شام دنیا کی بڑی طاقتوں کی انانیت کی بھینٹ چڑھ گیا

شام کی روز بروز بدلتی ہوئی صورت حال ایک عالمی مسئلہ ہے جو کہ شاید عظیم طاقتوں کی اَنا کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔روسی صدر پیوٹن کا یہ فیصلہ کہ’ وہ ہر قیمت پر بشارالاسداور اس کی حکومت کا دفاع کریں گے‘ نے شام کو جنگِ کوریا اور ویت نام جیسا بنا دیا ہے۔ مگر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پیوٹن کا یہ فیصلہ ایک عمل نہیں بلکہ شام کے لئے امریکی خارجہ پالیسی کا ردِ عمل ہے۔ یہ روسی صدر کا ایک مصمم اور غیر متزلزل ارادہ ہے کہ مغربی ممالک کی تمام تر مخالفت کے باوجود وہ شامی صدر کی مکمل حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن اپنی تمام تر کو ششوں کے با وجودروس کے حمایت یافتہ بشا ر الاسد شام کے صرف 25فیصدحصے پر کنٹرول برقرار رکھ سکے ہیں۔ شامی صدر کو روس کے علاوہ ایران، عراق اور حزب اللہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔
شام کی خونریزی سے دلبرداشتہ ہوکر عیسایئوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے دنیا بھر کے رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ شام میں خون ریزی کے فوری خاتمے کے لیے اقدام کریں۔اٹلی کے شہر روم میں سینٹ پیٹرز سکوائر میں عیسائیوں کے مذہبی تہوار ایسٹر کے حوالے سے اپنے روایتی خطاب میں انھوں نے کہا کہ شام کے عوام بظاہر نہ ختم ہونے والی جنگ سے تھک چکے ہیں۔پوپ فرانسس نے اپنے خطاب میں انسانی حقوق کے قوانین اور پناہ گزینوں کے مسائل پر بھی زور دیا اور کہا کہ پناہ گزینوں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے جس کا حل تلاش کرنا لازمی ہے۔
پوپ نے اپنے دورِ پاپائیت کے پہلے پانچ برسوں کے دوران شام میں ہونے والے خون خرابے کی مسلسل مذمت کی ہے۔ 2013 میں انھوں نے مغرب کی جانب سے وہاں کی جانے والی فوجی مداخلت کی مخالفت کی تھی۔ انھوں نے دوسرے خطوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ’ہم سرزمینِ مقدس میں مفاہمت چاہتے ہیں۔ ہم یمن کے نہتے لوگوں اور تمام مشرقِ وسطیٰ میں جاری شورش کا خاتمہ چاہتے ہیں تاکہ تقسیم اور تشدد پر مکالمہ اور باہمی عزت غالب آئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

پوپ نے شمالی و جنوبی کوریا کے تعلقات کے بارے میں کہا کہ انھیں امید ہے کہ مذاکرات سے اس جزیرہ نما میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی کا خاتمہ ہو گا اور امن و یگانگت کو فروغ ملے گا۔انھوں نے کہا کہ جو لوگ براہِ راست ذمہ دار ہیں، انھیں فراست و بصیرت ملے تاکہ وہ کوریا کے لوگوں کی بھلائی کا کام کر سکیں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کر سکیں۔پوپ نے یوکرین اور وینزویلا میںبھی جاری تشدد ختم کرنے کی امید بھی ظاہر کی۔
معلوم نہیں پوپ کے بیان کا اثر ہے یا کچھ اور کہ شام میں ایک نئی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ مشرقی غوطہ میں حکومت اور باغی گروپ جیش اسلام کے درمیان مبینہ طور پر دوما سے سنگین طور پر زخمی افراد کے انخلا کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔خیال رہے کہ دوما مشرقی غوطہ میں باغیوں کے زیر قبضہ آخری گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔یہ معاہدہ باغی گروپ جیش اسلام، مقامی رہنماؤں اور روس کے درمیان افہام و تفہیم کے بعد ہی ممکن ہو سکا ہے۔
اس معاہدے کے بعد زخمیوں کو شمالی شہر ادلب لے جایا جائے گا جو کہ ابھی تک باغیوں کے قبضے میں ہے۔ البتہ دوما کو فوجی کارروائی سے محفوظ رکھنے کے لیے شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ شامی فوج نے دوما کا محاصرہ کر رکھا ہے۔دوما پر قابض باغیوں نے وہاں آباد ہزاروں افراد کے انخلا کے لیے کی جانے والی کسی بات چیت سے انکارکردیا ہے۔جبکہ شامی فوج نے کہا ہے کہ جو ابھی تک دوما کو بچانے کی کوششوں میں لگے ہیں وہ دوما چھوڑ دیں یا پھر بھرپور حملے کے لیے تیار رہیں۔ویسے لاکھوں افراد نے شامی دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے کو اب چھوڑ دیا ہے جہاں کھبی 20 لاکھ افراد رہا کرتے تھے۔
شامی فوج نے باغیوں کو یہ پیشکش کی ہے کہ یا تو وہ ان کے ساتھ آ جائیں یا پھر سپر ڈال دیں اور حکومت کے قبضے والے علاقوں میں جا کر رہیں۔ خیال شامی حکومت نے مشرقی غوطہ کا 2013 سے محاصرہ کر رکھا ہے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے وہاں کے حالات کو ’ارضی جہنم‘ قرار دیا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب غوطہ کے باشندوں کو صرف زخم ہی زخم مل رہے ہیں ،ایسے زخم جس پر کوئی مرہم رکھنے والا نہیں ہے،ایسے میں پوپ فرانسسکو کا یہ بیان یقینا زخم پر مرہم رکھنے کی طرح ہے۔ان کے بیان کے بعد غوطہ سے زخمیوں کو ادلب لے جانے کی اجازت تو مل گئی ہے مگر یہ جنگ کب ختم ہوگی ،اس پر تذبذب ہنوز باقی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *