دم توڑ رہی ہے ملک کی معیشت

bank

پہلے نوٹ بندی، پھر جی ایس ٹی۔ کہا گیا تھا کہ اس سے معیشت میںانقلابی تبدیلی آئے گی لیکن پچھلے دو سالوںمیںملک کی اقتصادی حالت کہاںسے کہاں پہنچ گئی ہے، اس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ گھریلو میدان پر بھلے ہی بی جے پی کی قیادت والی سرکار معیشت کے مضبوط ہونے کا دعویٰ کرتی ہو لیکن زمینی صورت حال بہت ہی خوفناک ہے۔ معیشت کی حالت کیا ہے، اسے نہ صرف مقامی سطح پر چوپٹ ہورہے کام دھندے سے سمجھا جاسکتا ہے بلکہ ورلڈ بینک، ورلڈ اکانومک فورم وغیرہ کی رپورٹ بھی ہندوستانی معیشت کی کھوکھلی ہوتی ہوئی تصویر کو سامنے لاتی ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ کی خاص رپورٹ:

 

سریش ترویدی

دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میںشامل ہونے کا دعویٰ کرنے والی مودی سرکار کو ورلڈ بینک نے ایک اور کرارا جھٹکا دیا۔ ورلڈ بینک نے ہندوستان کو ترقی پذیر ممالک کی فہرست سے ہٹاکر گھانا، زامبیااور پاکستان جیسی بدحال معیشت والے ممالک کی کٹیگری میںڈال دیا ہے۔ ورلڈ بینک کے ذریعہ جاری ڈاٹا رپورٹ کے مطابق ہندوستان کو ’لوور مڈل انکم گروپ‘ میںرکھا گیا ہے۔ اس گروپ میںزامبیا،گھانا، گواٹے مالا، بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا جیسے ممالک شامل ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ برکس ممالک میں ہندوستان کو چھوڑ کر روس، چین،جنوبی افریقہ اور برازیل سبھی ملک ’اَپر مڈل انکم گروپ‘ میںآتے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس ، جاپان،جرمنی،سویٹزرلینڈ جیسے ترقی یافتہ ممالک ورلڈ بینک کے کیلکولیشن میںہائی انکم گروپ میںہیںجبکہ ہندوستان یہاںبھی پھسڈی ثابت ہوگیا ہے اوراسے لوور مڈل انکم والے ممالک کے زمرے میںرکھا گیا ہے۔
ورلڈ بینک کے فیصلے کی بنیاد
ورلڈ بینک نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے نئے زمروں کا تعین کئی معیاروں کی بنیاد پر کیا ہے ۔ ان میںزچگی کی شرح اموات، ٹیکس کلیکشن، اسٹاک مارکیٹ، بجلی کی پیداوار، صفائی اور بزنس شروع کرنے میںلگنے والے وقت کی تشخیص کی گئی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان سبھی شعبوں میںمودی سرکار خاص پروگرام چلاکر حصولیابیوں کے لمبے چوڑے دعوے کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر ٹیکس کلیکشن کے لیے سرکار نے جی ایس ٹی کا نفاذ کیا، جسے دنیا کا سب سے بڑا ’’ٹیکس ریفارم‘‘ بتایا جارہا ہے۔ سرکار سینہ ٹھوک کر یہ بھی کہہ رہی ہے کہ ہندوستان ’اِز آف ڈوئنگ بزنس‘ میںلمبی چھلانگ لگاکر سوویںمقام پر آگیا ہے۔ سولر انرجی کی پیداوار میںہم دنیا میںدوسرے نمبر پر ہیں۔ وزیر اعظم کی پہل پر ملک بھر میں صفائی مہم چل رہی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ پھر بھی ان ہی شعبوںکی حصولیابیوںکی بنیاد پر ہوئے کیلکولیشن میںہندوستان اتنا نیچے کیسے چلا گیا کہ اب ہم ترقی پذیر ملک بھی نہیںرہے۔

 

 

 

 

جی ایس ٹی پر ورلڈ بینک کی رپورٹ

جی ایس ٹی کو لے کر ملک کے کروڑوں تاجروں اور سیاسی جماعتوں نے مخالفت درج کرائی ہی تھی لیکن اب تو عالمی بینک نے بھی اس پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی سب سے امنگی ٹیکس اصلاحات کی منصوبہ بندی جی ایس ٹی دنیا کے سب سے پیچیدہ ٹیکس نظام میںایک ہے۔ عالمی بینک کے ذریعہ جاری اپنی ششماہی رپورٹ ’انڈیا ڈیولپمنٹ اَپڈیٹ‘ میںکہا گیا ہے کہ دنیا کے 115 ممالک میںہندوستان کا جی ایس ٹی ٹیکس ریٹ، دوسرا سب سے اونچا ٹیکس ریٹ ہے۔
ان 115 ممالک میںزیادہ تر وہی ملک ہیںجہاںہندوستان کی ہی طرح ’اِنڈائریکٹ ٹیکس سسٹم‘ نافذ ہے۔ یکم جولائی 2017سے لاگو جی ایس ٹی کے ڈھانچے میں 05، 12، 18 اور 28 فیصد کے ٹیکس سلیب بنائے گئے ہیں۔ سونے پر 3 فیصد تو قیمتی پتھروںپر 0.25فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے۔ ریئل اسٹیٹ، پیٹرولیم، اسٹامپ ڈیوٹی، الکحل، بجلی کو تو جی ایس ٹی کے دائرے سے ہی باہر رکھا گیا ہے۔ تقریباً 50 چیزوں پر ابھی بھی جی ایس ٹی 28 فیصد ٹیکس شرح لاگو ہے۔ جو شاید دنیا کے کسی بھی ملک میںنہیں ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ میںیہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہندوستان جی ایس ٹی کے تحت سب سے زیادہ ٹیکس سلیب والا ملک ہے۔ دنیا کے 49 ملکوںمیںجی ایس ٹی کا صرف ایک ٹیکس سلیب ہے۔ 28 ملکوںمیںدو ٹیکس سلیب ہیں جبکہ اٹلی، پاکستان، گھانا، لکسیمبرگ سمیت ہندوستان میںجی ایس ٹی کے پانچ ٹیکس سلیب ہیں۔ ہندوستان کے علاوہ یہ چاروںملک آج کے زمانے میںکمزور معیشت والے ملک مانے جاتے ہیں۔

 

 

 

 

 

جی ایس ٹی ریفنڈ کی سست رفتار

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے ساتھ ساتھ ملک کے کاروباریوں کا بھی ماننا ہے کہ جی ایس ٹی آسان نہیں بلکہ انتہائی پیچیدہ ٹیکس سسٹم ہے۔ اس کے’ ریٹرنس‘ کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ چھوٹا کاروباری اس میںچکرگھنی بن گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ جی ایس ٹی میںٹیکس ریفنڈ کی رفتار بے حد دھیمی ہے۔ ر یفنڈ کی رفتار دھیمی ہونے کی وجہ سے تاجروںکا کل سرمایہ کا ایک بڑا حصہ ریفنڈ پروسیس میںہی لٹک گیا ہے۔ لہٰذا کاروباریوںکو سرمایہ ’روٹیٹ‘ کرانا اور بزنس سائیکل پورا کرپانا ناممکن ہوگیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیںکہ جولائی سے دسمبر کی ششماہی کے بیچ داخل ہوئے کل جی ایس ٹی ریٹرنس میںسے صرف 16 فیصد ریٹرنس کا ہی ابھی تک جی ایس ٹی آر 3- سے میلان ہوپایا ہے۔ اسی وجہ سے جی ایس ٹی ریفنڈ کی رفتار کافی سست ہے۔
فائل کیے گئے ریٹرنس کی جانچ میںچونکانے والی بات یہ سامنے آئی ہے کہ 34 فیصد کاروباریوںنے ٹیکس کے طور پر 34ہزار کروڑکی ر قم جمع کی ہے۔ ان کاروباریوں کو 8.50 لاکھ کر وڑ ٹیکس جمع کرنا تھا جبکہ کاروباریوں نے 8.16 لاکھ کروڑ ہی جمع کیے ہیں۔ تازہ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے ذریعہ جی ایس ٹی لاگو کرتے وقت ٹیکس کلیکشن میں بے پناہ اضافے کے جو لمبے چوڑے وعدے کیے گئے تھے، وہ سب جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ پچھلے مہینے جی ایس ٹی کا کل کلیکشن 86 ہزار کر وڑ ہوا ہے۔ اس میںریفنڈ ہونے والی رقم بھی شامل ہے۔ اگر ریفنڈ کی جانے والی رقم کم کردیںتو جی ایس ٹی سے ہونے والی خالص آمدنی اس کی آدھی رہ جائے گی۔ مطلب صاف ہے کہ جی ایس ٹی کو لے کر مرکز اور ریاستوں کی آمدنی میںبھاری اضافہ ہونے کے جو دعوے کیے گئے تھے،وہ سب جھوٹے تھے اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے کیے گئے تھے۔

 

 

 

 

 

کہاں ہوئی سرمایہ کاری؟

وزیر اعظم مودی کے داووس دورے کو لے کر بھلے ہی کتنا شور شرابہ کیا جا رہا ہو لیکن اقتصادی اعداد وشمار اور زمینی سچائی کچھ اور ہی کہانی کہہ رہی ہے۔ وزیر اعظم نے ورلڈ اکانومک فورم میںکہا کہ انھوںنے جی ایس ٹی لاگو کرکے ٹیکس ڈھانچے میںانقلابی تبدیلی کی ہے، 1400 پرانے قانون رد کیے ہیں، ریڈ ٹیپزم کے کلچر کو ریڈ کارپیٹ میںبدلا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن مودی جی نے یہ نہیں بتایا کہ ’اِز آف ڈوئنگ بزنس رینکنگ‘ میں100 ویںمقام پر آنے کے باوجود ہندوستان میںنجی سرمایہ کاری لگاتار نیچے کیوںجارہی ہے؟ سرکار کو چاہیے کہ وہ ملک کو بتائے کہ پچھلے کچھ سالوں میںجو بھی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری( ایف ڈی آئی) کن شعبوںمیںآئی ہے۔ ہماری جانکاری کے مطابق اس ایف ڈی آئی کا ایک بڑ احصہ’ ڈاؤٹ فل یا لاس ایسٹس‘ کو خریدنے میںہوا ہے، جس کا مینو فیکچرنگ اور روزگار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ مثلاً13 بلین امریکی ڈالر کا ایسار ریفائنری سودا ۔ لیکن اس سے ملک کے بے روزگار نوجوانوں کو کیا ملا؟ اسی طرح سرمایہ کاری کا ایک اور بڑا شعبہ ای پروجیکٹس ہیں۔ سرکار شاید یہ بتانا بھول گئی ہے کہ بہت پرچار کی جانے والی اسکیم میںہزاروںکروڑ کا قرض بانٹے جانے کے باوجود نہ تو روزگار کے مواقع بڑھے ہیں اور نہ ہی مینوفیکچرنگ سیکٹر میںکوئی اثر پڑاہے۔

 

 

 

وزیر اعظم صاحب نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں10.90 کروڑ لوگوں کو روزگار دیا گیا ہے۔ انھیںیہ بھی بتانا چاہیے کہ یہ روزگار کن لوگوں کو اور کن شعبوں میںدیے گئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے حساب سے دیکھیںتو مودی جی کے اس دعوے کے بعد ملک میں بے روزگاری پوری طرح ختم ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم صاحب نے داووس کے بعد ملک کی ثقافت اور وسودھیو کٹمب کم کے احساس کا بھی تذکرہ کیالیکن شاید وہ یہ بتانا بھول گئے کہ ہندوستان کے امریکہ جیسے حامی ملک نے بھی حال ہی میںیہ کیوںکہا کہ ہندوستان خواتین کے لیے محفوظ ملک نہیںہے۔ یعنی کوئی بھی غیر ملکی خاتون سیاح ہندوستان آنے پر خود کو محفوظ نہیںسمجھ سکتی ۔ دنیا کے سامنے یہ حقیقت بھی رکھنا چاہیے کہ حالیہ سالوں میںاس تکثیریتی ملک میںخواتین سے ریپ اور گائے کے نام پر لنچنگ کے کتنے واقعات ہوئے ہیں؟
کیا سرکار یہ بتائے گی کہ ملک کے1فیصد لوگوںکے پاس 73 فیصد دولت کیسے چلی گئی؟ 2017 کے اعدادوشمار کے حساب سے سوا سو کروڑ کی آبادی والے ملک میں67 کروڑ لوگ ابھی بھی خط افلاس کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 2017 میںہر دو دن میںایک شخص کروڑ پتی سے ارب پتی بن رہا ہے۔ اس طرح 2017 میں101 نئے ارب پتی بن گئے ہیں۔ 2016 میں 1 فیصد لوگوںکے پاس 58 فیصد پراپرٹی تھی لیکن 2016-17 کے بیچ ایسے لوگوںکی پراپرٹی میں20.9 لاکھ کروڑ کا اضافہ ہوا۔ یہ رقم حکومت ہند کے 2017-18 کے بجٹ کے برابرہے۔ مودی سرکار کے تمام دعووں کے باوجود ملک میںامیر اور غریب کے بیچ بڑھتی خلیج میںکوئی کمی نہیں آئی ہے۔

 

 

 

 

 

بینکوں اور صنعتوںکی حالت خراب

پی این بی گھوٹالے کی رقم اب تقر یباً 30 ہزار کروڑ روپے پہنچ گئی ہے۔ کچھ دن پہلے ریڈ اینڈ ٹیلر برانڈ کے مالک ایس کمارس بھی 5 ہزار کروڑ روپے ڈبوکر دیوالیہ ہونے کی قطار میںشامل ہوگئے ہیں۔ ایئرسیل بھی بینکوںکے 15 ہزار 5 سو کروڑ روپے ادا کرنے سے قاصر ہے اور وہ بھی دیوالیہ ہونے کو بیتاب ہے۔ بچی ہوئی ٹیلی کام کمپنیاں دیوالیہ ہونے کو بے چین دکھائی دے رہی تھیں، اس لیے سرکار نے اسپیکٹرم کی رقم کو دس سال میںادا کرنے کے بجائے 16 سال میں ادا کرنے کا وقت دے دیا ہے۔ جے پی انفراٹیک بھی دیوالیہ ہونے کو ایک پاؤں پر کھڑی ہے۔ بھوشن اسٹیل، ایساراسٹیل اور الیکٹرو اسٹیل اسٹیلس نے بینکوں کے 92 ہزار کروڑ روپے ڈبودیے ہیں اور تینوں کمپنیاںدیوالیہ ہونے کے لیے کورٹ کے دروازے پر کھڑی ہیں۔ بھوشن پاور 37,248 کروڑ اور مونیٹ اسپات 8,944 کروڑ کی دین داری الگ ہی ہے۔ انل امبانی کے ریلائنس گروپ پر اکیلے 1 لاکھ 21ہزار کروڑ کا بیڈ لون ہوگیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ کل ملاکر 10 بڑے بزنس گروپوں پر 5 لاکھ کروڑ کا بقایا قرض ہے۔ کولکاتا کی کمپنی آر پی انفو سسٹم جو کہ چراغ برانڈ سے کمپیوٹر بناتی ہے، اس نے 10 بینکوں کو قریب 500 کروڑ روپے سے زیادہ کا چونا لگا دیا ہے۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے 3200 کروڑ ر وپے کے ٹی ڈی ایس گھوٹالے کا خلاصہ کیا ہے۔ اس معاملے میں447 کمپنیوں نے اپنے ملازمین کی سیلری سے ٹیکس کی رقم تو کاٹ لی لیکن ا سے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میںجمع کرنے کی بجائے اپنے کاروبار کو بڑ ھانے میںلگا دیا۔ کانپور کی کمپنی شری لکشمی کاٹسن لمٹیڈنے 16 بینکوںسے 3972 کروڑ لون لیا تھا اور اب یہ کمپنی ڈیفالٹر ہوگئی ہے۔ روٹومیک گلوبل پرائیویٹ لمٹیڈ کے ڈائریکٹر وکرم کوٹھاری، 7 بینکوںکے کنسورٹیم نے تقریباً 5 ہزار کروڑ روپے کا لون لیا تھا، جسے ادا کرنے میں وہ قاصر ہیں۔ سمبھاؤلی شوگرس لمٹیڈ سے جڑے 110 کروڑ کے بینک فراڈ معاملے میںسی بی آئی نے پنجاب کے سی ایم امریندر سنگھ کے داماد اور سمبھاؤلی شوگرس کے ڈی جی ایم گور پال سنگھ کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ اوریئنٹل بینک آف کامرس سے 389.85 کروڑ روپے کے لون کی دھوکہ دھڑی کے معاملے میںسی بی آئی نے ہیرا کاروباری فرم دوارکا داس سیٹھ انٹرنیشنل لمٹیڈ پر معاملہ درج کیا ہے۔ نیرو مودی ، مالیا، ویڈیو کون اور آئی سی آئی سی آئی کا تازہ معاملہ بھی سامنے ہے۔

 

 

 

 

 

ورلڈ اکانومک فورم کی رپورٹ

ورلڈ اکانومک فورم کے ذریعہ جاری سالانہ انڈیکس فہرست نے مودی سرکار کی معیشت کی مضبوطی کے بارے میںکیے جارہے بڑے بڑے دعووں کی ہوا نکال دی ہے۔ داووس میںچل رہی ورلڈ اکانومک فورم کی سالانہ میٹنگ سے عین قبل ایک ایجنسی نے جو انڈیکس جاری کی، اس میںہندوستان کو دنیا کی ابھرتی معیشتوں میں62 ویںمقام پر رکھا گیا جبکہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے پچھلے دنوں دعویٰ کیا تھاکہ 2018-19 میںہندوستان، فرانس اور جرمنی کو پچھاڑ کر دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میںشامل ہوجائے گا۔
اس فہرست کے مطابق ہندوستان فی الحال اپنے پڑوسی ملکوں چین اور پاکستان سے بہت پیچھے ہے۔ فورم کے ذریعہ جاری فہرست میںچین 26 ویں اور پاکستان 47 ویںمقام پر ہے جبکہ ہندوستان پچھلے سال کے مقابلے دو پائیدان نیچے کھسک کر 62 ویںمقام پر پہنچ گیا ہے۔ آپ کو بتا دیںکہ پچھلے سال 79 ترقی پذیر معیشتوں میںہندوستان 60 ویںمقام پر تھا۔ پچھلے سال پاکستان 52 ویں مقام پر تھا جو اب پانچ مقام اوپر اٹھ کر 47 ویںمقام پر آگیا ہے۔ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ ورلڈ اکانومک فورم ترقی پذیر ممالک کی معیشت کی تشخیص کچھ مقررہ معیاروںکی بنیاد پر کرتا ہے۔ ان معیاروںمیںلوگوںکے رہنے کی سطح، ماحولیات کی صورت حال اور آگے آنے والی نسلوں پر قرض کے بوجھ کے امکان جیسے نکات شامل کیے جاتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا کے چھوٹے چھوٹے تمام ملک، جن میںمالی، یوگونڈا، گھانا، یوکرین، سربیا، فلپائن، ایران، میسیکو، ملیشیا اور تھائی لینڈ جیسے ملک شامل ہیں، معیشت کے نام پر ہم سے مضبوط اور امیر ہیں۔ یہاںتک کہ پڑوسی ملک نیپال اور سری لنکا بھی اس لحاظ سے ہم سے بہترہیں۔ بہرحال وزیر اعظم صاحب اگر غیریبوں کی سچ مچ اتنی ہی فکر کرتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ملک کی تصویر ایسی کیوںبنتی جارہی ہے؟ ہم سوچ رہے ہیں ، وزیر اعظم صاحب آپ بھی سوچئے۔

 

 

 

بے روزگاری کا ڈنک
ہر سال دو کروڑ کو روزگار دینے کا وعدہ کرنے والی مودی سرکار اس محاذ پر بھی پوری طرح ناکام رہی ہے۔ لیبر منسٹری کے اعداد شمار بھی بتاتے ہیںکہ ہندوستان میںبے روزگاری اس وقت پچھلے پانچ سالوں کی اعلیٰ سطح پر ہے۔ اس وقت ملک کی 11 فیصد آبادی پوری طرح بے روزگار ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد بے روزگاری میں7 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی حال ہی میںآئی رپورٹ میںبھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں2016 سے 2018 کے بیچ بے روزگاری تیزی سے بڑھی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزگار کے مواقع میںیہ گراوٹ آگے بھی جاری رہے گی۔ اسی طرح بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا ماننا ہے کہ جی ایس ٹی جیسی اقتصادی اصلاحات کے نفاذ کے بعد بھی ملک میںروزگار کے مواقع نہیںبڑھے ہیں۔

 

 

بدعنوانی و غربت کی جڑیںہوئیں مزید گہری

بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنانے کا وعدہ کرنے والی مودی سرکار کے سارے دعوے چار سال میں ہی ہوا ہوائی ثابت ہوگئے ہیں۔ ’نہ کھاؤں گا اور نہ کھانے دوں گا‘ کہ ہنکار بھرنے والے وزیر اعظم خود بھلے ہی پاک صاف ہوںلیکن ان کی سرکارکیفیوریٹ سرمایہ داروں کے کارنامے جیسے جیسے اجاگر ہورہے ہیں ، اس سے یہ تصویر صاف ہوگئی ہے کہ کچھ لوگ کھا بھی رہے ہیں اور بینکوں کا پیسہ کھاکر ملک کے باہر بے روک ٹوک جابھی رہے ہیں۔ ’ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘ کی تازہ رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ بدعنوانی کے معاملے میںہندوستان 2016 کے مقابلے میں2 پائیدان نیچے کھسک کر 81 ویںمقام پر پہنچ گیا۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے دنیا کے 180 ملکوںکے بیچ سرکار اور عام زندگی میںپھیلی بدعنوانی کی سطح کی جانچ کی ہے۔ اس سے پہلے ہندوستان بدعنوان ملکوں کی رینکنگ میں2016 میں76 ویں اور 2017 میں79 ویںمقام پر تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مودی سرکار کے دور میںبھی بدعنوانی کی جڑ یں اور گہری اور وسیع ہوتی جارہی ہیں۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے ذریعہ جاری عام زندگی میںبدعنوانی کو لے کر کی گئی کیلکولیش میںہندوستان نے 100 میں40 نمبر پاکر 81 واں مقام حاصل کیا ہے جبکہ نیوزی لینڈ اور ڈنمارک اس رینکنگ میںبالترتیب پہلے اور دوسرے مقام پر ہیں۔ بدعنوانی کے معاملے میںجہاںسومالیہ،سوڈان ااور شام سب سے نچلے پائیدان پر ہیں ، وہیںہندوستان 43 کے اوسط نمبر سے بھی نیچے ہے۔ اس سروے میںایک اور چونکانے والی بات سامنے آئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہندوستان اب بدعنوانی میںہی نہیں بلکہ میڈیا کے ہراسمنٹ اور غریبی ، ناانصافی اور عوامی حقوق کو لے کر لڑنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو کچلنے کے معاملے میںکافی تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ اقتداری اداروں کی مخالفت کرنے والوں پر حملے ہورہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میںہر ہفتہ اوسطاً ایک صحافی یا ایکٹوسٹ ان حملوںکا شکار ہورہا ہے۔

 

 

 

 

اب ہم بات کرتے ہیںایک دوسری رپورٹ کی۔یہ رپورٹ وزیر اعظم کے اس دعوے کو کہ ان کی سرکار غریبوں کے لیے وقف سرکار ہے، پوری طرح خارج کرتی ہے۔ غیر سرکاری تنظیم ’آکسفیم‘ کے ذریعہ حال ہی میںجاری رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میںہندوستان میںامیر اور غریب کے بیچ کی دوری بڑھی ہے۔ امیر اور زیادہ امیر جبکہ غریب زیادہ غریب ہوتے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم کا ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کانعرہ جھوٹا ہے اور چھلاوہ ثابت ہورہا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ ملک کی کل جی ڈی پی 15 فیصد حصہ گنے چنے ارب پتیوں کے پاس ہے۔
پانچ سال قبل ان دھن کبیروں کے قبضے میںجی ڈی پی کا صرف 10 فیصد پیسہ تھا۔ داووس میںگزشتہ دنوں ہوئی ورلڈ اکانومک فورم کی میٹنگ کے دوران یہ خلاصہ ہوا تھا کہ ملک کے 1 فیصد امیروں کیپاس ملک کی 73 فیصد دولت ہے۔ سال 2017 میںہی ملک میں101 نئے ارب پتی بنے ہیں۔ یعنی مٹھی بھر لوگ ملک کی دولت سے اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں تو دوسری طرف لاکھوں غریب،بے روزگار اور مجبور کسان بھکمری اور قرض کے بوجھ سے سے خود کشی کر رہے ہیں۔ آخر یہ کیسا ہندوستان ہم بنا رہے ہیں وزیر اعظم صاحب؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *