ریاستی پرچم کا ایشو گرم ہوا

state-flag

جب کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدھارمیا نے 8 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ ان کی سرکار نے اپنا قومی پرچم اپنالیا ہے، تب اچانک جموں و کشمیر کے ریاستی پرچم (اسٹیٹ فلیگ) کی بات دھیا ن میں آگئی۔ چونکہ کرناٹک کی ریاستی سرکار کو اسٹیٹ فلیگ اپنانے کا کوئی حق نہیں ہے، اس لیے اس نے حکومت ہند سے اس کی اجازت مانگی۔ سدھا رمیا نے کہا کہ ریاستی سرکار کو اپنے ریاستی پرچم کا اعلان کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس سلسلے میںمرکزی سرکار کو ایک تجویز بھیجی جائے گی۔ ہم مرکز سے درخواست کریں گے کہ وہ اسے منظوری دے اور جلد سے جلد اس کا سرکاری طور پر اعلان کرے۔ ان کے الفاظ جموں و کشمیر اور ہندوستان کی باقی 28 ریاستوںکے بیچ کے فرق پر روشنی ڈالتے ہیں ۔

 

 

 

 

 

جموں و کشمیر کے پرچم کی کہانی

جموں و کشمیر کے لیے ایک الگ پرچم کی کہانی پرانی ہے اور ایک الگ آئین اسے ایک الگ ریفرینس دیتا ہے۔یہ واحد مسلم اکثریت والی ریاست ہے جو اس خود مختاری (حالانکہ یہ خود مختاری کافی کم ہوئی ہے) کا لطف اٹھاتی ہے۔ دیر سے ہی سہی،یہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ہندوستانی قومی پرچم کے متوازی وجود کے باوجود 2015 میںبھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) کے رکن فاروق خان نے اسے جموں و کشمیر ہائی کورٹ میںچیلنج کیا تھا۔ عدالت کچھ وقت کے لیے خاموش رہی۔
خان،ایک ریٹائرڈ پولیس افسر ہیں ، جنھیں بعد میںلکشدیپ کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا۔ مفتی محمد سعید سرکار نے جب ایک سرکولر جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی پرچم کو اس کی آئینی حرمت کے مدنظر احترام ملنا چاہیے۔ اس کے بعد خان نے یہ عرضی دائر کی تھی۔ خان کی عرضی سے قبل ایک شہری، عبدالقیوم خان کے ذریعہ دائر ایک دیگر عرضی میںریاستی پرچم کا احترام کرنے کے لیے عدالت سے ہدایت مانگی گئی تھی۔ یہ نو تشکیل پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی -بی جے پی سرکار کے بیچ پہلا ناراضگی کا واقعہ تھا اور سرکار کی ویب سائٹ سے اس سرکولر کو چپ چاپ ہٹا دیاگیا تھا۔
لیکن یہ عرضیاں اس وقت آئیں جب بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ ایجنڈا آف الائنز کے تحت ہاتھ ملا لیا تھا۔ یہ ایجنڈا کہتا ہے کہ بی جے پی اور پی ڈی پی جموں و کشمیر سے متعلق سبھی موجودہ آئینی پروویژنس خصوصی درجہ سمیت کو آگے بھی جاری رکھیں گی۔ جموں و کشمیر کے قومی پرچم کی بیگ گراؤنڈ لال رنگ کی ہے ، جس میں ایک ہل اور تین دھاریاں ہیں۔ یہ پرچم ریاست کے کشمیر، جموں اور لداخ علاقوںکو ظاہر کرتا ہے۔ اس پرچم کی اپنی تاریخ ہے۔ یہ 1931 کے بعد کی سیاسی تحریک سے گہرائی سے جڑی ہوئی ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اس کی بنیاد 13 جولائی 1931 کو پڑی تھی، جب ڈوگرا سرکار نے سینٹرل جیل سری نگر کے پاس ایک جلوس پر گولی باری کا حکم دیا تھا، جس میں21 شہریوںکی موت واقع ہوئی تھی۔ جب احتجاج ہوا تو کسی نے متوفین میںسے ایک کی خون سے سنی قمیص اٹھا کر ہوا میں لہرا دی۔ بھیڑ کے ذریعہ پہلی بار اسے ہی جموں و کشمیر کے پرچم کے روپ میںپھہرایا گیا تھا۔ 11جولائی 1939 کو یہ جھنڈا جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس، ایک سیاسی پارٹی کے ذریعہ اپنایا گیا جو ڈوگرا حکمرانوںکے خلاف تحریک کی قیادت کر رہی تھی۔پھر 7 جون 1952 کو جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے ذریعہ ایک تجویز پیش کی گئی اور اسے ریاست کا سرکاری طور پرجھنڈا بنا دیا گیا۔ حالانکہ ایسا کہا جاتا ہے کہ اس پرچم کو 1947 سے 1952 تک قومی پرچم مانا گیاتھا۔نیشنل کانفرنس کے پاس اس کے سینئر لیڈر مولانا محمد سعید مسعودی کے ذریعہ لکھا گیا ترانہ بھی تھالیکن اسے ریاست کے ساتھ شامل نہیںکیاگیا۔ اس ترانہ کو 2001 میںگایا گیا تھا، جب عمر عبداللہ کو پارٹی کا صدر بنایا گیا تھا۔

 

 

 

 

 

1952 کا نہرو- عبداللہ سمجھوتہ

چیزیں تب بدلیں جب ہندوستان کے اس دور کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور جموں و کشمیر کے اس وقت کے وزیر اعظم شیخ محمد عبد اللہ نے 1952 میںایک سمجھوتے پر دستخط کیے ، جس کا مقصد مرکز اور ریاست کے اختیارات کی توضیع کرناتھا۔ ترنگا کو قومی پرچم اور جموں و کشمیرکے لیے الگ اسٹیٹ فلیگ پیش کیا گیا تھا۔ سمجھوتہ کے سیکشن 4- میںلکھا گیا ہے کہ مرکزی سرکار نے رضامندی ظاہر کی ہے کہ ہندوستان کے جھنڈے کے ساتھ ہی ریاست کا اپنا جھنڈا ہونا چاہیے لیکن ریاستی سرکار کے ذریعہ یہ قبول کیا گیا کہ ریاستی پرچم ہندوستان کے پرچم کا حریف نہیںہوگا۔یہ بھی کہ ہندوستان کے جھنڈے(ترنگا) کا جموں و کشمیر میںباقی ہندوستان کی طرح درجہ اور مقام ہونا چاہیے لیکن ریاست میںجنگ آزادی سے جڑے تاریخی اسباب سے ریاستی پرچم کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعدجموںو کشمیر اور آئین نے اسے اپنایا۔
یہ معلوم نہیںہے کہ جموںو کشمیرکے جھنڈے کو کس نے ڈیزائن کیا لیکن ایک نام موہن رینا کاآتا ہے۔ وہ آرٹسٹوںکے خاندان سے تھے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ نیشنل کانفرنس کا ہل والا جھنڈا پی این دھر کے ذریعہ ڈیزائن کیا گیا تھا جو پارٹی سے جڑے ہوئے تھے اور ریڈیو کشمیرکے لیے مختصر کہانی لکھتے تھے۔ بعد میںشیخ محمد عبداللہ کے صلاحکار بنے ، جب وہ 1975میں وزیر اعلیٰ کے طور پر واپس اقتدار میںآئے۔
اس کے علاوہ ایک ایسی کہانی بھی ہے جو 1931 میں21 شہریوں کے ہلاکت کے وقت سے جڑی ہے۔ اس کے مطابق جھنڈا اس سیاسی تحریک کی نمائندگی کرتا تھا جو 1947 سے قبل کسانوںکے استحصال کے خلاف چلی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق نیشنل کانفرنس نے 1939 میںاپنا پہلا سالانہ سیشن اننت ناگ میںجی ایم صادق کی صدارت میں منعقد کیا تھا۔ اس میں سنکلپ لیا گیا کہ جموں و کشمیرنیشنل کانفرنس کافیصلہ ہے کہ جموں و کشمیر ریاست کا قومی جھنڈا ہوگا ، جو لال رنگ کا ہوگا اور اس کے سینٹر میںہل ہوگا۔
ماہر سیاست گل وانی کہتے ہیںکہ یہ جھنڈاکہیںباہر سے نہیںتھوپا گیا تھا اور نہ ہی کسی ایلیٹ کلاس نے اسے بنایا تھا بلکہ یہ ایک سیاسی تحریک کی آستھاکی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے حالانکہ نیشنل کانفرنس کا نیا کشمیر (نیو کشمیر) کا ایجنڈا کمیونسٹ آئیڈیالوجی سے متاثر تھا۔
اب تک جموں و کشمیرکا اسٹیٹ فلیگ اپنی جگہ پر بنا ہوا ہے اور اب کرناٹک اس کی مانگ کررہا ہے۔ حالانکہ ریاست کی مکمل انٹیگریشن کی بی جے پی پالیسی کو دھیان میںرکھتے ہوئے ایساہوپاناکرناٹک کے لیے مشکل لگتا ہے۔ جب تک بی جے پی اقتدار میں ہے،ریاستوں کو زیادہ طاقت اور الگ جھنڈے کی مانگ کو مرکز سے حمایت نہیںملنے والی ہے۔ لیکن جموں و کشمیرمیںیہ ایک جذباتی مدعا ہے۔ یہ جذبہ نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی جیسی علاقائی پارٹیوں اور کانگریس جیسی قومی پارٹی کے ذریعہ محفوظ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *