سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ تعلیمی اداروںکی اقلیتی شناخت مزید مستحکم

ہندوستان میںاقلیتوں کو آئین کی یقین دہانی اور تحفظات ، اس کے ذریعے انھیں اپنی شناخت کے لیے تعلیمی اداروں کو قائم کرنے اور چلانے کی غرض سے حقوق و اختیارات اور سہولیات و مراعات دیے گئے ہیں۔ اسی غرض سے 1977 میں قومی اقلیتی کمیشن کو بنایا گیا اور پھر اس کے بعد 1994 میںنیشنل مائنارٹی ڈیولپ منٹ فنانشیل کارپوریشن اور 2004 میں قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات اور پھر 2006 میں وزارت اقلیتی امور کو وجود میںلایا گیا۔ اسی کو مزید تقویت دینے کے لیے سچر کمیٹی بھی بنائی گئی، جس کی تاریخی رپورٹ سے مسلم اقلیت کی مجموعی صورت حال کو بہتر بنانے کی کوششیںجاری ہیں مگر ابھی تک کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے اور اسی درمیان اس کے خالق جسٹس راجندر سچر 20 اپریل کو دنیا سے رخصت ہوگئے۔ 2007 میں حکومت کو سونپی گئی مشرا کمیشن رپورٹ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھی جو کہ سرد خانے میںپڑی ہوئی ہے۔ اس ضمن میں’چوتھی دنیا‘ کی کوششوں سے کون واقف نہیں ہے؟
مگر ان تمام باتوںکے باوجود اس تلخ حقیقت سے بھی قطعی انکار نہیںکیا جاسکتا ہے کہ انھیںان کے حقوق و اختیارات سے محروم رکھنے کی کوششیںبھی چلتی رہتی ہیں۔ ملک میںاقلیتوں کے ایسے متعدد ادارے موجود ہیں، جنھیں اقلیتوں نے قائم کیا مگر اقلیتی حیثیت کے برقرار نہ رہنے کے سبب وہ اقلیتوں کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ یہ سرکارکی تحویل میںجاکر محض ایک عام تعلیمی ادارے کے طور پر زندہ ہیں۔
دراصل ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اسی صورت حال کے پیش نظر 2004 میں کانگریس قیادت والی یوپی اے سرکار کی قیادت سنبھالتے ہی جسٹس محمد سہیل اعجاز صدیقی کی سربراہی میںقومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کی تشکیل کی۔ 2004 سے 2014 تک اس کے واحد چیئرمین رہے جسٹس صدیقی نے ’چوتھی دنیا‘ کو گزشتہ 18 اپریل کو اس تعلق سے آئے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ حق و انصاف پر مبنی فیصلہ ہے اور ا چھا فیصلہ ہے۔ انھوں نے کہا سپریم کورٹ نے اپنے 27 صفحات پر مبنی فیصلے میںواضح طور پر کہا ہے کہ مذکورہ کمیشن پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون سے وجود میںلایا گیا ہے۔ لہٰذا اسے اقلیتوں کے ذریعے قائم کردہ کسی بھی تعلیمی ادارے کو اقلیتی درجہ فراہم کرنے اور پھر اس سلسلے میںسرٹیفکیٹ دینے کا پورا قانونی اختیار حاصل ہے۔
جسٹس صدیقی کے مطابق اپنی دس سال کی مدت کار کردگی کے دوران انھوںنے اقلیتوں کے ذریعے قائم کیے ہوئے 10 ہزار 500 اداروں کو اقلیتی درجہ عطا کیا ہے اور اس میںاس تعلق سے انھیںسرٹیفکیٹ بھی دیے ہیں جن میں مسلم اقلیتی تعلیمی اداروں کی تعداد دس فیصد سے زیادہ نہیںہے کیونکہ ان کی جانب سے کوششیںبہت کم ہوئیں۔ مگر دیگر اقلیتوں کے تعلیمی اداروں نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

لیکن کسی نہ کسی جواز کو پیدا کرکے اقلیتی حیثیت سے لیس ان اقلیتی تعلیمی اداروں کو ڈسٹرب کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں، جن کے نتیجے میںبہتوںنے اپنا اقلیتی درجہ کھودیا۔ بعض ایسے تعلیمی ادارے تھے جنھیںکہیںیونیورسٹی تو کہیں ریاستی حکومت نے قانونی پیچیدگی میںالجھا کر ان کو اقلیتی حیثیت سے محروم کیا۔ ایسے تعلیمی ادارے مذکورہ کمیشن (این سی ایم ای آئیز) اور عدالت بھی گئے یا انھیںعدالت میںگھسیٹا گیا۔
ان اقلیتی تعلیمی اداروں میںنئی دہلی کا 1920 میںبنا جامعہ ملیہ اسلامیہ ، لہریا سرائے (دربھنگہ، بہار) کا 1957 میں قائم کردہ ملت کالج ہے۔ اسی زمرے میںآزادی کے بعد قائم کیا جانے والا کولکاتا کا ملی الامین گرلز کالج ہے۔ مغربی بنگال کے کلمپونگ (دارجلنگ ضلع) میںعیسائیوں کے ذریعے 1998 میں وجود میںلایا گیا کلونی ویمن کالج بھی ایک ایسا ہی کالج ہے۔ مذکورہ بالا تعلیمی اداروں سمیت ایسے متعدد ادارے ہیں جنھیںمذکورہ کمیشن این سی ایم ای آئیز نے اقلیتی درجے دیے اور سرٹیفکیٹس سے نوازا مگر انھیںکسی نہ کسی بہانے پریشان کیا گیا۔
دراصل مغربی بنگال کے دونوں اقلیتی تعلیمی ادارے یعنی کولکاتا کے ملی الامین گرلز کالج اور کلمپونگ کے کلونی ویمن کالج کو قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات نے 2007 میںاقلیتی درجہ عطا کیا اور سرٹیفکیٹ جاری کیے۔ مگر ان کا معاملہ کولکاتا ہائی کورٹ پہنچا دیا گیااور وہاں فیصلہ 2016 میں ان کے خلاف ہوگیا۔ اب اسی سلسلے میں سپریم کورٹ نے 27 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں کولکاتا ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ان دونوں تعلیمی اداروںکے اقلیتی درجے کو از سرنو بحال کردیا ہے۔ اس سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے ذریعہ مغربی بنگال میں قائم کیے گئے ان دونوں اداروں کو اقلیتی درجہ تو مل گیا۔ توقع ہے کہ اقلیتی درجہ ملنے کے بعد یہ تعلیمی ادارے حکومتی امداد سے مستفیض ہوتے ہوئے اپنی اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور اقلیتوں کے تعلیمی امپاورمنٹ میںمعاون و مددگار ثابت ہوںگے۔
یہاںمعاملہ مغربی بنگال کے صرف ان دو تعلیمی اداروں کا نہیں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ا س کا سیدھا اثر ہندوستان کے تمام اقلیتی تعلیمی اداروں بالخصوص این سی ایم سی آئیز کے ذریعے اقلیتی درجہ فراہم کیے گئے تمام اداروںپر پڑے گا، جنھیںخطرہ لاحق ہے۔ اس ضمن میںجسٹس صدیقی نے ’چوتھی دنیا‘ سے صاف طور پر کہا کہ تمام اقلیتی تعلیمی اداروں پر سپریم کورٹ کے اس تعلق سے سنائے گئے فیصلے کا اثر سیدھا پڑے گا اور ان پر لٹکتی ہوئی تلواریں ہٹیںگی اوریہ ادارے راحت محسوس کریںگے ۔
عیاں رہے کہ نئی دہلی کی سینٹرل یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کا بھی معاملہ ان دنوں دہلی ہائی کورٹ میںزیر سماعت ہے۔ موجودہ سرکار کا موقف ہے کہ این سی ایم ای آئیز کا اقلیتی درجہ فراہم کرنے والا یہ فیصلہ صحیح نہیںہے کیونکہ یہ تعلیمی ادارہ پارلیمنٹ کے قانون سے 1988 میں وجود میںآیا۔ اس کے جامعہ ایکٹ میںیہی لکھا ہوا ہے۔ لہٰذا مسلمانوںکا یہ بنوایا ہوا نہیںہے۔ نیز این سی ایم ای آئیز کے اس اختیار پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے جس کے تحت اس نے جامعہ کو اقلیتی درجہ عطا کیا ہے۔
جسٹس ایم ایس اے صدیقی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے جامعہ ملیہ اسلامیہ ، ملت کالج ودیگر این سی ایم ای آئیز کے ذریعہ قرار دیے گئے اقلیتی تعلیمی اداروںپر اثر بالکل پڑے گا۔ ان کے مطابق ان نکات پر اس وقت کے مرکزی ایچ آر ڈی وزیر کپل سبل کو بھی اتفاق نہیںتھا اور یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی مداخلت کے بعد انھوںنے پارلیمنٹ میںصرف اتنا ہی کہا ’’وی ریسپیکٹ دی این سی ایم ای آئیز ججمنٹ‘‘ یعنی ہم اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور انھوںنے یہ ہرگز نہیںکہا کہ ’’وی ایکسیپٹ اٹ‘‘۔ ان کا کہناہے کہ حکومتیں کیا سوچتی ہیں، کیا کرتی ہیں، یہ بھی الگ بات ہے اور عدالت حقائق پر مبنی کیا فیصلہ کرتی ہے، یہ الگ بات ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *