اس ملک کی قدریں کبھی ختم نہیں ہوںگی

جس آر ایس ایس کو میںجانتا تھا، وہ ایک الگ ہی آر ایس ایس تھا۔ بالا صاحب دیورس سے میرا ذاتی طور پر ملنا جلنا تھا۔ ان کے بھائی سنگھ کا سیاسی کام دیکھتے تھے۔ بالاصاحب کی باتیں مجھے اچھی لگتی تھیں۔ ان کی باتیںنظریاتی طور پر صحیح تھیں۔ انھوںنے مجھ سے کہا، دیکھئے سنگھ ایک بہت بڑی چیز ہے۔ ہمارے سنگھ کے 100 لوگوں میںسے 10-15 فیصد لوگ ہی سیاست میںجاتے ہیں۔ باقی لوگ سنگھ میںیا وشو ہندو پریشد میںہیں۔ ہمارے ونواسی اور دیگر قسم کے بہبودی آشرم ہیں، ہمارے ملک میں کئی کام ہیں۔ وہاںپر لوگ جاتے ہیں۔ سیاسی کام ہم بی جے پی کے ذریعہ کرتے ہیں۔ تو ان 10-15 فیصد سیاست میںلگے لوگوں میں سے زیادہ سے زیادہ5 فیصد سرکار میں یا مقننہ میںیا دیگر عہدوں پر جاتے ہیں ایم پی، ایم ایل اے، وزیر بن کر۔انھوں نے مجھ سے کہا کہ مرارکا جی!ہم پانچ فیصد لوگوں کی سہولتوں کے لیے سو فیصد داؤں پر نہیں لگائیں گے۔ ہم ہندو اتتھان کے لیے ہیں۔ ہمارے لیے اجودھیا مندر ایک
ٹھوس عزم ہے۔ بی جے پی کے لیے وہ صرف اقتدار میں آنے کے لیے، ووٹ بٹورنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے، ہمارے لیے نہیں۔ اس کے بعد رجو بھیا سر سنگھ چالک بنے۔ وہ مجھے کہیں مل گئے۔انھوںنے مجھ سے کہا کہ ہم نے آپ کا بیان پڑھا، بہت اچھا لگا۔ کیونکہ یہ بیان ان کی حقیقی صورت حال ظاہر کرتا تھا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی ایک چیز نہیںہے۔ آر ایس ایس ایک دھرم کو، ایک مذہب کو، ایک سوچنے کے انداز کو اتتھان دیتا ہے۔ بی جے پی تو سیاسی پارٹی ہے جیسے باقی پارٹیاں ہیں جیسے کانگریس، سماجوادی پارٹی ہے۔ سیاسی پارٹی کا ایک ہی اصول ہوتا ہے۔ لبھانے والی بات کریں اور عوام کا ووٹ بٹوریں، پاور میںآئیں۔ پاور میںآنے کے بعد سب وہ لبھانے والی باتیںبھول جاتی ہیں اور اپنے کام دھندے میںلگ جاتی ہیں۔ آر ایس ایس سیاسی پارٹی نہیںہے۔ یہ مبالغہ نہیں ہے بلکہ سچائی ہے کہ پچھلے چار سال میںجتنا نقصان آر ایس ایس کو ہوا ہے، کسی کو نہیںہواہے۔ مودی جی ملک کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟ تھوڑا ماحول بگاڑ دیںگے ۔ ملک کا کچھ نہیں بگڑنا ہے۔ یہ ملک بہت بڑا ہے۔ پانچ ہزار سال پرانا ملک ہے، 70 سال پرانا نہیںہے۔ مودی جی کی سمجھ ہی غلط ہے۔ وہ سمجھتے ہیںکہ آئین 70 سال پہلے بنا تھا۔ ملک 70سال پہلے پیدا ہوا۔ آئین نافذ کرناآسان نہیںہے۔ آئین میں مساوات کی بات ہے تو کیا دلتوں کو مساوات مل گئی ہے؟ امبیڈکر جی نے تبھی بول دیا تھا کہ آئین آپ کو جمہوری مساوات دے سکتا ہے، جمہوری سماج نہیں۔ سماج میںبہت عدم مساوات ہے، وہ دور نہیںہوں گی۔ اسے ٹھیک کرنے میں سیکڑوں سال لگیںگے ۔
سرکار کیا کام کررہی ہے؟ سرکار اگلے الیکشن کی تیاری میںلگ گئی ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ بی جے پی کبھی الیکشن سے ابھری ہی نہیں۔ 2014 میںاقتدار میںآنے کے بعد سے لگاتار مودی جی الیکشن کے پرچار میںہی لگے ہوئے ہیں۔ مودی جی بھول گئے کہ انھیںلوگوں نے پالیسیاںلاگو کرنے کے لیے چنا ہے۔ انھیںنتیجہ دینا چاہیے لیکن وہ پرچار دے رہے ہیں۔ ڈھائی سال تک سرکار ٹھیک چلی۔ مودی جی اتاؤلے ہو گئے کہ کوئی رزلٹ نہیں آرہا ہے تو نوٹ بندی کردی اور مسئلہ کھڑا ہوگیا۔
نوٹ بندی فیل ہونے کے بعد جی ایس ٹی لاگو کردی، جس نے مسئلے کو اور بھی بدتر بنا دیا۔ میںدعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ کوئی بھی ملک تجارت و صنعت کے بغیر ترقی نہیںکرسکتا۔ نوکریاںدینی ہیں تو زراعت کے علاوہ صنعتیںلگانا پڑتی ہیں۔ انٹرپرائزز اور چھوٹے انٹرپرائزز، تجارت، ٹریڈر بی جے پی کی ریڑھ کی ہڈی تھی، وہ سب ناراض ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مسائل کے لیے الٹے سرکار کانگریس اور نہرو پر الزام لگاتی ہے۔ ایسے ہی چلتا رہا تو آنے والے وقت میںلوگ کہنے لگیںگے کہ نہرو کا راج رام راج تھا۔ تب بدعنوانی نہیں تھی۔ کشمیر کو لے کر بی جے پی ساری غلطی نہرو پر منڈھ دیتی ہے۔ نہرو کی ایک غلطی ہے کہ وہ کشمیری پنڈت تھے، کشمیر سے انھیںلگاؤ تھا۔ سردار پٹیل تو کہتے تھے کہ کشمیر کو پاکستان میںجانے دو، اس سے ہمیںکیا لینا دینا۔ لیکن آج نہرو نہیں، سردار پٹیل آپ کے ہیرو ہیں۔ میںممبئی میںرہتا ہوں۔ یہاںدلت کو لے کر ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ کسے کیا پتہ کہ کون کس بلڈنگ میںرہتا ہے۔ کوئی کسی کی ذات نہیں پوچھتا۔ لیکن آج بھی گاؤ ں میں جائیے آپ، دلت بچوں کو اسکول میںالگ بٹھاتے ہیں۔ تو کیا ان کو غصہ نہیں آئے گا؟ آج ملک کا نظام چرمرا گیا ہے۔ ہاں، امت شاہ یہ ضرور سمجھ گئے ہیںکہ اس ملک کا جو سسٹم ہے، اسے پیسے سے 90 فیصد تک خریدا جاسکتا ہے۔ یہ بات بی جے پی والے جلدی سمجھ گئے۔ بی جے پی نے اس پر کام بھی کیا۔ جتنا پیسہ بی جے پی نے پچھلے چار سال میںجمع کیا، اتنا کانگریسیوں نے نہیںکیا۔ آج بی جے پی کے کسی وزیر کی ہمت نہیںہے کہ مودی- شاہ کی نظر کے بغیر کچھ کرسکے۔ ظاہر ہے ، اس پیسے کا استعمال وہ پارٹی کے لیے کریںگے ،نہ کہ ملک کے مفاد میںلگائیںگے۔ میڈیا کو یہ پیسے سے خرید چکے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ پرانا ملک ہے۔ یہاںالگ طریقے سے ابال آجائے گا۔
سرکار نے صنعت کاروں کو ڈرا دیا۔ دیوالیہ قانون لادیا اور اب کمپنیاں نیلام کرا رہی ہے۔ اب سرکار سب کو ڈرا ہی دے گی تو پھر کیا ہوگا؟ اس میںچھوٹے صنعت کار پس رہے ہیں۔ اس سے آپ دوبارہ الیکشن بھلے ہی جیت جائیں لیکن اس سے ملک میںترقی نہیںآئے گی۔ دس سال میںکانگریس کے دور میں جو ترقی ہوئی، وہ دستاویز نکالیے اور آج چار سال میںکیا ہوا ہے، اس کا موازنہ کیجئے۔ جو غلطیاں سرکار آج کر رہی ہے،اگر دوبارہ بی جے پی اقتدار میںآتی ہے تو اسے ہی یہ غلطیاںوراثت میںملیںگی۔ آج کل جو اچھی بات مجھے دکھائی دے رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ریزرو بینک نے کہا ہے کہ این پی اے میںتھوڑی ڈھیل دیں گے۔ سرکار جس راستے پر ہے، اس سے تو لون ڈوب ہی جائے گا۔ اس سے صنعتیںبند ہوں گی اور بے روزگاری بڑھے گی۔ سرکار نے ونود رائے کی صدارت میںایک بینک بورڈ بنایا تھا۔ تین سال میںرائے کچھ نہیںکرسکے۔ سرکار کو بھی یہ احساس ہوا اور اب ان کی مدت کار ختم ہونے کے بعد اس عہدے پر نئی تقرری کردی گئی ہے۔ نئے صدر رائے کے مقابلے میںبہتر ہیں۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ بینکنگ سسٹم کو چھ مہینے میں ٹھیک کرے۔ کمپنیوں کوبند ہونے سے روکے۔ اس ملک کے مسلمان بی جے پی کو خراب لگتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیںکہ یہاںکے مسلمان ہمارے بھائی ہیں۔ ایک ہی خون ہے بلکہ آپ سب لوگ تو کہتے ہیںکہ یہ ہندو سے ہی کنورٹ ہوئے ہیں تو کیا ہوا۔ ایشور کی جگہ اللہ بول رہے ہیں۔ اتنا ہی تو فرق ہے۔ آدمی توو ہی ہے۔ خون تو وہی ہے۔ سرکار ہندو- مسلم فساد نہ کرائے۔ سرکاراسے روک سکتی ہے۔ آر ایس ایس روک سکتی ہے۔ ایک کہاوت ہے کہ دنیا کاسب سے لمبا سفر پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے ۔ سرکار اس سمت میں پہلا قدم تو اٹھائے۔ لیکن اس کی جگہ سرکار اشارہ ہی غلط دے رہی ہے۔
یہ ملک بہت پرانا ہے۔ اس کی اپنی قدریں ہیں۔ وہ قدریں کبھی ختم نہیںہوںگی سرکار اس ملک کی ذہنیت کو سمجھے ۔ یہاں کے لوگ بہت گاڑھی عقل رکھتے ہیں۔ آج مودی جی کو پتہ نہیں ہے کہ بنارس میںآپ کافی کام کرا رہے ہیں لیکن بنارس کے عام لوگ آپ کے فیور میںنہیںہیں۔ آپ وزیر اعظم ہیں، شاید اس لیے جیت جائیںگے لیکن بی جے پی کا کوئی اور ممبر وہاںسے الیکشن لڑا تو نہیںجیت پائے گا۔ کیوں؟ کیونکہ فلائی اوور بنا یا، روڈ بنادیا، اس سے غریبوںکو کیا فائدہ؟ عام آدمی کو سرکار سے کیا چاہیے؟ تعلیم، صحت، روزگار، حفاظت۔ یہ تبھی ہوگا جب معیشت ٹھیک ہو۔ آج ملک میںکیا اقتصادی ماحول ہے؟ اب مودی کے پاس ایک سال ہے۔ میںنہیںکہتا کہ الیکشن کا کیا نتیجہ ہوگا لیکن سرکار کو عوام کے مفاد میں کام کرنے کی کوششیںتو کرنی ہی چاہئیں۔ اگر آپ کوشش بھی نہیںکریںگے تو یہ عوام کے ساتھ ، ملک کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *