’دیش پریم‘ کے نام پر ’دیش دروہ‘ کا ہورہا کھیل

ہمارے ملک میںعام آدمی کا احساس شاید مرگیا ہے۔خاص طور سے تب،جب عام آدمی مذہب کے دائرے میںاپنے کو دیکھنے لگتا ہے۔ بچیوں کے ساتھ زنا بالجبر، وہ بھی چھ سال یا آٹھ سال کی بچیوں کے ساتھ، حساس نوجوانوں کے ذریعہ کیا جائے، یہ کبھی تصور سے باہر تھا۔ شاذو نادر ہی ایسے واقعات ہوتے تھے۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں میں اس طرح کے واقعات کا سیلاب آگیا ہے۔ شاید خاندان میں ختم ہوتی حساسیت، اس کی ایک اہم وجہ مانی جاسکتی ہے۔ خاندان کے لوگ روزی روٹی کمانے کے چکر میںمصروف ہوگئے ہیں۔ جو وقت بچتا ہے،اسے فیس بک میںاور ٹیلی ویژن میںلگاتے ہیں۔ خاندان کے لوگوں کے پاس یہ جاننے کا وقت ہی نہیں ہے کہ خاندان کے باقی لوگ کیا سوچ رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ نہ ہی خاندان کے مکھیا میں جوان ہوتے بچوںکے جذبات کو سمجھنے کی کوئی خواہش بچی ہے۔ جب کوئی واقعہ ہوجاتا ہے تو کچھ گھنٹوں کے لیے یا کچھ دنوں کے لیے دل کانپتا ہوگا لیکن بعد میںپھر سبھی معمول کے مطابق ہوجاتے ہیں۔
حالیہ دو واقعات نے زیادہ تر لوگوں کو بے چین کردیاہے، کئی کو نہیںبھی کیا۔ کٹھوعہ کے واقعہ میں 8سال کی بچی کا قتل ہوا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کہتی ہے کہ قتل سے پہلے اس کی کئی دنوںتک عصمت دری ہوئی اور جب پولیس نے عصمت دری کرنے والے کچھ بڑی عمر والے اور کچھ نوجوانوں کو پکڑا تو ایک غصہ پھیل گیا۔ انھوں نے سچ مچ عصمت دری کی یا نہیںکی، اس کا فیصلہ تو عدالت میں ہونا تھا لیکن اس سے پہلے ہی مذہب کی بنیاد پر کافی لوگ اکٹھے ہوکر عصمت دری کرنے والوں کی حمایت میں نعرے لگاتے ہوئے جلوس نکالنے لگے۔جلوس اس بات کے لیے نہیں تھا کہ جنھیںپکڑاگیا،انھیں غلط پکڑا گیا۔ جلوس اس بات کے لیے تھا کہ عصمت دری کے الزام میںجو لوگ پکڑے گئے، وہ ایک خاص مذہب کے لوگ تھے اور اسی مذہب کے جے کارے لگاتے ہوئے قومی پرچم ہاتھ میں لیے ہوئے جلوس نکلا۔ وہ جلوس ان پڑھ لوگوں کا جلوس نہیںتھا۔ وہ جلوس پڑھے لکھے مہذب سماج کو چلانے کا دعویٰ کرنے والے لوگوں کا تھا۔ اگر ایسا اس لیے ہوتا کہ ان لوگوںکو بغیر جانچ کے، غلط طریقے سے پکڑا گیا ہے، تب بھی یہ معافی کے قابل ہوتا۔ لیکن یہ ریلی ایک خاص مذہب کے لوگوں کے ذریعہ عصمت دری کو جائز ٹھہرانے کے لیے نکالی گئی۔ شاید اب بہت سارے لوگ اس مہذب سماج کا حصہ ماننے میں شرم محسوس کریںگے، جس مہذب سماج کے لوگوںنے وہ ریلی نکالی۔ جموںو کشمیر سرکار کے دو وزیروںنے اس جلوس کی قیادت کی اور جب ان سے ان کی پارٹی نے استعفیٰ لے لیا تو وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے لوگوں کو اکسا رہے ہیں کہ وہ دوسرے مذہب کے لوگوںکے ساتھ عصمت دری یا ایسے ہی واقعات کریں ۔
جس سماج کی لڑکی کی عصمت دری ہوئی ، وہ چرواہا سماج کی لڑکی تھی۔ ہمارے یہ عظیم مذہبی علمبردار پاکستانی سرگرمیوں کا سامنا نہیںکرتے بلکہ عصمت دری کے پیچھے پاکستانی ہیں،اس کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیںکہ جس سماج کے خلاف انھوںنے عصمت دری جیسے سنگین جرم کو جائزٹھہرانے کا کام کیا ہے، یہ وہی سماج ہے جو حکومت ہند کی خفیہ ایجنسیوںکو ضروری اطلاعیں مہیا کراتاہے۔ کارگل میں دراندازوں کے چھپ کر بیٹھے ہونے کی اطلاع بھی اسی سماج کے لوگوں نے ہندوستانی فوج کو دی تھی۔ ہم ’دیش پریم‘ کے نام پر اتنے زیادہ اندھے ہوجاتے ہیں کہ ہم سب سے پہلا کام ’دیش دروہ‘ کا کرتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اسی طرح کا واقعہ اناؤ کا ہے۔ اناؤ میں بھی عصمت دری ہوئی یا نہیں، اغوا ہوا یا نہیں ہوا، اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ اس میںکوئی دو رائے نہیں دفعہ 156(3)کا استعمال بہت سارے لوگ اپنی دشمنی نکالنے کے لیے کرتے ہیں۔ بہت سارے سفید پوش گینگسٹر اس کا استعمال بڑے پیسے والوں سے ناجائز وصولی کے لیے یا بلیک میلنگ کے لیے کرتے ہیں۔ اس دفعہ کا استعمال مجسٹریٹ کی عدالت میںجاکر پولیس کو ایف آئی آر لکھنے کا حکم دلوانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ جب ایک بار ایف آئی آر درج کرانے کا حکم مل جاتا ہے تو پھر عدالتی عمل کا ایک چکر شروع ہو جاتا ہے۔ جو لوگ پیسے دے دیتے ہیں، وہ عدالت کے جھنجھٹ سے چھوٹ جاتے ہیں اور کچھ لوگ ہمت کے ساتھ عدالت کا سامنا کرتے ہیں۔ اناؤ جیسے واقعے میںسب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پولیس نے اس کی جانچ کیوں نہیںکی؟ مہینوں گزرگئے۔ شکایت پر شکایت ہوتی رہی۔ پولیس نے جانچ نہیںکی ۔ نتیجتاً جب متاثرہ لڑکی کے والد کی موت واقع ہوگئی تب شور مچا۔ یہ واقعہ ہوا ہی نہیں، اسے ثابت کرنے کی کوششیںہونے لگیں۔ سوال وہیںکا وہیں ہے کہ سسٹم ، جس میںپہلے مرحلے پر پولیس آتی ہے، اس نے جانچ کیوںنہیں کی؟ یہ ہوسکتا ہے کہ جانچ غیر جانبدارانہ طور پر نہ ہوتی لیکن جانچ شروع تو ہوتی۔ 156(3) کے شکار چھوٹے لوگ زیادہ ہوتے ہیں۔ اناؤ کے واقعے کے بعد سے ہمارے پاس تقریباً ہر ضلع سے جانکاریاں آنے لگیں کہ ہر ضلع میں ایک ایسا مرکز ہے، جس میںایک یا دو وکیل شامل ہوتے ہیں۔ عدالت کا کوئی معزز منصف مجسٹریٹ شامل ہوتا ہے۔ متعلقہ تھانے کے پولیس والے شامل ہوتے ہیں۔ کم سے کم اتر پردیش کی تو یہی کہانی ہے۔ پولیس والے صحیح جانچ وقت پر شروع کردیں، جانچ رپورٹ دے دیں پھر اس کا فیصلہ عدالت میں کیسے ہوسکتا ہے، یہ دیکھنے کی بات ہے۔ لیکن چونکہ سسٹم کام نہیںکرتا، سسٹم سے لوگوں کو انصاف نہیںملتا۔اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ ہم سب بے حس ہوگئے ہیں اور ایسی مثال پیش کر رہے ہیں جو مہذب سماج کی تاریخ میں پہلے نہیں ملتی تھی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کتنے سادھو سنت فقیر، ملا، مولوی، پنڈت، مذہبی رہنما ہیں، جو سماج کا ضمیر بیدار کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔ اس کی جگہ ان کی طرف سے مذہبی تعصب پھیلانے اور مذہبی جرم کے لیے آمادہ کرنے والا سُر سننے کو ملتا ہے۔ شاید یہی آج کے دور کی حقیقت ہے، جسے ہم قبول نہیںکر پارہے ہیں۔ لیکن دل یہ ماننے کو تیار نہیںہوتا کہ سماج میںبرا رجحان یا ادھرمی لوگ زیادہ ہیں، صحیح لوگ کم ہیں۔
ان سارے سوالوں پر سرکار صرف ایک کام کرسکتی ہے کہ وہ اپنے سسٹم کو چست درست کرے۔ پولیس کی روح کو جگائے۔ لیکن جرم پر لگام تو سماج ہی لگا سکتا ہے۔ جب سے سماج نے ایسے مجرموں کو الیکشن میں جتانے اور عزت دینے کا کام کیا ہے، تب سے ایسے مجرموں کی تعداد خوفناک روپ سے بڑھی ہے۔ اس لیے سوچنا سماج کے لوگوں کو ہوگا کہ جرم مذہبی دائرے میںنہیںآتا۔ انسانیت کے تئیںہونے والا جرم نہ کسی مذہب کے تحفظ میں ہونا چاہیے اور نہ ہی کسی سرکاری تحفظ میں ہونا چاہیے۔
سوال یہ ہے کہ اس سب کا حل کیا ہے؟ بہت دھیان سے جواب تلاش کریں تو صرف اور صرف ایک جواب ملے گا کہ ہم سب جو تھوڑی سی بھی اپنی سماج کے تئیں ذمہ داری سمجھتے ہیں یا جمہوریت کو ملک میںبنائے رکھنا چاہتے ہیں تو الیکشن میںذمہ داری کے ساتھ اپنا فرض نبھانا چاہیے۔ بغیر کسی لالچ میںآئے،چاہے پیسے کا لالچ ہو، مذہب کا لالچ ہو، ذات کا لالچ ہو، ملک اور سماج کے لیے صحیح شخص کا ساتھ دیں۔ خاندان میںبات چیت بڑھانا چاہیے اور خاندان میں ان سوالوں پر بات چیت کرنی چاہیے جو سوال ملک کے لیے ،سماج کے لیے، انسانیت کے لیے خطرناک ہیں۔ ذہنیت کی سطح بڑھانے کا کام اگر نہیںشروع کیا گیا تو صحیح اور غلط کا فرق اسی طرح دھندلا ہوتا جائے گا۔ اس سماجی خرابی ، ذہنی خرافات کا جواب آپس کی بات چیت اور ڈائیلاگ سے ہی دیا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا نہیںہوتا ہے تو ہمیںمان لینا چاہیے کہ ہم انسانیت سے دور حیوانیت کی طرف جارہے ہیں۔ پھر اس میںنہ کوئی پارٹی محفوظ ہے، نہ کوئی مذہب محفوظ ہے اور نہ ہی کوئی خاندان محفوظ ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *