کامنا پرساد کے جشن بہار کی پھر بہار آئی

13 اپریل کو دہلی کے متھرا روڈ پر واقع دہلی پبلک اسکول (ڈی پی ایس) کے وسیع میدان میں جشن بہار ٹرسٹ کی جانب سے ایک عظیم الشان بین الاقوامی مشاعرے کا انعقادکیا گیا، جس میںملک اور بیرون ملک کے مشہور و معروف شعراء کرام نے شرکت فرمائی اور اپنے کلام سے سامعین کا دل جیت لیا۔ جشن بہار کا یہ 20واں مشاعرہ تھا۔گویا جشن بہار کے ادبی سفر کا یہ بیسواں پڑاؤ تھا، دنیا کے کونے کونے میں آباد اردو بستیوں سے چیدہ چیدہ شاعروں اور شاعرات کے گل بوٹے چن چن کر ایک گلدستہ کے طور پر جشن بہار کے خوبصورت اسٹیج پر رکھا گیا۔ مشاعرے کی مسند صدارت سابق چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا ایس وائی قریشی نے سنبھالی جبکہ نظامت کے فرائض مشہور شاعرمنصور عثمانی نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کے طور پر معروف کتھک گرو برجو مہاراج نے شرکت فرمائی۔
اس حسین موقع پر سابق چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا ایس وائی قریشی نے اپنے صدارتی خطبے میںکہا کہ ہندوستان میں 22 سرکاری زبانیں اور 200 ڈیولپڈ زبانیں ہیںلیکن جو لطافت اور شیرینی اردو زبان میں ہے، وہ کسی اور زبان میں نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کے لیے سرفروشی کی تمنا اور انقلاب زندہ باد جیسے نعرے اردو زبان نے ہی عطا کیے لیکن آزادی کے بعد کچھ لوگوں نے اردو کو بیرونی زبان بتاکر اسے مذہب سے جوڑ دیاجبکہ حقیقت یہ ہے او رسب کے سامنے ہے کہ دہلی میں جو سب سے بڑے مشاعرے منعقد کرائے جاتے ہیں، وہ سب غیر مسلم لوگوں کے ذریعے ہی منعقد کرائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر دہلی کا ’شنکر شاد مشاعرہ‘ شنکر لال کے ذریعہ، ’جشن ریختہ کا مشاعرہ‘سنجیو صراف کے ذریعہ اور ’جشن بہار کا مشاعرہ ‘کامنا پرساد کے ذریعہ منعقد کرایا جاتا ہے۔ اب اس کے بعد بھی اگر کوئی یہ کہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے، تو یہ ناانصافی ہوگی۔
اس خوبصورت محفل مشاعرے کی روح رواں کامنا پرساد نے اسٹیج پر موجود شعراء کرام اور سامعین سے مخاطب ہوتے ہوئے جشن بہار کے مشاعرے کو 20 سال میں کامیابی کی بلندیوں پر پہنچانے کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے مشاعرے کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اردو والے جب مل بیٹھیں تو وہ موسم بہار اں ہے اور مشاعرہ جشن بہار اس بہار کا جشن ہے۔ کامنا پرساد نے فر مایا کہ مشاعرہ فروغ اردو کا کامیاب ذریعہ بن گیا ہے۔ مشاعروںکی مخالفت ہماری گنگا جمنی تہذیب کی مخالفت ہے۔ انھوں نے کہا کہ گلوبل دور میںاردو بھی گلوبل ہورہی ہے۔ جولوگ اردو کی شیرینی سے ناواقف تھے، اب وہ بھی اردو کی زلفوںکے اسیر ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جشن بہار کے مشاعرے کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالتے ہوئے جشن بہار کی بانی کامنا پرساد نے بتایا کہ جشن بہار کے آغاز کا مقصد تھا کہ ہم اپنی گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیں۔ خشونت سنگھ نے کہا کہ دبستان دہلی کو ایک پائیدار مشاعرے کی ضرورت ہے اور پھر قرۃ العین حیدر، ایم ایف حسین، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی اور کلدیپ نیرجیسے تناور درختوں کے سائے میں 1999 میںجشن بہار کا بیج بویا گیا۔ آپ سب نے مل کر آبیاری کی اور مشاعرہ جشن بہار ایک سالانہ سلسلہ بن گیا۔ اپنے کلیدی خطبے میں کامنا پرساد نے مختلف حوالوں اور حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اردو ہماری ہمہ جہت تہذیب کی آئینہ دار ہے اور بقول فیض احمد فیض ؔ ؔـؔؔؔؔ ؎
’ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے‘
جشن بہار ٹرسٹ کی روح رواں کامنا پرساد اردو سے بے پناہ محبت کرتی ہیں، اردوسے پیار ان میںکوٹ کوٹ کر بھرا ہے ۔ انھوں نے اس موقع پر اردو کے فروغ میں نئی نسل کو جوڑنے اور اردو میں جدید رجحانات کو منظر عام پر لانے کے لیے جشن بہار ٹرسٹ کی جانب سے اس برس سے ’جشن نو بہار ‘ کے انعقاد کا بھی اعلان کیا۔
مشاعرے کا کارواں آگے بڑھ رہا تھا۔ شعراء حضرات اپنے کلام سے سامعین کے ذوق ادب کو تسکین پہنچا رہے تھے کہ اس دوران دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا بھی مشاعرہ گاہ میںتشریف لائے۔ انھیں اسٹیج پر بلایا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس پرآشوب دور میں کوئی جشن کی بات کرتا ہے، یہ بڑی بات ہے۔انھوں نے کہا کہ مشاعرہ مافی ضمیر کی ادائیگی کا بہترین ذریعہ ہے اور اس کو صرف سالانہ جشن مشاعرہ نہ بناکر اس کے ذریعہ وہ بات کی جائے جو ہمارے دل میں گھٹ رہی ہے۔
جشن بہار کے مشاعروں میں کامنا پرساد دنیا کے کونے کونے میںآباد اردو کی بستیوں سے چن چن کر ایسے نایاب شعراء اور شاعرات لاتی ہیںجو عام مشاعروں میںدکھائی نہیں دیتے۔ اس بار بھی انھوں نے امریکہ، کناڈا، جاپان، سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے شعراء کرام کو بلاکر اس ادبی محفل کو یادگار بنادیا۔
جشن بہار کے بیسویں مشاعرے میں غیر ممالک سے آنے والے شعراء میںواشنگٹن ڈی سی (امریکہ) سے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، نیوجرسی (امریکہ) سے فرحت شہزاد، ٹورنٹو (کناڈا) سے ڈاکٹر تقی عابدی اور اشفاق حسین زیدی، اوساکا (جاپان) سے پروفیسر سویمانے، ڈھاکہ (بنگلہ دیش) سے جلال عظیم آبادی اور جدہ (سعودی عرب) سے عمر سالم العیدروس نے شرکت فرمائی جبکہ ہندوستان سے پروفیسر وسیم بریلوی، منصور عثمانی، لکشمی شنکر باجپئی، پاپولر میرٹھی، شبینہ ادیب، گوہر رضا، دیپتی مشرا، اقبال اشہر، منظر بھوپالی، پروفیسر مینو بخشی،ریحانہ نواب، ڈاکٹر لیاقت جعفری اور حسین حیدری نے سامعین کو اپنے کلام سے محظوظ کیا۔ مشاعرہ گاہ میںسامعین کا ہجوم تھا۔سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، ر سابق اسپیکر میرا کمار،کانگریس لیڈر م۔افضل، ڈاکٹر شکیل احمد ، دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ضمیرالدین شاہ وغیرہ جیسی معزز شخصیات نے جشن بہار کے مشاعرے میں شرکت کی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *