کرناٹک میں لاکھوں مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب

voter-list

جمہوری ملک میں ووٹ کی بڑی طاقت ہوتی ہے۔اس طاقت کے ذریعہ عام شہری کسی بھی سیاسی پارٹی کو مزہ چکھانے کا دم خم رکھتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے ہر شہری کو بار بار توجہ دلائی جاتی ہے کہ وہ ووٹر لسٹ میں اپنا نام ضرور درج کرائیں اور نظر رکھیں کہ ان کا نام اس لسٹ میں موجود ہے یا نہیں۔دراصل سیاسی پارٹیاں اس میں بھی کھیل کرجاتی ہیں اور جس سماج کے بارے میں خدشہ ہو کہ وہ سماج اس کے حق میں ووٹ نہیں کرے گا، اس سماج کے افراد کے نام ووٹر لسٹ سے غائب کرانے کی چال چلنے لگتی ہیں۔ ایسی شکایتیں ملک کی کئی ریاستوں سے ملتی رہی ہیں۔ گجرات اور اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے دوران یہ شکایتیں ملیں کہ مسلم علاقے میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے اور ان کے نام ووٹر لسٹ سے غائب کئے گئے ہیں۔اب یہی صورت حال کرناٹک میں پیدا ہورہی ہے۔ ایک خبر کے مطابق ووٹر لسٹوں کے کھنگالنے کے بعد پتہ چلا ہے کہ تقریباً 18لاکھ مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب ہیں۔

 

 

 

 

کرناٹک میں 12مئی کو اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ایسے میں تمام سیاسی پارٹیاں اپنا میدان تیار کرنے میں مصروف ہیں مگر کسی بھی پارٹی کا دھیان اس اہم ایشو کی طرف نہیں جارہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد کا نام ووٹر لسٹ سے غائب ہوجانے کے پیچھے کی کہانی کیا ہے؟ دراصل یہ کام اتنی چالاکی اور منظم طریقے سے انجام دیا جاتا ہے کہ کانوں کان خبر نہیں ہوتی اوراس سازش کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب ووٹرس الیکشن کے دن اپنا ووٹ ڈالنے بوتھ پر جاتے ہیں۔البتہ کچھ ادارے شہریوں خاص طور پر مسلمانوں کو بیدار کرنے اور ووٹرلسٹ میں نام اندراج کرانے کے لئے خصوصی طور پر بھی مہم چلاتے رہتے ہیں۔
ایسے ہی اداروں میں سینٹر فار ریسرچ اینڈ ڈیبیٹس اِن ڈیولپمنٹ پالیسی (سی آر ڈی ڈی پی ، نئی دہلی)ہے،جس کے ایک ذمہ دار سید خالد کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں شہری کے نام ووٹر لسٹ سے غائب ہیں، ان کے لئے ایک وہائٹ اپیس اور ویب سائٹ ڈیولپ کیا گیا ہے تاکہ جن کے نام ووٹر لسٹ سے غائب ہیں،وہ اپنے نام کا اندراج کراسکیں مگر جب اس کی اطلاع متعلقہ محکمہ کو دی جاتی ہے تو وہاں سے کوئی رد عمل نہیں آتا ہے۔ سید خالد مزید کہتے ہیں کہ ہم نے جب کرناٹک کے تین اسمبلی حلقوں یعنی شیوا جی نگر (بنگلورو) ہبلی ایسٹ اور کولار کے ڈاٹا کا تجزیہ کرنا شروع کیا تو حیرانی ہوئی کہ ہر حلقہ میں بڑی تعداد میں مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب ہیں۔ خالد کا کہنا ہے کہ اندازہ ہے کہ ریاست میں کل 13-18 لاکھ تک مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب ہوں گے ۔

 

 

 

خالد اس تجزیہ کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ سی آر ڈی ڈی پی نے شیوا جی حلقے میں کل 18453 مسلم مالکان مکان کی شناخت کی جن کے پاس شناختی کارڈ موجود ہیں مگر ان میں سے بہتوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہیں ۔ 2011 کی مردم شماری کو بنیاد بنا کر یہ بات کہی گئی کہ حلقہ میں صرف 4.3فیصد ایسے مکانات ہیں جہاں صرف ایک ووٹر ہیں لیکن جب الیکشن کمیشن سے لسٹ نکالی گئی تو پتہ چلا کہ 8795 مالکان کو ہی بطور ووٹر کے رجسٹرڈ کیا گیاہے۔ یعنی کہ مجموعی آبادی میں سے صرف 43 فیصد مسلمانوں کو ہی رجسٹر کیا گیاہے۔ اس کوتاہی کے سامنے آنے کے بعد سی آر ڈی دی پی نے فل ٹائم کام کرنا شروع کیا اور اس میں کچھ رضاکاروں کی مدد بھی لی اور ان تمام گھروں کا تجزیہ کیا جہاں ایک بھی ووٹر ہے اور پھر تفصیلات معلوم کی کہ وہاں کتنے اور ووٹر ہیں جن کے نام لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔ کیونکہ ووٹ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
اس سلسلہ میں لوگوں میں ایک غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے۔ وہ یہ کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب ایک مرتبہ ووٹر لسٹ تیار ہوگئی تو اب اس میں کسی نئے نام کا اندراج نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے بہت سے لوگ جنہیں معلوم ہے کہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہے ،وہ اس کے لئے کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں جبکہ سچائی یہ ہے کہ نامزدگی کے آخری دن تک اندراج کرایا جاسکتا ہے ۔البتہ اس سلسلہ میں سی آر ڈی ڈی پی نے ایک اچھا قدم یہ اٹھایا ہے کہ ایک انڈرائڈ ایپ تیار کیا ہے۔اس ایپ کے ذریعہ کوئی بھی شخص 10-20 گھروں کو اپنے علاقہ میں سرچ کرسکتا ہے اور اس کے بارے میں بتا سکتا ہے۔ اطلاع ملنے پر رضاکار فوراً وہاں جاتے ہیں اور تفصیلات کو درست کردیتے ہیں اور جن کا نام لسٹ میں نہیں ہے ،اس کی تفصیل اس لسٹ میں شامل کردیتے ہیں۔بہر کیف یہ ایک اچھی پہل ہے ۔اب تک 7 ہزار مرتبہ اس پروجیکٹ کے ذریعہ ڈائون لوڈ کیا جاچکا ہے اور اس میں پانچ ہزار لوگ اپنا تعاون دے رہے ہیں۔یہ لوگ ایسے لوگوں کی شناخت کرتے ہیں جن کا نام لسٹ میں نہیں ہے ۔شناخت کرنے کے بعد یہ لوگ انہیں اس لسٹ میں شامل کردیتے ہیں۔

 

 

 

 

کرناٹک کے ضمیراحمد خان جو کہ ایک سماجی کارکن ہیں، نے بتایا کہ مسلمانوں کو سیاسی طو رپر بیدار ہونے کی ضرورت ہے ورنہ کرناٹک کی حالت اترپردیش جیسی ہوجائے گی۔ ووٹنگ لسٹ سے نام غائب ہونے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہر محلہ کے ذمہ داران ذاتی طور پر اس میں دلچسپی لیں اور سب کے لئے ووٹر شناختی کارڈ بنوانے کے لئے اقدامات کریں۔جس کے پاس ووٹر شناختی کارڈ ہے مگر ووٹر لسٹ میں نام نہیں ہے تو وہ فوری طور پر اس جانب توجہ دیں اور فہرست میں اپنا نام درج کروائیں۔
اس وقت مسلمانوں کو لبھانے کی خوب کوششیں ہورہی ہیں مگر ان کے نام غائب ہونے کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا ہے۔مسلم ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہی کمارسوامی اور دیوے گوڈا پروگرام منعقد کرواتے ہیں۔ابھی حال ہی میں جے ڈی ایس (جنتا دل سیکولر )نے ایک منصوبہ مسلمانوں کی بہبود کے لئے شروع کیا ہے ۔اگر واقعی انہیں مسلمانوں سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو انہیں کی ووٹر لسٹ کی طرف مخلصانہ توجہ دینی چاہئے۔ ضمیر احمد کہتے ہیں کہ مسلمانوںکو سب سے پہلے سیاسی طور پر بیدار ہونے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ملک میں اپنی موجودگی کا اندراج کراسکیں اور اپنے حق رائے دہی کو طاقت بناسکیں۔
قابل ذکر ہے کہ پچھلی مرتبہ اسمبلی انتخابات کے موقع پر گجرات میں احمدآباد کے دریا پورعلاقے میں تقریباً تین ہزار مسلم ووٹر کے نام ووٹنگ لسٹ سے غائب کر دیے گئے۔ دریا پور ایم ایل اے غیاث الدین شیخ نے گجرات حکومت کی اس سازش کا پردہ فاش کیا ۔ دریا پور ووٹنگ سینٹر (بوتھ) نمبر 129، 136 اور 166 میں مسلمانوں کے 2760 نام ووٹنگ لسٹ سے غائبتھے۔ اس سلسلہ میں دریا پور کے ایم ایل غیاث الدین شیخ نے چیف الیکشن آفیسر کو خط بھی لکھا۔

 

 

 

اسی طرح یوپی میں حال ہی میں ہوئے بلدیاتی انتخاب میں مسلمانوںکی ایک بڑی تعداد کو ووٹ دینے کے حق سے محروم رکھا گیا۔ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں لکھنو کے مسلم محلوں میں صبح جب ووٹ دینے مرد و خواتین بوتھ پر پہنچے تو انھیں پتہ چلا کہ ان کے ووٹ پڑ چکے ہیں جبکہ پولنگ بوتھ کھلنے کے 10منٹ بعد یہ لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے وہاں پہنچے تھے۔اسی طرح لونی میں جب وارڈ الگ ہوئے یعنی 44وارڈکو55وارڈبنادیاگیاتوبڑی تعداد میں لوگوں کے ووٹ یاتو دوسرے وارڈ میں کردیاگیا یاپھر ووٹر لسٹ میں سے نام غائب کردیا گیا ۔اس میں زیاد ہ تر مسلمان ووٹرو ں کے ساتھ ایسا ہوا۔ظاہر ہے اس سے یہی اندازہ لگتا ہے کہ مسلم حلقوں میں ووٹر لسٹ سے نام غائب کرنے کا سلسلہ کئی ریاستوں میں ہیں اور لازمی طورپر اس کام کو انجام دینے میں سیاسی سرپرستی حاصل رہتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *