انّا کے انشن میں عام لوگوں کی عدم شمولیت کا مطلب؟

Anna-Hazare

انّاہزارے کا رام لیلا میدان میںچل رہا انشن 29 مارچ کوختم ہوگیا۔ انشن کے ختم ہونے کا خیر مقدم ہوناچاہیے، کیونکہ انّا کی عمر 81 سال ہے اور وہ اب لمبا انشن برداشت کرنے کی حالت میںنہیںہیں۔ انّا ملک کے ایسے شخص ہیںجو اکیلے ہیں۔ ان کے جیسی شخصیت دکھائی نہیںدیتی ۔ جتنے بھی ہیں، سب سیاسی ہیں اور لوگوں کی تکلیفوںسے ان کا رشتہ نہیں ہے۔ انّا کم از کم ایسے شخص ہیں جو سرکار سے یا اپوزیشن سے سوال پوچھ سکتے ہیں اور ان کے سوالوں کو ملک کے لوگ سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
مودی جی کے دفتر نے پچھلے چار سال میںانّا جی کے خط کا جواب تو دور،رسید تک نہیںبھیجی۔ انّا لگاتار وزیر اعظم مودی کو جن لوک پال، کسان کے مسائل اور مودی جی کے وعدوں کو لے کر خط لکھتے رہے لیکن وزیر اعظم کے آفس نے ان خطوط کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اب 29 مارچ کو وزیر مملکت برائے زراعت گجیندر شیخاوت اور مہا راشٹر کے وزیر اعلیٰ دیوندر پھڑنویس ،انّا کے پاس آئے ۔ انھوں نے انّا سے انشن توڑنے کی اپیل کی اور انّا نے اس اپیل کو مان لیا۔وزیر مملکت برائے زراعت نے پی ایم او کے وزیر مملکت جتندر سنگھ کا لکھا ہوا ایک جواب پڑھا۔ بدقسمتی کی بات ہے، اگر یہ جواب وزیر اعظم مودی کی طرف سے آیا ہوتا تو زیادہ ا چھا ہوتا۔ شاید وزیر اعظم مودی ،انّا ہزارے کو کوئی بھی مائیلج دینے کے حق میںنہیںہیں۔ اور یہ مودی جی کا مزاج بھی نہیںہے کہ کوئی ان کے سامنے کھڑا ہوکر، آنکھ میںآنکھ ڈال کر بات کرے۔ جو خط وزیر مملکت جتندر سنگھ نے لکھا ہے ، اسے آج سے سال، دو سال، تین سال پہلے بھی انّا کو لکھا جاسکتا تھا۔ یاانّا نے جب انشن کرنے کی بات کی، تب بھی یہ خط لکھا جاسکتا تھا اور یہ انشن کرنے کی ضرورت انّا کو نہیںپڑتی۔ شاید مہاراشٹر کے لیڈروں نے وزیر اعظم آفس کو سمجھایا ہوگا کہ انّا 80 سال سے اوپر کے ہیں، ان کو اگر کچھ ہوگیا تو بھلے ہی ملک میںکوئی فرق نہ پڑے لیکن مہاراشٹر میںاس کا اثر ہوگا اور وزیر اعلیٰ کے اوپر ایک کلنک لگ جائے گا۔ اسی لیے ،وزیر اعظم آفس نے انّا کی باتیںمانیں۔

 

 

 

سرکار کی طرف سے بھیجا گیا خط یہ بتاتا ہے کہ کتنا سطحی جواب ہے، جس میںسرکار کسی چیز کا وعدہ نہیںکررہی ہے اور انّا بھی شاید انشن سے ابھرنے کا کوئی راستہ دیکھ رہے تھے۔ اسی لیے، فوراً انھوںنے اس خط کو منظوری دے دی اور انشن ختم کردیا۔ انّا کے اس انشن کا کسی سیاسی پارٹی نے حمایت تو کی ہی نہیں، پچھلے انشن میںساتھ رہے لوگ بھی اس بار انّا سے دور رہے۔ پچھلی بار جب انّا نے رام لیلا میدان میںانشن کیا تھا تب پورا میدان بھرا ہوا رہتا تھا اور انّا کی آنکھوں کے سامنے ہمیشہ رام لیلا میدان کا وہی منظر سامنے آتا ہے کہ پورا میدان بھرا ہوا ہے اور میںوہاں پر انشن کررہاہوں۔ اس بار عوام بھی نہیں آئے۔ جن کسانوں کے لیے انّا نے انشن کیا تھا، ان کسان تنظیموں کے نمائندے بھی نہیںآئے۔ کل ملا کر لوگ آئے ضرور۔ اب چاہے وہ تعداد ایک ہزار ہو یا دو ہزار ہو یا پانچ ہزار۔ لیکن وہ لوگ انّا کو دیکھنے آئے ، انّا کا ساتھ دینے نہیںآئے۔
انّا کی ایک ذاتی کمزوری ضرور ہے کہ اگر ان کے سامنے بھیڑ نہیںہوتی ہے تو وہ بہت زیادہ جوش میںنہیں آتے۔ ممبئی میںجب انھوں نے انشن کیا تھا تب چونکہ میدان خالی پڑا تھا، اس لیے انّا نے طبیعت خراب ہونے کی بات کہہ کر چوتھے دن ہی انشن ختم کردیا تھا۔ اس بار بھی رام لیلا میدان خالی تھا۔ اس کا انشن ختم ہونے کے فیصلے پر کتنا اثر رہا، میںنہیں جانتا۔ لیکن،انّا یہ انشن نہ کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔ انّا کی مٹھی بند رہتی۔
اس انشن نے ایک بڑے تضاد کو اجاگر کیا۔ دن – رات بیکار کے مدعوں پر بحث کرنے والے میڈیا نے انّا کے اس انشن کو ترجیح نہیںدی۔ ایک خبر کی طرح، تھوڑا کم، تھوڑا زیادہ دکھایا۔ لیکن، جب 2011 میںانّا نے انشن کیا تھا تب ملک کے لوگوں اور میڈیا نے بھی بہت حمایت کی تھی۔ اب،اس بار میڈیا سے حمایت نہ ملنا اور کچھ سماجی تنظیموں، جس میںراشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کا بھی نام آتا ہے ، ان کے ذریعہ انّا کے انشن کی حمایت نہ کرنا، یہ بتاتا ہے کہ انّا کے انشن کی اپنی سماجیات لوگوںکو متوجہ نہیں کرپارہی ہے اور انّا کم لوگوں کی موجودگی میںپُرجوش نہیں ہوتے۔ لوگوں اور میڈیا کی حمایت نہ ملنا، یہ بتا رہا ہے کہ اگر زندگی سے جڑے ہوئے سوالوںکے اوپر کچھ کرنا ہوتو آپ کو لوگوںکا ساتھ نہیںملے گا۔ انّا کے انشن میں لوگوں کے شامل نہ ہونے سے یہ سب سے افسوسناک پیغام نکلا ہے۔ سیاسی پارٹیاں کبھی بھی انّا کو پسند نہیںکرتی تھیں۔ شرد یادو نے تو پارلیمنٹ میں بحث کے دوران بھی 2011 میںانّا پر حملہ بولا تھا۔ تب انّا کا ساتھ کون دیتا؟ انّا کا ساتھ دلت دیتے، آدیواسی دیتے، پسماندہ دیتے، ملک کے لوگ دیتے۔ لیکن انّا کا ساتھ نہ دینا یا بھیڑ نہ اکٹھی ہونا، اس کا مطلب یہ نہیںماننا چاہیے کہ لوگ جن لوک پال کی حمایت نہیںکرتے یا وہ کسانوںکو ان کی پیداوار کا ڈیڑھ گنا قیمت دینے کی حمایت نہیںکرتے۔ لوگ چاہتے ہیں لیکن ،ان لوگوںکا اعتماد اب دھرنا، تحریکوں اور احتجاجوں سے شاید اٹھ رہا ہے۔ کیونکہ عوام نے پچھلے کچھ سالوںمیںاتنے لوگوںکو یہ سب کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے کہ شاید اب اس کا ساتھ دینے کی خواہش عوام کی نہیںہوتی۔ ان کے دل میںیہ احساس موجود ہے کہ ان کے سوالوںکو لے کر لوگ انھیںشامل تو کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر اس کا نتیجہ پوری طرح نہیںآتا ہے تو اس کے بعد وہ لوگ عوام کے بیچ میںنہیںجاتے ہیں۔

 

 

 

اپنے بیچ میںلیڈروںکا نہ آنا،لیڈروںکے تئیں عوام کا عدم اعتماد ظاہر کرتا ہے۔ میںیہ نہیںمانتا کہ انّا کے تئیں عوام کا بھروسہ نہیںہے۔ کیونکہ اس تیاری کے لیے انّا ملک میںگھوم رہے تھے تو ملک بھر میںانّا کی بڑی بڑی میٹنگیںہوئیں۔چاہے وہ کرناٹک میںہوئی ہو یا مغربی اترپردیش میںہوئی ہو یا مدھیہ پردیش میںہوئی ہو یا کہیںاور ہوئی ہو۔ لوگوںکے پاس دہلی آنے کا وسیلہ نہیں ہے۔ اس لیے ،اچھا ہوتا کہ انّا آندولن کا کوئی ایسا طریقہ نکال لیتے، جس سے لوگ اپنے اپنے علاقوں میںہی آندولن کرلیتے لیکن ایسا نہیںہوا۔
انّا کے اس انشن کے افسوسناک خاتمے نے جہاںایک طرف لوگوںکے ہلتے اعتماد کو ظاہر کیا ہے،وہیں دوسری طرف خود امت شاہ کرناٹک میں اتنے زیادہ تناؤ میںہیںکہ ان کے منہ سے کچھ سے کچھ نکل رہا ہے۔ اپنی پہلی میٹنگ میںانھو ں نے یدورپا کو کرناٹک کا سب سے بدعنوان شخص ہونے کا اعلان کردیا۔ وہ کہنا چاہتے تھے کہ وزیر اعلیٰ سب سے بدعنوان ہیں لیکن کہہ دیا یدورپا جی کو۔ ان کی دوسری جن سبھا میں مودی جی کو سب سے بدعنوان اور بے ایمان ثابت کردیا۔ میںکنّڑ نہیںجانتا۔ ان ہی کے ایک رکن پارلیمنٹ امت شاہ کی تقریر کا ترجمہ کر رہے تھے او رامت شاہ کی تقریر کا ترجمہ کرتے کرتے انھوں نے مودی جی کے بارے میںایسا بول دیا۔ یہ بتاتا ہے کہ امت شاہ بہت زیادہ تناؤ میںہیں۔ایک قومی پارٹی کے صدر کو اتنے تناؤ میںنہیںہونا چاہیے۔
الیکشن میںہارجیت ہوتی رہتی ہے۔ لیکن الیکشن میں ہر حالت میںجیتنا ہے، اگریہ عہد کرلیا ہے تو پھر اس میںسام -دام- دنڈ-بھید ،سب استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ جمہوریت میںسام -دام- دنڈ-بھید،سب استعمال ہونے لگے تو پھر جمہوریت نہیں بچتی۔ اس کی جگہ بھیڑ تنتر اور جھوٹ تنتر بچتا ہے۔ اس لیے امت شاہ کا جیسا تناؤ بھرا چہرہ سامنے آتا ہے، وہ تھوڑ اڈراتا ہے۔ امت شاہ نے وزیر اعظم مودی کا بہت ساتھ دیا ہے او ربھارتیہ جنتا پارٹی میںبہت کام بھی کیا ہے لیکن اتنا تناؤ اچھا نہیں ہے۔ تناؤ میںسیاست کرناہمیشہ نقصاندہ رہا ہے۔ کرناٹک کا الیکشن ملک کے لوگوں کے لیے ویسا ہی پیغام لے کر آنے والا ہے، جیسا پیغا م انّا ہزارے کے انشن کو ملک کے لوگوں نے دیا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *