نیتی آیوگ کی رینکنگ میں بھی مسلم اضلاع انتہائی پسماندہ

niti-aayog

گزشتہ 28 مارچ کو نیتی آیوگ نے صحت و نیوٹریشن ، تعلیم، زراعت و آبی ذرائع مالیاتی شمولیت و اسکیل ڈیولپمنٹ اور بنیادی انفراسٹرکچر کے پانچ سیکٹروں میں 49انڈیکیٹرس کی بنیاد پر ملک کے 101 اضلاع کی جو رینکنگ کی ہے، وہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس سے مسلم گھنی آبادی والے اضلاع کی ایک بار پھر پسماندگی سامنے آتی ہے۔ چونکانے والی اس فہرست کے مطابق، ہندوستان کے 20 سب سے زیادہ پسماندہ اضلاع میں 11 گھنی مسلم آبادی والے اضلاع شامل ہیں۔ یہ مسلم پسماندہ اضلاع ریاست ہریانہ کے میوات، اتر پردیش کے شراوستی، بہرائچ، سدھارتھ نگراور بلرام پور ، بہار کے ارریہ، کٹیہار اور پورنیہ ، آسام کے درانگ اور گوالپارہ اورجھارکھنڈ کے صاحب گنج ہیں۔

 

 

 

دراصل نیتی آیوگ نے مذکورہ بالا پانچ شعبوںمیںترقی کے لحاظ سے 101 اضلاع کی رینکنگ کی ہے اور 49 انڈیکیٹرس کی بنیاد پر نمبر دیے ہیں۔ اس میں ترقی کی دوڑ میںسب سے پیچھے 20 اضلاع میںمیوات ہے، جسے سب سے کم نمبر 26.02 فیصد ملے ہیں۔ اس کے بعد شراوستی کو 28.13 فیصد، بہرائچ کو 29.01فیصد، سدھارتھ نگر کو 29.26 فیصداور بلرام پور کو 29.41 فیصد اسکور حاصل ہوئے ہیں۔ اسی طرح ارریہ کی 30.16 فیصد، کٹیہار کی 30.76فیصد اور پورنیہ کی 31.81 فیصد اسکورنگ ہے۔ درانگ کی 31.26 فیصد اور گوالپارہ کی 31.88 فیصد اور صاحب گنج کی 30.57 فیصد اسکورنگ بھی اسی زمرے میںدکھائی گئی ہے۔
ان تفصیلات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ میوات ملک کا سب سے زیادہ پسماندہ ضلع ہے۔ وہی میوات جو کہ قومی راجدھانی سے مشکل سے دو گھنٹے کی دوری پر واقع ہے اور ملک کی ملٹی نیشنل کمپنیوں (ایم این سینٹر) کے معروف و ممتاز مراکز میں شامل گڑگاؤں ،جس کا نیا نام گروگرام ہے، سے بالکل سٹا ہوا ہے۔ اس کے باوجود ترقی کے لحاظ سے اس پر ترقی یافتہ اور چمکتے ہوئے گروگرام کا سایہ تک نہیںپڑا ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس کاندھلوی نے ناخواندہ مسلم آبادی میں بیداری خصوصاً دینی بیداری کا بگل بجایا تھا اور انھیںتاریکی سے نکالنے کی زبردست کوشش کی تھی۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ شروع کے دس سب سے زیادہ پسماندہ اضلاع میںیوپی کے چار اضلاع ہیں۔ باقی 6 مسلم اضلاع میںتین بہار، دو آسام اور ایک جھارکھنڈ کے ہیں۔

 

 

 

قابل ذکر ہے کہ تقریباً دس برس قبل کانگریس قیادت والی منموہن سنگھ کی یو پی اے سرکار نے 25 فیصد یا اس سے زیادہ اقلیتی آبادی والے ملک کے 90 اضلاع کی فہرست تیار کی تھی۔ اس وقت ان 90 اضلاع کو بھی معاشرتی، اقتصادی اور بنیادی سہولتوں کی بنیاد پر ملک کی قومی سطح سے کافی نیچے پایا گیا تھا۔ پھر ان کی بدتر حالت میںبہتری لانے کے لیے ان اضلاع میںہر سال کروڑوںروپے مختص کیے گئے تھے۔ جہاںتک نتیجہ کا تعلق ہے، وہ نیتی آیوگ کی اس رینکنگ سے بالکل کھل کر سامنے آتا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ اسکیمیں بنیں اور اس پر عمل ہوا مگر نتیجہ صفر اور پھر ان اضلاع میںپسماندگی اپنی جگہ برقرار۔
نیتی آیوگ کے سی ای او امیتابھ کانت کی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ہندوستان مستقل اونچی شرح پر اس وقت تک ترقی نہیںکرسکتا جب تک کہ ترقی کا فائدہ بنیادی یازمینی سطح تک نیچے نہیںپہنچے۔ آیوگ کا کہنا ہے کہ اس ضمن میںنئے پروگرام بنائے جارہے ہیں، جس کے تحت عوامی تحریک کے ذریعے ان اضلاع میںمرکزی و ریاستی اسکیموں کے مشترک، مرکزی، ریاستی سطح کے ’پربھاری‘ آفیسروں اور ڈسٹرکٹ کلیکٹرز اور اضلاع میںکمپٹیشن کی سرگرمیاں ہوںگی اور پھر ریاستوں کو متحرک کرتے ہوئے پورے پروگرام کا فوکس ہر ضلع کی صلاحیت و قوت پر ہوگا اور فوری بہتری کی تدابیر اختیار کی جائیں گی ۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس برس جنوری میںپی ایم مودی نے ’ٹرانسفارمیشن آف ایسپریشنل ڈسٹرکٹس‘ کا خصوصی پروگرام لانچ کیا ہے، جس کا مقصد ان 101 انتہائی پسماندہ اضلاع کو فوری اور مؤثر طور پر مثبت انداز میںبدل دینا ہے۔

 

 

 

نیتی آیوگ کی نئی رینکنگ نے مسلم پسماندگی کی ایک بار پھر تصدیق کردی ہے۔ یہ تصدیق پہلے بھی بار بار ہوتی رہی ہے۔ پہلے تو نیشنل سیمپل سروے اور پھر گوپال سنگھ ہائی پاور مائنارٹی پینل کی سرکاری و دیگر غیر سرکاری تحقیقاتی رپورٹیں مسلمانوں کی پسماندگی کو بتاتی رہیں اور پھر منموہن سنگھ نے 2004 میں بر سر اقتدار ہونے کے بعد عام روش سے ہٹ کر اقلیتی صورت حال کو جاننے کے بجائے مسلمانوںکی مخصوص صورت حال کو جاننے کے لیے سات رکنی سچر کمیٹی تشکیل دی ، جس نے بہت ہی واضح انداز میںیہ بتایا کہ مسلم کمیونٹی کی مجموعی صورت حال بہت ہی ابتر ہے اور بعض مقامات پر نیو بدھسٹوں سے بھی بدتر ہے۔ دراصل منموہن سنگھ حکومت نے اسی تلخ حقیقت کے پیش نظر 90 اقلیتی آبادی والے اضلاع کا انتخاب کیا تھا اور وہاںترقیاتی اسکیمیںلاگو کی تھیں، جس کا نتیجہ مایوس کن رہا۔ دریں اثناء مشرا کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ حکومت کو سونپی جو کہ اب تک ’چوتھی دنیا‘ کے ہنگامے کے باوجود سرد خانے میںپڑی ہوئی ہے۔

 

 

لہٰذا نریندر مودی حکومت نے جن 101 اضلاع کی نیتی آیوگ کے ذریعے رینکنگ تیار کرائی ہے اور جن میںبدترین پوزیشن کے اضلاع میںگھنی مسلم آبادی والے اضلاع بھی شامل ہیں، کے لیے یہ لازمی محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان اضلاع کی ترقی کے لیے جو پروگرام بنا رہی ہے، اس کی مانیٹرنگ کا پورا نظم ہو۔ ورنہ اسکیمیںبنتی ہیں اور نافذ ہوتی ہیں مگر زمینی سطح پر وہ اثرانداز نہیںہوپاتی ہیں۔
بہرحال 101پسماندہ اضلاع کی رینکنگ ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب موجودہ حکومت اپنے ٹرم کے چار برس پورے کرچکی ہے اور اب محض ایک برس ہی اس کے پاس ہے۔ لہٰذا یہ بڑا سوال ہے کہ یہ اس بچے ہوئے ایک برس میںان پسماندہ اضلاع کو امپاور کرنے کے لیے کتنا کچھ کر پائے گی؟ اور ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ نعرہ میںکتنارنگ بھر پائے گی؟
نیتی آیوگ کا یہ انکشاف گزشتہ کانگریس قیادت والی یو پی اے سرکار کی مسلمانوں کے امپاورمنٹ کی خاطر کی جارہی کوشش میںناکامی کا اعلان بھی ہے۔ مگر اب تو امتحان موجودہ مرکزی حکومت کا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ اس فرنٹ پر کیا رزلٹ دے پاتی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *