکھا ہے اور وہ یدو رپا کی تعریف میں قصیدے پر قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ ہر ایک کو پکے مکان ملیں گے، اگر یدورپا جی وزیر اعلیٰ بنتے ہیں۔
یدورپا کو لے کر سارے ملک میں ایک بڑا سوال اور کھڑا ہوا ہے کہ آخر یدورپا کو بدعنوانی کے الزام میں بی جے پی نے پارٹی سے نکالا کیوں تھا؟اگر بی جے پی بدعنوانی کو لے کر اتنی سنجیدہ تھی تو پھر اس نے یدورپا کو واپس پارٹی میں لیا کیوں؟بی جے پی نے یدورپا کے ایشو کے سہارے یہ صاف کر دیا کہ وہ بدعنوانی کے خلاف نہیں ہے۔اسی لئے اس نے اقتدار کے راستے میں آنے والی ایک بڑی رکاوٹ، جو یدورپا تھے، انہیں واپس پارٹی میں لے کر دور کر دیا۔اس سوال کا جواب کرناٹک کے لوگ کیسے دیتے ہیں، یہ بھی ملک کے لئے غور کرنے والا باب ہوگا۔لیکن بدعنوانی کا ایشو اس ملک کے لئے ہے بھی یا نہیں، اس پر بھی شبہ پیدا ہو گیا ہے ۔ملک میں زیادہ تر ایسے لوگ الیکشن میںاتر رہے ہیں یا الیکشن میں جیت رہے ہیں، جن کے اوپر بدعنوانی کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں اور ممکنہ طور پر کوئی بھی ریاست اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ملک کے لوگوں کی نظر میں فرقہ وارانہ فساد یقینا ایک ایشو ہے لیکن بدعنوانی ایشو نہیں ہے۔ فی الحال تو ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔
بی جے پی کے خلاف تیلگو ووٹ ایک بڑی طاقت کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ چندر بابو نائیڈو کے تئیں مرکزی سرکار کے رویے نے یا چندر بابو نائیڈو نے اس کا جس طرح سے سامنا کیا، اسے لے کر کرناٹک کا پورا تیلگو طبقہ ناراض ہے۔ اب تک یہ بی جے پی کا پکا حامی ووٹ مانا جاتا تھا لیکن اس الیکشن میںتیلگو ووٹ بی جے پی سے دور جارہا ہے اور وہ کانگریس کے حق میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف لنگایت طبقہ میں تقسیم اور دوسری طرف تیلگو ووٹوں کا کانگریس کی طرف جانا، بی جے پی کے سامنے یہ دو بڑے پہاڑ کھڑے ہو گئے ہیں۔
ایچ ڈی دیو گوڑا اوکالنگا سماج کے لیڈر ہیں اور ان کے صاحبزادے کمار سوامی ،جنہیں کرناٹک کے وزیراعلیٰ کی کرسی پر لگ بھگ دو سال بیٹھنے کا موقع ملا، مقبول لیڈر ہیں۔ ان کے اجلاس میں زبردست بھیڑ ہو رہی ہے لیکن ان کے اجلاس کی بھیڑ کرناٹک کے اس حصے میں ہورہی ہے، جہاں اوکالنگا سماج کا اثر ہے۔ کمار سوامی کے بارے میں یہ اندازہ ہے کہ وہ 25 سیٹوں کے آس پاس اپنی طاقت دکھا پائیںگے۔ لیکن خود کمار سوامی کا ماننا ہے کہ وہ 40-45 سیٹیں جیتیں گے۔جیتنے کے بعد کمار سوامی کہاں جائیں گے،یہ بھی ایک سوال ہے؟کیونکہ ملک کی باقی ریاستوں کی طرح کرناٹک میں بھی وزیر اعلیٰ کا عہدہ ہی سرکار بنانے کی کنجی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اگر بی جے پی کمار سوامی کو وزیراعلیٰ نہیں بناتی ہے ،اگر بی جے پی سرکار بنانے کی حالت میں آتی ہے اور کچھ ووٹ کم رہ جاتے ہیں تو کمار سوامی کانگریس کے ساتھ چلے جائیںگے۔ کمار سوامی کے کانگریس میں جانے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے،کانگریس کے موجودہ وزیراعلیٰ سدھارمیہ دیو گوڑا جی کے معتمد ساتھیوں میں یا شاگردوں میں تھے۔لیکن انہیں کانگریس نے پچھلے الیکشن میں توڑ لیاتھا۔ اس میں سب سے بڑا کردار احمد پٹیل کا تھا۔ کانگریس نے انہیں وزیراعلیٰ بنا دیا۔سدھارمیہ کو لے کر دیو گوڑا اس وقت بھی بہت سخت ہیں اور ناراض بھی ہیں لیکن صورت حال کا دبائو ناراضگی کے باوجود کچھ کام کروا دیتا ہے۔ اس لئے بی جے پی کے سامنے ایک چکر ویو بن گیا ہے کہ اگر اسے مکمل اکثریت نہیں ملی تو پھر اس کی سرکار کو حمایت کم سے کم کمار سوامی دیو گوڑا کے ذریعہ شاید ہی مل پائے۔ کیونکہ پینچ وزیراعلیٰ کے سوال پر کھڑا ہوگا۔ سدھارمیہ ایک تجربہ کار منتظم ثابت ہوئے اور انہوں نے بہت نپے تلے قدموں سے اپنے پانچ سال کا سفر طے کیا۔ سرکار کے اوپر جو بھی الزام لگے ہوں، لیکن سدھارمیہ کی اپنی فطرت نے اور رویے نے کرناٹک میں ایک چھاپ چھوڑی ہے۔ لنگایت اور اوکالنگا سماج، جو بالآخر کرناٹک میں کس کی سرکار بنے گی، اس میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
سدھارمیہ نے اس کے علاوہ کرناٹک کے سبھی طبقوں کو اکٹھا کرکے اپنے ساتھ کھڑا کرنے میں کامیابی پائی ہے۔یہ کام ایک بار دیو راج عرس کرچکے ہیں۔ وہ نہ اوکالنگا تھے نہ ہی لنگایت تھے لیکن ان دونوں طبقوں کے علاوہ جتنے طبقات تھے ان کو اکٹھا کرکے دیو راج عرس نے سرکار بنائی تھی۔ اندرا گاندھی کو دوبارہ اقتدار میں لانے میںان کی بہت بڑی قربانی تھی۔ اس وقت اندرا گاندھی کو جتنی بھی مالی مدد یا سرکاری مدد، جو پارٹی کے لئے کی جاسکتی ہے، وہ دیو راج عرس نے جی جان لگا کر فراہم کرایا تھا۔ نتیجے کے طور پر 1980 میں اندرا گاندھی دوبارہ اقتدار میں آگئی تھیں۔سدھارمیہ ایک وزیراعلیٰ کے ناطے ہی نہیں، ایک ہیرو کی طرح کرناٹک میں ابھرے ہیں۔ کرناٹک میں وزیر اعلیٰ تو اور بھی ہوئے ہیں،لیکن ان کا نام کرناٹک کے باہر نہیں جانا جاتاجیسے دھرم سنگھ۔انہیں کرناٹک کے باہر لوگ نہیں پہچانتے لیکن سدھارمیہ کی پہچان سارے ملک میں ان کے کام کرنے کے طریقے سے بن چکی ہے۔
کرناٹک میں کانگریس کے اندر کے دائو پینچ کانگریس کے لئے مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں۔ کرناٹک کانگریس کا ایک طبقہ جیت کی حالت میں سارا سہریٰ ابھی سے راہل گاندھی کو دینے کے لئے اس طرح سے شور مچا رہا ہے، جس سے سدھارمیہ کو انتخابی تشہیر میں تھوڑی پریشانی ہوسکتی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ کرناٹک میں اگر کانگریس دوبارہ جیت جاتی ہے تو اس کا سبب راہل گاندھی نہیں ہوںگے، بلکہ اس کا سبب سدھارمیہ ہوںگے۔ کانگریس میں ایک ایسی نفسیات چھائی ہوئی ہے جو چاہے جیت کسی بھی وجوہات سے ہو،وہ سارا سہریٰ راہل گاندھی کو ہی دینا چاہتی ہے۔ اگرچہ کرناٹک میں راہل گاندھی نے سدھارمیہ کو پوری چھوٹ دے دی ہے اور کانگریس کے کسی لیڈر کو یہ اجازت نہیں دی ہے کہ وہ سدھارمیہ کے راستے میں پریشانی پیدا کرے لیکن کچھ چیزیں فطری طریقے سے پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس لئے کانگریس کے اندر جتنے بھی سدھارمیہ مخالف عناصر ہیں، وہ راہل گاندھی کے نام سے سدھار میہ کے لئے پریشانی پیدا کررہے ہیں۔
کرناٹک کا الیکشن اگر بی جے پی 10 یا15 ایم ایل ایز کی اکثریت سے جیت جاتی ہے اور سرکار بناتی ہے تو بی جے پی کو 2019 میںجذباتی طور پر کتنا فائدہ ہوگا،یہ تو بی جے پی جانے لیکن اگر کرناٹک میں کانگریس یہ الیکشن محدود ممبروں کے اضافہ کے بعد جیت جاتی ہے تو کانگریس کو اس سے بہت فائدہ ہوگا۔ راہل گاندھی اپنی قیادت کو مستحکم کرنے اور سیاسی تجربہ کی نئی پاری کھیلنے کی کوشش میں جن جھٹکوںکو جھیل رہے ہیں، ان سے اُبرنے میں انہیں بہت مدد ملے گی۔
اس وقت ملک کی مختلف پارٹیوں کے زیادہ تر لیڈر کرناٹک میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں اور مقامی کارکنوں کے ساتھ اپنی اپنی پارٹی کی تشہیر کررہے ہیں۔ پہلے کرناٹک کا الیکشن قومی سطح پر بہت اثر نہیں چھوڑتا تھا لیکن 2019 کا کائونٹ ڈائون شروع ہو چکا ہے اور 2019 کا الیکشن ایک طرفہ نہیںہونے والا ہے۔ اس لئے کرناٹک کا الیکشن قومی اہمیت کا حامل الیکشن ہو گیا ہے۔ خود یدورپا کو کتنے ووٹ ملتے ہیں یا وہ کتنے ووٹوں سے جیتتے ہیں یا پھر وہ اپنی پارٹی کے کتنے لوگوں کو جتا پاتے ہیں،یہ بھی ایک سیاسی تجزیہ کرنے کا موضوع بن کر ابھرے گا۔کیونکہ بی جے پی اپنے اس ساتھی کو وزیر اعلیٰ بنارہی ہے جسے اس نے بدعنوانی کے الزام میں پارٹی سے نکال دیا تھا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *