آرٹی آئی میں پوچھا! کھاتے میں 15لاکھ روپے آنے کی تاریخ کیاہے؟

pm-modi
آرٹی آئی کے تحت وزیراعظم آفس سے ایک ایساسوال پوچھا گیا جس کا جواب دینے سے منع کردیاگیا۔آرٹی آئی کے ذریعہ پوچھا گیاکہ وزیراعظم نریندرمودی نے 15لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیاتھا اس کی تاریخ کیاہے۔اس سوال کے جواب میں پی ایم او نے کہاکہ یہ سوال مرکزی اطلاعات کمیشن کے تحت نہیں آتاہے۔اس لئے اس کا جواب نہیں دیاجاسکتا۔آرٹی آئی کے ذریعہ یہ جانکاری موہن شرما نامی شخص 26نومبر2016کومانگی تھی۔ وزیر اعظم کے دفتر نے مرکزی اطلاعات کمیشن کیلئے یہ درخواست نوبندی کے 18دن بعد دیاگیاتھا۔
خیال رہے کہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران انتخابی مہم میں وزیر اعظم نریندر مودی نے وعدہ کیا تھا کہ ہر ایک کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے آئیں گے۔ موہن کمار شرما نے اس معاملے پر آرٹی آئی ڈالی، جس میں انہوں نے پوچھا کہ وہ رقم ان کے کھاتے میں کب آئے گی ۔انہوں نے لوگوں کے اکاؤنٹس میں 15 لاکھ روپئے جمع ہونے کی تاریخ پوچھی تھی۔ اس کے جواب میں وزیر اعظم کے دفتر نے مرکزی اطلاعات کمیشن سے کہا کہ آرٹی آئی ایکٹ کے تحت اس کی معلومات نہیں دی جا سکتی ہے۔
دراصل موہن شرما نے چیف انفارمیشن کمشنر آر کے ماتھر کو شکایت کہ پی ایم اواور آربی آئی نے انہیں مکمل تفصیلات نہیں دیں۔ سی آئی سی ماتھر نے بتایاکہ پی ایم او کی جانب سے درخواست دہندہ کویہ جانکاری دی گئی کہ ان کی جانب سے آرٹی آئی کے ذریعہ مانگی گئی آر ٹی آئی ایکٹ کے سیکشن 2 (ایف) کے تحت معلومات کے دائرے میں نہیں آتی ہے۔
وزیر اعظم دفتر کے مطابق، درخواست گزار نے دوسری چیزوں کے علاوہ یہ معلومات بھی مانگی تھی کہ وزیر اعظم کے وعدے کے مطابق لوگوں کے اکاؤنٹس میں کب 15 لاکھ روپے ڈالے جائیں گے ۔یہ معلومات آر ٹی آئی قانون کی دفعہ 2 (ایف) کے تحت اطلاعات کے دائرے میں نہیں آتی۔بہرکیف آر ٹی آئی قانون کی اس دفعہ کے مطابق، معلومات سے مطلب ریکارڈ، دستاویزات،ای میل، پریس ریلیز، سرکلرس، آرڈرس، لاگبکس، رپورٹیں، پیپرز، نمونہ، ماڈلس سمیت کسی بھی شکل میں رکھی مواد سے ہے۔ ساتھ ہی جانکاری نجی ادارے سے منسلک ہوسکتی ہے جس میں کسی بھی قانون کے تحت عوامی اتھارٹی تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔
بتا دیں کہ 2014 میں انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے پی ایم عہدہ کے امیدوارنریندر مودی نے کہا تھا کہ جب بیرون ملک کالا دھن ملک میں واپس آ ئے گا تب ہر ہندوستانی کو 15 لاکھ روپے ملیں گے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *