یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کی 7 رکنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ بہار کے فسادات کا سچ

ریاست بہار میںمارچ کے اواخر میں38 اضلاع میںسے 9 اضلاع میںرام نومی جلوس کے دوران فرقہ وارانہ فسادات ایک عرصے کے بعد پھوٹ پڑے۔ ان فسادات میں ایک شخص کی جان گئی اور 65افراد زخمی ہوئے۔ متاثرہ اضلاع بھاگلپور، مونگیر، سمستی پور، سیوان، گیا، اورنگ آباد، کیمور، نوادہ اور نالندہ ہیں۔ یہ فساد شروع تو ہوا بھاگلپور سے اور پھر باقی 8 اضلاع میںپھیل گیا۔ ان فسادات کا جائے وقوع پر جاکر جائزہ لینے یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کی دہلی اور پٹنہ سے حقوق انسانی و سماجی کارکنان اور صحافیوں کی ایک 7 رکنی ٹیم وہاںپہنچی۔ اس نے تمام متاثرہ علاقوں سے واپس لوٹ کر 16 صفحات پر مشتمل رپورٹ 9 اپریل کو دہلی کے پریس کلب میں صحافیوں کے سامنے پیش کی۔ اس کے مطابق یہ تمام فسادات منظم اور منصوبہ بند تھے۔ یہ تمام فسادات رام نومی جلوس کے دوران مسلم علاقوں سے گزرتے وقت شروع ہوئے ۔ ان تمام فسادات کے دوران ہر ایک ضلع میں ایک ہی طرح کے گانے اور میوزک تیز آواز میںبجائے گئے ۔ نیز ایک ہی طرح کے بھڑکیلے گانے سنائے گئے اور بھڑکیلے نعرے لگائے گئے۔ مثال کے طور پر ایک گانا تھا: ’’ٹوپی والا بھی سرجھکا کے جے شری رام بولے گا، رام للا ہم آئیںگے۔ مندر ،مندر وہیںبنائیںگے، جوچھوئے گاہندوؤںکی ہستی کو، جلاڈالیںگے ہر کسی کی بستی کو۔‘‘
ہرجگہ ایک ہی طرح کا اسکرپٹ دیکھا گیا۔ نئی بنی تنظیمیںجلوس کا اہتمام کرتی پائی گئیں۔ زبردستی گھنی مسلم آبادی والے علاقے سے جلوسوں کو لے جایا گیا، جس پر مسلم آبادی نے اعتراض کیا اور پھر پتھر بازی ہوئی اور پھر ایک مخصوص فرقے کی دوکانیں و دیگر جائیدادیں تباہ کی گئیں۔ دونوںطرف کے بیانات سے جو یکساں بات سامنے آئی، وہ یہ تھی کہ بھیڑ کے پاس بڑی تعداد میںتلواریں تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ریاست بہار کے پرنسپل سکریٹری (داخلہ) عامر سبحانی نے اس کی تصدیق کی۔ یہ ہتھیار باہر سے منگائے گئے اور تمام اضلاع میںمفت تقسیم کیے گئے۔ اسلام مخالف سی ڈیز اور پین ڈرائیوز کا جلوس کے دوران خوب استعمال کیا گیا۔ یو ٹیوب پر بھی یہ دیکھا گیا۔
یہ وہی بھاگلپور ہے جہاں 1989 کے اواخر میںبدنام زمانہ فساد ہوا تھااور دو ماہ تک فرقہ وارانہ جنون کا ننگا ناچ ہوتا رہا تھا۔ اس بدنازمانہ فساد میںسرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار 70 افراد لقمہ اجل بنے اور 524 افراد مجروح ہوئے، 195 گاؤں میں11 ہزار 500 مکانات تباہ ہوئے، 48 ہزار لوگ بے گھر ہوئے، 600 پاور لوم اور ایک ہزار 700 ہینڈ لوم نذر آتش کیے گئے اور 68 مساجد و 20 مزارات تباہ کیے گئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

بھاگلپور
اس کے بعد بھاگلپور کم و بیش پرامن رہا۔ اس برس 17 مارچ کو گنگا ندی کے کنارے بسے ہوئے اس ریشمی شہر میںآر ایس ایس اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے ہندوؤں کے نئے سال ’وکرم سموت‘ کی مناسبت سے مرکزی وزیر اشونی چوبے کے بیٹے اریجیت شاشوت کی قیادت میںانتظامیہ کی اجازت کے بغیر جلوس نکالا ۔ بھارتیہ نوبرس جاگرن سمیتی کے تحت نکلے اس جلوس کو 15کیلو کے علاقے سے گزرنا تھا، جس کے دوران آدھے درجن مسلم اکثریتی علاقے بھی پڑتے تھے۔ تنازعہ ناتھ نگر تھانہ کے تحت میدینی چوک پر ہوا۔ یہ تنازعہ میوزک کو تیز بجانے اور مشتعل نعروں کو لے کر دو فرقوں کے درمیان ہوا۔ پولیس کو گولی چلانی پڑی۔ اس دوران 35 افراد بشمول دو پولیس کے کارکنان بری طرح زخمی ہوئے ۔ یکم اپریل کو اریجیت شاشوت گرفتار کر لیے گئے۔ ان کے خلاف دو ایف آئی آر درج تھیں۔ انھوں نے ریاستی راجدھانی پٹنہ کے ہنومان مندر میںپولیس کو خود سپردگی کی۔ ویسے 11 اپریل کو وہ بھاگلپور جیل سے ضمانت پر باہر بھی آگئے مگر مقدمہ چلتا رہے گا۔
سیوان
سیوان کے بارے میںیونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کی یہ رپورٹ کہتی ہے کہ یہاں 24 مارچ کو اس وقت تنازعہ شروع ہواجب شب میںمقامی مظہرالحق نگر تھانہ کے تحت نظام پور گاؤں میںہورہے رام نومی جلوس کو مبینہ طور پر کچھ لوگوں نے روکا۔ یہاںضلع انتظامیہ سے جلوس والوں نے اجازت لے رکھی تھی۔ جلوس کو مبینہ طور پراس وقت روکا گیا جب یہ بھڑکیلے نعرے لگا رہا تھا اور ہتھیاروں کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ یہاں کئی دوکانیں اور گاڑیاں نذر آتش کی گئیں۔
گیا اور کیمور
گیا اور کیمور میں25 مارچ کو چھوٹے موٹے واقعات رام نومی جلوس کے دوران قابل اعتراض نعروں کو لے کر ہوئے ۔ کیمور میں بائیک پر سوار چند نوجوانوں نے رام نومی جلوس میں جاتے ہوئے چین پور تھانے کے تحت مغل پورہ کی مسجد کے سامنے بھڑکیلے نعرے لگائے جس کو لے کر دونوں فرقوںکے درمیان تنازعہ ہوا۔ دو افراد زخمی ہوئے۔اسی طرح گیا میں کوٹھی تھانہ کے علاقے میں سماج مخالف عناصر نے رام نومی جلوس پر پتھر بازی کی۔ پھر جھگڑا ہوا اور پولیس بلائی گئی۔
اورنگ آباد
25 مارچ ہی کو اورنگ آباد بھی فرقہ وارانہ جنون سے بری طرح متاثر ہوا۔ فسادیوں نے 31 دکانوں کو نذر آتش کردیاجبکہ یہ تعداد بعض لوگوں کے ذریعے 50 تک بتائی جاتی ہے۔ یہاں 25 افراد زخمی ہوئے۔ یہاں فساد اس وقت شروع ہوا جب سیکڑوں افراد نے نوادی روڈ پر واقع گھنی مسلم آبادی والے علاقے قاضی محلے میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی اور پھر بائیک پر سوار نوجوان داخل ہو بھی گئے۔ بعدازان دونوں گروپوںمیںبحث کے بعد پتھر بازی ہوئی۔ پھر پولیس کے سمجھانے پر معاملہ رک گیامگر دوسرے روز 26 مارچ کو پھر ایک جلوس نکلا اور وہ بھی پولیس کی اجازت سے ۔ اس کا صاف مطلب یہ نکلا کہ پہلے روز کے معاملے سے کوئی سبق نہیںلیا گیا۔ پھر تو بڑے پیمانے پر فساد بھڑک اٹھااور بے قابو ہوگیا۔ یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کے وفد کو ایک ایسا ویڈیو ملا جس میںایک قبرستان پر ’جے شری رام‘ کے نعرے کے ساتھ ایک بھگوا جھنڈے کو پھہرا کر اعلان کیا جارہا ہے۔ مشتعل بھیڑ کے ذریعے فائرنگ کی بھی اطلاع ملی ہے۔ بہرحال پولیس کے کنٹرول میںبعد میںمعاملہ آگیا۔ کل ملاکر 150 افراد یہاںگرفتار کیے گئے ہیں اور انٹرنیٹ سروسز معطل کردی گئی ہے۔
سمستی پور
27 مارچ کو سمستی پور کے روسرا میںاس وقت تنازعہ شروع ہواجب سیکڑوں افراد نے مقامی گدری بازار میںجمع ہوکر مطالبہ کیا کہ ایک روز قبل رام نومی کے جلوس کو ڈسٹرب کرنے والے ایک ’اجنبی‘ شخص کو سزا دی جائے۔پھر بھیڑ ایک مسجد کے اندر گھس گئی اور اس کے کچھ حصے میںآگ لگادی۔ بعد ازاںاسے برباد کیا گیااور منسلک مدرسہ کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ یہاں 10 افراد مجروح ہوئے۔ اس سلسلے میںایک درجن افراد کو حراست میںلے لیا گیا ہے اور انٹرنیٹ سروسز کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

مونگیر
27 مارچ کو ہی چیننی درگا کے جلوس میں متنازعہ گانے اور بھڑکیلے نعروں کے سبب دونوان فرقوں میںتنازعہ بڑھا اور وہ فساد کی شکل میںتبدیل ہوگیا۔ نیلم چوک پر دونوںفرقوں کی جانب سے پتھر بازی ہوئی اور گولیا چلیں۔ جائیدادوں، دوکانوں او رمکانات کی بربادی بھی ہوئی۔
نوادہ
28 مارچ کو ایک بڑا جلوس مقامی بازار میںنکالا گیا۔ ریلی میں پڑوس کے گاؤں سے لوگوں کو بلایا گیا۔ 30 مارچ کو ایک جگہ ہنومان جی کی مورتی ٹوٹی ہوئی ملنے کے بعد کشیدگی بڑھی اور پھر ایک بارات پارٹی پر حملہ کیا گیااور گاڑیاں اور دوکانیںجلائی گئیں۔ یہاںدس افراد بشمول بارات کے افراد کی گرفتاری کی گئی۔
مذکورہ رپورٹ میںتین نکاتی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ سرکار اور منتخب نمائندوں جو کہ فرقہ وارانہ فسادات میںشریک ہوئے، بھڑکایا اور ہمت افزائی کی، انھیںسزا ملنی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ متاثرین کو جلد از جلد زرمبادلہ دیا جانا چاہیے۔ تیسرا نکتہ تشدد کے تعلق سے جوڈیشیل انکوائری کا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *