بہار کون چلا رہا ہے

نتیش کی کور ٹیم
تاریخ کے صفحات کو اگر پلٹیں تو عظیم مغل بادشاہ اکبر کے دربار میں براجمان نو رتنوں نے بادشاہ اکبر کو نہ صرف اکبر اعظم بننے میں ،بلکہ دنیا بھر میں مشہور کرنے میں پورا تعاون دیا۔ الگ الگ علاقوں میں یہ نو رتن اکبر کے پورے دور کار کی ریڑھ بنے رہے۔ اگر موجودہ وقت کی بات کریں تو ٹھیک اسی طرح وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے دور کار میں بہار کے کھاتے میں آئی حصولیابیوں میں پردے کے پیچھے ان کے نورتنوں کا بھی پسینہ بہا ہے۔ بھلے ہی ان نو رتنوں میں کاموں کی تقسیم زبانی ہو، لیکن انہوں نے اپنے کاموں کو بخوبی انجام دینے میں رات دن ایک کردیا ہے۔ معاملہ چاہے انتظامی امور سے متعلق ہو یا پھر سیاسی۔ یومیہ مصروفیتوں سے لے کر مہمانوں کی خاطر مدارات تک کے کاموں میں بھی ان نو رتنوں کا دماغ لگتا ہے۔ ملک و دنیامیں بہار اور وزیر اعلیٰ کی شبیہ ابھارنے کی ذمہ داری بھی انہی نو رتنوں کے حوالے ہے۔ کئی وزیروں، افسروں اور خوشامدی درباریوں کو بھلے ہی ان نورتنوں کے کردار راس نہ آتے ہوں، لیکن پردے کے پیچھے کے یہ ہیرو چاہتے ہیں کہ اپنی پوری صلاحیت سے نتیش کمار کو تعاون کرتے رہیں۔تاکہ بہار ملک کی نمبر ایک ریاست بن سکے۔
نتیش کمار کے ان نو رتنوں میں پہلا نام رام چندر پرساد کا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے انتہائی قریبی رام چندر پرساد کو لوگ آر سی پی کے نام سے زیادہ جانتے ہیں۔ آر سی پی نتیش کے دربار کے پرانے رتنوں میں سے ایک ہیں۔ وزیربرائے زراعت و سطحی نقل و حمل اور وزیر ریلوے کی حیثیت سے نتیش کمار کے دور کار کے دوران بھی آر سی پی ان سے جڑے رہے۔یہی وجہ ہے کہ لو پروفائل رہنے والے آر سی پی اس وقت نتیش کمار کے سب سے بھروسہ مند معاون ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے سیاسی و سرکاری سطح پر خفیہ کام کے ساتھ داخلہ اور پرسنل محکمہ کے اہم فیصلوں میں بھی آر سی پی نتیش کمار کو تعاون کرتے ہیں۔ بڑے افسروں کے تبادلوں پر بھی آر سی پی کی نظر رہتی ہے لیکن اس وقت آر سی پی اپنا پورا دھیان جنتا دل یو کو قومی سطح پر پھیلانے میں لگائے ہوئے ہیں۔ پارٹی کی پوری ذمہ داریوں کا نفاذ اور بی جے پی کے ساتھ رشتوں کی کہانی کی اسکرپٹ آر سی پی ہی لکھتے ہیں۔ اترپردیش کیڈر کے آئی اے ایس آفیسر رہے آر سی پی سائے کی طرح نتیش کمار کے ساتھ رہتے ہیں۔ آر سی پی پر نتیش کمار کا بھروسہ کئی وزیروں، ایم ایل اے اور افسروں کے لئے حسد کا سبب بنا ہوا ہے۔ آر سی پی پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کا کام کریں یا نہ کریں، لیکن رویے سے سب کو خوش کئے رہتے ہیں۔ اس سے وزیر اعلیٰ کو سیاسی فائدہ بھی ہوتا ہے۔
وزیراعلیٰ نتیش کمار کے نو رتنوں میں دوسرے نمبر پر چنچل کمار ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے سکریٹری چنچل کمار بہار کیڈر کے آئی اے ایس آفیسر ہیں۔ مدھوبنی کے رہنے والے چنچل کمار نالندہ سمیت کئی ضلعوں میں کئی برسوں تک کلکٹر کی شکل میں تعینات رہے ہیں۔ ریلوے وزیر کے پورے دور کار میں وہ نتیش کمار کے ساتھ رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ تعلیم، صحت، عمارتیں، اطلاعات ،عوامی رابطے، قانون،درج فہرست ذات و قبائل ویلفیئر ،سماجی فلاح و بہبود، پنچایتی راج، پسماندہ طبقہ اور انتہائی پسماندہ طبقہ کی فلاح وبہبود، اقلیتوں کی فلاح، فنانس کریڈٹ ریسورس اور فن و ثقافت محکمہ سے متعلق فیصلے لینے میں چنچل کمار کی رائے پر توجہ دیتے ہیں۔ ریلوے وزیر ہونے کے دوران نتیش کمار کا بھروسہ جیتنے والے چنچل کمار کارکنوں اور لیڈروں سے بھی بہت اپنائیت سے ملتے ہیں۔
ان کے علاوہ نتیش کمار کے بھروسہ مند افسروں کی ٹیم میں برجیش ملہوترا ،عامر سبحانی اور اتیش چندرا بھی شامل ہیں۔ مرکزی سرکار کے ساتھ تال میل اور ریاست کے مفاد کے تحفظ کے لئے مرکزی مدد کا سارا بلو پرنٹ یہ آفیسر س ہی تیار کرتے ہیں۔ سیکورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے والے ہریندر کمار بھی نتیش کے خاص ہیں۔ لگ بھگ 20 برسوں سے نتیش کمار کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ سیکورٹی کے علاوہ ان کا کام وزیر اعلیٰ کو وقت پر کھانے کا انتظام کرانے سے لے کر اہم لوگوں سے موبائل پر بات کرانا، دوا کھلانا اور دیگر سارے گھریلو کام کو پورا کرنا بھی شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ ان پر بہت زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ انجنی سنگھ اور گپتیشور پانڈے کے ساتھ سنجے سنگھ بھی نتیش کمار کو بے حد پسند ہیں اور ان افسروں نے بھی کبھی وزیر اعلیٰ کو مایوس نہیں کیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

دوستی میں گانٹھ
کہتے ہیں کہ اگر دوستی میں ایک بار گانٹھ پڑ جائے تو وہ ہمیشہ کے لئے شک کے گھیرے میں آ جاتی ہے۔ دوستی سے بندھے لوگ کہنے کو تو اپنی دوستی کے حق کی تعمیل کرتے اور دکھاتے نظر آتے ہیں، لیکن اندر خانے کی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ دوستی کے دھاگے میں بندھا ہر کردار دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ نتیش کمار نے جس دن بی جے پی کے ساتھ اپنا دہائیوں پرانارشتہ توڑا، اسی دن یہ بات چرچا میں تھی کہ دیر سویر وہ ایک بارپھر اپنی پرانی دوستی کو زندہ ضرور کریںگے۔ 2015 میں مہاگٹھ بندھن بنا اور نتیش کمار ایک بار پھر ریاست کے چیف بن گئے لیکن جیسا کہ تشویش تھی، لالو پرساد سے نتیش کمار کی دوستی سال بھر بھی نہیں چل پائی اور ایک بار پھر جنتا دل یو چیف نے بی جے پی کا ہاتھ تھام لیا اور بہار میں این ڈی اے کی سرکار بنا ڈالی۔ اس طرح نتیش کمار نے بی جے پی کے ساتھ دوستی کرکے ایک چکر پورا کرلیا۔
لیکن بی جے پی کے ساتھ ان کی نئی دوستی خود نتیش کمار کی اپنی کسوٹی پر کھری اتر رہی ہے یا نہیں ،یہ ایک ایسا سوال ہے جسے اب وزیر اعلیٰ سے جڑا ہر ایک شخص پوچھنے لگا ہے۔ بی جے پی کے ساتھ دو بار دوستی کرنے سے پہلے سے ہی نتیش کمار صاف صاف کہتے رہے ہیں کہ بہار کی ترقی ان کی ترجیحات میں ہے اور وہ اپنا ہر قدم اسی خواب کو پورا کرنے کے لئے اٹھاتے ہیں۔ بی جے پی کے ساتھ نئی سرکار بنانے کے بعد جب ان سے لوگوں نے مہا گٹھ بندھن توڑنے اور بی جے پی کے ساتھ دوبارہ دوستی کی وجہ پوچھا تو اس وقت بھی نتیش کمار نے یہ کہہ کر سب کی بولتی بند کر دی کہ ریاست کے عوام نے مجھے ترقی کے لئے ووٹ دیا ہے ،کسی کی بدعنوانی کو چھپانے کے لئے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی ترقی کے لئے وہ ہمیشہ سے پُرعزم ہیں اور آگے بھی رہیں گے۔ حالانکہ نتیش کمار لگاتار ترقی کی دُہائی تو دے رہے ہیں، لیکن زمین پر کچھ خاص ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ عام سوچ ہے کہ مرکز اور ریاست میں ایک ہی گٹھ بندھن کی سرکار بننے سے ترقی کی رفتار بڑھ جاتی ہے ۔ بہار میں بھی جب نتیش کمار نے تمام اٹکلوں کو لگام لگاتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ سرکار بنائی تو کہا جانے لگا کہ اب ڈبل انجن لگ گیاہے۔
لگ بھگ دو دہائی بعد جب بہار اور مرکز میں ایک ہی گٹھ بندھن والی سرکار بنی تو ترقی کی امید جاگی لیکن سال پورا ہونے کو ہے اور ترقی کی تصویر دھندلی سی ہی نظر آرہی ہے۔ عام طور پر ترقی، بدعنوانی اور سیکولرزم کے ایشوز پر فوراً فیصلہ لینے والے نتیش کمار اس اننگ میں کچھ لاچار دکھ رہے ہیں۔ مخالفین تو کہتے ہیں کہ سرکار نتیش نہیں، بلکہ بی جے پی اور سنگھ چلا رہے ہیں۔ سرکار میں وہی ہو رہا ہے جو بی جے پی چاہتی ہے اور نتیش کمار چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر پا رہے ہیں۔ اپنے چند بھروسے کے نوکرشاہوں کے گھروسے نتیش اپنی وہی پرانی شان پانے کی کوشش تو کررہے ہیں لیکن حال کے کچھ واقعات سے صاف ہو گیا ہے کہ اس سرکار میں پہلے والی بی جے پی – جنتا دل یو سرکار کی طرح تال میل نہیں ہے ۔اگر زیادہ واضح الفاظ میں کہا جائے تو بی جے پی وہ تال میل چاہتی ہی نہیں ہے۔
نہ تال ہے نہ میل ہے
نئی سرکار بنی تو یہ بات کہی جانے لگی کہ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ ملے نہ ملے، کم سے کم جلد سے جلد خصوصی پیکج تو مل ہی جائے گا۔ لیکن خصوصی پیکج کو لے کر جو تاخیر ہورہی ہے، اس کاخمیازہ بہار روز بھگت رہا ہے۔ ابھی جب چندر بابو نائڈو نے خصوصی ریاست کو لے کر ہنگامہ کھڑا کیا تو نتیش کمار کو کچھ بولتے نہیں بن رہا ہے۔وہ بس اتنا کہہ رہے ہیں کہ میں ہر وقت بولنے والا انسان نہیں ہوں۔ 15ویں مالیاتی کمیشن کے پاس پورا معاملہ ہے اور بہار کے لئے کچھ اچھا ہی ہوگا۔
نتیش کمار نے وزیر اعظم مودی کی موجودگی میں پٹنہ یونیورسٹی کو سینٹرل یونیورسٹی کا درجہ دینے کی مانگ کی لیکن وزیر اعظم نے اس مانگ کو منظور نہیں کیا۔ نتیش کمار نہیں چاہتے تھے کہ جنتا دل یو جہان آباد کا ضمنی انتخاب لڑے۔ جنتا دل یو نے اعلان بھی کردیا کہ وہ ضمنی انتخاب میں حصہ نہیں لے گی لیکن آخر کار بی جے پی نے ایسا دبائو بنایا کہ نتیش کمار کو وہاں اپنا امیدوار اتارنا پڑا۔ جنتا دل یو امیدوار ابھیرام شرما وہاں بڑے فرق سے انتخاب ہار گئے اور نتیش کے حصے میں آئی صرف بدنامی۔
سیاسی تجزیہ کار مانتے ہیں کہ اپنی بات کے پکے نتیش کمار اتنے مجبور کیسے ہو گئے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں اپنا امیدوار انتخاب میں اتارنا پڑا۔ کہنے والے کہنے لگے ہیں کہ سرکار میں تو بی جے پی کی ہی چل رہی ہے۔
بالو بحران کو لے کر بھی نتیش کمار لاچار دکھائی دیئے۔سرکار یہ بتا ہی نہیں پائی کہ وہ کرنا کیا چاہتی ہے۔ کہا جارہاہے کہ بی جے پی نے کے کے پاٹھک کو کھلی چھوٹ دے دی تھی کہ وہ اپنے حساب سے چیزوں کو دیکھیں۔نتیش کمار کے پاس اسے لے کر زمینی فیڈ بیک بھی آرہا تھا کہ اس سے نقصان کے علاوہ اور کچھ نہیں ہورہا ہے۔ آمدنی کا نقصان تو ہو ہی رہا ہے، پبلک کا موڈ بھی بگاڑ رہا ہے۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ کے سات نکات والے پروجیکٹ بھی پیچھے چھوٹنے لگے۔ لیکن نتیش کمار صرف یہ کہتے رہے کہ وقت دیجئے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس معاملے میں آخر کار ہائی کورٹ کا ڈنڈا چلا اور سرکار نے ایک بار پھر بالو اٹھائو کی پرانی پالیسی کو ہی لاگو کر دیا۔ حال کے دنوں میں نتیش کمار کی شبیہ کو بڑا جھٹکا بھاگل پور سانحہ نے دیا۔ مرکزی وزیر اشوینی چوبے کے بیٹے ارجیت کی گرفتاری میں جس طرح ٹال مٹول کیا گیا، اس سے لوگوں کو لگنے لگا کہ اس سرکار کی ڈور نتیش کمار کے بجائے کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہے۔ حالانکہ نتیش کمار بار بار کہہ رہے ہیں کہ نہ تو بدعنوانی کرنے والے اور نہ ہی سیکولرزم کو نقصان پہنچانے والوںسے کوئی سمجھوتہ ہوگا۔ بھاگل پور کے بعد بہار کے شیخ پورا، نالندہ اور اورنگ آباد میں فرقہ وارانہ تنائو پھیلا۔ نتیش کمار کے اپنے پورے دور کار میں یہ پہلا موقع تھا، جب اس طرح کی واردات سامنے آئی۔ ان وارداتوں سے عام نظریہ یہ بنا کہ بی جے پی اپنے ہندوتو کا ایجنڈا بہار میں دھیرے دھیرے لاگو کر رہی ہے اور نتیش کمار چاہ کر بھی بی جے پی کے قدم نہیں روک پا رہے ہیں۔
ادھر ارجیت معاملے کو لے کر بی جے پی لیڈروں کا ایک وفد ڈی جی پی سے مل آیا۔ اس سے سرکار کے لئے تذبذب کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ جنتا دل یو کے سینئر لیڈر کے سی تیاگی نے فوراً بیان جاری کیا کہ بی جے پی لیڈروں کو کچھ بات کہنی تھی تو وہ وزیراعلیٰ کو کہہ سکتے تھے یا پھر این ڈی اے کی میٹنگ میں کہہ سکتے تھے لیکن سرکار میں رہتے ہوئے ڈی جی پی سے وفد کا ملنا ٹھیک نہیں ہے۔جانکار بتاتے ہیں کہ دراصل بی جے پی نتیش کمار کے ساتھ اس نئی دوستی کو ایک ٹمپریری لانچنگ پیڈ کی طرح استعمال کررہی ہے۔ بی جے پی نے جس طرح ارجیت کے کارناموں کا بچائو کیا ،اس سے یہ صاف ہو گیا کہ نتیش کمار بھلے اسے غلط مان رہے ہیں لیکن بی جے پی سرکار میں رہتے ہوئے اسے جائز ٹھہرا رہی ہے۔
بی جے پی کا پچھلا تجربہ یہ رہا ہے کہ سرکار کے سبھی کاموں کا پورا سہریٰ نتیش کمار اٹھا لے جاتے ہیں اور پارٹی کے ہاتھ میں کچھ نہیں لگتا ہے۔ بی جے پی کو یہ پورا احساس ہے کہ اس بار اسے ایک مضبوط راشٹریہ جنتادل سے لڑنا ہے اور کسی بھی حال میں لوک سبھا انتخاب میں عمدہ مظاہرہ کرنا ہے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب بی جے پی اپنے نظریہ کی بنیاد پر سرکار کی پالیسیوں کو موثر بنائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو نتیش کمار کی سیکولرشبیہ کو دھکا پہنچے گا اور نہ ہوا تو بی جے پی اپنی انتخابی تیاری میں پیچھے چھوٹتی ہوئی دکھائی پڑے گی۔ بی جے پی کی پوری کوشش ہے کہ بہار کے عوام کو یہ صاف دکھے کہ بی جے پی نے نتیش کے نہ چاہتے ہوئے بھی بہت سارے کاموں کو انجام دے دیا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کاموں کا پورا سہریٰ بی جے پی اپنے سر پر سجانا چاہتی ہے نہ کہ نتیش کے سر پر۔ نتیش کمار کی پریشانی یالاچاری کی اصلی وجہ یہی ہے ۔سرکار بنے ابھی سال بھر بھی نہیں ہوا ہے ، ایسے میں گٹھ بندھن کو لے کر کوئی الٹی بات کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے ۔اس لئے نتیش بس اتنا کہہ رہے ہیں کہ سیکولرزم کا تحفظ ہر حال میں کیا جائے گا۔ نتیش کمار ریاست کے ہر شہری کو سیکورٹی دینے کی بھی بات کررہے ہیں۔ لیکن بی جے پی کے بڑھتے قدم کا ان کی شبیہ پر منفی اثر پڑ رہا ہے اور وہ اس کا کوئی علاج بھی نہیں دکھائی دے رہاہے۔
بی جے پی اور جنتا دل یو میں دوستی ہے اور سرکار چل رہی ہے، لیکن اس دوستی اور سرکار میں مٹھاس کم اور کڑواہٹ کچھ زیادہ لگ رہی ہے۔ لگتا ہے کہ دونوں ہی مجبوری کی سرکار چلا رہے ہیں۔ بی جے پی اور جنتا دل یو کو ساتھ مل کر سرکار چلانے کی مجبوری ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ سرکار بس چل رہی ہے۔ وقت اور ایشوز کے حساب سے اقتدار کی ڈور الگ الگ ہاتھوں میں چلی جاتی ہے۔ کبھی جنتا دل یو کا پلڑا بھاری دِکھتا ہے تو کبھی بی جے پی کا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ دونوں کا پلڑا کبھی برابر نہیں دکھ رہا ہے۔ موجودہ سرکار کے لئے یہی بات تشویش کا سبب ہے۔ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مجبوری کے اس کھیل سے پردہ کب اٹھتاہے اور کون اٹھاتاہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

شراب بندی 1.06لاکھ ایف آئی آر، 1.27 لاکھ گرفتاریاں
بہار میں مکمل شراب بندی کے دو سال پورے ہو گئے ہیں۔ سرکار کہتی ہے کہ سماج سدھار سے جڑا یہ مشن غریبوں کے گھروں میں خوشحالی لے کر آیا ہے۔ وہیں اپوزیشن کا الزام ہے کہ سرکاری کے دعوے کھوکھلے ہیں اور شراب کی اب ہوم ڈیلیوری ہو رہی ہے۔ نشا بندی کے نام پر غریب لوگوں کو جیل بھیجا جارہاہے لیکن بہار کی زمینی حقیقت ان دعوئوں اور الزامات کے بیچ کی ہے۔یہ کہنا غلط ہوگا کہ ریاست میں کہیں شراب نہیں مل رہی ہے ۔ جو شراب کے لئے زیادہ پیسہ دینے کو تیار ہے، انہیں گھر بیٹھے شراب مل رہی ہے۔ ضلعوں میں کچھ پولیس والے اسے روک رہے ہیں، تو کچھ شراب پہنچانے میں مدد کررہے ہیں۔ مکمل شراب بندی کے دو برسوں میں ریاستی سرکار نے شراب بندی قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تقریبا ً1.06 لاکھ ایف آئی آر درج کرائی۔ جن میں 1.27 لاکھ لوگ گرفتار کر کے جیل بھیجے گئے۔ ان میںسے اکیلے پروڈکٹ ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ درج کرائے گئے 45ہزار 600 معاملوں میں 25 لوگوں کو سزا بھی دلائی گئی ہے۔ ان 25 لوگوں کو کم سے کم ایک سال سے لے کر 15سال تک کی سزا ہوئی۔ وہیں پولیس کی طرف سے درج کئے گئے 60 ہزار 354 معاملوں میں 87 ہزار سے زیادہ کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا۔پروڈکٹ اینڈرجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی مانیں تو گرفتار لوگوں میں 68فیصد شراب پینے کے، جبکہ 23.55 فیصد لوگ شراب بیچنے کے الزام میں جیل بھیجے گئے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ کہ اس عرصہ میں دیسی شراب سے دوگنی سے زیادہ بدیشی شراب ضبط کی گئی ہے۔شراب بندی کا فیصلہ لینا کافی مشکل تھا، لیکن نتیش سرکار کے ذریعہ اسے سختی کے ساتھ لاگو کیا گیا۔ اس قانون کو بہتر طریقے سے لاگو کرانے میں بہار پولیس نے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شراب بندی کے بعد لوگوں کی زندگی میں خوشحالی آئی ہے۔ جرائم کم ہوئے ہیں،حادثے کم ہوئے ہیں اور ترقی کی راہیں کھلی ہیں۔ ان دو برسوں میں لوگوں کے رہن سہن میں کافی بدلائو آیا ہے۔
چھوٹی شراب تو بدلی زندگی
شراب بندی نے ریاست کی 99 فیصد عورتوں کی زندگی بدل دی ہے۔ نفسیاتی تشدد سے لے کر جنسی تشدد تک کا گراف اندھے منہ گر گیا ہے۔ شراب پر ہفتہ وار خرچ 971 روپے سے گھٹ کر 146 روپے پر پہنچ گیا ہے۔ وہیں تعلیم پر ہفتہ وار خرچ 364 روپے سے بڑھ کر 4612 روپے ہو گئے ہیں۔ اسٹیٹ ویمن کمیشن کے مارچ 2018 کے اعدادو شمار کو دیکھیں تو چھیڑ چھاڑ اور شراب کے نشے میں زمین بیچنے کے واقعات کم سے کم ہو گئے ہیں۔حالانکہ مکمل شراب بندی کے بعد بھی تقریبا 19 فیصد لوگ شراب پی رہے ہیں۔ریاستی سرکار کے ذریعہ نوادہ، پورنیہ، سمستی پور، مغربی چمپارن اور کیمور میں شراب پینے والے 2368 لوگوں کے خاندانوں پر جو ریسرچ کرایا گیا تھا،وہ بتا رہا ہے کہ شراب بندی کا کرشمائی اثر پڑا ہے۔ اقتصادی تشدد 70 فیصد سے گھٹ کر 6 فیصد پر آگیا ہے۔ اس بدلائو سے بچے بھی اچھوتے نہیں ہیں۔ ان کے خلاف ہونے والی نفسیاتی ، جسمانی اور زبانی تشدد گھٹ کر 5 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ شراب بندی سے پہلے یہ 35 فیصد تک تھا۔ شراب بندی سے ریاست میں نہ صرف جرائم اور سڑک حادثوں میں کافی کمی آئی ہے،بلکہ لوگوں کی زندگی کی سطح اور صحت میں بھی سدھار آئی ہے۔ ساتھ ہی گائوں و گھر میں امن بھی قائم ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شراب بندی قانون کو سختی سے لاگو کرنے میں ریاستی سرکار کوئی کور کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ اس معاملے میں اب تک کی گئی کارروائی کے اعدادو شمار اس کی توثیق کرتے ہیں۔
شراب بندی کے بعد تنائو، سڑک حادثے ، قلب اور لیور کے مریضوں کی تعداد میںبھاری گراوٹ درج کی گئی ہے۔ ریاست کے 25اضلاع میں پروڈکٹ ڈپارٹمنٹ سروے کے مطابق لیور اور قلب کے مریضوں کی تعداد میں بالترتیب 20اور 25 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی ہے، وہیں تنائو کے معاملوں میں 75 فیصد کی کمی آئی ہے۔اس سروے کے مطابق 75 سے 80 فیصد لوگوں نے مانا ہے کہ شراب بندی کے بعد گھریلو تنازع ختم ہوئے ہیں اور خاندانی رشتے بہتر ہوئے ہیں۔ شراب بندی کے بعد بہار میں بڑے جرائم جیسے پھیروتی ، قتل اور ڈکیتی کی وارداتوں بھی قابل ذکر کمی آئی ہے ۔ شراب بندی سے پہلے جاری دہائی کے وسط تک جہاں ڈکیتی کے معاملے بہار میں اوسطاً500 کے آس پاس رہے ،وہیں اب یہ اعدادو شمار 325 کے آس پاس سمٹ گئے ہیں۔ اسی طرح جاری دہائی کی ابتدا میں پوری ریاست میں قتل کے درج وارداتوں کے اعدادو شمار اوسطاً 3 ہزار سے زیادہ تھے،لیکن اب یہ اعدادوشمار تین ہزار سے کافی نیچے آگئے ہیں۔ یہی نہیں، شراب پی کر ہنگامہ کرنے والوں کی تعداد بھی ناقابل شمار رہ گئی ہے۔یہ تجزیہ جرائم سے جڑے اعدادو شما ر پر مبنی ہے۔ جرائم میں آئی کمی کا پولیس بڑی سطح پر سائنسی اور منطقی تجزیہ کررہے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ سنگین وارداتوں کو انجام دینے والوں نے پولیس پوچھ تاچھ میں تسلیم کیا ہے کہ شراب بندی کے بعد وارداتوں میں نئے لوگوں کو شامل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *