ٹرمپ کی اسرائیل نوازی اور فلسطین کی اندیکھی،دنیا کو ناقابل قبول

Donald-adviser

امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ پہلے ایسے صدر ہیں جو یکطرفہ طور پر فلسطین کی اندیکھی اور اسرائیل کی کھلے عام حمایت کررہے ہیں۔یروشلم کوراجدھانی تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کو منتقل کرنے کا سلسلہ دہائیوں سے ٹلتا چلا آرہا تھا ،کئی صدر آئے ،سب نے اس مسئلے کو دبانے میں ہی عافیت سمجھی مگرڈونالڈ ٹرمپ نے یہ فیصلہ کرکے پوری دنیا کو حیران کردیا ، ساتھ ہی فلسطین اور عالم عرب کو سخت ناراض بھی۔اب انہوں نے پھر ایک نیا فیصلہ لیا ہے اور یہ فیصلہ بھی اسرائیل کی حمایت اور فلسطین کے خلاف ہے ،وہ فیصلہ ہے ایک اسرائیل نواز کو امریکی صدر کا مشیر بنانا۔
صدر کے اس رویے سے اسرائیل اتنے خوش ہیں کہ اسرائیل کے وزیرِ انصاف نے اپنے ایک بیان میں یہاں تک کہہ دیا کہ صدر ٹرمپ مسلسل اسرائیل کے سچے اور کھرے دوستوں کو اہم عہدوں پر فائز کر رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ اسرائیل دوست انتظامیہ بنتی جا رہی ہے۔

 

 

 

اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر جان بولٹن کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے قومی سلامتی کا مشیر لگائے جانے کے اقدام کو اسرائیل کی طرف سے بہت پذیرائی حاصل ہورہی ہے جبکہ فلسطینی حکام اس نامزدگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کررہے ہیں۔دراصل صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں سابق سفیر اور سخت گیر سوچ رکھنے والے جان بولٹن کو جنرل میک ماسٹر کی جگہ قومی سلامتی کا مشیر نامزد کردیا ہے۔
جان بولٹن کے بارے میں عام خیال یہی ہے کہ وہ اسرائیل کے حامی اور ایران کے بہت بڑے مخالف ہیں۔ اسرائیل کی حمایت میں جان بولٹن ایک مرتبہ اس حد تک بیان دے چکے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کے لیے امریکہ کی طرف سے ہی تجویز کیے جانے والا دو ریاستی حل اب دم توڑ چکا ہے۔اسرائیل میں سخت گیر دائیں بازو کی جماعت جوئش ہوم پارٹی اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کے وزراء نے جان بولٹن کی نامزدگی کا خیر مقدم کیا ہے۔اسرائیل کے وزیرِ تعلیم نفتالی بینٹ جو جوئش پارٹی کے سربراہ بھی ہیں انھوں نے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا کہ بولٹن ایک غیر معمولی سیکورٹی ماہر ہیں، تجربہ کار سفارت کار اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کے ایک گہرے اور قریبی دوست ہیں۔
اس کے برعکس فلسطینی حکام نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے بولٹن کی نامزدگی کی مذمت کی ہے۔ حنان اشروی نے کہا کہ بولٹن کی فلسطینی مخالف سوچ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور اس کی کی ایک تاریخ ہے اور وہ اْس وقت سے فلسطین کے مخالف ہیں جب وہ اقوام متحدہ میں امریکے کے سفیر تھے اور اسرائیل کے جائز و ناجائز موقف کا بڑھ چڑھ کر دفاع کیا کرتے تھے۔انھوں نے کہا کہ بولٹن کو قومی سلامتی کا مشیر بنانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ انتہا پسند صیہونی اور بنیاد اور نسل پرست مسیحوں کا حصہ بن گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کہ یہ اقدامات فلسطینی خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

 

 

 

قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے زمانے میں وہ اقوام متحدہ کے سفیر تھے جہاں وہ اپنی تند و تیز بیانات اور اسرائیل کی جائز وناجائز حمایت کرنے کی وجہ سے متازع حیثیت اختیار کر گئے تھے۔امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ میں 2009 میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں انھوں نے کہا تھا کہ مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل پیدائش سے پہلے ہی مر چکا ہے۔ اسی مضمون میں انھوں نے تجویز کیا تھا کہ فلسطینی علاقوں کو مصر اور اردن کے حوالے کر دینا چاہیے۔انھوں نے کہا تھا کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے تین ریاستی حل کے بارے میں سوچنا چاہیے جہاں غزہ کی پٹی کو مصر کو اور غرب اردن کو چند تبدیلیوں کے ساتھ اردن کے حوالے کر دینا چاہیے۔

 

 

جان بولٹن نے اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیے جانے کے ٹرمپ فیصلے کی بھی بڑے زور شور سے حمایت کی تھی۔ انھوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ ’یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہ کر کے ہم ایک مغالطے کا شکار تھے‘
ٹرمپ کے اس فیصلے پر عرب ممالک کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آہا ہے۔ غالباً وہ یہ سوچ کرکہ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے یا پھر اس لئے کہ نئے مشیر ایران کے سخت مخالف ہیں اور ایسے میں سعودی عرب یا اس کے حامی ممالک چاہیں گے کہ وہ امریکی صدارتی محل میں آکر ایران کے خلاف کچھ کریں اور سعودی عرب کی ایران کو نقصان پہنچانے کی دیرینہ خواہش پوری ہو۔ ویسے بھی سعودی عرب میں جب سے محمد بن سلمان ولی عہد کے عہدہ پر فائز ہوئے ہیں، تب سے امریکہ کے کسی فیصلے پر انگلیاں اٹھانے سے عرب ممالک گریز کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ بلکہ کئی موقعوں پر فلسطین پر ہورہے مظالم سے چشم پوشی کا منظر بھی دیکھا گیا ہے۔ بہر کیف جان بولٹن کو ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنا مشیر تو بنا لیا ہے ،اب دیکھنا ہے کہ وہ امریکہ کی پالیسی خاص طور پر فلسطین اور ایران کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *