قندوز میں شہید ہوئے ننھے حفاظ پر عالمی برادری خاموش کیوں؟:مولانا سید انظر شاہ قاسمی

maulana-anzar-shah
بنگلور: جس طرح انسان قیمتی چیز کو، سونا، چاندی، ہیرے جواہرات کو تجوریوں میں قیمتی جگہوں میں سنبھال کر رکھتا ہے اسی طرح اللہ تبارک تعالیٰ اپنے کلام پاک کو ہر کس و نا کس کے دل میں محفوظ نہیں کرتے۔اللہ اپنے کلام کوجن کے سینوں میں محفوظ کرتے ہیں ان کو حافظ قرآن کہا جاتا ہے۔ ہر کسی کو یہ نعمت نہیں ملتی، اللہ جسکو چاہتے ہیں اسے مالا مال کرتے ہیں۔یہ حافظ قرآن کا سینہ اللہ کی قیمتی جگہ ہوتی ہے۔اسلئے حافظ قران کی توہین قرآن مجید کی توہین ہے۔ان خیالات کا اظہار جامعہ فضیلت القرآن کے جی ہلی بنگلور میں منعقد اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔
مولانا نے کہا کہ دشمنان اسلام لاکھ مکروفریب کریں، کلام پاک کو جلائیں، اسکو ختم کرنے کیلئے لاکھ تدبیریں کریں، قندوز کے حفاظ جیسے حافظوں کو شہید کرکے جنتی دولہا بنائیں لیکن کلام پاک کو مٹانا تو دور کی بات اس کا ایک زبر اور زیر بھی آج تک کوئی ختم نہیں کر پایا ہے اور نہ قیامت تک اس کے اندر ردوبدل کرپائے گا۔ مولانا نے فرمایا کہ نام نہاد امن کا علمبردار دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد امریکہ قندوزمیں سوا سو حفاظ کرام کو شہید کرکرے سمجھتا ہے کہ قرآن کا نام و نشان مٹا دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس کی سب سے بڑی حماقت ہے۔
مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے سوال اٹھایاکہ قندوز میں شہید ہوئے ننھے حفاظ پر عالمی برادری خاموش کیوں ہیں۔مولانا نے کہا ہمیں شکوہ دشمنوں سے نہیں کیونکہ دشمن کو دشمنی کرنے کا حق ہے لیکن خود مسلمانوں کے نزدیک علماء،حفاظ ائمہ کی کوئی عزت نہیں ہے۔ مساجد و مدارس کے بیت الخلا کیلئے کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں مگر آج ان حفاظ کرام کی تنخواہ بھنگیوں کی تنخواہ سے کم ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آج ضرورت ہے کہ ہم قرآن مجید کی قدر کریں اسکے پڑھنے، پڑھنے والوں سے محبت کریں۔ ہماری کامیابی، سربلندی اور نجات قرآن مجید میں ہی موجود ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اجلاس کی صدارت مولانا محمد مظفر صاحب عمری نے کی جبکہ نظامت کے فرائض جامعہ کے بانی و مہتمم حافظ محمد مطہر سراج انجام دے رہے تھے۔ اجلاس کا اختتام خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی کی دعا ئے مغفرت سے ہوا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *