جح کمیٹی کاخاتون خادمہ حجاج کافیصلہ،عملی دشواریوں سے نمٹناہوگا

khadimah

ہر سال حاجیوں کی خدمت کے لئے ملک سے بڑی تعداد میں خدام کو بھیجا جاتا ہے ۔حالانکہ ان خدام کے بارے میں بارہا یہ شکایتیں ملتی رہی ہیں کہ یہ سعودی عرب جاکر حاجیوں کی خدمت کرنے کے بجائے طواف و نفل پر زیادہ دھیان دیتے ہیں۔نیز یہ وہاں کے راستے اور زبان سے ناواقف ہوتے ہیں ۔لہٰذا ان سے ویسی مدد نہیں مل پاتی جیسی ملنی چاہئے۔ غا لباً ان شکایتوںکا اثر ہے کہ اس مرتبہ حج کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ خادم کے طور پر وہی لوگ فارم بھرنے کے اہل ہوں گے جو عربی زبان سے واقف ہیں لیکن اس شرط نے ایک نئی مشکل کھڑی کردی ہے۔

 

 

 

 

اہم سوال

دراصل پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ خواتین بغیر محرم کے سفر حج پر جائیں گی۔اقلیتی امور کی وزارت نے جو نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا، اس کے مطابق45 برس یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کو 4 کے گروپ میں بغیر مرد سرپرست کے حج پر جانے کی اجازت ہوگی۔ظاہر سی بات ہے کہ ان کی دیکھ بھال اور خدمت کے لئے خاتون خادمہ حجاج کو ہی مقرر کیا جاسکتا ہے ۔ اسی لئے حج کمیٹی آف انڈیا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان خاتون گروپوں کے لئے خاتون خادمہ ہی جائیں گی۔اب دشواری یہ ہے کہ خادمہ کے طورپر کمیٹی کو ایسی خواتین کو تلاش کرنا ہوگا جو سرکاری ملازمت میں ہوں اور شرط کے مطابق عربی زبان سے واقف ہوں۔ان دونوں شرطوں کے ساتھ خادمہ کی تلاش کرنا یقینا مشکل ترین کام ہوگا۔ اگر اہل خاتون نہیں مل سکیں تو کمیٹی اس کوٹے کو کیسے پورا کرے گی؟
نیز حج کمیٹی کے سامنے ایک اور بھی دشواری ہے جسے حل کرنا ضروری ہے۔ دشواری یہ ہے کہ خاتون خادمہ کا کوٹہ ہر ریاست سے صرف دو فیصد رکھا گیا ہے۔یعنی جتنے مرد خدام جائیں گے، ان میں دو فیصد خواتین ہوںگی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلہ کرتے وقت حج کمیٹی نے چھوٹی ریاستوں کا قطعاً خیال نہیں رکھا ہے۔کیونکہ مذکورہ فیصد کی وجہ سے کسی بھی چھوٹی ریاست سے خاتون کی نمائندگی مشکل ہوجائے گی۔مثال کے طور پر قومی خطہ راجدھانی دہلی کو لے لیجئے۔ یہاں دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی سے 10 خادم الحجاج جاتے ہیں۔ ان میں دو فیصد اگر خاتون خادمۃ الحجاج کے لئے منتخب ہونی ہیں تو دس میں سے دو فیصد کا اوسط 0.2 ہوتاہے۔ تب اس صورت حال سے کیسے نپٹا جائے گا ،یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے۔

 

 

 

البتہ اس کو حل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ جس ریاست سے خواتین کا گروپ جائے گا ، چھوٹی ریاستوں کا کوٹہ اس ریاست کو منتقل کردیا جائے۔کیونکہ فی الوقت ملک کی تمام ریاستوں سے خواتین کا گروپ نہیں جارہا ہے ،اس لئے اس میں کوئی دشواری نہیں ہوگی ۔لیکن اس کے لئے تمام ریاستوں کے حج چیئر مین سے بات کرنی ہوگی۔حالانکہ حج کمیٹی آف انڈیا کو اس پر پہلے ہی غور کرلینا چاہئے، پھر اعلان کرنا چاہئیتاکہ عین موقع پر خادمہ کی تلاش مشکل نہ ہوجائے۔
اگر حج کمیٹی اس مسئلے کا حل نکال لیتی ہے تو اس بار سرکاری خاتون ملازم بھی سعودی عرب میں عازمین کی خدمات کرتی ہوئی نظر آئیںگی ۔15 فیصد خام الحجاج ریاست حج کمیٹیوں اور ریاستی وقف بورڈ سے منتخب کئے جائیں گے۔ ریاستی حج کمیٹیاں آن لائن عمل کے تحت ہر200 عازمین حج کے لئے ایک خادم الحجاج کا انتخاب کرتی ہیں جبکہ حتمی فیصلہ حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ لیا جاتا ہے۔ اس زمرے میں درخواست دینے والے سرکاری ملازم کے لئے یکم جولائی 2018 تک عمر کی حد 25-58 مقرر کی گئی ہے۔ ہر ایک صوبہ کی خادم الحجاج ٹیم پر ایک نگران آفیسر مقرر ہوتا ہے جو ان کو عازمین کی خدمات کے تعلق سے ہدایت اور نگرانی رکھتا ہے ۔

 

اس عمل کے تحت ریاستی حج کمیٹیوں اور ریاستی وقف بورڈووں کے لئے15 فیصد سیٹیں ریزرو کردی گئی ہیں۔ سرکار کے تحت چلنے والے ادارے اور اردو اکادمی جیسے دیگر ادارے میں کام کرنے والے ملازمین بھی درخواست دے سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایسے ادارے جو فیلڈ میں خدمات انجام دیتے ہیں جیسے پولیس، ہوم گارڈ ، فوریسٹ اور سول ڈیفنس وغیرہ سرکاری محکموں کے ملازمین کو موقع ملے گا۔ خادم الحجاج کے لئے اردو،ہندی ،انگلش اور اپنی علاقائی مادری زبان جاننے کے ساتھ عربی لازم کی گئی ہے۔
ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش سے عازمین کی تعداد کے اعتبار سے 146 خدام کو بھیجا جانا چاہئے۔مگر ریاستی سرکاروں کی چیقلش کی وجہ یہ عدد کبھی بھی اپنے مقررہ حد تک نہیں پہنچ سکا۔ بلکہ اکھلیش حکومت میں تو خدام کو بھیجنا ہی بند کردیا گیا۔ دراصل اکھلیش سرکار میں وزیر رہے اعظم خان نے ایک نیا شوشہ چھوڑا تھا اور محض مدرسوں کے ٹیچروں کو مفت میں حج کرانے کے چکر میں انہو ں نے سرکاری ملازمین کے علاوہ پرائیویٹ طور پر بھی لوگوں کو خادم الحجاج کے طور پر بھیجنا چاہا۔لیکن اس میں قانونی پینچ پھنس گیااور خادم الحجاج جا ہی نہیں سکے۔اعظم خان کی ضد کی وجہ سے چار سال تک اترپردیش سے کوئی خادم الحجا ج نہیں جا سکے تھے جس کی وجہ سے حج کیلئے گئے لوگوں کو سعودی عرب میں خاصی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔جب ہر سال شکایتیں آنے لگیں تو حج کمیٹی آف انڈیا نے2015میں خود ہی خادم الحجاج منتخب کرنا شروع کر دیا۔

 

 

 

جب اترپردیش میں یوگی کی سرکار بنی تو حج 2017 میںسرکارکے وزیروں نے میڈیا کے ذریعہ پہلے اس بات کی خوب تشہیر کی کہ سماج وادی پارٹی کی سرکار میں خادم الحجاج نہیں بھیجے گئے تھے ،یو گی سرکار نے بھیجنے کااعلان کیا ہے۔ 2017 کی حج کانفرنس میں ’’چوتھی دنیا ‘‘ کے نمائندہ نے یوگی حکومت میں اکلوتے وزیر محسن رضا سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا آپ خدام کو بھیجیں گے اور جو رکاوٹیں پیش آئی ہیں،انہیں دور کریں گے تو انہوں نے کہا تھا کہ اب اس راہ میں کوئی بھی رکاوٹ حائل نہیں ہونے دی جائے گی۔لیکن جب بھیجنے کی باری آئی تو یو پی سرکار نے اپنے حصے کی رقم دینے سے انکار کردیاجس کی وجہ سے خادم الحجاج کی تعدادآدھی رہ گئی ۔ ہوا یہ تھا کہ اترپردیش میں عازمین حج کی خدمت کیلئے 146 خدمت گاروں کو چنا گیا تھا۔اس کیلئے آدھی رقم مرکزی سرکا ر کو اور آدھی ریاستی سرکار کو دینی تھی۔مرکزی سرکار نے سینٹرل حج کمیٹی آف انڈیا کو73خادم الحجاج کو بھیجنے کیلئے ایک کروڑ 75 لاکھ روپئے کی رقم جاری کردی تھی۔اب باقی 73 خادم الحجاج کیلئے ایک کروڑ 75لاکھ روپئے کی رقم جاری کرنی تھی لیکن یوگی سرکار نے یہ رقم جاری کرنے سے انکار کردیا۔یوگی سرکار کے ذریعہ رقم جاری نہ کرنے کی وجہ سے اترپردیش سے محض 73 ہی خادم الحجاج جاسکے۔اب دیکھنا ہے کہ امسال اترپردیش سرکار کتنے خادموں کو اپنے یہاں سے بھیجتی ہے۔
بہر کیف حج کمیٹی آف انڈیا کا خادمہ حجاج کے تعلق سے فیصلہ قابل ستائش ہے اور خواتین گروپ کے لئے باعث مسرت بھی۔بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ٹھوس اور مثبت اقدام کئے جائیں اور تقرری میں اہلیت کا پورا خیال رکھا جائے۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *