سابق کرکیٹرسچن تیندولکرکاآج 45واں جنم دن،جانئے کیا ہے ان کی خاصیت

sachin01

کرکٹ کے بھگوان کہے جانے والے سابق ہندوستانی کرکیٹرماسٹربلاسٹرکے نام سے معروف ومشہورسچن تیندولکر کا آج 24اپریل کو45واں جنم دن ہے۔سب سے پہلے ’چودنیا‘کی جانب سے یوم پیدائش کی مبارکباد۔اس موقع پرانہیں ملک وبیرون ممالک سے ان کے مداح مبارکبادپیش کررہے ہیں۔سچن کویونہی کرکٹ کا بھگوان نہیں کہاجاتاہے بلکہ انہو ں نے ایسی بہت ساری کامیابیاں حاصل کیں ہیں، ایسے کمال کئے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اس کھیل کا بھگوان کہاجاتاہے۔
سچن رمیش تندولکرکی پیدائش 24 اپریل 1973کوہوئی تھی۔ کرکٹ کی تاریخ میں دنیا کے بہترین بلے بازوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ بھارت کے سب سے اعلی شہری اعزاز بھارت رتن سے نوازا ہونے والے وہ سب سے پہلے کھلاڑی اور سب سے کم عمر کے شخص ہیں۔ راجیو گاندھی کھیل رتن ایوارڈ واحد کرکٹ کھلاڑی ہیں۔ سن 2008 میں وہ پدم وبھوشن سے بھی صلہ ریٹویٹ جا چکے ہے۔

 

 

 

sachin02

 

سن 1989 میں بین الاقوامی کرکٹ میں پدارپ کے بعد وہ بلے بازی میں کئی ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ انہوں نے ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ، دونوں میں سب سے زیادہ سنچری کمائی ریٹویٹ ہیں۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹیسٹ کرکٹ میں 14000 سے زیادہ رن بنانے والے وہ دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں۔ ون ڈے میچوں میں بھی انہیں کل سب سے زے ادہ رن بنانے کا ریکارڈ حاصل ہے۔ [حوالہ درکار] انہوں نے اپنا پہلا فرسٹ کلاس کرکٹ میچ ممبئی کے لیے 24 سال کی عمر میں کھیلا۔ ان بین الاقوامی کھیل کی زندگی کے آغاز 1989 میں پاکستان کے خلاف کراچی سے ہوئی۔
سچن کرکٹ کی دنیا کے سب سے زیادہ اسپانسر کھلاڑی ہیں اور دنیا بھر میں ان کے متعدد پرستار ہیں۔ ان پرستار انہیں پیار سے مختلف ناموں سے پکارتے ہیں جن سب سے مقبول لٹل ماسٹر اور ماسٹر بلاسٹر ہے۔ کرکٹ کے علاوہ وہ اپنے ہی نام کے ایک کامیاب ریستوران کے مالک بھی ہیں۔
فوری طور پر وہ راجیہ سبھا کے رکن ہیں، سن 2012 میں انہیں راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔

 

 

ذاتی زندگی
راجاپر کے مراٹھی برہمن خاندان میں پیدا ہوئے سچن کا نام ان کے والد رمیش تندولکر نے اپنے چہیتے موسیقار سچن دیو برمن کے نام پر رکھا تھا۔ ان کے بڑے بھائی اجیت تندولکر نے انہیں کرکٹ کھیلنے کے لیے حوصلہ افزائی کی تھی۔ سچن کے ایک بھائی نتن تندولکر اور ایک بہن سوتا? تندولکر بھی ہیں۔ 1995 میں سچن تندولکر کی شادی اں جل تندولکر سے ہوا۔ سچن کے دو بچے ہیں ۔ سارہ اور ارجن۔
سچن نے شارداشرم ودیامندر میں اپنی تعلیم گرہن کی۔ وہیں پر انہوں نے انسٹرکٹر (کوچ) رماکانت اچریکر کے سانندھی میں اپنے کرکٹ زندگی کا آغاز کیا۔ تیز گیند باز بننے کے لیے انہوں نے پریکٹس کے پروگرام میں شرکت کی پر وہاں تیز گیند بازی کے کوچ ڈینس للی نے انہیں مکمل طور پر آپ کی بلے بازی پر توجہ مرکوز کرنے کو کہا۔

sachin04

 

 

 

دیگر دلچسپ حقیقت

نوجوانی میں سچن اپنے کوچ کے ساتھ مشق کرتے تھے۔ ان کوچ اسٹمپ پر ایک روپے کا سکے رکھ دیتے اور جو گے ندباز سچن کو آؤٹ کرتا، وہ سکے اسی کو ملتا تھا۔ اور اگر سچن بغیر آؤٹ ہوئے پورے وقت بلے بازی کرنے میں کامیاب ہو جاتے، تو یہ سکے ان کا ہو جاتا۔ سچن کے مطابق اس وقت ان کی طرف سے جیتے گئے وہ 13 سکے آج بھی انہیں سب سے زیادہ عزیز ہیں۔
1988 میں اسکول کے ایک ہرس شیلڈ میچ کے دوران ساتھی بلے باز ونود کامبلی کے ساتھ سچن نے تاریخی 664 رنز کی ناٹ آووٹ ساجھے داری کی۔ یہ دھماکا دار جوڑے کے منفرد کارکردگی کی وجہ ایک گے ندباز تو رونے ہی لگا اور مخالف فریق نے میچ آگے کھیلنے سے انکار کر دیا۔ سچن نے اس میچ میں 320 رن اور مقابلہ میں ہزار سے بھی زیادہ رن بنائے۔
سچن فی سال 200 بچوں کے پرورش کی ذمہ داری کے لیے اپنالی نام کا ایک غیر سرکاری تنظیم بھی چلاتے ہیں۔
بھارتی ٹیم کا ایک بین الاقوامی میچ آسٹریلیا کے خلاف اندؤر میں 31 مارچ 2001 کو کھیلا گیا تھا۔ تب اس چھوٹے قد کے کھلاڑی نے پہلی بار 10,000 رنو کا اعدادوشمار پار کرکے اندر کے اسٹیڈیم میں ایک سنگ میل گاڑ دیا تھا۔
کرکٹ کے ریکارڈ
میر پور میں بنگلہ دیش کے خلاف 100 واں سنچری۔
ون ڈے بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ میں ڈبل سنچری جڑنے والے پہلے کھلاڑی۔
ون ڈے بین الاقوامی مقابلے میں سب سے زیادہ (18000 سے زیادہ) رنز۔
ون ڈے بین الاقوامی مقابلے میں سب سے زیادہ 49 سنچری۔
ون ڈے بین الاقوامی ورلڈ کپ مقابلوں میں سب سے زیادہ رن۔
ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ (51) سنچری ۔
آسٹریلیا کے خلاف 5 نومبر 2009 کو 175 رن کی اننگ کے ساتھ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں 17 ہزار رن پورے کرنے والے پہلے بلے باز بنے۔
ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ۔
ٹیسٹ کرکٹ 13000 رنز بننے والے دنیا کے پہلے بلے باز۔
ون ڈے بین الاقوامی مقابلے میں سب سے زیادہ مین آف دی سے رے ز۔
ون ڈے بین الاقوامی مقابلے میں سب سے زیادہ مین آف دی میچ۔
بین الاقوامی مقابلو میں سب سے زیادہ 30000 رنز بنانے کا ریکارڈ۔

 

sachin03

 

کچھ دوسرے قابل ذکر واقعات

5 نومبر 2009: اپنا 435 واں میچ کھیل رہے تندولکر نے اس وقت تک 434 اننگز میں 44۔21 کی اوسط سے 17000 رن بنائے تھے جس میں 45 سنچری اور 91 نصف سنچری شامل ہے۔ تندولکر کے بعد ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز سری لنکا کے سنت جے سورے ہ نے بنائے ہیں۔ ان کے نام پر اس میچ سے پہلے تک 12207 رنز درج تھے۔ جے سورے ہ 441 میچ کھیل چکے ہیں۔ اب تک 400 سے زیادہ ون ڈے میچ صرف انہی دو کھلاڑیوں نے کھیلے ہیں۔
تندولکر نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں سب سے زیادہ رنز آسٹریلیا کے خلاف بنائے۔ انہوں نے عالمی چمپئن کے خلاف 60 میچ میں 3000 سے زیادہ رن بنائے جس میں 9 سنچری اور 15 نصف سنچری شامل ہے۔ سری لنکا کے خلاف بھی انہوں نے سات سنچری اور 14 نصف سنچری کی مدد سے 2471 رن بنائے لیکن اس کے لیے انہوں نے 66 میچ کھیلے۔
اس سٹار بلے باز نے پاکستان کے خلاف 66 میچ میں 2381 رنز بنائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف 1655، ویسٹ انڈیز کے خلاف 1571، نیوزی لینڈ کے خلاف 1460، زمبابوے کے خلاف 1377 اور انگلینڈ کے خلاف بھی ایک ہزار سے زیادہ رنز (1274) رن بنائے ہیں۔
تندولکر نے گھریلو سر زمین پر 142 میچ میں 46۔12 کے اوسط سے 5766 اور ملکی سرزمین پر 127 میچ میں 35۔48 کی اوسط سے 4187 رن بنائے۔ لیکن وہ سب سے زیادہ کامیاب غیر جانبدار جگہوں پر ہیں جہاں انہوں نے 140میچ میں 6054 رن بنائے جن میں ان کا اوسط 50۔87 ہے۔ وہ بھارت کے علاوہ انگلینڈ (1051)، جنوبی افریقہ (1414)، سری لنکا (1302) اور متحدہ عرب امارات (1778) کی سرزمین پر بھی ایک روزہ میچوں میں ایک ہزار رنز بنا چکے ہیں۔
سابق کپتان محمد اظہر الدین نے تندولکر کو سلامی بلے باز کے طور پر بھیجنے کی شروعات کی تھی جس میں ممبئی کا یہ بلے باز خاصا کامیاب رہا۔ اوپنر کے طور پر انہوں نے 12891 رن بنائے ہیں۔ جہاں تک کپتانوں کا سوال ہے تو تندولکر سب سے زیادہ کامیاب اظہر کی کپتانی میں ہی رہے۔ انہوں نے اظہر کے کپتان رہتے ہوئے 160 میچ میں 6270 رنز بنائے جبکہ سورو گنگولی کی کپتانی میں 101 میچ میں 4490 رنز بنائے۔ اگرچہ خود کی کپتانی میں وہ زیادہ کامیاب نہیں رہے اور 73 میچ میں 37۔75 کے اوسط سے صرف 2454 رنز ہی بنا پائے۔
24 فروری 2010: سچن تندولکر نے اپنے ون ڈے کرکٹ کے 442 ویں میچ میں 200 رن بنا کر تاریخی اننگز کھیلی۔ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں ڈبل سنچری جڑنے والے پہلے کھلاڑی بنے۔
تندولکر 160 ٹیسٹ میچوں میں بھی اب تک 15000 رنز بنا چکے ہیں۔ اور اس طرح ان کے نام پر بین الاقوامی کرکٹ میں 30000 سے زیادہ رنز اور 100 سنچری درج ہیں۔ تندولکر نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں سب سے زیادہ رنز آسٹریلیا کے خلاف بنائے۔ انہوں نے عالمی چیمپئن ٹیم کے خلاف 60 میچ میں 3000 سے زیادہ رن بنائے جس میں 9 سنچری اور 15 نصف سنچری شامل ہے۔
سچن نے 2003 کے ورلڈ کپ میں ریکارڈ 673 رن بنائے تھے۔ تندولکر کے 2003 ورلڈ کپ میں کارکردگی کے بارے میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راہل دراوڑ نے کھاک پورے ٹورنامنٹ کے دوران سچن نے نیٹ میں ایک بھی گیند نہیں کھیلی تھی۔ وقت کے حساب سے اپنی تیاریوں میں تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔
تندولکر کرکٹ کے میدان میں
سچن تندولکر نے کرکٹ کبھی اپنے لیے نہیں کھیلا۔ وہ ?مے شا ہی اپنی ٹیم کے لیے یا اس سے بھی زیادہ اپنے ملک کے لیے کھیلے۔ ان کے ذہن میں کرکٹ کے تئیں انتہائی احترام کا جذبہ رہا۔ انہوں نے اوے ش میں آکر کبھی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کسی کھلاڑی نے اگر ان کے خلاف کبھی کوئی تبصرہ کی بھی تو انہوں نے اس تبصرہ کا جواب زبان سے دینے کے وجا? اپنے بلے سے ہی دیا۔
سچن جب بھی بلے بازی کے لیے اترے، انہوں نے میدان پر قدم رکھنے سے پہلے سورج دیوتا کو نمن کیا۔ کرکٹ کے تئیں ان کے لگاؤ ??کا انداز اسی واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران جب ان والد صاحب کا انتقال ہوا اس کی اطلاع ملتے ہی وہ گھر آئے، والد کی انت?ے شٹ میں شامل ہوئے اور واپس لوٹ گئے۔ اس کے بعد سچن اگلے میچ میں کھیلنے اترے اور سنچری ٹھو??ر اپنے آنجہانی والد کو خراج تحسین دی۔
اچھا کرکٹ کھیلنے کے لیے اونچی قد کو ترجیح دی جاتی ہے لیکن چھوٹے قد کے باوجود لمبے لمبے چھکے مارنا اور بال کو صحیح سمت میں بھیجنے کا فن کی وجہ ناظرین نے انہیں لٹل ماسٹر کا خطاب دیا جو بعد میں سچن کے نام کا ہی مترادف بن گیا۔

 

 

 

 

 

ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ

23 دسمبر 2012 کو سچن نے ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کر دیا۔[14] لیکن اس سے بھی بڑا دن تب آیا جب انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے بھی ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا ۔ “ملک کی نمائندگی کرنا اور پوری دنیا میں کھیلنا میرے لیے ایک بڑا اعزاز تھا۔ مجھے گھریلو زمین پر 200 واں ٹیسٹ کھیلنے کا انتظار ہے۔ جس کے بعد میں نے ریٹائرمنٹ لے لوں گا۔ ” [15] ان کی چاہت کے مطابق ان کا آخری بار ٹیسٹ میچ وے سٹڈ?ذ کے خلاف ممبئی کے وان?ھے ڑے اسٹیڈیم میں ہی کھیلا گیا۔[16]
اور جیسا انہوں نے کہا تھا ویسا ہی کیا بھی۔ 16 نومبر 2013 کو ممبئی کے اپنے آخری بار ٹیسٹ میچ میں انہوں نے 74 رنز کی اننگز کھیلی۔ میچ کا نتیجہ بھارت کے حق میں آتے ہی انہوں نے ٹرسٹ کرکٹ کو الوداع! کہہ دیا۔[17]

اعزازات

بھارت رتن: 16 نومبر 2013 کو ممبئی میں سچن کے کرکٹ سے سنیاس لینے کے عزم کے بعد ہی حکومت ہند نے بھی انہیں ملک کے سب سے بڑے شہری اعزاز بھارت رتن دینے کا اعلان کر دیا۔[18] 4 فروری 2014 کو صدر پرنب مکھرجی نے صدارتی محل میں منعقد تقریب میں ان کو بھارت رتن سے سممنت کیا گیا۔[19] 40 سال کی عمر میں شامل یہ اعزاز حاصل کرنے والے وہ سب سے کم عمر کے فرد اور سب سے پہلے کھلاڑی ہیں۔[7] غور طلب ہے کہ اس سے پہلے یہ اعزاز کھیل کے میدان میں نہیں دیا جاتا تھا۔ سچن کو یہ اعزاز دینے کے لیے پہلے قوانین میں تبدیلی کی گئی تھی۔
راجیو گاندھی کھیل رتن ایوارڈ واحد کرکٹ کھلاڑی ہیں۔
سن 2008 میں وہ پدم وبھوشن سے بھی صلہ ریٹویٹ جا چکے ہے۔
(حوالہ:مواد ماخوذ سچن تیندولکرویکیڈیا)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *