مظلوم دلتوں سے خوف کیوں ؟

dalits

ملک میں دلتوں، آدیواسیوں اور محروم طبقوں کی حالت پچھلے 4 برسوں میں کتنی بہتر یا بدتر ہوئی ہے، قبل اس کے کہ اس کا جائزہ لیں، اس سے پہلے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ حکم کو پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے سرکاری افسروں کے خلاف شیڈولڈ کاسٹ ؍شیدولڈ ٹرائب (تشدد کی روک تھام ) قانون کے بے جا استعمال پر غور کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کے تحت درج ایسے معاملوں میں فورا گرفتاری نہیں ہونی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایس سی ؍ایس ٹی قانون کے تحت درج معاملوں میں کسی بھی سرکاری آفیسر کی گرفتاری سے پہلے ڈی ایس پی سطح کے آفیسر کے ذریعہ ابتدائی جانچ ضرور کرائی جانی چاہئے اور پیشگی ضمانت بھی دی جاسکتی ہے۔ اس خبر پر کہیں کوئی چرچا نہیں ہوا، کوئی بحث نہیں ہوئی، کسی سیاسی پارٹی کی جانب سے اس پر کوئی ریمارک نہیں آیا۔

 

 

 

 

 

 

مہذب معاشرہ کے لئے شرمناک

ملک میں دلت کو ہراساں کرنے کے واقعات بھی اس طرح کے ہوتے ہیں،جسے دیکھ سن کر سول سوسائٹی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ روی داس جینتی منا رہے دلتوں کے ساتھ مدھیہ پردیش کے دموہ میں مار پیٹ کی جاتی ہے۔ہریانہ کے فرید آباد میں پنچایت الیکشن میں ووٹ نہ دینے پر دلتوں کی پٹائی ہوتی ہے۔ آگرہ میں ایک دلت پریوار کی صرف اس لئے پٹائی کر دی گئی کیونکہ ان میں سے ایک کا ہاتھ غلطی سے ایک برہمن کو چھو گیا تھا۔ کنّوج میں ریپ کے بعد ایک دلت خاتون کو ایسڈ سے نہلا دیاگیا۔ چتوڑ گڑھ میں سائیکل چوری کے الزام میں دلت بچوں کو ننگا کرکے پیٹا گیا۔ گجرات میں دلتوں کی پٹائی کے بعد تو دلتوں نے بڑا آندولن بھی کیا۔ تازہ معاملہ کورے گائوں میں پھیلا تشدد ہے۔ اس کے علاوہ تریپورا الیکشن کے نتائج آنے کے بعد ملک بھر میں شدت پسند لوگوں کے ذریعہ دلت شبیہ کی علامت بابا صاحب بھیم رائو امبیڈکر اور پیریار کی مورتیاں توڑی گئیں۔
اس کے علاوہ ملک میں چھوا چھوت کا مسئلہ بھی کافی بڑا ہے۔ اس سے عام طور پر متاثر دلت اور کمزور طبقہ ہے جوکہ بھید بھائو اور تشدد کا شکار ہے۔ کسی دلت کے ذریعہ کھانا بنانے کو نحوست ماننے والے لوگ آج بھی موجود ہیں۔ یہاں تک کہ اسکول کے مڈ ڈے مل کھانے تک میں بھی بھید بھائو کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، ملک کے 27 فیصد سے زیادہ لوگ کسی نہ کسی شکل میں چھوا چھوت کو مانتے ہیں۔ خیر اب ہم بات کرتے ہیں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی۔ یہ ہندوستانی سرکار کا ایک ادارہ ہے ۔ہر سال دلتوں کے خلاف تشدد کے اعدادو شمار جاری کرتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

بی جے پی ریاستوں میں زیادہ مظالم

2016 کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں دلتوں کے خلاف جرائم کے معاملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کرائم ریٹ کے مطابق، اس لسٹ میں پہلا درجہ ہے مدھیہ پردیش کا۔ 2014 میں مدھیہ پردیش میں شیڈولڈ کاسٹ کے خلاف جرائم کے 3294 معاملے درج ہوئے جو 2015 میں 3546 اور 2016 میں 4922 تک پہنچے۔ اس کے بعد راجستھان ہے جہاں دلتوں کے خلاف جرائم میں 12.6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ راجستھان میں 2014 میں 6735 جرائم درج ہوئے ہیں جو کہ 2015 میں 5911 اور 2016 میں 5136 تک پہنچے۔ جرائم کے معاملے میں تیسرے نمبر پر گوا آتا ہے اور اس کے بعد بہار کا نمبر ہے، جہاں بی جے پی اور جنتا دل یو اقتدار میں ہے۔ بہار میں 2016 میں 5701 معاملے درج کئے گئے۔ 2016 میں ہوئے پوری ریاست میں کل جرائم میں سے 14 فیصد جرائم بہار میں ہی ہوئے ہیں۔ وہیں گجرات میں 2014 کے مقابلے جرائم کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔2014 میں جہاں گجرات میں 1094 مجرمانہ معاملے درج کئے گئے وہیں 2016 میں یہ اعدادو شمار 1322 تک پہنچے۔
این سی آر بی کے 2015 کے اعدادو شمار بھی بتاتے ہیں کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاست دلت تشدد کے معاملے میں باقی ریاستوں سے بہت آگے ہیں۔ 2014 میں بھی کم و بیش یہی حالت رہی ہے۔ 2015 میں دلتوں کے خلاف کل 45003 جرائم کے حادثات ہوئے۔ 2014 میں یہ تعداد 47064 تھی۔ 2015 میں فی لاکھ دلت آبادی پر ہونے والے جرائم کا نیشنل ریٹ 22.3 ہے۔ 2015 میں اترپردیش میں 8358، راجستھان میں 6998، بہار میں 6438،آندھرا پردیش میں 4415،مدھیہ پردیش میں 4188، اڑیسہ میں 2305، مہاراشٹر میں 1816، تمل ناڈو میں 1782 ، گجرات میں 1046،چھتیس گڑھ میں 1028 اور جھارکھنڈ میں 752 جرائم دلتوں کے اوپر ہوئے۔ دلتوں کے خلاف جرائم کا نیشنل ریٹ جہاں 22.3تھا، وہیں یہ راجستھان میں 57.2، آندھرا پردیش میں 52.3 ، گوا میں 51.1، بہار میں 38.9، مدھیہ پردیش میں 36.9 ، اڑیسہ میں 32.1، چھتیس گڑھ میں 31.4رہا۔ 2015 میں دلتوں کے قتل کے 707 معاملے سامنے آئے ۔سب سے زیادہ قتل کے واقعات مدھیہ پردیش ، راجستھان ، بہار ، مہاراشٹر ، اڑیسہ ، گجرات اور اترپردیش میں ہوئے۔ 2015 میں دلت عورتوں کے ساتھ عصمت دری کے کل 2326 معاملے سامنے آئے،وہیں دلت عورتوں کے اغوا کے بھی 687 معاملے سامنے آئے۔

 

 

 

 

 

نشانے پر آدیواسی اور شہری دلت بھی

2015 میں آدیواسیوں کے خلاف 10914 جرائم کے معاملے سامنے آئے۔ اس میں راجستھان میں 3207 ، مدھیہ پردیش میں 1531، چھتیس گڑھ میں 1518، اڑیسہ میں 1307 ، آندھرا پردیش میں 719، تلنگانہ میں 698، مہاراشٹر میں 483، گجرات میں 256 اور جھارکھنڈ میں 269 جرائم شامل ہیں۔ 2015 میں درج فہرست قبائل کے خلاف قتل کے 144 جرائم سامنے آئے۔یہ واقعات بھی بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں زیادہ ہوئے۔ اسی طرح عصمت دری کے بھی 952 معاملے سامنے آئے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ آدیواسیوں کے خلاف آئی پی سی کے 4203 ایسے معاملے رہے، جن میں ایس سی ؍ایس ٹی ایکٹ کا استعمال نہیں ہوا۔ این سی آر بی کے 2016 کے اعدادو شمار کے مطابق یہ سچ سامنے آیا ہے کہ اب شہروں میں دلتوں کے خلاف جرائم کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ اتر پردیش اور بہار میں دلتوں کے خلاف زیادہ تر جرائم درج کئے گئے ہیں۔ این سی آر بی نے 2016 میں 19 میٹرو پولٹین شہروں میں ذات برادری پر مبنی تشدد کے اعدادو شمار پہلی بار جاری کئے تھے۔ لکھنو اور پٹنہ اس لسٹ میں سب سے اوپر ہے۔ اتر پردیش میں 2016 میں دلتوں کے خلاف جرائم کے 10426 معاملے درج کئے گئے تھے جو پورے ملک میں کل معاملوں میں سے 26فیصد ہے ۔ بہار 5701 ایسے حادثات (14فیصد) کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ جبکہ راجستھان 5134 حادثات (13فیصد ) کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ شہروں میں حیدر آباد 139 معاملوں (9 فیصد)کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔ 2016 میں دلتوں کے خلاف کل 40801جرائم ہوئے۔

 

 

 

 

10سال کے دوران تشدد

ہندوستان میں ہر 15منٹ میں ایک دلت تشدد کا شکار ہوتا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو ( این سی آر بی ) کے اعدادو شمار کے مطابق پچھلے 10 سال (2007-2017)میں دلت تشدد کے معاملے میں 66فیصد کا اضافہ درج ہوا۔ این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق پچھلے دس سال میں ملک میں روزانہ 6 دلت عورتوں سے عصمت دری کے معاملے درج کئے گئے۔ اس دوران روزانہ ملک میں 6 دلت عورتوں سے عصمت دری کے معاملے درج کئے گئے جو 2007 کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق ہندوستان میں ہر 15 منٹ میں دلتوں کے ساتھ مجرمانہ حادثہ ہوا۔ این سی آر بی کے ذریعہ جاری اعدادو شمار ملک میں دلتوں کے سماج کی صورت حال کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ پچھلے چار سال میں دلت مخالف تشدد کے معاملوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2006 میں دلتوںکے خلاف جرائم کے کل 27070 معاملے سامنے آئے جو2011 میں بڑھ کر 33719 ہو گئے۔ 2014 میں شیڈولڈ کاسٹ کے ساتھ جرائم کے 40401 معاملے ، 2015 میں 38670 معاملے اور 2016 میں 40801 معاملے درج کئے گئے۔
این سی آر بی کے اعدادو شمار کے مطابق 10 سال میں دلت عورتوں کے ساتھ عصمت دری کے معاملوں میںدوگنااضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق 2006 میں جہاں یومیہ دلت عورتوں کے ساتھ عصمت دری کے صرف تین معاملے درج ہوتے تھے جو 2016 میں بڑھ کر 6 ہوگئے۔ این سی آر بی کے اعدادو شمار سے چونکانے والی بات سامنے نکل کر آئی ہے۔ 2014 سے 2016 کے دوران جن ریاستوں میں دلت تشدد کے سب سے زیادہ معاملے درج ہوئے، ان ریاستوں میں یا تو بی جے پی کی سرکار ہے یا پھر اس کے اتحادی کی۔ بات کریں دلت تشدد میں سب سے آگے رہی ریاستوں کی تو مدھیہ پردیس دلت تشدد میں سب سے آگے رہا۔ 2014 میں ریاست کے اندر دلت تشدد کے 3294 معاملے درج ہوئے جن کی تعداد 2015 میں بڑھ کر 3546 اور 2016 میں 4922 تک جا پہنچی۔ ملک میں دلتوں پر مظالم کے کل فیصد میں مدھیہ پردیش کا حصہ 12.1فیصد رہا۔

 

 

 

 

 

68 فیصد قیدی محض ملزمین

ملک کے کل قیدیوں میں میں تقریبا 68 فیصد قیدی ایسے ہیں جنہیں عدالت سے سزا نہیں ملی ہے یعنی وہ صرف ملزم ہیں۔ان قیدیوں میں ملک کے سب سے کمزور طبقہ سے تعلق رکھنے والے زیر غور اور سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد حیرت انگیز طور پر زیادہ ہے۔ 2015 کے اعدادو شمار کے مطابق کل 282076 زیر غور قیدیوں میں سے 61139(21.6فیصد) کا تعلق دلت سماج سے تھا۔ 34999 (12.4فیصد) کا تعلق آدیواسیوں سے تھا۔ 88809 (31.5فیصد) او بی سی سماج سے آتے تھے جبکہ مسلم نظریہ والے قیدیوں کی تعداد 59053 (20.9فیصد) تھی۔ یعنی اس سال سزا یافتہ قیدیوں کی بات کریں تو کل 134168 سزا یافتہ قیدیوں میں 28033(20.9فیصد ) دلت تھے۔ 18401 (13.7فیصد) کا تعلق درج فہرست قبائل سے تھا۔ 45801(34.1فیصد ) او بی سی سے متعلق تھے جبکہ 21220 (15.8فیصد) مسلم تھے۔ 2014 کے اعدادو شمار بھی ملک کے جیلوں کی لگ بھگ 2015 جیسی ہی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس سال کل 282879 زیر غور قیدیوں میں 57045(20.2 فیصد ) قیدی دلت تھے۔ 31648 (11.2فیصد) کا تعلق شیڈولڈ ٹرائب سے تھا۔ 88448 (31.3فیصد) او بی سی اور 59550 (21.1فیصد) مسلم تھے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہندوستان کی جیلوں میں زیر غور قیدیوں کی تعداد جیلوں کی گنجائش سے کئی گنا زیادہ ہے۔
اب اس تصویر کا ایک اور پہلو دیکھتے ہیں کہ اگر دلت ، آدیواسی اور او بی سی کے اعدادو شمار کو ملا لیاجائے تو 2015 میںملک کے کل زیر غور قیدیوں میں 65.6 فیصد کا تعلق ان تین طبقوں سے تھا۔ یا اگر دلت، آدیواسی اور مسلم زیر غور قیدیوں کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھیں تو 2014 میں ملک کے کل زیر غور قید یوں میں 52 فیصد کا تعلق ان تین طبقوں سے ہے۔یہ اعدادو شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جیلوں میں دلتوں اور مسلم قیدیوں کی تعداد ان کی آبادی کے اعتبارسے کہیں زیادہ ہے۔یہ تعداد دلتوں کے تئیں بدقسمتی کو اجاگر تو کرتی ہی ہے ساتھ میں ایک بڑی تصویر کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے اور وہ تصویر یہ ہے کہ وسائل کا فقدان اور عدلیہ کے طریقہ کار کی وجہ سے سماج کے حاشئے پر رہ رہے طبقوں کو جیل کی کالی کوٹھری میں اکثر سڑنا پڑتاہے۔

 

 

 

 

بہر حال جیسا کہ اوپرذکر کیا جاچکا ہے کہ پچھلے تین برسوں کے این سی آر بی کے اعدادو شمار میں دلتوں پر تشدد کے معاملے میں کسی طرح کا بدلائو دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ ان اعدادو شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ملک میں ہر دوسرے گھنٹے کسی نہ کسی دلت کو نشانہ بنایا جاتاہے ۔ہر 24 گھنٹے میں 3 دلت عورتوں کی عصمت دری ہوتی ہے ۔ ہر گھنٹے کوئی نہ کوئی دلت مارا جاتاہے یا ان کے گھر جلائے جاتے ہیں، لیکن ان حادثوں کو کتنی کوریج ملتی ہے یہ سب کو معلوم ہے۔ دلت تشدد سے متعلق معاملہ بھی میڈیا کے نوٹس میں اس وقت تک نہیں آتا جب تک کہ ملک کی دلت تنظیم سڑکوں پر اترکر احتجاج نہیں کرتی۔امریکہ میں جب غلامی ختم ہوئی تو سیاہ فام لوگوں کے ساتھ امریکہ کی سڑکوں پر تشدد ہونے لگا۔ انہیں پیٹا جانے لگا۔ ان کے اوپر مظالم کئے جانے لگے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے آج ہندوستان میں دلت طبقہ مزاحمت کررہا ہے، سوال کررہا ہے، آواز اٹھا رہاہے تو ان پر حملے ہو رہے ہیں۔ بھیما کورے گائوں کا تشدد اس کی تازہ مثال ہے۔

 

 

 

 

 

 

علامات پر نشانہ

ملک میں یو ںتوبے شمار لیڈروں کی مورتیاں لگی ہیں لیکن جو احترام امبیڈکر کی مورتیوں کو ملا ہے وہ شاید ہی کسی لیڈر کی مورتی کو ملا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکار نے تو امبیڈکر کی مورتیاں لگائی ہی ہیں، ملک کی لگ بھگ ہر دلت بستی میں بھی امبیڈکر کی مورتیاں قائم ہیں۔ امبیڈکر کو ہندوستان آئین بنانے والے کی شکل میں جانا جاتاہے۔وہ جدو جہد آزادی کے قدآور لیڈر تھے۔ آج وہ اس لئے بھی متعلقہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ وہ دلتوں کی سماجی اور سیاسی بیداری کے سب سے بڑے نمونہ ہیں۔دراصل انہیں متعلقہ بنائے رکھنے میں ملک بھر میں پھیلی دلت بستیوں میں قائم ان کی مورتیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس لئے دلتوں پر حملے کی لپیٹ میں امبیڈکر کی مورتیاں بھی آجاتی ہیں ۔حالیہ دنوں میں دلتوںپر حملوں کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔اسی طرح امبیڈکر کی مورتیوں کوتوڑنے ، اس پر سیاہی ملنے، اسے بگاڑنے کی وارداتیں بھی بڑھی ہیں۔ حالانکہ ان وارداتوں کی رپورٹنگ مین اسٹریم کے میڈیا میں کبھی کبھی ہی ہوتی ہے۔ لیکن متبادل میڈیا نے ایسی خبروں سے عوام کو واقف کرا رکھا ہے ۔
علامت کی مورتیاں توڑنے کا تازہ واقعہ تریپورہ اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی جیت کے بعد شروع ہوا۔ وہاں بی جے پی حامیوں نے کمیونسٹوں کی علامت لینن کی مورتی توڑدی ۔ اس واقعہ پر آر ایس ایس اور بی جے پی کے کئی لیڈروں نے تالیاں پیٹی۔اس کے بعد تمل ناڈو بی جے پی کے نائب صدر ایچ راجا نے ایک ٹویٹ کیاکہ ’آج تریپورا میں لینن کی مورتی گری ہے ،کل ذاتی وادی ای وی راما سوامی پیریار کی مورتیوں کی باری ہوگی‘۔ راجا کے ٹویٹ کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ویلور میں پیریار کی مورتی پر حملہ ہوا اور اسے نقصان پہنچایا گیا۔غور طلب ہے کہ پیریار تمل ناڈو میں دریویڈ آندولن کے بڑے کردار ہیں۔بہر حال پیریا ر کے بعد ملک کے الگ الگ حصوں میں امبیڈکر اور گاندھی جی کی مورتیوںپر حملے ہونے شروع ہوئے، لیکن بی جے پی سرکار کو سمبل کے ٹوٹنے کا درد اس وقت ہوا جب کولکاتہ میں انکے سمبل شیاما پرساد مکھرجی کی مورتی کے ساتھ توڑ پھوڑ کی گئی۔
دراصل امبیڈکر کی مورتیاں قائم کرنے میں بھی دلتوں کو طرح طرح کی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ اس کی ایک مثال آندھرا پردیش میں ہوئے واقعہ سے ہے۔ پچھلے سال مغربی گوداوری ضلع کے گاراگپرو گائوں کے 450 دلت خاندانوں نے امبیڈکر کی مورتی قائم کرنے کی کوشش کی لیکن یہ بات گائوں کے دوسری اونچی ذات کے لوگوں کو پسند نہیں آئی اور سماجی بائیکاٹ کا سامان کرنا پڑا۔ سمبل کی خاص طور پر امبیڈکر کی مورتیوں کو توڑنے کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ جب سے دلتوں نے ملک کے اقتدار میں اپنی حصہ داری کے لئے جدو جہد شروع کی ہے ،اس کے بعد سے امبیڈکر کی مورتیوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات بھی بڑھنے لگے ہیں۔ تمل ناڈو میں صورت حال اتنی خراب ہو گئی کہ وہاں امبیڈکر کی مورتیوں کو جالیوں میں بند کرنا پڑا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *