یونیفارم سول کوڈ کا جن بوتل سے ایک بار پھر باہر

Modified-Uniform-Civil-Code

یونیفارم سول کوڈ کا جن بوتل سے ایک بار پھر باہر آگیا ہے اور مختلف مذہبی و دیگر کمیونیٹیوں کے درمیان ایک نئی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا ا س سے سیکولر ملک رہتے ہندوستان میں کسی کو اپنے مذہب یا نجی قانونوں یارسموں اور رواجوں پر عمل کرنے کے بنیادی حق فراہم کرنے والے آئین ہند کے آرٹیکل 25 کو خطرہ لاحق ہوگا؟فی الوقت یہ بحث لاء کمیشن آف انڈیا کی ویب سائٹ پر جاری ایک اپیل سے اٹھی ہے جس میں ہندوستانی شہریوں سے آئندہ 6اپریل 2018 تک یونیفارم سول کوڈ کے تعلق سے اپنی رائے بتانے کو کہا گیا ہے۔
مذکورہ اپیل میں کہا گیاہے کہ ’’ کوئی بھی فرد ، تنظیم (سرکاری یا غیر سرکاری ) پارلیمنٹ میں لٹکے ہوئے طلاق ثلاثہ سے متعلق ایشو کو چھوڑ کر یونیفارم سول کوڈ سے منسلک کسی بھی ایشو پر مشورہ،بحث یا ورکنگ پیپر کی شکل میں لاء کمیشن آف انڈیا کے ممبر سکریٹری کو بھیج سکتا ہے ۔‘‘اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اگر کمیشن کو کسی بات پر مزید وضاحت کی ضرورت پڑی تو متعلقہ فرد یا تنظیم یا کسی اور کو ذاتی سماعت یا بات چیت کے لئے طلب کیا جاسکتاہے۔

 

 

 

عیاں رہے کہ پی ایم مودی کے برسراقتدار ہونے کے دو برس بعد اس وقت کے وزیر قانون ڈی وی سدا نندا گوڑا نے لاء کمیشن سے کہا تھا کہ وہ جائزہ لے کر بتائے کہ کیا یہ ہندوستان میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کے لئے مناسب وقت ہے؟ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 31 اگست کو اپنا ٹرم ختم ہونے سے قبل لاء کمیشن کے 21ویں چیئرمین جسٹس بی ایس چوہان اس تعلق سے اپنی رپورٹ حکومت کو سونپیں گے۔ ویسے جسٹس چوہان کا کہنا ہے کہ اگر کمیشن ایک کمپوزیٹ کوڈ کو لے کر سامنے نہیں آسکا تو وہ مختلف مذاہب کے فیملی لاء ز میں جزوی یا لیجسلیٹیو تبدیلیوں کے بارے میں مشورے دے گا۔
ویسے قابل ذکر ہے کہ لاء کمیشن کے پاس 2016 میں عام لوگوں اور سیاسی پارٹیوں سے 60ہزار رسپانس آئے تھے مگر سبھی نے براہ راست جواب دینے سے پرہیز کیاتھا۔ اس تعلق سے اپوزیشن کی متعدد سیاسی پارٹیوں نے صاف طور پر اسے صحیح قدم نہیں بتایا تھا۔ مسلمانوں کے سب سے پُروقار اور نمائندہ سمجھی جانے والی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا تھا کہ وہ اس طرح کے اقدام کا بائیکاٹ کرے گی کیونکہ یہ اسلامی پرسنل لاء اور شریعت میں مداخلت ہوگا۔

 

 

بورڈ کے ذمہ داران اس تعلق سے اکتوبر 2016 میں اپنی پوزیشن بتانے کے لئے لاء کمیشن کے حکام سے ملے تھے اور اس کے بعد اس پر ایک کانفرنس بھی کی تھی۔ آل انڈیامجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور لوک سبھا میں واحد رکن اسد الدین اویسی نے لاء کمیشن کو ایک مکتوب لکھ کر یہ کہا ہے کہ اس کا یہ عمل مسلم پرسنل لاء میں مداخلت ہے۔ اسی طرح کانگریس نے اس عمل کو سیاسی مفاد سے پُر بتایا ہے اور سی پی ایم نے صاف طور پر کہا ہے کہ وہ اس عمل میں شریک نہیں ہوگا۔ شرومنی اکالی دل نے لاء کمیشن کے اس اقدام کے خلاف خبردار کیا ہے۔ وہیں دوسری جانب یونیفارم سول کوڈ کی سب سے بڑی حمایتی بی جے پی نے اس تعلق سے ابھی تک کوئی رسپانس تو نہیں لیا ہے مگر اس کے 2014 کے انتخابی منشور میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ یہ بہترین روایتوں کو لے کر انہیں جدید زمانے سے ہم آہنگ کرتے ہوئے یونیفارم سول کو ڈرافٹ کرنے کے لئے کمیٹیڈ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس کا یہ عہد اس کے 2004,1998 اور 2009 کے انتخابی منشوروں میں شامل تھا ۔ویسے شیو سینا نے یونیفارم سول کوڈ کی حمایت کی ہے۔ بیشتر سیاسی پارٹیوں کی لاء کمیشن کی اپیل پر خاموشی اور برسراقتدار بی جے پی کا بھی خاموشی کے باوجود واضح موقف یقینا یہ تاثر پیدا کرتاہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔
اس سلسلے میں سب سے دلچسپ پوزیشن وزیر اعلیٰ بہار نتیش کمار کی ہے۔ انہوں نے مہا گٹھ بندھن میں رہتے ہوئے لاء کمیشن کی یونیفارم سول کوڈ کے معاملے میں پیش رفت کی سخت مخالفت کی تھی۔ اس وقت بہار ملک کی ایسی واحد ریاست بن گیا تھا جو کہ یونیفارم سول کوڈ کا مخالف تھامگر اس بار ان کا اس تعلق سے رخ کیا ہوگا،یہ نہیں معلوم۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اپنے پرانے موقف پر قائم رہیں گے یا بی جے پی یا این ڈی اے سے نئی دوستی نبھاتے ہوئے یونیفارم سول کوڈ پر اپنے موقف میں یو ٹر ن لیں گے؟
جہاں تک آئین ہند کا معاملہ ہے ، یہ مختلف کمیونیٹیوں کو اپنے اپنے پرسنل لاء پر عمل کرنے کی پوری اجازت دیتاہے۔ مسئلہ دراصل وہاں آکر الجھ جاتا ہے جب آئین ہند کے آرٹیکل 25 کے مطابق مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ کرنا ملک کے شہریوں کا بنیادی حق قرار دیا جاتاہے جبکہ اسی آئین کا آرٹیکل 44 یہ کہتا ہے کہ اسٹیٹ ڈائریکٹیو اصولوں کی رو سے اپنے شہریوں کے لئے ملک بھر میں ایک یونیفارم سول کوڈ فراہم کرنے کی کوشش کرے گا۔

 

 

ویسے یہاں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ اس کوڈ کے سلسلے میں یہ بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ایسا تمام فریقین کو اعتماد میں لے کر ہی کرنا ہے۔ دراصل یہ وہ نکتہ ہے جس پر آج تک کوئی بھی حکومت رائے عامہ نہیں بناسکی ہے اور تمام فریقین کواعتماد میں نہیں لے سکی ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ کانگریس بھلے آج بی جے پی کے دور میں اس کی مخالفت کرے مگر خود اس کے ادوار حکومت میں یہ ایشو اٹھتا رہا ہے اور متنازعہ فیہ بنتا رہاہے۔اب توآنے والا وقت ہی بتائے گا کہ موجودہ لاء کمیشن چیئرمین اپنے ٹرم کے ختم ہونے سے قبل کچھ کرپاتے ہیں یا نہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *