’صدا ٹوڈے ‘ کی آواز آسمانِ صحافت میں گونجی

sada-today

آج میڈیا میں اردو نیوز پورٹلوں کی کمی نہیں ہے مگر 16مارچ 2018 کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں چیئر مین اسلم چشتی اور چیف ایڈیٹر وسیم راشد کی سرپرستی میں لانچ کیا گیا نیا اردو نیوز پورٹل ’ صدا ٹوڈے‘ اس لحاظ سے قابل ستائش ہے کہ اس میں خواتین کے لئے مخصوص گوشہ ہے۔ اس نیوز پورٹل کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے لانچ میں صحافت کی بزرگ شخصیت کلدیپ نیر، فلمی ہستی مہیش بھٹ، ممتاز شاعر گلزار دہلوی ، متین امروہوی ،دہلی یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو ابن کنول، افسانہ و ناول نگار مشرف عالم ذووقی، صدر آل انڈیامسلم مجلس مشاورت نوید حامد، نیو ہورائزن اسکول کے سربراہ و چارٹرڈ اکائونٹینٹ کمال فاروقی، مؤرخ رعنا صفوی، دانشور ڈاکٹر ہرچرن کور اور ہوٹل ریور ویو کے چیئر مین کلیم الحفیظ شریک تھے اور پیغامات کے ذریعے ’چوتھی دنیا ‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ ، دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں، کرسچن کونسل آف انڈیا کے چیئرمین جان دیال ، ائمہ مساجد کے چیئر مین امام عمیر الیاسی اور پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمید کی نیک خواہشات اور دعائیں ساتھ تھیں۔
مسلم پالٹیکل کونسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر تسلیم رحمانی کی نظامت میں ہوئے اس دلچسپ پروگرام میں ممبئی سے تشریف لائے مشہور فلم پروڈیوسر اور ڈائریکٹر مہیش بھٹ نے کہا کہ اس دور میں پروپیپل، پرو ڈیموکریسی اور پرو سیکولرزم نیوز پورٹل نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر وسیم راشد کے حوصلے کی داد دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی ٹوٹی نہیں، ہاری نہیں اور اس نیوز پورٹل کا آغاز بھی ان کے عزائم کا ثمر ہے۔ کلدیپ نیر نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ’’ عام ہندو لبرل ہے، آپ کے ساتھ ہے، بس آپ ہمت نہیں ہاریں‘‘۔ اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں ’چوتھی دنیا ‘کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ نے ’چوتھی دنیا ‘ اردو کی سابق ایڈیٹر وسیم راشد کے ہفتہ وار میں گزرے لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’پرنٹ میڈیا کی ایک حد ہوتی ہے لیکن نیوز پورٹل کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ وسیم صاحبہ نے اپنا دائرہ بڑھایا ہے۔ نیوز پورٹل کے ذریعے انہیں کھلا آسمان ملا ہے۔خدا کرے اس نئی دنیا میں انہیں مقام ملے اور وہ اس کی لیڈر بنیں‘‘۔
اس موقع پر مہیش بھٹ،کلدیپ نیر اور سید شاہد مہدی نے ڈاکٹر وسیم راشد کی معرکۃ الآراء کتاب ’سرسید کے مخالفین – حقائق کی نظر میں‘ اور اسلم چشتی کی ’ سرحد پار کی توانا آوازیں ‘ ریلیز کیں۔

 

 

 

 

ڈاکٹر وسیم راشد کی کتاب ’سرسید کے مخالفین‘ کا اقتباس

سرسیدچونکہ برطانوی حکومت سے راضی بہ رضا تھے اور اس کی حمایت میں ہی انھیںملک و قوم کی خوش حالی نظر آرہی تھی، اس لیے جب 1885میں کانگریس کا قیام عمل میںآیا تو انھوںنے اس کی زبردست مخالفت کی۔ 1886 میں جب کلکتہ میں کانگریس کا دوسرا اجلاس ہونے کو تھا تو ٹھیک اس کے ایک مہینہ قبل سرسید نے ’’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘‘ میںکانگریس کی تحریک کی مذمت کی اور اسے ایک اشتعال انگیز تنظیم قرار دیا۔
سرسید اگرچہ اختلافی مسائل سے دور رہنا پسند کرتے تھے کیونکہ ان کی اصل توجہ مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی اصلاح پر مرکوز تھی اور وہ نہیںچاہتے تھے کہ مسلمان کانگریس میں شامل ہوکر انگریزی حکومت سے عداوت مول لیں، کیونکہ ان کے مطابق اس سے خصوصاً مسلمانوںکو بہت نقصان تھا۔ لیکن سرسید اس وقت کانگریس سے بہت زیادہ برہم ہوگئے جب 1887 میں مدراس میںمنعقدہ کانگریس کے اجلاس میںعلی گڑھ کے ایک یا دو طالب علموںکو بہلا پھسلا کر شریک کرلیا گیا تھا۔
اس واقعہ سے سرسید اس قدر نالاں ہوئے کہ لکھنؤ میںکی گئی تقریر میں انھوں نے کانگریس کی کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ اس سے چند بنگالیوں کے علاوہ کسی کو فائدہ نہیں ہوسکتا اور کانگریس میں مسلمانوں کی شمولیت سے ہندوستانی مسلمانوں کے متعلق برطانوی حکومت کا رویہ مشکوک ہوجائے گا۔ نمائندہ قسم کی حکومت میں مسلمانوں کا مستقبل تاریک بن جائے گا۔ اس طریقے کو اپنا کر مسلمان ہمیشہ کے لیے ہندوؤں کے غلام بن جائیں گے۔ سرسید کے ان بیانات سے ہندوستان میںتہلکہ مچ گیا۔ ہندو اخبارات نے سرسید پر شدید حملے کیے۔ بنگالی دانشوروں کے درمیان سرسید کے خلاف کافی غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ ’’دی نیشنل گارجین‘‘ نے لکھا کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اپنا گلا کٹوانے کا تہیہ کر ہی لے تو وہ علی گڑھ کا ستر سالہ مسلمان سرسید احمد خاں ہی ہوسکتا ہے جبکہ لاہور سے شائع ہونے والے ’’ٹریبون‘‘ نے سرسید کی عمر کے ساتھ ساتھ ان کی عقل کی ضعیفی کا بھی ماتم کیا اور بڑے ہی دکھ کے ساتھ لکھا کہ غریب بوڑھے سید ! ضعیفی اور بیکار کے مشوروں نے تمہیں تباہ کردیا ہے۔

 

 

 

 

کانگریسی رہنماؤں نے بھی سرسید پر الزام عائد کیا کہ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین منافرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پنجاب کے ابھرتے رہنما لالہ لاجپت رائے نے جو بعد میںکانگریس کے صدر بن گئے، لاہور کے’ ٹریبیون‘ میںسلسلہ وار کھلے خط شائع کرواکر سرسید پر یہ الزام لگایا کہ ’’دفتری خوشامد‘‘ کا شکار ہوکر اسی چیز سے منحرف ہوگئے ہیں جس کا پرچار وہ خود گزشتہ بیس برسوں سے کر رہے تھے۔
سرسید کے سیاسی افکار کی مخالفت ’’اودھ پنچ‘‘ نے بھی کی۔ اس کے مدیر منشی سجاد حسین اس حوالے سے سرسید کے روز ازل سے مخالف رہے۔ منشی سجاد حسین قدامت پرستی کے قائل تھے اور اس کے ساتھ ہی کانگریس کے زبردست حامی بھی اور سرسید کو ان دونوں باتوں سے خدا واسطے کا بیر تھا۔ وہ جدیدیت کے قائل تھے اور انگریزی حکومت کے وفادار۔ ایسے میںمنشی سجاد حسین نے سرسید کی زبردست مخالفت کی اور ان کے خلاف مضامین لکھوائے۔ اس حوالے سے ڈاکٹرانور سدید لکھتے ہیں:
’’اودھ پنچ کے مدیر منشی سجاد حسین سرسید کے روز ازل سے مخالف اور قدامت پرستی کے قائل تھے۔ مخالفت کا دوسرا سبب یہ تھا کہ منشی سجاد حسین کانگریس کے حامی تھے اور سرسید کے نکتہ چین، چنانچہ سجاد حسین نے سرسید کے خلاف غلط فہمیاں پھیلانے اور انھیںطعن و تشنیع کا شکار بنانے کے لیے ایک مستقل محاذ قائم کیا اور اس میں’’اودھ پنچ‘‘کے مضمون نگاروں کو بھی شریک کرلیا۔ ‘‘
اکبر الہ آبادی بھی سرسید کے سیاسی افکار سے متفق نہیں تھے۔ بنیادی طور پر اکبر کے دل میںانگریزوں سے ان کی تہذیب ، ان کی قوت و اقتدار سے سخت نفرت تھی۔ وہ ذاتی مجبوریوں او رمصلحتوں کے سبب اگرچہ اس کا صاف صاف اظہار کرنے سے گھبراتے تھے لیکن اصل میںوہ ہر چیز سے خوش ہوتے تھے جس سے انگریزوں کی مخالفت ہوسکتی تھی۔

 

 

دراصل اکبر نے اپنی آنکھوںسے 1857 میںہندوستانیوں کی شکست و تباہی اور انگریزوںکی قوت اور ظلم و جبر کو دیکھا تھا، اس لیے وہ انگریزوں سے بے حد نفرت کرنے لگے تھے۔ سرسید چونکہ انگریزوں کی حمایت کرتے تھے اور ان کی سرپرستی میں ملک و قوم کو ترقی کی منزلیںطے کروانا چاہتے تھے، اس لیے اکبر، سرسید کے سیاسی افکار سے متصادم ہوئے اور منشی سجاد حسین کے ساتھ اکبر نے بھی سرسید کی مخالفت کے لیے ’اودھ پنچ ‘کا سہارا لیا۔ بقول ڈاکٹر انور سدید:
’’اودھ پنچ کے صفحات سے اکبر الہ آبادی ایک شاعر طناز اور مزاح نگار کی حیثیت میںابھرے اور سرسید کی جدیدیت کے آگے قدامت پسندی کا بند باندھنے کے بجائے اسے طنزو مزاح سے رد کرنے پر آمادہ ہوگئے۔‘‘
سرسید مسلمانوںکو ایک الگ قوم تصور کرتے تھے جبکہ اکبر الہ آبادی قوم کے وجود کو ہی تسلیم نہ کرتے تھے۔ اگرچہ اکبر سیاسی معرکہ کارزار کے دور کے تماشائی تھے لیکن کانگریسی نظریات کے حامی تھے اور یہی وہ بنیادی فرق ہے جس کی وجہ سے اکبر نے سرسید کے سیاسی افکار کی مخالفت کی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *