کیا پاکستان کے عام انتخابات وقت پر ہوپائیں گے؟

Pakistan

سابق وزیر اعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ پاکستان کے عام پارلیمانی انتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیر قبول نہیں کی جائے گی۔لیکن کیا ان کا یہ بیان پاکستان کی سیاست پر کوئی اثر چھوڑے گا؟شاید نہیں کیوں کہ ملک کے دو اہم عہدیداروں نے عام انتخابات میں تاخیر کا اشارہ دیا ہے اور وہ دونوں عہدیدار ہیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار اورآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ۔ظاہر سی بات ہے کہ پاکستان کی حکومت میں اگرچہ فوج کا براہ راست دخل نہیں ہے مگر یہ تو ہوتا ہی آیا ہے کہ وہاں کی سیاست کی قسمت کا فیصلہ فوجی سربراہ ہی کرتے ہیں اور جب ایک فوجی سربراہ الیکشن میں تاخیر کی بات کہہ رہے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی مضبوط بات ہوگی۔ مزید براں چیف جسٹس نے بھی فوجی سربراہ کی تائید کردی ہے ۔

 

 

 

اب دشواری الیکشن کمیشن کے سامنے ہے کہ وہ کیا کرے؟حالانکہ الیکشن کمیشن نے یہ بیان دیا تھا کہ عام انتخابات وقت پر کرائے جائیں گے مگر جب سے فوجی سربراہ نے کہا ہے کہ تاخیر ہوسکتی ہے تب سے اب کمیشن بہانہ کی تلاش میں لگ گیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف نے میڈیا میں تاخیر کا اشارہ دیاہے تو اب انتخابات کے بروقت انعقاد کے حوالے سے شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کے سینئر عہدیداروں کا اصرار ہے کہ انتخابات میں تاخیر کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی لہٰذا وقت پر ہی کرائے جائیں۔اس سلسلہ میں کہا جاتا ہے کہ حدبندی کا معاملہ اب تک حل نہیں کیا گیا ہے لہٰذا اسی کو بہانہ بناکر معاملہ لٹک سکتا ہے اور تاخیر ہو سکتی ہے۔
آرمی چیف نے حال ہی میں صحافیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پرکچھ ہفتوں کیلئے انتخابات میں تاخیر کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ آرمی چیف کی جانب سے جن تکنیکی وجوہات کا ذکر کیا گیاہے، ان کا رپورٹ میں حوالہ نہیں دیا گیا لیکن عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وجوہات مختلف حلقوں کی حدبندی کے عمل سے جڑے تنازعات کے متعلق ہیں۔

 

 

قابل ذکر ہے کہ حد بندی کے تعلق سے کمیشن کو جو اعترا ضا ت موصول ہو رہے ہیں، ان کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے متعین کردہ ٹائم فریم اور قانون میں وضع کردہ اصولوں کے تحت کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے اور منظور کردہ میکنزم کے تحت حلقوں میں حدبندی کی ہے۔ 2018کے مقابلے میں 2002 کے انتخابات سے قبل کی حدبندیوں کے متعلق موصول ہونے والے اعتراضات بہت زیادہ تھے لیکن اس وقت بھی انتخابات میں تاخیر کی بات سامنے نہیں آئی تھی۔ 2002میں مجموعی طور پر 985 شکایات موصول ہوئی تھیں جبکہ اس مرتبہ صرف 89 شکایات / اعتراضات موصول ہوئے ہیں۔ ان تمام 89 شکایات میں سے کسی میں بھی قانون کے تحت ٹھوس معاملہ نہیں اٹھایا گیا۔ الیکشن کمیشن کو یقین ہے کہ اگر انتخابات میں تاخیر کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے تو حدبندی کا معاملہ معمول کے مطابق قانون کے تحت حل ہوجائے گا۔ حلقوں کی حد بندی کا کام الیکشن کمیشن کی جانب سے آزادانہ طور پر اور کسی بھی ادارے یا اتھارٹی کے دبائو یا اثر میں آئے بغیر ہوگا۔

 

 

 

آئین کے مطابق، نگراں حکومت 60 یا 90 روز میں عام انتخابات کرانے کی ذمہ داری سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور اپنی طاقت اور اختیارات کے باوجود کو ئی بھی ادارہ عبوری نظام کو توسیع نہیں دے سکتا۔ پارلیمنٹ اگر اپنی مدت مکمل کرے تو نگراں حکومت 60 روز کیلئے قائم رہے گی اور اگر اسمبلیاں جلد تحلیل ہوگئیں تو نگراں حکومت 90 روز کیلئے ہوگی اور اس کا مینڈیٹ اسی عرصہ کے دوران پارلیمانی انتخابات کرانا ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل 224 میں لکھا ہے کہ قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کا عام انتخاب اس دن سے فوراً 60 روز کے اندر کرایا جائے گا جس دن اسمبلی کی معیاد ختم ہونے والی ہو، بجز اس کے کہ اس سے پیشتر تحلیل نہ کر دی گئی ہو۔ اگر اسمبلی قبل از وقت تحلیل کر دی گئی ہو تو نگراں حکومت کے پاس 90 دن ہوں گے کہ وہ انتخاب کرا سکے۔ لیکن موجودہ معاملے میں چونکہ اسمبلی اپنی مدت کے آخری دن پر تحلیل ہو رہی ہے اسلئے نگران حکومت کے پاس انتخابات کے انعقاد کیلئے 60 دن ہوں گے۔یہ تو رہی قانون کی بات لیکن کیا اس پر عمل ہوسکے گا یا پھر اس میں بھی شقیں نکلنی شروع ہوجائیںگی اور آرمی چیف اور چیف جسٹس کی خواہش کے مطابق الیکشن میں تاخیر کی جائے گی،یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *