بہار میں کرپشن بڑھتا ہی جارہا ہے

SSP-office

سنیل سوربھ

 

سرکار کی لاکھ کوششوں کے باوجود بہار میںبدعنوانی میںکمی نہیںآپارہی ہے۔ روزانہ کہیںنہ کہیں کسی سرکاری دفتر میں رشوت کے الزام میں ، بدعنوانی کے الزام میں سرکاری ملازمین پکڑے جارہے ہیں لیکن پیسے کی ہوس اور راتوں رات پیسوں کا ڈھیر لگانے کی لت نے لوگوں کو غلط کام کرنیپر مجبور کردیا ہے۔ اس کی وجہ سے بہار کے سرکاری دفتر میںسرکاری رقم غبن کرنے اور فرضی بلوں کے سہارے لاکھوں کروڑوں روپے کی رقم نکالنے کا غیر قانونی کام دن دوگنا اور رات چوگنا بڑھتا جارہا ہے۔ گیا ضلع میں جس سرکاری دفتر میںبھی ہاتھ دیجئے، ادھر ہی گڑبڑ نظر آنے لگے گی۔
ابھی گیا کے ویلفیئر ڈپارٹمنٹ میںاسکالر شپ کی مد میںکروڑوں کی رقم کے گھوٹالے کا معاملہ تھما بھی نہیںتھا کہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اور پولیس ڈپارٹمنٹ میں کروڑوں روپے کے غبن کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔ بہار کا محکمہ صحت تو پہلے سے ہی غبن اور مالی بے ضابطگیوں کے لیے ہمیشہ بحث کا موضوع رہا ہے۔ گیا ضلع کے اسپتالوں میںان دنوں جنریٹر چلانے کے نا م پر آؤٹ سورسنگ ایجنسی کے ذریعہ لاکھوں روپے کے گھوٹالے کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔ گیا ضلع کے جے پرکاش نارائن اسپتال، پربھاوتی زنانہ اسپتال،ٹیکاری سب ڈویژنل اسپتال، پرائمری ہیلتھ سینٹر ٹیکاری میں آؤٹ سورسنگ ایجنسی کے ذریعہ جنریٹر کی سہولت فراہم کرائی گئی ہیں۔

 

 

 

بدعنوانی عروج پر

اس ضلع میں آدھا درجن سے بھی زیادہ ایسی ایجنسیوں کی خدمات لی جارہی ہیں۔ ان ایجنسیوں اور متعلقہ اسپتال کی ملی بھگت سے جنریٹر سے بجلی سپلائی کی مدت زیادہ دکھاکر ہر ماہ لاکھوں روپے کی نکاسی کی گئی ہے۔ پبلک گریوینس ریڈریس ایکٹ کے تحت آر ٹی آئی کارکن اور راشٹریہ جن اتتھان مورچہ کے صدر دھیریندر کمار کے ذریعہ اس معاملے کو مگدھ ڈویژن کے کمشنر کے سامنے رکھا گیا۔ اسی کے بعد جنریٹر سے بجلی سپلائی کے نام پر لاکھوںروپے کے غبن کا معاملہ پکڑا گیا۔ گیا کے پربھاوتی زنانہ اسپتال میںاپریل 2016سے فروری 2017 تک یعنی 11 مہینے میں11لاکھ 34 ہزار 920 روپے کی نکاسی مندرجہ مد میںکی گئی۔
جانچ میںپتہ چلا کہ پترپکش میلہ کے دوران گیا شہر میںدو گھنٹے سے زیادہ کی بجلی سپلائی میں رکاوٹ کبھی نہیںہوئی جبکہ جنریٹر سے اسی وقت بجلی سپلائی 6 سے 10 گھنٹے تک دکھائی گئی۔ ان اسپتالوں میں فرضی بل کی بنیاد پر رقم کی نکاسی کی جانچ انتظامی افسروں اور بجلی محکمے کے تکنیکی اہلکاروں سے مشترکہ طور پر کرائی گئی۔ جانچ میںصاف ہوگیا کہ غلط بل جمع کرکے سرکاری رقم کا غبن کیا گیا۔
اسی طر ح دیگر اسپتالوںمیںبھی غلط بل کے ذریعہ لاکھوںکی ر قم کی نکاسی کا معاملہ بھی سامنے آگیا۔ ڈی ایم نے اس معاملے میںایک کروڑ سے زیادہ کی رقم
غبن کی جانے کی بات کہی ہے۔ گیا کے ضلع عہدیدار ابھیشیک سنگھ نے اس معاملے میںدو الگ الگ خط جاری کرکے اس غبن کے لیے سول سرجن ، پربھا وتی اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ، ٹیکاری سب ڈویژنل اسپتال کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ٹیکاری پرائمری سینٹر کے انچارج کو بھی اس غبن میں ملوث ہونے کی بات بتاتے ہوئے وضاحت مانگی گئی ہے۔

 

 

 

 

ضلعی حکام متحرک

ڈی ایم نے متعلقہ آؤٹ سورسنگ ایجنسی کو بلیک لسٹ میںڈالنے اور غبن کی رقم کا اندازہ لگاکر وصولیابی کے عمل کو شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میںجنریٹر سے بجلی سپلائی کے نام پر لاکھوںکے گھوٹالے کی بحث گرم ہی تھی کہ پولیس محکمے میںایس ایس پی دفتر گیا کے لیکھ پال کے ذریعہ قریب 25 لاکھ روپے کے غبن کا معاملہ اجاگر ہوگیا۔ مالی سال 2015 سے 2016 کے بیچ یہ غبن کیا گیا جبکہ مجرم لیکھ پال دھیریندر کمار سنگھ ٹرانسفر ہوکر ویشالی چلا گیا۔
دو سال بعد اس پر ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ لیکھ پال نے متوفی سپاہی شفیع عالم خان کے بینک کھاتے میں پروویڈنٹ فنڈ کے 6 لاکھ 39 ہزار 545 روپے جمع کرادیے۔ اس کے بعد بھی اتنی ہی رقم متوفی سپاہی کی بیوی وسیدہ خاتوں کو محکمے کے بینک کھاتے سے ادائیگی کردی گئی۔
اسی طرح گیا کے ایس ایس پی دفتر کی برانچ میںپوسٹیڈ پولیس افسر آفتاب عالم کے بینک کھاتے میںبھی 3 لاکھ 50 ہزار 933 روپے غیر قانونی طور سے جمع کرا ئے۔ اتناہی نہیں، لیکھ پال دھیریندر کمار سنگھ نے پٹنہ کے کنکر باغ میں رہنے والے اپنے دوست سدھانشو شیکھر کے بینک کھاتے میں بھی پولیس محکمے کے کھاتے سے دو لاکھ 50 ہزار روپے جمع کرادیے۔ جانچ میں پتہ چلا کہ جان بوجھ کر یہ ادائیگی کی گئی۔
اسی طرح سیف کے جوان سریندر پرساد کے بینک کھاتے میں 17 ہزار روپے کی ادائیگی سفری مد میں کی گئی۔ جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ سیف کا مذکورہ جوان کسی سفر پر گیا ہی نہیں تھا۔ ریٹائر رندھیر پرساد سنگھ کو 3 لاکھ 79 ہزار 249 روپے کی ادائیگی کردی گئی۔ دوبارہ اتنی ہی رقم پولیس محکمے کے کھاتے سے چار مہینے بعد مذکورہ شخص کو بھیج دی گئی۔ یہ سبھی رقم لیکھ پال دھیریندر کمار کے ذریعہ ٹرانزیکشن کی گئی۔ لیکھ پال نے بہار پولیس ایسوسی ایشن گیا کے کھاتے میں بھی 56ہزار 784 ر وپے محکمے کے کھاتے سے بھیج دیے۔ اتنی ہی رقم تلسی پرساد کے کھاتے میںبھی غیر قانونی طور پر جمع کرائی گئی۔

 

 

گیا کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ آفس کے لیکھ پال کی کیش بک میںپینڈنگ بلوں اور باقی رقم و محکمے کے اکاؤنٹ میںجمع رقم الگ الگ پائے جانے کے بعد جب جانچ کی گئی تو 25 لاکھ سے زیادہ کی رقم کا غبن کیے جانے کا معاملہ پکڑا گیا۔ اس کی جانچ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر کی قیادت میںچار رکنی ٹیم نے کی۔ جانچ رپورٹ میںلیکھ پال کے ذریعہ گھوٹالہ کیے جانے پر گیا کی ایس ایس پی گریما ملک کے حکم پر سول لائن تھانے میںلیکھ پال دھیریندر کمار سنگھ کے خلاف غبن کی ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ لیکن اس معاملے میںلیکھ پال نے جس جس کے کھاتے میں سرکاری رقم غیر قانونی طور پر جمع کرائی، ایف آئی آر میںان لوگوں کو ملزم نہیںبنایا گیا۔ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ اس معاملے کو کسی سطح پر رفع دفع کیا جاسکتا ہے۔
سرکاری دفتروں میں غبن اور مالی بے ضابطگیوں کے مجرم قرار پائے گئے لوگوںپر ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بھی پولیس کے ذریعہ کوئی کارروائی نہیں کیے جانے سے پولیس کی نیت پر سوالیہ نشان کھڑا ہورہا ہے۔ کئی مہینے پہلے گیا کے ڈسٹرکٹ ویلفیئر آفیسر سمیت کئی ورکرس پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس میںابھی تک کسی کی گرفتاری نہیںہوسکی ہے۔ عام آدمی پر کسی طرح کا جھوٹا الزام لگاکر کوئی ایف ا ٓئی آر درج کرا دیتا ہے تو اس میںپولیس کی سرگرمی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ لیکن گیا کے کئی سرکاری دفتروں کے درجن سے زیادہ ملازمین پر ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بھی وہ سبھی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *