تحریک مواخذہ کوخارج کرنا ،آئین کونظر اندازکرناہے:سرجے والا

surjewala
راجیہ سبھا کے چیئر مین اور نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو کی جانب سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ لائے گئے تحریک مواخذہ کی تجویز کو خارج کرنے کو کانگریس لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا نے آئین کو نظر اندازکرنے کے مترادف قرار دیا ہے ۔ سرجے والا نے پیر کو ٹوئٹ کرکے کاہ کہ نائب صدر جمہوریہ نے اس قدم کو اٹھا کر معاملے کی سنگینی کو تار تار کرتے ہوئے آئین کے تئیں اپنی عہدہ بستگی سے منہ موڑ لیا ہے ۔سرجے والا کے مطابق نائب صدر جمہوریہ کے پاس نہ تو نصف عدالتی طاقت ہے اور نہ ہی انتظامی افسر پھر انہوں نے تجویز کوکس بنیاد پر خارج کر دیا۔ سرجے والا نے اپنے ایک دیگر ٹوئٹ میں نائب صدر جمہوریہ پر حملہ بولتے ہوئے کاہ کہ تجویز کی خوبی اور خامی کا تعین نائب صدر جمہوریہ کے دائرہ اختیار سے باہر کا ہے ۔ اب صحیح معنوں میں یہ جمہوریت کومحفظ رکھنے والے اور جمہوریت کو منہدمکرنے والی طاقتوں کے درمیان کی لڑائی ہے ۔ اپنے ایک دوسرے ٹوئٹ میں سرجے والا نے کہا ہے کہ تجویز سونے جانے کے کچھ گھنٹے بعد ہی راجیہ سبھا کے لیڈر اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی جانب سے اس تجویز کو ری وینج پٹیشن کہا جانا اپوزیشن پارٹیوں کے تئیں ان کے تعصب کو ظاہر کرتا ہے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *