پاکستان : اب بہت کٹھن ہے ڈگر پن گٹھ کی

money-pakistan

مسرور الحسن صدیقی

ہمارے پڑوسی ملک پاکستان میں صورت حال سیاسی و سماجی طور پر بگڑتی ہی جارہی ہے۔ صورت حال کی نزاکت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کارگزار پی ایم کے لئے متنازعہ فیہ سائنس داں ڈاکٹر اے کیو خاں کا نام تجویز کیا ہے۔ دیکھئے ، آگے آگے ہوتا کیاہے؟
پاکستان کی سر زمین پرحکومت اور فوج کی پشت پناہی اور آئی ایس آئی کی سرپرستی میں پل رہے دہشت گرد اوران کی تحریک جگ ظاہر ہے۔ اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان پورے عالم میں الگ تھلگ پڑ گیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کی ان ناپاک حرکتوں کی سخت مذمت کی ہے اور صدرڈونالڈ ٹرمپ کی امریکی حکومت نے تو پاکستانی حکومت کی دہشت گردی کو روکنے میں ناکامی اور ڈُھل مُل رویہ کے سبب پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد بھی روک دی ہے۔ جس سے پاکستان کی حکومت اور فوج میں عدم مایوسی چھا گئی ہے۔ FATFیعنی فائنینشیل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو GREYگرے لسٹ میں ڈالنے کا اعلان کر دیا ہے جو فیصلہ جون کے مہینے سے نافذ ہوگا۔ اس لسٹ میں وہ ملک شامل ہوتے ہیں جو اپنی سرزمین پر چل رہی دہشت گرد تنظیموں کی معاشی اور مالی رسد کو روک پانے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ اس فیصلے کے سبب پاکستانی معیشت کو کافی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی کیونکہ اس سے انہیں بین الاقوامی مالی اداروں سے مالی امداد اور قرض کی فراہمی اور لین دین میں کافی پریشانی درپیش ہوگی ۔ 2012-15 ء سال کے بیچ بھی پاکستان کو اسی بحران کا شکار ہونا پڑا تھا۔ اور FATFکی گرے لسٹ میں آنے سے اسے اقتصادی خمیازہ بھگتنا پڑ چکا ہے۔

 

 

 

 

حال ہی میں منعقدہ FATFکی میٹنگ سے قبل چین ، سعودی عرب اور ترکی نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کئے جانے کی مخالفت کی تھی اور پاکستان کو سدھرنے اور اپنے مالی اداروں کے لین دین کے معاملوں کو شفاف بنانے کے لئے چندماہ کی مہلت بھی دلادی تھی۔امریکہ اور اس کے ساتھی ملک انگلینڈ، فرانس ، جرمنی کسی بھی طرح کی رعایت دیئے جانے کے خلاف تھے اور بعد میں انہوں نے سعودی عرب کو بھی اپنی ہاں میں ہاں ملانے کے لئے راضی کر لیا۔ موجودہ دور میں پاکستان کے ساتھ صرف چین اور ترکی کھڑے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور ان دونوں ملکوں کے امریکہ کے ساتھ بہت تلخ رشتے ہیں۔ اب اگلے تین ماہ میں پاکستانی حکومت کو اپنے بینکنگ سسٹم اور دیگر مالی اداروں کے انتظام اور طریقہ کار کو چست درست ، چاک چوبند کرنا ہوگا کہ دہشت گردتنظیمیں ان کا کسی بھی طرح کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ FATFکی اگلی میٹنگ تک اگر پاکستان حکومت کوئی مثبت قابلِ قبول لائے عمل تیار کرنے میں ناکام رہی تو اسے بلیک لسٹ میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ تو کیا اب پاکستان حکومت اور فوج اپنا رویہ بدلیں گے ، چین اور امن کی راہ پکڑیںگے اور اپنی پاک سر زمین پر پَل رہی دہشت گرد تنظیموں جیسے لشکر طیبہ، جماعت الدعویٰ، جیش محمد اور حزب المجاہدین وغیرہ کو خیر باد کہہ دے گا اور بوریہ بسترہ سمیٹنے پر مجبور کردے گا۔

 

 

 

پاکستان میں عنقریب عام انتخابات ہونے والے ہیں جہاں حکمران پارٹی مسلم لیگ نواز سے عوام خاصی خفا ہے۔ وہیں نواز شریف بھی انتخابی سیاست کے لئے عدالت کے ذریعے نا اہل قرار دیئے جا چکے ہیں۔ حسب اختلاف کی دو بڑی پارٹیاں بھی سیاسی بحران کا شکار ہیں۔ تحریک انصاف کے صدر عمران خان پر بد عنوانی کے الزامات ہیں اور ان پر بھی جوتے چل رہے ہیں وہیں زرداری -بلاول بھٹو کی کھینچا تانی میں پیپلز پارٹی کا بھی برا حال ہے۔ پاکستانی عوام نئے متبادل کی تلاش میں ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد حافظ سعید کی سیاسی پارٹی ملّی مسلم لیگ کاررجسٹریشن الیکشن کمیشن میں ہوگا اور وہ بھی پاکستان کی سیاست میں اپنی قسمت آزمائیں گے اور پاکستانی سیاست میں پیدا ہوئے خلاء کو پُر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

 

 

 

ذرا سوچیئے اگر حافظ سعید پاکستان کے وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو اس ملک کا کیا حشر ہوگا ۔ کیا خارجی پالیسی ہوگی ؟ کیا ہندوستان کے نقطہ نظر سے دفاعی پالیسی ہوگی؟ اس صورت میں اس بات کے قوی امکان ہیں کہ دنیا کے بیشتر ممالک پاکستان سے قطع تعلق کرلیں گے اور پاکستان بھی شمالی کوریہ کی طرح پورے عالم میں الگ تھلگ پڑھ جائے گا۔ پاکستان کی مصیبتیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ امریکی صدر نے کچھ دن قبل ہی مائیک پامپیا کو سکریٹری آف اسٹیٹ (وزیر خارجہ) مقرر کیا ہے۔ مائک پامپیا ، سی آئی اے ڈائیریکٹر رہ چکے ہیں اور انہیں پاکستان فوج اور آئی ایس آئی کی ہر ایک حرکت کی معلومات ہے جو ان کی نگاہ سے بچ نہیں سکتی ۔ امریکی فوجی جنرل نے پینٹاگن کی میٹنگ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں طالبانی سرگرمیوں کو بھی آئی ایس آئی کی پشت پناہی حاصل ہے او ر عنقریب پاکستان پر امریکی شکنجہ بہت سختی سے کسنے والا ہے۔ اب پاکستان چو طرفہ پھنس چکا ہے اور FATFکے فیصلے کو لاگو کرنا لازمی ہو گیا ہے کیونکہ وقت بہت کم ہے اور میرے ہمد م میرے دوست چین نے بھی ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں جس کے بعدپاکستان حکومت مرتا کیا نہ کرتا کی حالت میں ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آئی ایس آئی اور فوج کس حد تک پاکستان حکومت کا اپنے مالی اداروں کو چست درست کرنے میں ساتھ دے گی اور اس قواعد پر پاکستان میں پل رہی دہشت گرد تنظیموں کا کیا ردّ عمل رہے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *