طالبان بھی اب روس کے لئے شجر ممنوعہ نہیں رہے

Afghanistan

اگرچہ امریکہ اور روس کے درمیان سر جنگ کا خاتمہ ہوچکا ہے اور اب امریکہ دنیا کا تنہا سپر پاور بنا ہوا ہے مگر روس ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر اپنا دائرہ بڑھاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ایک طرف اس نے بشار الاسد کو بچانے کے لئے کھلے عام ملک شام میں حقوق انسانی کی کھلی خلاف ورزی کررکھی ہے اور امریکہ کی لاکھ کوششوں کے باوجود باغیوں کے بہانے اپوزیشن پر اندھا دھند بمباری کررہا ہے تو دوسری طرف روس پر یہ الزام بھی لگ رہا ہے کہ وہ داعش کا وجود ختم کرنے کے لئے افغانستان میں طالبانیوں کی مدد کررہا ہے۔

 

 

 

افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ نے نے یہ الزام لگایا ہے کہ روس نہ صرف طالبان کی مدد کر رہا ہے بلکہ انھیں اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے۔امریکی سربراہ جنرل جان نکولسن نے اپنے ایک اانٹرویو میں کہا کہ انھوں نے ’روسیوں کی جانب سے غیر مستحکم کرنے والی سرگرمیاں دیکھی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ روسی ہتھیاروں کو تاجکستان کی سرحد سے اسمگل کیا جا رہا ہے تاہم وہ اس کی تعداد نہیں بتا سکتے۔حالانکہ روس ماضی میں اس حوالے سے امریکی الزامات کی ترید کرتا رہا ہے۔روس کا موقف ہے کہ امریکہ کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔روس اور طالبان نے علیحدہ علیحدہ بیانات میں افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ کے اس بیان کو غلط قرار دیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ روس نہ صرف طالبان کی مدد کر رہا ہے بلکہ انھیں اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے۔ تاہم امریکہ کے نئے الزامات اس نازک موقع پر سامنے آئے ہیں جب روس کے نیٹو ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔
واضح رہے کہ برطانیہ نے روس پر سیلیسبری میں سابق روسی انٹلی جینس افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔دوسری جانب امریکی کانگریس انٹیلی جنس کمیٹی نے حالیہ دنوں میں اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ روس نے 2016 میں ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخاب میں مداخلت کی تھی۔

 

 

جنرل نکولسن نے مزید بتایا کہ ’ہم نے افغانستان میں شدت پسند تنظیم کے جنگجوؤں کی موجودگی کو ایک ثبوت کے طور پر دیکھا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس طالبان کی جانب سے لکھی جانے والی ایسی کہانیاں موجود ہیں جو میڈیا میں شائع ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ دشمن نے ان کی مالی مدد کی۔ ہمارے پاس ہتھیار ہیں جو ہمیں افغان رہنماؤں نے دیے ہیں اور یہ ہتھیار روسیوں نے طالبان کو فراہم کیے۔ ہمیں معلوم ہے اس میں روسی ملوث ہیں۔
جنرل جان نکولسن کو یقین ہے کہ روس کا طالبان کے ساتھ براہ راست تعلق ایک نئی چیز ہے۔ انھوں نے کہا کہ روس نے تاجکستان کے ساتھ افغان سرحد پر مشقوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔امریکی جنرل کے بقول ’یہ انسداد دہشت گردی کی مشقیں ہیں لیکن ہم روسی پیٹرن پہلے دیکھ چکے ہیں، وہ بڑے پیمانے پر سازو سامان لے جاتے ہیں اور پھر اس میں سے کچھ سامان پیچھے رہ جاتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہتھیار اور دوسرا سامان سرحد کے ذریعے اسمگل کیا جاتا ہے اور پھر طالبان کو فراہم کیا جاتا ہے۔البتہ امریکی جنرل نے تسلیم کیا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ روس طالبان کو کنتی مدد فراہم کر رہا ہے۔
البتہ جو مدد دی جارہی ہے ۔اس سلسلہ میں سینیئرافغان پولیس اہلکاروں اور فوجیوں نے میڈیا کو بتایا کہ طالبان کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں میں رات کے اندھیرے میں دیکھنے والی عینکیں، میڈیم اور ہیوی مشین گنز کے علاوہ چھوٹے ہتھیار بھی شامل ہیں۔افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار افغان افواج اور نیٹو کے مشیروں کے خلاف استعمال ہونے کا امکان ہے۔جہاں تک روس کی بات ہے تو وہ کچھ متضاد باتیں کرتا ہے۔ ایک طرف وہ کہتا ہے کہ اس نے طالبان کو ہتھیار اور مالی امداد فراہم نہیں کی ہے اور دوسری طرف اس نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ اس نے شدت پسند گروپ کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔

 

 

سوال یہ ہے کہ جب روس طالبان کو دہشت گرد تنظیم تسلیم کرتا ہے تو پھر اس سے مذاکرات کا کی مطلب؟روس کے طالبانیوں کے ساتھ مذاکرات کے ثبوت ضمیر کابلوف کے بیان سے بھی ملتا ہے۔ ضمیر صدر پوتن کے افغانستان میں خصوصی نمائندے ہیں۔انہوں نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کے مفادات ، طالبان کے مفادات سے ملتے ہیں اور وہ طالبان سے معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ دراصل شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی افغانستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں میں موجودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہیں دبانے کے لئے طالبان کا تعاون ضروری ہے تاکہ یہ داعش کا مقابلہ کرسکیں۔دوسری جانب روس کے وزیر دفاع سرگئی شوگو نے بھی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ روس کرغزستان کی افواج کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے تاکہ ہو دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خطرے کا سامنا کر سکیں۔یہ عمل اس لئے بھی ضروری ہے کہ اگرچہ اس وقت داعش کا کوئی مستقل ٹھکانا نہیں ہے مگر خیال کیا جاتا ہے کہ کرغستان میں اس کے بہت سے افراد موجود ہیں۔ کرغستان کے چار سو کے قریب شہری دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں میں شامل ہو کر شام اور عراق میں سرگرم عمل تھے۔ ان میں سے بہت سے واپس آ گئے جو کہ ملک کے لیے کسی وقت بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ان کو دبانے کے لئے ان جیسی تنظیم یعنی طالبان کی مدد لینی ضروری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *