امام کعبہ کی شاہی حکومت پر تنقید کیا رنگ لائے گی؟

مکہ ہائی کورٹ کے فاضل جج رہے امام کعبہ شیخ سعود الشریم کے خلاف پچھلے کئی سالوں سے آل سعود محاذ آرا ہے۔ان کے خلاف کوئی بھی موقع گنوایا نہیں جارہا ہے۔پہلے ان سے جج کا عہدہ لیا گیا اور اب ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کردیا گیاہے۔یہ سب اس لئے ہورہا ہے کہ وہ حکومت کی غلط پالیسیوں پرتنقید کرنے سے نہیں چکتے ہیں۔ جب سے محمد بن سلمان نے جدیدیت کے نام پر ملک میں مغربیت کو فروغ دینا شروع کیا ہے تو انہوں نے ان پر تنقید شروع کردی ہے۔ویسے شیخ شریم کے علاوہ حکومت کے عتاب کا شکار دیگر مشہور علماء میں عوض القرنی،محمد العریفی،سلمان العودہ وغیرہ بھی شامل ہیں۔
ابھی حالیہ دنوں سعودی عرب کی شاہی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے پر امام کعبہ شیخ سعد الشریم کا ٹویٹر اکائونٹ بند کردیا گیا ہے۔ شیخ سعد الشریم نے مملکت کے چند سیاسی اور سماجی مسائل پر حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غیر اسلامی قرار دیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ان دنوں مملکت میں سنیما ہال ،ساحل سمندر پر ریزارٹ ،میراتھن دوڑ اور دیگر متعدد متنازع اقدامات کو جدیدیت کے نام پر متعارف کرارہے ہیں۔ان کے ان اقدامات کی شیخ شریم نے کھل کر مخالفت کی جس کے پاداش میں ماضی میں جو کچھ ہوا ،وہ تو ہوا ہی، اب حکومت نے ان کے ٹویٹر کو بند کردیا ہے۔ خیال رہے کہ شیخ سعد الشریم اپنے جرات مندانہ موقف کے لئے مملکت اور باہر بھی مشہور ہیں اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔
اب ہم ا س جانب آتے ہیں کہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب میں کون سے بدلائو جنم لے رہے ہیں۔ حقیقت میں ان واقعا ت کا آغاز اس وقت ہوا جب سعودی عرب کواپریل 2015 میںیمن میں فوجی مداخلت کرنا پڑی جس کیلئے اس نے پاکستا ن سے بھی مدد کا تقاضا کیا تھا مگر پاکستان کی طرف سے معذرت کر لی گئی۔ تقریباً دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود یمن میں کوئی قابل بیان کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے، بلکہ یہ غریب ملک بہت زیادہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان جلد ازجلد سعودی عرب کے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں جبکہ ان مسائل سے جڑی پیچیدگیوں کا انہیں ادراک نہیں ہے اور یہ بات بعد میں پیش آمدہ واقعات سے عیاں ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکہ کا صدر بننے کے بعد نائب ولی عہد کے حوصلے اوربلند ہوگئے ۔ اس کی وجہ ان کی ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ دوستی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

’گارجین ‘اخبار کو ایک طویل انٹرویو میں محمد بن سلمان نے کہا کہ ’’میں سعودی عرب کو واپس اس معتدل اسلام کی طرف لے جائوں گا جو ہماری وراثت اور روایت ہے۔ ہماری مشکلات کا آغاز اس وقت ہوا جب انقلاب ایران کے بعد کئی اسلامی ممالک کے لوگوں نے اسی طرز کی تبدیلی کی خواہش شروع کردی جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔ ہمارے رہنمائوں کو یہ سمجھ ہی نہیں تھی کہ اس مشکل سے کیسے نمٹا جائے۔ اس وقت ہماری آبادی کا 70 فیصد حصہ 30 سال یا اس سے کم عمر لوگوں پر مشتمل ۔ ہم اپنی زندگی کے مزید 30 سال دہشت گردی سے لڑنے میں ضائع نہیں کریں گے ۔ ہم آج اور فوری طور پر اس انتہا پسندی کو مکمل طور پر کچل کر رکھ دیں گے۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سعودی عرب جن چیلنجز سے نبرد آزما ہے، اس میں شاہی خاندان کی بڑھتی ہوئی تعداد، ان کے اخراجات تیل کی آمدنی میں مسلسل کمی، تعلیم یافتہ بیروزگاروں کی تعداد میں اضافہ اور سرکاری شعبے میں روزگار کے محدود مواقع شامل ہیں۔ ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے پرانے نظام میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں جو ایک جانب شاہی خاندان کی تعداد اور ان کو ملنے والے وظیفوں میں خاطر خواہ کمی کرکے اور دوسری جانب معیشت کا محور تیل سے بدل کر انسانی وسائل کی ترقی اور ٹیکنالوجی کے حصول پر مرتکز کر دے۔ علاوہ ازیں یہ ضرورت بھی ہے کہ مذہبی سخت گیری میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔ اس تناظر میں شہزادہ محمد کے اقدامات کی کسی حد تک ستائش کی جا سکتی ہے۔ لیکن حالیہ اقدامات کی نوعیت، وسعت اور انداز عمل کچھ اور اشارے کر رہے ہیں۔
بدقسمتی سے ان واقعات کے پیچھے ایک بہت بڑا محرک ایران سعودی رقابت ہے جو ٹرمپ کی صدارت میں ایک نیا رخ اختیار کر رہی ہے۔ اس رقابت کا نیا محاذ لبنان اور حزب اللہ کی سرگرمیاں ہیں، خصوصاً شام اور اسرائیل سے متعلق، سعودی عرب شائد اس جھگڑے میں کردار ادا کرنے کو تیار لگتا ہے، ۔ اس کا عندیہ اس وقت سامنے آیا جب ان واقعات کے ساتھ ہی لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری نے ریاض سے اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور اس کا سبب اپنی جان کو لاحق خطرات اور لبنان میں ایرانی مداخلت کو قرار دیا۔حالانکہ بعد میں وہ واپس لبنان لوٹ گئے اور اپنا عہدہ بھی سنبھال لیا۔
بہر کیف شیخ سعد الشریم کے ٹویٹر کو بند کرنے سے عالم اسلام میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا نئے ولی عہد بدلائو کے نام پر سعودی عرب میں ڈکٹیٹر حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔اب دیکھنا ہے کہ امام کعبہ سے حکومت کا یہ تنائو کیا رخ لیتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *