معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام لیبیا کے صدارتی امیدوار

Saiful-Islam

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے؟
سیف الاسلام کی شخصیت ہندوستان کے لئے اجنبی نہیں ہے۔جب یہ کرنل قذافی کے دور میں یہاںتشریف لائے تھے تو ایسا لگا تھا کہ مستقبل کا حکمراں آیا ہے۔ لہٰذا ان کے صدر کے طور پر امیدوار بننے سے ہندوستانیوں میں خصوصی دلچسپی پائی جارہی ہے اور اردو میڈیا کے لئے یہ زینت بنے ہوئے ہیں۔
لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے بارے میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ وہ رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں ایک امیدوار ہوں گے۔وہ لیبیا کی پاپولر فرنٹ پارٹی کی نمائندگی کریں گے۔یہ باتیں انہوں نے پڑوسی ملک تیونس میں ایک پریس کانفرنس میں کہی۔کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ وہ قومی مفاہمت، دوسروں کو قبول کرنے اور ملک کی تعمیر نو کے لیے کام کریں گے۔ اس کے ساتھ وہ ملک میں استحکام کے لیے ایک صدر اور ایک حکومت کے قیام پر توجہ مرکوز کریں گے۔

 

 

 

 

اب وہ اس الیکشن میں کس حد تک کامیاب ہوں گے یہ تو انتخابی نتائج ہی بتائیں گے لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ اگر وہ انتخابات میں اترتے ہیں تو انھیں ان کے والد کی وراثت کا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ لیبیا میں معمر قذافی کے بعد سے امن و امان پوری طرح بحال نہیں ہو سکا ہے۔انہیں اپنے والد معمر قذافی کے دور میں کسی سرکاری عہدہ پر نہ ہوتے ہوئے بھی ملک کا سب سے طاقتور فرد سمجھاجاتا تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کرنل معمر قذافی کے خلاف بغاوت تک شاندار انگریزی بولنے والے سیف الاسلام لیبیا کی حکومت کا اصلاح پسند چہرہ بھی تھے۔
کرنل قذافی کی9 اولادوں میں سے دوسرے نمبر پر آنے والے سیف الاسلام نے بغاوت کے دوران کئی مرتبہ خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے باغیوں کو ’شرابی، بدمعاش اوردہشت گرد‘ تک کہہ ڈالا تھا۔باغیوں کے طرابلس میں داخل ہونے کے چند گھنٹے پہلے بھی انہوں نے ملک کے سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’ہم اپنی زمین پر ، اپنے ملک میں ہیں۔ ہم لڑتے رہیں گے، چھ ماہ تک ، ایک سال تک ، دو سال تک ‘۔بعدازاں باغیوں نے انہیں پکڑنے کا دعویٰ کیا لیکن پھر وہ نعرے لگاتے اپنے حامیوں کے ساتھ طرابلس کے باہر ایک ہوٹل پہنچے جہاں بین الاقوامی صحافی ٹھہرے ہوئے تھے۔ پھر انہوں نے تقریر کی جس سے لگا کہ وہ اپنی جیت کے بارے میں مطمئن ہیں۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس وقت کیا واقعی ان کو پکڑا گیا تھا یا وہ بھاگ کر باہر آ گئے تھے یا یہ کہ انہیں پکڑنے کا دعوی ہی سچ نہیں تھا۔
سیف اس سے قبل مسلسل یہ کہتے رہے کہ لیبیا میں جمہوریت ضروری ہے اور انہوں نے مغرب کے ساتھ 2000 سے لے کر 2011 تک کی بغاوت کے درمیان مفاہمتی کوششوں میں اہم کردار ادا بھی کیا۔قذافی خاندان کی خیراتی تنظیم کے سربراہ کے طور پر اور مبینہ طور پر اربوں ڈالر کی املاک والے’ لیبیائی سرمایہ کاری اتھارٹی‘ کے سربراہ کے طور پر ایک بہت بڑی رقم کا کنٹرول ان کے پاس تھا جس کا استعمال انہوں نے مغرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کیا۔

 

 

 

 

اقتدار وراثت نہیں

سیف نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا کہ وہ اپنے والد کی اقتدار کو وراثت میں لینا چاہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ زمامِ اقتدار کوئی کھیت نہیں کہ جو وراثت میں مل جائے۔وہ اس بات چیت کا حصہ بھی تھے جس کے بعد ان کے والد نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا پروگرام ترک کر دیا۔انہوں نے بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے طبی عملے کے ان چھ ارکان کی رہائی میں بھی ثالثی کی جن پر لیبیا کے ایک اسپتال میں بچوں کو ایچ آئی وی انفیکشن سے متاثر کرنے کا الزام تھا۔یہی نہیں بلکہ ان کی ثالثی کی صلاحیتیں 1988 کے لاکربی دھماکے، 1986 کے برلن نائٹ کلب حملے اور 1989 کے یو ٹی اے طیارے کی تباہی کے واقعات میں متاثر ہوئے کنبوں کو معاوضہ دلانے کے معاملات میں بھی سامنے آئیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 2009 میں لاکربی دھماکوں کے ایک ملزم عبدالباسط مگراہی کو رہا کیے جانے کے متنازعہ فیصلے سے جڑی بات چیت میں بھی وہ شامل تھے۔ان معاہدوں کے بعد جہاں لیبیا پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں کمی آئی وہیں سیاسی اور اقتصادی پلیٹ فارمز پر سیف الاسلام کی اہمیت کی وجہ سے یہ لگنے لگا کہ لیبیا میں تبدیلی کا دور شروع ہو رہا ہے۔

 

 

 

وہ ایک تربیت یافتہ انجینئر ہیں۔ لندن میں ان کا ایک گھر ہے اور ان کا تعلق برطانیہ کی سیاسی شخصیات سے لے کر شاہی خاندان تک رہے ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سیف نے دو شیر پالے ہوئے تھے اور وہ صحرا میں بازوں کی مدد سے شکار کے شوقین ہیں۔ ساتھ ہی کہا جاتا ہے کہ انہیں پینٹنگ کرنے کا بھی شوق ہے۔سیف نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا کہ وہ اپنے والد کے اقتدار کو وراثت میں لینا چاہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ زمامِ اقتدار کوئی کھیت نہیں کہ جو وراثت میں مل جائے۔انہوں نے سیاسی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا تھا اور یہی ان کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے مقالے کا موضوع بھی یہی تھا جو انہوں نے لندن سکول آف اکنامکس سے حاصل کی تھی۔ظاہر ہے ان کا بیک گرائونڈ اچھا ہے اور دوسری طرف معمر قذافی کے بعد لیبیا کی جو بدحال سیاسی،معاشی حالت ہے ۔ایسے ماحول میں اگر وہ الیکشن میں کھڑے ہوتے ہیں تو یقینا جیت سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *