اترپردیش اندرونی سیاست لے رہی ہے کروٹ

اترپردیش میںایک بڑی سیاسی تبدیلی ہونے والی ہے۔ اس تبدیلی کے تین حصے ہیں۔ پہلے حصے سے بات شروع کرتے ہیں۔ یہ پہلا حصہ سماجوادی پارٹی سے اٹھا ہے، جس میںچھ مہینوں سے اتھل پتھل کا ایک بڑا دور چل رہا ہے۔ اٹاوہ کے یادو اکثریتی گاؤں میںہم نے اپنے تین نامہ نگاروںکو بھیجا اور ان نامہ نگاروں نے یادو سماج کے عام لوگوں سے بھی بات چیت کی اور اہم لوگوںسے بھی بات چیت کی اور ان لوگوں سے بھی بات چیت کی جو اول یادو خاندان کے رشتہ داروں کے نزدیکی لوگ ہیں۔ ان سے جو بات چھن کر آئی، وہ بات اترپردیش کی سیاست میںایک مثبت تبدیلی لانے والی ہے۔ ہمارے نامہ نگار بسریہرا، جسونت نگر اور تاکھا بلاک کے نگلہ پھسی، فتح پور، گھنشیام پورہ، دیال پورہ، کھیڑا ٹیلی، ڈنڈا پورہ، نگلہ دُلی، نگلہ بھاگے، سُتیانی، نگریہ یادوان،نگریہ، مہوا، پٹیائت اور کٹھوتا سمیت کئی گاؤں میںگئے۔

اتر پردیش میںیادو سماج کے زیادہ تر لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ملائم سنگھ یادو کے خاندان کی ٹوٹ جلدی ختم ہونی چاہیے اور اس کے لیے انھوںنے الگ الگ تقریباً سبھی پر دباؤ ڈالا۔ انھوںنے پہلا دباؤ پروفیسر رام گوپال یادو پر ڈالا اور رام گوپال یادوسے کہا کہ اگر آپ کا خاندان متحد نہیںرہا تو آپ دہلی تو بھول ہی جائیں، اتر پردیش میںبھی اقتدار آپ کے پاس نہیںآنے والا۔ دوسرا دباؤ انھوںنے شیو پال یادو پر ڈالا۔ شیو پال یادو سے ان لوگوںنے الگ الگ کہا اور بڑی تعداد میںکہا کہ آپ بڑپن دکھائیے اور اکھلیش یادو کے سلوک کو ان کی نادانی سمجھ کر معاف کردیجئے اور آپ ہی جھک جائیے ۔ تیسرا دباؤ انھوںنے خود اکھلیش یادو پر ڈالا اور زیادہ تررشتہ داروںنے اکھلیش یادو کو اس ٹوٹ کے ہونے والے ممکنہ خوفناک نتائج کے بارے میںبتانے کی کوشش کی۔
ملائم کی افسردگی
ملائم سنگھ یادو اپنے خاندان کی ٹوٹ سے بے حد افسردہ ہیں۔ انھوں نے بہت تحمل رکھا اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنے خاندان کو متحد رکھنے کی کوشش کی۔ ملائم سنگھ یادو کی عمر 80 سال کو پار کرچکی ہے اور وہ زندگی کے اس موڑ پر ہیں۔ ان کی طبیعت بھی خراب ہے ، لیکن وہ کسی بھی طرح اپنے خاندان کو اکٹھا رکھنا چاہتے ہیں۔ انھیںلگتا ہے کہ اکھلیش یادو ، شیو پال سنگھ یادو اور رام گوپال یادو کا الگ رہنا ان کی زندگی بھر کی کمائی کا تین ٹکڑوں میںبٹ جانا ہے۔ ان سے بھی یادو سماج کے لوگو ںنے کہا کہ وہ کوشش کریں کہ ان کا پورا خاندان جو ٹوٹ میںہے، کسی طریقے سے ایک مٹھی بن جائے۔
اس دباؤ کے نتیجے میںسب سے پہلے پروفیسر رام گوپال یادو اور شیو پال یادو میں بات چیت ہوئی۔ بات چیت کی پہل شاید پروفیسر رام گوپال یادو نے کی یا شیو پال یادو نے کی، یہ اہم نہیںہے بلکہ اہم یہ ہے کہ دونوں کے بیچ بہت ہی اچھے ماحول میں بات چیت ہوئی۔ اس بات چیت سے برف کا پہلا پہاڑ ٹوٹا۔ دوسری بات چیت شیو پال سنگھ یادو کی اکھلیش یادو سے ہوئی اور دونوںاس ضیافت میں ساتھ ساتھ رہے، جس ضیافت میںراجیہ سبھا کے الیکشن ہونے کی تیاری کرنی تھی۔
اٹاوہ کے کچھ اہم لوگوں نے جو شیو پال یادو کے نزدیک ہیں اور اکھلیش یادو کے بھی نزدیک ہیں،انھوںنے بتایا کہ جب شیوپال یادو اور اکھلیش یادو کے بیچ بات چیت ہوئی تو شیو پال یادو نے اکھلیش یادو سے پوچھا کہ وہ ان کے کیوںخلاف ہیں؟ شیو پال یادو اور اکھلیش یادو کے بیچ تو کبھی کوئی ناراضگی رہی نہیں،تو پھر اکھلیش یادو نے شیو پال یادو کے اوپر کیوںحملہ کیا اور انھیںپریشان کرنے کیوںکی کوشش کی؟ اکھلیش یادو نے ممکنہ طور پر یہ کہا کہ میںنے اپنے والد شری ملائم سنگھ کو چڑانے کے لیے شیو پال یادو کو پریشان کیا۔ یہ بات اگر سچ ہے تو یہ بات اکھلیش یادو اور ملائم سنگھ کے بیچ پیدا ہوئی غلط فہمی یا پیدا کی گئی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ لیکن اسے یادو سماج بہت چھوٹا واقعہ مان رہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

شیو پال کا موقف
شیو پال یادو نے صدر جمہوریہ کے الیکشن میںکھلے عام آٹھ ووٹ بی جے پی کے امیدوار کے حق میںڈلوائے تھے۔ اس وقت یہ اندازہ تھا کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں شیو پال سنگھ یادو کے اوپر ڈورے ڈال رہے ہیں او رشیو پال سنگھ یادو یا تو بی جے پی میںچلے جائیںگے یا پھر کانگریس میںچلے جائیں گے۔ خود ساختہ مذاکرات کار جنھیں شیو پال یادو نے کبھی مقرر نہیں کیا، انھوںنے بی جے پی کے لیڈروںکے سامنے تجویز رکھی کہ شیو پال سنگھ یادو کو اترپردیش میںنائب وزیر اعلیٰ بناکر بی جے پی میںلایا جائے۔وہیںدوسری طرف کانگریس کی طرف سے یہ تجویز آئی یا مذاکرات کاروں نے تجویز رکھی کہ شیو پال سنگھ یادو کو کانگریس کا ریاستی صدر بناکر کانگریس میںلایا جائے۔ یادو سماج کے سینئر لوگوں کے حساب سے راج ببر نے شیو پال یادو سے فون پر بات چیت بھی کی لیکن راج ببر نے کسی طرح کی کوئی تجویز نہیںرکھی۔
یادو سماج کے لوگ بتاتے ہیںکہ شیو پال یادو نے دونوںطرف کے مذاکرات کاروںسے کہہ دیا کہ وہ ملائم سنگھ کی اجازت کے بغیر سماجوادی پارٹی کو نہیں چھوڑیں گے اور جس دن ملائم سنگھ یادو کہہ دیں گے کہ سماجوادی پارٹی چھوڑ دو تو شیو پال یادو ایک منٹ بھی سماجوادی پارٹی میںنہیںرہیںگے۔ ملائم سنگھ یادو ہمیشہ شیو پال یادو کو خاندان کے اتحاد، مستقبل کی سیاست اور مخالفین کی سازش کے بارے میںسمجھاتے رہے۔
یادو سماج کے لوگوں نے صاف بتایا کہ شیو پال یادو نے ایک ماہر سیاستداں کی طرح سے اخباروں میںچھپی خبروں کی نہ تو تردید کی اور نہ ہی صحافیوں کے ذریعہ کوئی اشارہ کسی پارٹی کو بھیجا۔ دوسری طرف کانگریس کے اور بی جے پی کے ذرائع نے ہمیںجانکاری دی کہ دونوں پارٹیاں کبھی بھی شیو پال یادو کو اپنے ساتھ میںلینے کے حق میں نہیںرہیں۔ وہ شیو پال یادوکو صرف پارٹی جوائن کرا کر یادو خاندان کی ساکھ ختم کرنا چاہتی تھیں او رشیو پال سنگھ یادو کے بہانے وہ اکھلیش یادو اور ملائم سنگھ یادو پر اپنا حملہ کرنا چاہتی تھیں۔ ان واقعات کو بتاکر یادو سماج کے سینئر لوگوں نے یہ صاف کہا کہ شیو پال یادو اسے پہلے ہی مرحلے میں سمجھ گئے تھے،اس لیے وہ ان کے ساتھ کھیلنے لگے۔ اور آج شیو پال یادو، رام گوپال یادو اور اکھلیش یادو بالکل ایک لائن میںایک طرح کی باتیں سوچ رہے ہیں اور ممکنہ طور پر اگلے مہینوںمیںدوبارہ شیو پال سنگھ یادو کو ایک بڑا چارج سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو سونپ سکتے ہیں۔
پورا یادو سماج اس بات کو جانتا ہے کہ سماجوادی پارٹی کی تنظیم کو چلانے کا جتنا ہنر شیو پال سنگھ یادو کے پاس ہے، اتنا کسی دوسرے کے پاس نہیںہے۔ یادو سماج یہ بھی چاہتا ہے کہ اکھلیش یادو اب قومی سطح پر کوئی رول نبھائیں کیونکہ ملائم سنگھ یادو عمر کے اس دور میںاس رول کو نبھانے کے لائق نہیںہیں۔ یادو سماج چاہتا ہے کہ اکھلیش یادو آنے والے الیکشن میں راجستھان اور مدھیہ پردیش میں ایک بڑا کردار نبھائیںتاکہ ملک کے لوگوں کو یہ بھروسہ ہو سکے کہ اکھلیش یادو بھی مستقبل کے قومی لیڈروں میںسے ایک ہیں۔
یادو سماج کے لوگ بار بار یہ با ت کہہ رہے ہیںکہ وہ اکھلیش یادو کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جب ممتا بنرجی، چندر بابو نائیڈو جیسے لیڈر اپوزیشن کامحور بننے کی کوشش کررہے ہیں، نتیش کمار راستے میںنہیںہیں،لالو جیل میںہیں او ر اگر وہ جیل میںنہیںبھی ہوتے تو بھی وہ قانون کے حساب سے الیکشن نہیںلڑ سکتے تو پھر اکھلیش یادو، راجستھان اور مدھیہ پردیش کے الیکشن میںاپنی موزونیت ثابت کرکے قومی سطح کے لیڈر بننے کا محور بننے کی کوشش کیوںنہیں کرتے؟
اکھلیش کا بڑا مسئلہ
اکھلیش یادو کا ایک بڑا مسئلہ ان کے پاس ایسے لوگوں کا نہ ہونا ہے جو انھیںقومی سطح کے فریم میںفٹ کرسکیں۔ لیکن یادو سماج کسی بھی طرح اکھلیش یادو کو قومی سطح پر ایک بڑا رول نبھاتے دیکھنا چاہتا ہے۔بھلے ہی اکھلیش یادو نے مایاوتی جی کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار ڈکلیئر کردیا ہو لیکن یادو سماج اکھلیش یادو پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ اس کے لیے سارے منصوبے وہ ہی بنائیں ۔
مایاوتی اور اکھلیش یادو کی ملاقات اور اکھلیش یادو کا خود مایاوتی کے گھر جانا اور انھیںگوکھپور اورپھول پور کے ضمنی انتخاب میںحمایت دینے کے لیے شکریہ ادا کرنا ایک بڑے امکان کی بنیاد بن گیا ہے۔ اس میں جس لیڈر نے سب سے اہم روال ادا کیا،وہ خود ملائم سنگھ یادو ہیں۔ اترپردیش میںاب تک ملائم سنگھ یادو بہوجن سماج پارٹی کی مخالفت کے بہت بڑے محور تھے۔ لیکن ملائم سنگھ یادو نے اکھلیش یادو کے اس قدم پر کوئی تبصرہ نہ کرکے بالواسطہ طور پر مایا وتی جی کو پیغام دیا کہ وہ ان کے اور اکھلیش یادو کے اتحاد کے بیچ میںنہیںآئیںگے اور اتر پردیش میںلوک سبھا اور ودھان سبھا کے الیکشن میںوہ بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے امیدواروں کی حمایت میںپرچار کریںگے۔
مایاوتی جی نے بھی وقت کے اشارے کو بہت ہوشیاری سے سمجھ لیا اور پرکھ لیا اور انھوںنے اپنے پیار کا ہاتھ یا آشیرواد کا ہاتھ اکھلیش یادو کے سر پر رکھ دیا۔ بہوجن سماج پارٹی میںمایاوتی جی کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیںہے جبکہ سماج وادی پارٹی میںخود ملائم سنگھ پھر اکھلیش یادو، اس کے بعد پروفیسر رام گوپال یادو او رشیو پال سنگھ یادو ، یہ چار لیڈرتو ہیں ہی، جو سماجوادی پارٹی کے طریقہ کار پر اثر ڈالتے ہیں۔ اس لیے بہوجن سماج پارٹی کے اس اشارے نے اتر پردیش میں آنے والے الیکشن کے لیے ایک بڑا زرخیز میدان تیار کردیاہے۔
اس وقت سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے پاس لوک سبھا میں الیکشن لڑنے والے ممکنہ امیدواروں کا میلہ لگا ہوا ہے۔ اگر اکھلیش یادو مدھیہ پردیش اور راجستھان میںپرچار کا محور بننے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیںاس میں بی ایس پی کی سپریم لیڈر مایاوتی جی کا پورا تعاون ملے گا اور اگر راجستھان اور مدھیہ پردیش میںاکھلیش یادو اور راجستھان کے الیکشن میںبہوجن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی اور اکھلیش یادو مل کر الیکشن لڑیںگے تو راجستھان میںبھی ایک نئی عبارت یہ دونوںمل کر لکھ سکتے ہیں اور وہی مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میںبھی ہوسکتا ہے۔ اس کا رسمی اعلان جون کے پہلے ہفتے میںممکن ہوسکتا ہے۔
کانگریس کا مسئلہ
کانگریس پارٹی ایسی پارٹی ہے جس میںکچھ ٹھیک نہیںہے۔ راج ببر استعفیٰ دے چکے ہیں۔ لتیکیش ترپاٹھی اگلے صدر بنیںگے،اس کا امکان ہے۔ حالانکہ کانگریس کا کارکن بار بار کہہ رہا ہے کہ سنجے سنگھ کو ریاست کا صدر بنایا جائے لیکن راہل گاندھی نے لتیکیش ترپاٹھی کو صدر بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اترپردیش کے الیکشن میںہو سکتا ہے پرینکا گاندھی بھی رول نبھائیں کیونکہ اتر پردیش کانگریس کے لیے’ واٹر لو‘ کا میدان ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن ابھی بہوجن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی اس رائے پر پہنچی ہیںکہ کانگریس کو لوک سبھا کی دس سیٹیںملنی چاہئیں،مگر کانگریس کو گٹھ بندھن میںنہ لے کر کانگریس کو آزادانہ طور پر الیکشن لڑنے کی صلاح دینی چاہیے۔
کانگریس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کم سے کم تیس سیٹوں پر الیکشن لڑنا چاہتی ہے۔ ابھی تک کانگریس کی تنظیم اتر پردیش اپنا کوئی اثر نہیںدکھا پائی ہے۔ اس لیے سب سے کمزور پارٹی ہے لیکن کانگریس کے حق میںایک بات کی جاتی ہے کہ اگر کانگریس بھی ساتھ آ جاتی ہے تو بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے اتحاد کے ساتھ مسلم سماج بلاشبہ آجائے گا۔ اگر یہ اتحاد نہیںبھی ہوتا ہے تو بھی اتر پردیش کا مسلم سماج اس وقت پورے طور پر مایاوتی جی اور اکھلیش یادو کے اتحاد کے ساتھ کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ مسلم سماج کے سبھی بڑے لیڈروں سے ہمارے نامہ نگاروں نے بات چیت کی اور راس بات چیت کا ایک ہی نتیجہ ہے کہ اس الیکشن میںمسلم سماج پورے طور پر بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے اتحاد کے ساتھ ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

بی جے پی کا مسئلہ
اب چوتھا اور سب سے اہم سوال بی جے پی کے ساتھ ہے۔ بی جے پی کا سب سے بڑا مسئلہ خود وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ہیں، کیسے؟ اسے آگے سمجھیں گے لیکن سب سے پہلے بی جے پی کی دوسری تشویش کو سمجھتے ہیں۔ بی جے پی کو اس بات کی تشویش ہے کہ کیا وہ لوک سبھا میںدوبارہ 2019 میں73 سیٹیں واپس جیت پائے گی؟ بی جے پی کے پالیسی ساز یہ مانتے ہیںکہ 73 سے زیادہ سیٹیںجیتنا ان کے لیے اب لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے کیونکہ سماجوادی پارٹی نے بی ایس پی سے ہاتھ ملانے کا فیصلہ کرکے اترپردیش میںبی جے پی کے سامنے ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔
بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی ایمانداری سے الیکشن لڑتی ہیں اور کانگریس کے کارکن جنھیںاب محنت کرنے کی عادت نہیںرہی،وہ اگر ایمانداری سے تینوں کے اتحاد پر عمل کرتے ہیں تو بی جے پی تیس سے چالیس سیٹوںپر سمٹ سکتی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کے لوگوںکا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر بی جے پی کے کارکن گٹوں میںبٹ کر اسی طرح کی سیاست کرتے ہیںجیسے گورکھپور اور پھول پور میںکی ہے تو پھر بی جے پی بیس سے پچیس سیٹوں تک سمٹ جائے گی۔
اگر 40 سیٹیں اترپردیش سے بی جے پی کو کم ملتی ہیں تو بی جے پی ان سیٹوںکو لوک سبھا میںکہاںسے پورا کرے گی؟یہ ابھی کسی کی سمجھ میںنہیںآرہا ہے۔ اتر پردیش کی بی جے پی کے کارکنوںپر کرناٹک کی جیت ہار یا مارجنل جیت یا مارجنل ہار کا بھی بہت زیادہ اثر پڑنے والا ہے۔ لیکن ابھی ہم اتر پردیش کے چیلنج کے بارے میںبات کررہے ہیں۔ بی جے پی اگر چاہتی تو اپنی طرف سے سماج وادی پارٹی کے بیچ پیدا ہوئی عارضی پھوٹ کا فائدہ اٹھا سکتی تھی۔وہ سنجیدگی کے ساتھ شیو پال یادو کے بہانے بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کے اندر ایک خوفناک کشمکش کی حالت پیدا کرسکتی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ شیو پال یادو بی جے پی کے جال میںپھنستے یا نہیںپھنستے۔ یادو سماج کے لوگوںکے بارے میںہم نے پہلے ہی لکھا کہ وہ صاف کہتے ہیںکہ شیو پال یادو ایک سیاسی کھیل بی جے پی اور کانگریس کے ساتھ کھیل رہے تھے۔
بی جے پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حامیوں نے انھیںجس طرح قومی سطح پر وزیر اعظم مودی کا مستقبل میںمتبادل چہرہ بناکر پیش کیا، یہ یوگی آدتیہ ناتھ کے لیے نہ صرف کشمکش پیدا کرنے والا رہا بلکہ ان کے خلاف نئی سازشوں کے دور کی بھی شروعات یہیںسے ہوگئی۔ اترپردیش کے انتظامیہ پر جتنا یوگی آدتیہ ناتھ کا کنٹرول ہے،اس سے زیادہ کنٹرول دہلی میںبیٹھے کیبنٹ سکریٹری نرپیندر مشرا کا ہے۔ نرپیندر مشرا کو اترپردیش کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری وزیر اعظم آفس میںملی ہوئی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے حامیوںکے ذریعہ انھیں مستقبل کا وزیر اعظم بتاکر بی جے پی کے ایک طاقتور گٹ کو انھیںاقتدار سے ہٹانے کی سازش کرنے کا موقع بھی مل گیا ہے۔
یوگی کی کمزوریاں
یوگی آدتیہ ناتھ کی کمزوری ہے کہ وہ ایماندار ہیں۔ وہ خود پارٹی کے لیے پیسے نہیںلیتے اور اپنے لیے تو بالکل نہیںلیتے۔ لیکن یوگی آدتیہ ناتھ کی ایک دوسری کمزوری انتظامیہ میںسفارشوں کے نہ ماننے کی بھی ہے۔ بہت سارے لوگوں کے مفاداس سے پورے نہیںہوپارہے ہیں۔ اسی لیے ضلعوں میںاچانک جو جرائم کا سیلاب آیاہوا ہے، ان کے پیچھے کہیںبی جے پی کے ان چہروں کا ہاتھ ہے جو بی جے پی میںاب تک مجرم عناصر کے ساتھ میل جول کے لیے جانے جاتے رہے ہیں یا جو حال میںبی جے پی میںاپنے شیلٹر کے لیے جڑے ہیں۔
اترپردیش کی بی جے پی میںجتنے بھی بلیک میلر مجرم اور بڑے گینگسٹر ہیں، وہ سب ان جگہوں پر دیکھے جاتے ہیں، جہاںبی جے پی کی کوئی تقریب ہوتی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اس موقع کو نہیںچوکتا جہاں اسے اپنی تصویر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ یا نائب وزیر اعلیٰ یا باقی وزیروںکے ساتھ کھینچوانے کا موقع مل رہا ہو، کوئی ایسے موقع کو کھوتا نہیں ہے۔ اور ان تصویروں کو دکھا کر وہ ضلع کے افسروں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، لکھنؤ میںکچھ ایسے سفید پوش شاطر مجرموں کے اڈے بن گئے ہیں جو لکھنؤ پر مرکوز ملک گیر جرم نشریات مرکز کا کام کررہے ہیں۔
یوگی آدتیہ ناتھ کی تیسری کمزوری پولیس کا استعمال اپنے سیاسی مفادات کے لیے نہ کرنا ہے۔ بی جے پی کے ایک تیسرے درجے کے لیڈر نے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ پولیس افسروں پر کوئی دباؤ نہیںڈالتے کہ پولیس کے افسر بی جے پی کے اراکین اسمبلی یا ان کے اراکین پارلیمنٹ کے کاموں سے چشم پوشی کیا کریں۔ نتیجے کے طور پر سب کو یہ ڈر بنا رہتا ہے کہ پولیس کہیںانھیں ہی گرفت میںنہ لے لے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کا چوتھاسب سے بڑا مسئلہ ان کی ناتجربہ کاری ہے۔ وہ اب تک کسی بھی انتظامی عہدے پر نہیںرہے ۔ انھوںنے بڑے مہنت جی کے جانے کے بعد اپنا مٹھ کامیابی کے ساتھ چلایا لیکن مٹھ چلانے اور حکومت چلانے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ جوش میںبھر کر اتنے اعلانات کر چکے ہیں لیکن ان اعلانات پر عمل کرنے والی فوج یعنی بیورو کریسی ان کا ساتھ نہیںدے رہی ہے۔ اس کے اوپر بھی سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کو اپنے افسر چننے کی بھی پوری چھوٹ نہیںہے۔ کسے کیا ذمہ داری دینا ہے، یہ بھی آدتیہ ناتھ کے بس میں ہے،اس پر بھی شک بنا ہوا ہے۔ اترپردیش کے ڈی جی پی او پی سنگھ کو لانے میںجتنے پاپڑ یوگی آدتیہ ناتھ کو بیلنے پڑے،اس سے پوری بیوروکریسی میںیہ پیغام گیا کہ اگر پی ایم او چاہے یا وہاں بیٹھے دو طاقتورافسر چاہیںتو یوگی آدتیہ ناتھ کو پریشان کر سکتے ہیں۔
یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بھی پوری طرح سیاستداں کے کردار میں ہیں، نہ کہ وزیر اعلیٰ کے کردار میں ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے سامنے گورکھپور کے ہی رہنے والے سابق وزیر اعلیٰ ویر بہادر سنگھ کی مثال ہے۔ ویر بہادر سنگھ کبھی سیاسی بیان نہیںدیتے تھے لیکن وہ انتظامیہ پر نظر رکھتے تھے اور افسر کو بلاکر صاف صاف کہہ دیتے تھے کہ مجھے اس کام کا یہ رزلٹ چاہیے ، آپ دے سکتے ہیں تو ٹھیک ہے ، نہیں تو آپ کس محکمے میںجانا چاہتے ہیں، میںآپ کا ٹرانسفر کر دیتا ہوں۔
یوگی آدتیہ ناتھ کو اگر اترپردیش میںکامیاب ہونا ہے تو وزیر اعلیٰ کے کردار میںآنا پڑے گا اور اپنے ان وزیروں پر کنٹرول رکھنا پڑے گا جو اپنے کو وزیر اعلیٰ کی طرح سماج کے اندر ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ میںیہ صلاحیت ہے کہ وہ ذاتی طور پر بات کرکے تناؤ کو ختم کرسکتے ہیں لیکن شاید اس کے لیے انھیں وقت ہی نہیںمل رہا ہے۔ اپوزیشن کے بہت سارے لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ سے مل کر انھیں انتظامی ضرورتوں کے بارے میںبات کرنا چاہتے ہیںلیکن ان میںسے کسی سے بھی ابھی تک یوگی آدتیہ ناتھ کی ملاقات نہیںہوئی ہے۔ یا تو ان کے دفتر نے انھیںنہیں بتایا ہے کہ ان سے کون کون ملنا چاہتا ہے یا یوگی آدتیہ ناتھ نے انھیںجان بوجھ کر وقت نہیںدیا ہے۔
یوگی آدتیہ چاہتے تو اترپردیش میںایک نئے سیاسی دور کی شروعات کرسکتے تھے لیکن یوگی آدتیہ ناتھ کی یہ سمجھ میں ہی نہیں آیا ہے کہ اس نئے دور کی شروعات کا اسٹارٹ پوائنٹ کون سا ہو؟
شاید اسی لیے بی جے پی اترپردیش میںہچکولے کھا رہی ہے اور پارٹی کے طور پر مختلف گٹ کام کررہے ہیں۔ یہ افواہ ہے کہ بی جے پی کے لکھنؤ دفتر میںسنگھ کے ایک ایسے شخص بیٹھے ہیں، جن کے ہاتھ کی پرچی گئے بغیر کسی بھی محکمے میںٹرانسفر نہیںہوتا یا پوسٹنگ نہیںہوتی۔ لکھنؤ میںیہ بھی افواہ عام ہے کہ اس دفتر میںاگر آپ بھینٹ نہیںچڑھاتے ہیں تو یوگی سرکار میںآپ کا کام نہیںہوسکتا کیونکہ وہاں سے کوئی پیغام یوگی جی کے پاس نہیں جائے گا۔ اور اب تو مجھے اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ رام پرکاش جی یاد آتے ہیں۔ جن کے گھر پرپوری صبح یعنی دوپہر ایک بجے تک کھانے کے وقت تک سنگھ کے اہم لیڈروں کے ساتھ ان کی میٹنگ چلتی رہتی تھی اور اس میٹنگ میں کوئی تنظیمی کام نہیں ہوتا تھا ۔ اس میٹنگ میں سنگھ کے کون کون لاڈلے ہیں جن کام ہونا ہے، یہ وزیر اعلیٰ کو بتایا جاتا تھا۔ وزیر اعلیٰ عاجزی کے ساتھ اس پر عمل بھی کرتے تھے اور انتظامی کام تین بجے کے بعد کرتے تھے۔
انتظامی ڈھیلاپن خطرناک
نتیجے کے طور پر وہ جس طرح وزیر اعلیٰ بنے تھے، اسی طرح ان کا وزیر اعلیٰ کا عہدہ بھی چلا گیا۔ لیکن نقصان اترپردیش کا ہوا، جس میںانتظامی کام نہیںہو پائے۔ ایسا یوگی جی کے زمانے میںہو رہا ہے، یہ ہم نہیںکہتے، لیکن تقریباً اسی طرح سے انتظامی ڈھیلائی یوگی جی کے لیے نقصاندہ ثابت ہورہی ہے۔ شاید اسی لیے جہاں ایک طرف پارٹی اپنا اثر لوگوں میںکھو رہی ہے، وہیںسرکار بھی اپنی چھاپ لوگوں کے بیچ پیدا کرنے میںناکام دکھائی دے رہی ہے۔
اس کا اثر 2019 کے الیکشن میںضرور پڑنے والا ہے کیونکہ آج کی یوگی سرکار کی سرگرمیوں کو یا ان کی انتظامی ڈھیلائی کو دیکھتے ہوئے نہیںکہا جا سکتا ہے کہ جن تیس یا چالیس سیٹوں کی کمی اتر پردیش سے لوک سبھا میں بی جے پی کو ہوگی، اسے بی جے پی کہاںسے پورا کرے گی؟ اب ہم یہاں پر دیکھیں کلکتہ سے لے کر پورے’ کوسٹل ایریا‘ میںبی جے پی کا وجود نہیں ہے۔ اگر اترپردیش اور بہار سے بی جے پی کو اتنی سیٹیں نہیں ملی ہوتیں تو بی جے پی مرکز میں سرکار نہیںبنا پاتی۔ یہ بالکل صاف ہے کہ اتر پردیش سے اور بہار سے اب بی جے پی اُتنی سیٹیں نہیں لینے جارہی ہے اور بی جے پی اور سنگھ کے لیے یہی سب سے بڑی تشویش کا موضوع ہے۔
اترپردیش کی یہ صورت حال ہر پارٹی کے لیے چیلنج ہے۔ لیکن سب سے بڑا چیلنج بی جے پی کے لیے ہے۔ دوسرے نمبر پر کانگریس کے لیے ہے، جس کی تنظیم صفر ہے اور تیسرا چیلنج مایاوتی اور اکھلیش یادو کے لیے ہے کہ وہ اس آنے والے امکان کاکوئی استعمال کر پاتے ہیں یا نہیںکرپاتے ہیں یا ملک میںاپوزیشن کے اتحاد کے لیے مثبت دباؤ بنا پاتے ہیں یا نہیں بنا پاتے ہیں۔ لیکن ان سوالوں کے بیچ میںممکنہ سیاسی واقعات کا بھی مرکز اترپردیش ہونے والا ہے جو 2019 کے انتخابات پر اہم اثر ڈالے گا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *