والد کی رحلت پر ’چوتھی دنیا‘ اردو کا رکن رضی احمد کے تاثرات

25مارچ2018 بروزاتوار میرے لیے سب سے المناک دن تھا۔ وہ دن یاد آتے ہی روح کانپ جاتی ہے۔ یہ وہ دن تھا جسے میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ وہ غضبناک دن مجھے زندگی بھر کے لیے گہرا زخم دے گیا۔یہ وہ غمناک دن تھا جب میرے اوپر سے رحمت و شفقت کا سایہ یعنی والد محمد طاہر حسین صاحب کا سایہ ہمیشہ ہمشیہ کے لیے اٹھ گیا۔ اسے اتفاق ہی کہیے کہ مجھے اسی دن صبح ساڑھے سات بجے کی ٹرین سے اپنے والد محترم سے ملنے کے لیے جانا تھا لیکن میری ٹرین لیٹ ہوگئی اور میرے والد اسی شام 5بجے یہ کہتے ہوئے اپنے مالک حقیقی کے پاس چلے گئے کہ’ اب میرے پاس وقت نہیں رہا، میرا بلاوا آگیا ہے۔ سب لوگ مجھے معاف کردیں اور میں نے بھی سب کو معاف کردیا۔‘
موت کا یہ منظر شاید ہی پہلے کبھی سنا گیا ہوگا یا دیکھا گیا ہوگا کہ جیسے کوئی حج کے سفر کے لیے جاتا ہے اور سب سے ملاقات اور بھول چوک کی معافی تلافی کرتا ہے اور ایک دوسرے کو دعائوں کے لیے کہتا ہے۔ میرے والد صاحب کی موت کا یہ رواں منظررہا۔ جن لوگوں سے ان کازندگی میں واسطہ رہا، لگ بھگ ان سبھی لوگوں کو بلاکر وہ پنی غلطیوں کی اور بھول چوک کی معافی مانگتے رہے اور خود بھی سب کو معاف کرتے رہے۔ اس دوران وہ مسلسل کلمہ طبیہ کا ورد کرتے رہے اور اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو بھی کلمہ پڑھنے کی صلاح دیتے رہے ۔ ۔ ظہر کی اذان ہوئی تو انھوں نے تیمم کرکے ظہر کی چار رکعت نماز فرض اد کی اور پھر کلمہ کا ورد کرتے ہوئے اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

میرے والد محترم صوم وصلوٰۃکے پابند تھے۔ وقت پر نماز ادا کرتے تھے۔ حق گوئی سے نہیں کتراتے تھے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اسلامی طریقے سے گزاری۔ کسی سماجی ریت و رواج کو، جو اسلام کے خلاف ہوتے تھے، بالکل قبول نہیں کرتے تھے۔ خاص طورپر شادی بیاہ وغیرہ میں گھر کی عورتوں اور بچوں کو ہمیشہ نماز کی تلقین کرتے تھے ۔ بچوں سے انھیں بہت لگائو تھا۔ وہ بہت ہنس مکھ اور ملنسار انسان تھے۔ان کی زندگی میں کافی اتار چڑھائو آئے لیکن صبر کا دامن نہیں کبھی نہیںچھوڑا۔ گزشتہ کافی عرصے سے تبلیغ سے جڑے ہوئے تھے اور گاہے بگاہے چالیس دن اور چار مہینے کی جماعت (تبلیغی جماعت) میں بھی جاتے تھے۔ طریقت سنت کے خلاف کبھی بھی سمجھوتا نہیں کرتے تھے۔ وہ نیک دل اور شریف النفس انسان تھے۔ ان کی موت پورے علاقہکے لئے بہت بڑا خلا ہے، جوپُر نہیں ہوسکتا ۔ ان کی شخصیت کی سادگی قابل تعریف تھی۔وہ ہمیشہ سب کے دلوں میں زندہ رہیںگے۔
والد محترم کے اوصاف کے بارے میں لکھنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔ مجھے یقین ہی نہیں ہوتا کہ وہ اب ہمارے بیچ میں نہیں ہیں۔ وہ مجھے ہر لمحہ یاد آتے ہیں۔ لیکن یہ دنیا فانی ہے۔ کل نفس ذائقۃ الموت۔ لیکن مجھے ہمیشہ اس بات کادکھ رہے گا کہ میں اپنے والد مرحوم کے لیے کچھ نہیں کرسکا۔ ان کی زندگی میںان کا دیدار نہ کرسکا۔ یہ میری قسمت ہی تھی کہ جس دن مجھے ان سے ملنے جانا تھا، اسی دن ان کا بلاوا آگیا اور وہ یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ ’میرے پاس وقت نہیں ہے میرا بلاوا آگیا ہے۔‘
بحرحال میں اپنے پورے خاندان کے ساتھ تدفین سے قبل اسیانی گائوں (پورنیہ) پہنچ گیا تھا۔ ان کے آخری سفر میں پورے طورپر شریک رہا۔ پسماندگان میں ہمشیرہ بی بی امینہ خاتون، اہلیہ بی بی فاطمہ چار بیٹے سرپنچ ذکی احمد، رضی احمد، شجیع احمد، وصی احمد اور چار بیٹیاں نکہت پروین، نزہت پروین، فرحت پروین اور رفعت پروین شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہم سب پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *