آئی پی ایل میں مسٹری بالر بنے ہیں راشد خان

Rashid-khan
آئی پی ایل میں افغانستان کے 19 سالہ نوجوان لیگ اسپنر راشد خان کی گیند بازی کا جادو سر چڑھ کربول رہا ہے۔ بڑے بڑے اچھے بلے باز ان کی پھر کی کے آگے گھٹنے ٹیکتے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے اپنی بالنگ سے سبھی کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مداحوں کی تعداد لگاتار بڑھتی ہی جارہی ہے۔ حال ہی میں ان کے مداحوں کی لسٹ میں ایک نیا نام شامل ہوا ہے۔ یہ نیا نام ہے ہندوستان کے مشہور اور تجربہ کار آف اسپنر ہربھجن سنگھ کا۔ ہربھجن بھی راشد کی پھرکی کے گرویدہ ہوگئے ہیں۔
راشد خان آئی پی ایل میں سن رائزرس کی ٹیمکی طرف سے کھیلتے ہیں۔ گزشتہ جمعرات کی رات جب سن رائزرس حیدرآباد، ممبئی انڈینس کے خلاف میچ کھیل رہا تھاتو ہربھجن سنگھ نے ٹویٹ کرکے راشد خان کی جم کر تعریف کی۔یہاں تک کہ انھوں نے آسٹریلیا کے سابق مایہ ناز لیگ اسپنر شین وارن سے بھی اس بارے میں رائے معلوم کی ۔ ہربھجن سنگھ نے ٹویٹ کیا، ’’راشد خان میں کتنی خود اعتمادی ہے۔ ٹاپ کوالٹی ہنر، خود اعتمادی ، یہ ایک چمپئن بالر ہے، آپ کیا کہتے ہو شین وارن؟اس پر راشد خان نے ہربھجن سنگھ کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے لکھا،’’تھینک یو پاجی۔‘‘
جمعرات کی رات ممبئی انڈینس کے خلاف حیدرآباد کے راجیو گاندھی انٹر نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں راشد نے چار اووروں میں صرف 13 رن دیے اور ایک وکٹ حاصل بھی حاصل کیا۔ انھوں نے اپنی فلائٹ، رفتار میں تبدیلی اور پھرکی سے ممبئی انڈینس کے بلے بازوں کو بہت زیادہ پریشان کیا۔ ان کی گیند بازی کا اندازی اس حساب سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اپنے چار اووروں میں18 ڈاٹ بالز پھینکیں اور بقیہ بالوں میں محض 13رن دے کر ایک وکٹ بھی جھٹک لیا اور اسی کارکردگی کی بنیاد پر انھیں مین آف دی میچ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔
عیاں رہے کہ اس میچ میں سن رائزرس حیدرآباد نے ٹاس جیت کر ممبئی انڈینس کو پہلے بلے بازی کی دعوت دی تھی۔ ممبئی انڈینس نے 20 اووروں میں8 وکٹ پر 147 رن بنائے۔ جواب میں148رنوں کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے سن رائزرس حیدرآباد نے اپنے نو وکٹ گنوادیے اور آخری اوور میں ایک وکٹ سے یہ میچ جیتنے میں کامیاب ہوسکی۔
افغانستان کے نوجوان لیگ اسپنر راشد خان کی عمر ابھی محض 19 سال ہے اور انڑ نیشنل کرکٹ میںآئے ہوئے انھیں ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا ہے ، لیکن وہ بلے بازوں کے لیے مسٹری بالربنے ہوئے ہیں۔ ماہرترین اور تجربہ کار بلے باز ان کی گیند کونہیں پڑھ پارہے ہیں او رانھیں سنبھل کر کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ٹی 20- کے مقابلے میں اگر کوئی گیند باز اپنے چار اووروں میں 18 ڈاٹ بالیں ڈالے اور صرف 13 رن دے، تو پھر بلے بازاس کے سامنے کیسے جوجھ رہے ہوں گے، اس کا اندازہ آسانی کے ساتھ لگایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راشد خان کو اس پرفارمنس کے لیے مین آف دی میچ ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *