کیا تشدد کی نذر ہوگا کشمیر میں اس بار کا سیاحتی موسم ؟

25مارچ کو سرینگر میں زبرون پہاڑی سلسلہ کے دامن میں واقع ایشیاء کا سب سے بڑا گل لالہ باغ( ٹولپ گارڈن )سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لئے کھول دیا گیا ، تو 50اقسام کے ساڑھے تیرہ لاکھ رنگ برنگی پھولوں کی خوشبو سے گویا پورا کشمیر مہک اٹھا۔ا س موقع پر ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے سیاحوں اور مقامی لوگوں کے چہرے کھل اٹھے ۔گزشتہ دو سال سے کشمیر کی شبیہ متاثر کرنے کی کوشش میں لگی نئی دہلی کی نیوز چینلز کو بھی اس بار سرینگر سے تعلق رکھنے والے اس خوشگوار خبر کو یہاں کی خوبصورتی کی تعریفیں کرتے ہوئے نشر کرنا پڑا تو واقعی لگنے لگا کہ اس سال وادی کا سیاحتی موسم جوبن پر ہوگا۔ دو دن بعد محکمہ سیاحت نے ٹرائول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف انڈیا کا سہ روزہ ٹور ازم کنونشن منعقد کیا ، جس میں ملک بھر سے آئے پانچ سو سے زائد ٹرائول ایجنٹس نے شرکت کی ۔اپنی نوعیت کی اس اہم سیاحتی تقریب میں طے پایا کہ سال 2018کو ’’وزٹ کشمیر ائر ‘‘ یعنی کشمیر کی سیاحت پر آنے کا سال بنایا جائے گا۔ اس کامیاب تقریب کے ساتھ ہی وادی کی سیاحتی انڈسٹری سے جڑے لوگ برسوں بعد ایک بہتر سیاحتی سیزن کا استقبال کرنے کی تیاریاں کرنے لگے۔
ریاستی حکومت کا اہم فیصلہ
30مارچ کو یعنی جس دن ٹورازم کنونشن اختتام پذیر ہوا، ریاستی حکومت نے ایک غیر معمولی فیصلے میں تین سرکردہ علاحدگی پسند رہنمائوں سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک کی مسلسل نظربندی ختم کرکے ان کی رہائی کا اعلان کردیا۔ ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے اعلان کیا کہ اب یہ تینوں لیڈر گھومنے پھرنے کے لئے آزاد ہوں گے ۔ گیلانی ، جو گزشتہ8 سال سے اپنے گھر میں نظربند ہیں ،نے اس دن برسوں بعد ایک مقامی مسجد میں نما ز جمعہ ادا کی۔یٰسین ملک اور میر واعظ نے بھی ایک اعتماد کے ساتھ اپنے گھروں سے باہر قدم رکھا۔
ان پے درپے خوشگوار واقعات سے کشمیر کے افسردہ ماحول میں پیدا شدہ خوشگواریت ابھی پوری طرح پروان بھی نہیں چڑھی تھی کہ جنوبی کشمیر میں خونریزی کی بھیانک وارداتیں رونما ہوئیں۔ یکم اپریل کو شوپیاں اور اننت ناگ اضلا ع میںپر تشدد واقعات میں13جنگجوئوں سمیت20افراد مارے گئے اور اسکے ساتھ ہی پر تشدد وارداتوں کا سلسلہ شروع ہوا، جن میں اب تک 200سے زائد افراد زخمی ہوگئے ۔ پہلے ہی دن سرینگر کے صدر اسپتال میں ایسے 45زخمیوں کو داخل کیا گیا ، جو فورسز کی جانب سے استعمال کی جانے والی پیلیٹ فائرنگ سے زخمی ہوگئے ہیں۔اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم ٹاک نے ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال پہنچائے گئے 45زخمیوں میں سے 41کی آنکھوں پر چھرے لگے ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ عمر بھر کے لئے نابینا ہوسکتے ہیں۔ یہ رپورٹ لکھے جانے تک جنوبی اور وسطی کشمیر کے مختلف علاقوں سے پر تشدد وارداتوں میں نوجوانوں کے زخمی ہوجانے کی مسلسل خبریں موصول ہورہی ہیں۔
کشمیر کی ابتر صورت حال
حکومت نے وادی میں امن وقانون کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے نام پر جگہ جگہ غیر اعلانیہ کرفیو اور قدغن عائد کردی ہے۔ ریلوے سروس معطل ہے اور انٹرنیٹ سہولیات بند کردی گئی ہیں۔محض چند دن پہلے ہی رہا کئے گئے علاحدگی پسند لیڈروں کو دوبارہ نظر بند کیا گیا۔ گیلانی اور میر واعظ کو ان کے گھروں میں اور یٰسین ملک کو سرینگر سینٹرل جیل میں قید کردیا گیا ہے۔ادھر وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کی لہر پھیل گئی ہے۔ مختلف علاقوں میں لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ یکم اپریل کو مارے جانے والے جنگجوئوں میں بیشتر مقامی تھے اور ان کا تعلق جنوبی کشمیر سے تھا۔ ہر جنگجو کی آخری رسومات کی ادائیگی میں عام لوگوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جولائی 2016میں معروف ملی ٹنٹ کمانڈر برہان وانی کے مارے جانے کے بعد وادی میں بپا ہوئی ایجی ٹیشن کے بعد عام لوگوں نے کھل کر ملی ٹنسی کا ساتھ دینا شروع کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درجنوں کشمیری نوجوان نارمل زندگی کو تیاگ کر جنگجو بن چکے ہیں۔حالانکہ فوج کی جانب سے ’’آپریشن آل آئوٹ ‘‘ کے تحت جنگجوئوں کو مار گرانے کی مہم گزشتہ ڈیڑھ سال سے شدت کے ساتھ جاری ہے۔ صرف سال 2017میں فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں 218جنگجو مارے جاچکے ہیں ۔ لیکن سیکورٹی ایجنسیاں خود اس بات کا اعتراف کررہی ہیں ، کہ وادی میں سرگرم جنگجوئوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

امن کی دم توڑتی امیدیں
تشدد کی تازہ وارداتوں نے کشمیر کے حالات میں ایک بار پھر ابال پیدا کردیا ہے۔ سیاحتی موسم کے حوالے سے جو اُمیدیں پیدا ہوگئی تھیں، وہ دم توڑ رہی ہیں۔حالانکہ حکومت یہ کوشش کرتی نظر آرہی ہے کہ موجودہ حالات کے نتیجے میںآنے والا سیاحتی سیزن متاثر نہ ہو۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پولیس نے ٹائمز آف انڈیا کے اُس مقامی نمائندے کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرلیا ہے، جس نے سرینگر میں سیاحوں پر پتھرائو کی جھوٹی خبر پھیلا دی تھی ۔پولیس اور محکمہ سیاحت نے اس خبر کی پر زور تردید کی ۔ یہاں تک کہ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو اپنا وہ ٹویٹ ڈلیٹ کرنا پڑا، جس میں انہوں نے مذکورہ اخبار کی خبر کے حوالے تبصرہ کیا تھا۔
وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ، جو کشمیر میں سرگرم سیکورٹی ایجنسیوں پر مشتمل یونیفائیڈ کمانڈ کونسل کی چیئر پرسن بھی ہے ، نے فورسز کو قابو میں رہنے کی تلقین کرتے ہوئے ، عام شہریوں کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے کی ہدایات دیں۔لیکن اس سب کے باوجود یہ سطور لکھے جانے تک تشدد کی لہر جاری ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گٹررس نے وادی میں رونما ہونے والی اس تازہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ادارہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے تنازعات کے پر امن حل کی راہیں تلاش کرنے کا اصرار کیا ہے۔ انہوں نے کشمیر میں ہورہی شہری ہلاکتوں کی تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ’’ شہریوں کی زندگیاں بچانا ادارہ اقوام متحدہ کی بنیادی ذمہ داری ہے ، خواہ شہریوں کی ہلاکتیں غزہ میں ہوں ، کشمیر میں یا یمن میں ہوں۔‘‘
مجموعی طور پر وادی کے موجودہ حالات اُس صورتحال سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں ، جو یہاں سال 2016میں پیدا ہوئے تھے ۔ تاہم یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی ہے کہ تشدد کی تازہ لہر کا اثر کتنا زیادہ دیر پا ثابت ہوگا۔ لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کے اس سال کے سیاحتی سیزن پر منفی اثرات یقینا مرتب ہوںگے ۔
کشمیر کی تباہ معیشت
بدقسمتی سے کشمیر میں گزشتہ چار سال حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کی معاشی صورتحال بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ سال 2014-15میں کشمیری عوام تباہ کن سیلاب کی تباہ کاریوں سے جھوجھتے رہے ۔ سال 2016بھیانک عوامی ایجی ٹیشن اور قتل و غارتگری کی نذر ہوگیا ۔ سال2017میں فوج کے ملی ٹنسی مخالف آپریشن کے چلتے یہا ں کے معمولات زندگی بری طرح متاثر رہے ۔ اب اگر اس سال بھی یہ بدنصیب خطہ تشدد کے مہیب سائے میں ہی رہا تو یقیناعوام کی پہلے سے ہی خراب اقتصادی اور معاشی حالت مزید ابتر ہوگی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *