ہرش مندر کی فکر انگیز تحریر :سیاسی پارٹیوںکا مسلمانوںسے پرہیز بہت بڑی ٹریجڈی

harsmandar

حال میںیو پی اے چیئرپرسن و ممتاز کانگریس رہنما سونیا گاندھی نے اس خوف کا اظہار کیا ہے کہ کانگریس کو ایک مسلم پارٹی کے طور پر لیا جارہا ہے۔ ان کے اس خوف سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ دنوں ان کے معتمد کانگریس لیڈر اے کے انٹونی نے کانگریس کی متواتر شکست کے اسباب پر جو اندرونی رپورٹ پیش کی تھی اور مسلم اپیزمنٹ کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا تھا،اسے سونیا گاندھی نے واقعی مان لیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کانگریس واقعی بی جے پی کے جھانسے میںآگئی ہے جو کہ یقینا ایک سانحہ ہے۔ معروف سماجی کارکن اور دانشور ہرش مندر تو سونیا گاندھی کے اس خوف کا نتیجہ مسلم کمیونٹی کو بے یارو مددگار چھوڑ دینے کے مترادف مانتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ بہت بڑی ٹریجڈی ہے کیونکہ سونیا گاندھی نے کانگریس کی اپنی 19 سالہ قیادت میںکبھی بھی اپنی سیکولر سوچ کا ساتھ نہیں چھوڑا ہے۔ اتنی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر ہرش مندر کا یہ اہم مضمون نذر قارئین ہے۔

مسلمان (ہندوستان میں) ہر ایک سیاسی پارٹی کے لیے واقعی آج کے آوارہ سیاسی یتیم ہیںجن کا اپنا کوئی گھر نہیں ہے۔ یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ دنیا کے مسلمانوں کا دسواں حصہ کہلانے والے ہندوستان میں180 ملین افراد (تعداد کے لحاظ سے) اسے انڈونیشیا اور پاکستان کے بعد سب سے بڑا مسلم ملک بناتے ہیں۔ اس ملک میںمسلم بن کر رہنا جیسا سخت وقت کبھی نہیں رہا ہے۔ 70 برس قبل بہا مہاتما گاندھی کا خون ہی تھا، جس نے اس وقت فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دی تھی، جس نے سرزمین کو اپنی لپیٹ میںلے لیا تھا۔ لیکن آج ہندوستانی مسلمانوں کی بڑی اکثریت خود کو اور بھی زیادہ تنہا اور بے یارو مددگار محسوس کرتی ہے۔
اسکولوں سے یونیورسٹیوں، کام کرنے کی جگہوں سے رہنے کے کمروں ، انٹرنیٹ سے سیاسی ریلیوں تک نفرت و تعصب کے کھلے اظہار نئے معمول بن گئے ہیں۔ بدتر بات تو یہ ہے کہ یہ لوگ روزانہ نفرت آمیز تشدد کے خوف کے ساتھ رہنے کے لیے مجبور ہیں۔ مسلم والدین اپنے بچوںکو خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ہم تمہیں ٹرین میں فون کریں تو سلام علیکم سے جواب مت دو، داڑھی مت رکھو، گول ٹوپی یا حجاب نہ لگاؤ اور اگر تم سے کوئی بدزبانی کرے تو ردعمل نہ کرو۔ کھلے طور پر لنچنگ کے ساتھ یہ ناقابل مذمت سماجی پیغام ہوتا ہے کہ مسلمان دوسرے درجہ کے شہری ہیں اور پھر یہ سب کچھ لنچنگ کرنے والی بھیڑ کے ذریعہ ٹیپ کیا جاتا ہے، فاتحانہ انداز سے سرکولیٹ کیا جاتا ہے پھر پولیس حملہ آوروں کے بجائے متاثرین کو گرفتار کرکے مخصوص انداز سے ایکشن لیتی ہے۔
مگر زیادہ مایوسی جس سے پیدا ہوتی ہے وہ بڑھتا ہوا احساس ہے کہ ہندوستانی سیاست میںمسلمان سیاسی طور پر غیر موزوں و غیر متعلق کردیے گئے ہیں۔ زیادہ خراب بات تو یہ ہے کہ بہت سارے لوگ یہ ماننے لگے ہیں کہ یہ لوگ سیاسی طور پر اچھوت ہیں۔ آزادی کے بعد بی جے پی پہلی بار تنہا برسر اقتدار پارٹی بنی ہے جو کہ لوک سبھا میںکسی مسلم ایم پی کے بغیر ہے۔ 2017 میںاترپردیش اور گجرات انتخابات میںاس نے ایک بھی مسلم امیدوار کھڑا نہیںکیا۔ یہ تمام ہندو ذاتوں، آدیواسیوں اور یہاںتک کہ نارتھ ایسٹ ہندوستان میںعیسائیوںیعنی سب کو ملک کے مسلمانوں کے خلاف لاکر بڑے عوامی سماجی اتحاد کو بناتے ہوئے اپنے سیاسی عزائم کا ڈھول پیٹتی ہے۔

 

 

مگر اب صرف بی جے پی ہی تنہا نہیں ہے جو کہ مسلمانوں سے بچتی ہے۔ زیادہ تر سیاسی پارٹیاں اس بات کو ماننے لگی ہیںکہ اکثریتی ہندو ووٹ اکٹھا یا خراب ہوجائے گااگر کوئی بھی پارٹی مسلمانوںکے قریب دیکھی جاتی ہے۔ کانگریس کی قیادت کے اپنے 19 برس میںسونیا گاندھی نے کبھی بھی اپنی سیکولر سوچ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لیکن جب انھوں نے بھی حال میںیہ اعلان کردیا کہ کانگریس کو نقصان اس لیے ہوا کہ بی جے پی نے لوگوں سے کہا کہ یہ ایک مسلم پارٹی ہے تب بہت سے مسلمانوں نے محسوس کیا کہ انھیں سیاسی طور پر الگ تھلگ کرنے کا عمل پورا ہوگیا ہے۔
گزشتہ مہینوں میںمجھ سے مسلم لیڈروں اور نوجوانوں کی بلائی گئی متعدد میٹنگوںمیںشرکت کرنے کو کہا گیا ۔ وہاں میںنے ہمیشہ ان کے موڈ کو مایوسی میں ڈوبا ہوا فسردہ پایا۔ ان میٹنگوں میں مقررین یہ تاثر دیا کرتے ہیں کہ مسلمان ایک سیاسی لائیبلٹی یا جوابدہی ہیں۔سیاسی پارٹیاں مسلم امیدواروں کوکھڑا کرنے تشدداور فرق و امتیاز کے وہ ایشوز جن سے بڑی مسلم آبادی متاثر ہوتی ہے کے حق میں بولنے اور کھل کر مسلم ووٹوں کو مانگنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان ہی میٹنگوں میںسے کسی ایک میںایک مشہور دلت لیڈر نے کہا کہ ’’ہماری ریلیوں میںبڑی تعداد میں ہر طرح سے آئیے مگر اپنی گول ٹوپیوں اور برقعوں میں ہرگز نہیں آئیے۔‘‘
وہاں مجمعوںمیں متعدد مقررین کا مسلمانوں کے لیے یہی پیغام ہوتا ہے کہ وہ سیاست سے ہی خود اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر الگ کرلیں۔ ایک میٹنگ میں کانگریس کے ایک عزت مآب سابق ایم پی نے ایک نوٹ تقسیم کرایا، جس میںکہا گیا کہ ترقی کے دعووں کی دھجی اڑاتی ہوئے بی جے پی اب بھی اقلیتوں کے لیے نفرت پر زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی خوب اچھی مارکیٹنگ کرتی ہے۔
انھوں نے اپنے نوٹ میںیہ بھی کہا کہ اپوزیشن اس بات کو سمجھ چکی ہے کہ اقلیتیں تیزی کے ساتھ بوجھ بنتی جارہی ہیں اور سیاسی گمنامی میںجارہی ہیں ۔اقلیتیں ’’بڑی پارٹیوںکے لیے شجر ممنوعہ‘‘ بن گئی ہیں جو کہ ’’ایسے کسی بھی قدم سے اپنے کو جوڑنا نہیںچاہتی ہیں جسے اقلیتی منہ بھرائی سمجھا جائے۔‘‘ وہ یقین کے ساتھ کہتے ہیںکہ یہ ہندوؤں کو فیصلہ کرنا ہے کہ ’’وہ ہندوستان کو ہندو راشٹر بننا یا سیکولر بنا رہنا چاہتے ہیں۔‘‘ مگر اس کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کو سیکولر ہندوؤںسے کہنا پڑ ے گا کہ وہ سیاسی میدان میں ایک ساتھ پیچھے ہٹیں اور لڑائی کو ان ایشوز کے درمیان ہونے دیں جو کہ تمام ہندوستانیوں کو اجتماعی طور پر متاثر کرتے ہیں کیونکہ ہمیں ماننا پڑے گا کہ انتخابی میدان میںہماری موجودگی ملک کو فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی طرف لے جاتی ہے۔ ‘‘
میںاس طرح کی مایوسی کی بات ہر مجمع میںسنتا ہوں۔ کچھ لوگ کہتے ہیںکہ مسلمانوںکو ایک نسل تک سیاست سے دور رہنا پڑے گا۔ منظرنامہ سے ہٹ جائیے۔ سیاسی عہدہ مت مانگئے۔ مہم مت کیجئے۔ صرف ’لوپروفائل ‘ میں رہیے۔ بہتر یہ ہے کہ انتخاب کے روز خاموشی سے ووٹ دیجئے۔ اپنے لبرل ہندو دوستوں سے یہ کہتے ہیں کہ ’’ہمیںمحفوظ رکھنے کے لیے ہمیںتنہا چھوڑ دیجئے۔‘‘

 

 

 

 

ایسا لگتا ہے کہ فی الحال بی جے پی ہندوستان کے سیاسی کھیل کے ضابطوں کو پھر سے زہریلے اکثریتی رنگ میںرنگنے میںکامیاب ہوچکی ہے۔ مسلمان محض غیر متعلق اور ناموزوں نہیںہیں،وہ سیاسی طور پر ایک ڈبے کے فرد (بوگی مین) ہیں، جن کی کھلی حمایت دیگر تمام ووٹروںکو ان سے دور کردے گی۔ بی جے پی کی صرف ضرورت یہ ہے کہ اس افواہ کو پھیلا جائے کہ کانگریس ایک مسلم لیڈر کو گجرات میںوزیر بنا دے گی تاکہ وحشت پھیلے اور کانگریس کے حلقے سے اس کی تردید آئے ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے کہ بڑی ریاستوںمیںمسلم وزراء اعلیٰ نہیںرہے ہیں اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ اگر وہ مستحق اور با صلاحیت ہیںتو آخر وہ اس عہدہ پر برقرار کیوں نہ رہیں؟ یقینا ہندوستان میںایک روز دلت، مسلم یا آدیواسی وزیر اعظم ہوگا۔ آخر یہ ناقابل تصور کیوںہونا چاہیے؟ یہ غیر مسلموں کے لیے پریشانی کی بات کیوں ہونی چاہیے؟ اہلیان لندن نے پاکستانی آربجین کے بہت ہی مقبول ا ور پروقار شخص کو اپنا میئر منتخب کیا ہے۔

 

 

 

ہمارے لیے وقت آگیا ہے کہ ہم ان باتوںسے نبرد آزما ہوں، جنھوںنے ہمارے مسلم بہنوںاور بھائیوںکو گھیر رکھا ہے۔ یہ بات کہ مسلمانوںکے ساتھ ، مسلمانوںکے لیے اور مسلمانوںکے پشت پر رہنے سے دوسرے ہندوستانی ہم سے دور چلے جائیںگے، دراصل اس خیال سے پیدا ہوتی ہے جو کہ آج معاشرے میںپھیلادی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہرذات، طبقہ، صنف اور خطہ کے ہندو و دیگر مذاہب اور نسلی اقلیتیں اور آدیواسی ، سبھی مسلمانوں کے خلاف یکساں نفرت رکھنے پر مجبور ہیں۔ اپنے کام میں میرا خاصا وقت ہندوستان بھر میں عام لوگوںکے درمیان گزرتا ہے اور مجھے معلوم ہے کہ یہ صحیح نہیںہے۔ آر ایس ایس کے ذریعہ ہندوستانی معاشرتی زندگی کی رگوںمیںگھولا گیا زہر طاقتور، عادی بنانے والا اور نشہ آور ہے۔ مگر ہندوستان ایسا نہیں ہے۔ ایک طرف مسلمانوں میںاور دوسری طرف باقی تمام لوگوںمیں یہ تقسیم نہیں ہوسکتاہے۔ محبت، دوستی، کام، شیئرڈ کلچر، شیئرڈ خواب، یہ سبھی لوگوںکو ایک ساتھ جوڑتے ہیں جسے مصنوعی نفرت منتشر نہیںکرسکتی ہے۔
لیکن اگر لبرل سیاسی پارٹیاں بھی اس میجوریٹرین یا اکثریتی کامن سینس کے سامنے سرینڈر کرجائیں تو پھر مشکل ہے۔ اس کے بدلے سیاسی پارٹیوں اور عام شہریوں کو مضبوطی سے یہ عہد کرنا ہوگا کہ مسلمان ہر طرح سے برابر کے شہری ہیں۔ ہندوستان کے تصور ، اس کی تعمیر اور اس کے مستقبل کا حصہ ہیں۔ انھیں اپنے لیڈروں کو چننے کے لیے، وہ جنھیںچاہتے ہیں، ان کے لیے مہم چلانے کے لیے اور یقینا آگے بڑھے نے کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھیںہمارے سیاسی سماج کے اندھیارے میںٹھیل دینا، انہیں ہی نہ صرف پیچھے دھکیل دے گا بلکہ یہ ہم میںسے ہر ایک کو پیچھے دھکیل دے گا، جس سے ہم پیچھا نہ چھڑا سکیں گے۔

(ترجمہ : اے یو آصف )

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *