سواتی مالیوال کا انشن چوتھے دن بھی جاری

swati-maliwal
نابالغوں عصمت دری کرنے والوں کے خلاف سخت قانون بنانے کی مانگ کو لے کر دہلی خواتین کمیشن (ڈی سی ڈبلیو) کی صدر سواتی مالیوال کی بھوک ہڑتال آج پیر کو یعنی گذشتہ چار دنوں سے راج گھاٹ کے قریب جاری ہے۔خبروں کے مطابق آج صبح سواتی مالیوال کا چیک اپ کرنے کیلئے میڈیکل ٹیم راج گھاٹ پہنچی لیکن انہوں نے چیک اپ نہیں کرانے دیاتھا۔حالانکہ اب سواتی مالیوال کا میڈیکل چیک اپ کرالیاگیا ہے۔بتایاجارہاہے کہ آج دوپہر دوبجے بی جے پی رکن پارلیمنٹ شتروگھن سنہا ان سے ملاقات کرسکتے ہیں۔اس دوران دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکیجریوال نے ٹویٹ کرکے سواتی مالیوال کی حمایت کی ہے ۔کیجریوال نے کہاہے کہ دہلی پولس کومالیوال کوپریشان نہیں کرناچاہئے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق، آج صبح مالیوال راج گھاٹ سے باہرآئیں۔انہو ں نے پولس پرالزام لگایاہے کہ پولس پی ایم اوکے اشارے پران کا انشن توڑنے کا کام کررہی ہے۔ مالیوال کا کہناہے کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں لیکن دہلی پولس زبردستی ان کا انشن توڑنے کی کوشش کررہی ہیں۔سواتی مالیوال نے الزام لگایاہے کہ پولس والوں نے ان سے کہاہے کہ ان کا انشن توڑوانے کیلئے سیدھاپی ایم آفس سے حکم ملے ہیں۔
عیاں رہے مالیوال نے اتوار کی صبح مہاتما گاندھی کی سمادھی پر جا کر پرارتھنا کی تھی۔ ڈاکٹروں نے سواتی کا ٹیسٹ کیا تو ان کاوزن کم پایا گیا۔ دریں اثنا، سواتی کی حمایت کرتے ہوئے دارالحکومت کے مختلف حصوں سے پہنچیں خواتین نے کہا کہ مرکزی حکومت ان کے آگے جھکنا پڑے گا۔ ملک میں خواتین کا حوصلہ بلندہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی خواتین اپیل کر رہی ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی عصمت دری کے واقعات کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کریں ۔
سواتی مالیوال کاکہناہے کہ آج خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم ملک میں عروج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تب تک غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال پررہیں گی جب تک کہ بچیوں کے زانیوں کو چھ ماہ کے اندر پھانسی کی سزا کا قانون نہیں بن جاتا ہے۔ وہ وزیر اعظم کی یقین دہانی کے بعد ہی انشن توڑیں گی۔

 

یہ بھی پڑھیں   مکہ مسجد بم بلاسٹ:سوامی اسیمانند سمیت سبھی ملزمین بری

 

انہوں نے کہا کہ ہم ریپ روکو کی تحریک کے لئے تمام سیاست دانوں، تنظیموں اور سماجی افراد کی حمایت مانگتے ہیں۔ یہ تحریک لوگوں کی تحریک ہے، کسی ایک فرد، تنظیم اور پارٹی کی مخالفت یا حمایت میں نہیں ہے۔ چھ ماہ میں ہر حال میں زانیوں کو سزا ہونی چاہیے۔
اپنے ٹوئیٹس میں مالیوال نے کہا ہے کہ اگر جموں کے کٹھوعہ کی 8 سال کی بچی پتھر بازی میں شامل بھی تھی تو کیا اس کی عصمت دری کی جانی چاہیے تھی؟ پھر ثبوت ختم کرنے کے لئے اسے مارنے کی ضرورت تھی؟ مالیوال نے کہا ہے کہ اس طرح کی سوچ کے لوگوں کو شرمندہ ہونا چاہئے ، جس سوچ کے تحت اس بچی کا قتل کر دیا گیا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *