راجستھان اور چھتیس گڑھ میں پنچایت انتخابات خواتین کررہی ہیں کمال

جب سے پنچایتی راج الیکشن میںخواتین کی 50 فیصد حصہ داری ریزرویشن کے ذریعہ مقرر ہوئی ہے تب سے خواتین کا سرگرم سیاست میں کردار گاؤں-گاؤں میںدیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایسی ہی ایک خاتون ہیں راجستھان کے جھن جھنوں ضلع کی نول گڑھ تحصیل کی کولسیا پنچایت کی سرپنچ محترمہ وملا دیوی، جو اپنے حقوق کے تئیں ہمیشہ باخبر رہی ہیں۔ یہ اپنی ذمہ داریوںکو بخوبی نبھاتی ہیں۔ وملا دیوی نے دسویں کلاس تک تعلیم حاصل کی ہے۔ دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد سماجی دباؤ کے آگے ان کے والد کو بھی جھکنا پڑااور انھوں نے وملا دیوی کی شادی کرکے گھر خاندان کی ذمہ داریوں میںمصروف کردیا۔ سسرال کی اقتصادی حالت اچھی نہ ہونے اور بیداری کی کمی کی وجہ سے وملا دیوی اپنی تعلیم کو آگے نہیں بڑھا سکیں۔ تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کی پرورش کرتے ہوئے وہ ایک کامیاب خاتون خانہ بن کر رہ گئیں۔
وملا دیوی کی کامیابی
2015کے پنچایتی راج الیکشن میںوملا دیوی نے ایک بیدار خاتون کی مانند گھر خاندان میںصلاح و مشورہ کرکے سرپنچ کے لیے امیدوار بننا قبول کرلیا۔ الیکشن میںسات خواتین امیدواروں کو پیچھے دھکیل کر انھوںنے جیت درج کی۔ وملا دیوی نرم گفتار ہیں اور سماج کے ہر طبقے کے لوگوں کے خوشی و غم میں برابر شریک ہوتی ہیں۔ انھو ں نے اپنی پہچان پنچایت کی سب سے زیادہ مقبول خاتون کے طور پر بنائی ہے، جس کا فائدہ انھیں 2015 میں سرپنچ کے الیکشن میںملا۔
حال میںوملا دیوی ایک کامیاب نمائندے کے طور پر گاؤں کی ترقی کو نئی سمت دینے کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہیں۔ سرپنچ بننے کے بعد انھوں نے پنچایت میںمتعدد ترقیاتی کام کیے ہیں، جس کا فائدہ پنچایت کے سبھی طبقوں کے لوگوں کو ہوا ہے۔ کولسیا گرام پنچایت کے آس پڑوس کے دیگر گرام پنچایت ہیڈ کوارٹروں کو جوڑنے والی سڑکوں کی حالت انتہائی خراب تھی، جس میںپرشرام پورہ کی طرف جانے والے راستے کی حالت سب سے خراب تھی۔ خاتون سرپنچ نے کوشش کرکے ڈامری سڑک بنواکر لوگوںکو راحت پہنچائی۔ اس کے علاوہ خاتون سرپنچ نے گرام پنچایت گوٹھڑا اور کاری کے عام راستوں پر سڑک منظور کراکر لوگوں کو آنے جانے کی سہولت فراہم کی۔ حقیقت میںکولسیا گرام پنچایت کے راستوں کی حالت اتنی خوفناک تھی کہ دوسرے گاؤں کے لوگ کولسیا میں اپنی بیٹیوںکی شادی کرنا بھی پسند نہیںکرتے تھے۔
آزادی کے 70 سال بعد بھی 8 ہزار سے زیادہ آبادی والے کولسیا گرام میںلوگوں کو پینے کے پانی کے لیے رسّی، بالٹی اور مٹکوں پر منحصر رہنا پڑتا تھا۔ سرپنچ کا چارج سنبھالنے کے بعد ہی وملا دیوی نے گاؤں میںبڑا ٹینک بنوایا اور گھر گھر پائپ لائن سے پینے کا پانی پہنچا کر راحت پہنچائی۔ وملا دیوی نے پنچایت میںطبی سہولتوں کو درست کرنے کے لیے بھی ضروری اقدامات اٹھائے۔ گرام کولسیا میںکمیونٹی ہاسپٹل منظور ہوچکا تھا لیکن بلڈنگ کی تعمیر کے لیے جگہ نہ ملنے کی وجہ سے ایک پرانے مکان میںاس ہاسپٹل کو چلایا جارہا تھا۔
وملا دیوی نے گرام پنچایت کے پاس پہلے سے دستیاب زمین کے قریب والی زمین کے مالک کو بھاما شاہ کے طور پر آمادہ کیا اور بھومی دان کراکر اس کو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کردیا تاکہ کمیونٹی ہاسپٹل کی بلڈنگ تیار ہوسکے اور پنچایت کے لوگوںکو طبی سہولتیں مہیا ہوسکیں۔ بلڈنگ کی تعمیر کے لیے بجٹ مختص ہوچکا ہے اور تعمیرکاکام بھی جلدی شروع ہونے والا ہے۔ ’مکھیہ منتری جل سواولمبن یوجنا‘ کے تحت غریب و ضرورت مند خاندانوں کا انتخاب کرکے 50 سے زائد جل کنڈوں کی تعمیر کرائی، جس سے خاندان اپنی ضرورت کے مطابق پانی حاصل کرکے پانی کے مسئلے سے نجات پاسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی غریب خاندانوں کا سلیکشن کرکے انھیں ’کیٹل شیڈ ‘بنوا کر دیے، جس کی تعمیر گرام پنچایت کے ذریعہ سرکاری فنڈ سے کرائی گئی۔ اس سے غریب خاندان اپنے مویشیوں کی حفاظت کر پارہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

فلاح و بہبود کی مثال
گرام کولسیا میںبڑے ٹینک سے پینے کا پانی پہنچانے کے لیے گھر گھر پائپ لائن بچھانے کے لیے عام راستوں پر بنی سڑکوں کو توڑاگیا جس کے نتیجے میںراستے کافی خراب ہوگئے ۔پھر خاتون سرپنچ نے کوشش کرکے ایم ایل اے فنڈ اور دیگر ذرائع سے منظوری لے کر راستوں کو ٹھیک کرایا۔ گاؤں کے غریب خاندانوں کو ’سوکنیاو اجول یوجنا‘ اور بچوں کو ’پالنہار یوجنا‘ سے جوڑ کر سہولتیں مہیا کیں۔ گرام کولسیا کو شہری طرز پر تیار کرنے کے لیے گرام گورو پتھ منظور کرایا، جس سے اہم راستے پکے ہونے سے لوگوں کو کافی راحت ملے گی۔ گاؤںمیں گندے پانی کی نکاسی کے لیے وہ پکی نالیوں کی تعمیر کرارہی ہیں۔ اس کے علاوہ راستوں پر ایل ای ڈی بلب لگانے کی اسکیم کو منظوری مل گئی ہے۔ پنچایت میں لوگوں کو بیوہ پنشن، معذور لوگوںکی پنشن اور بڑھاپے کی پنشن سے جوڑنے کی کوشش لگاتار جاری ہے۔
تارا دیوی کی کامیابی
اسی طرح کی ایک جیتی جاگتی مثال جھن جھنوں ضلع کی نول گڑھ تحصیل کی بائے پنچایت کی خاتون سرپنچ محترمہ تارادیوی پونیا کی ہے۔ تارادیوی کو پنچایت میںلوگ ان کے کام کی بدولت جانتے ہیں۔ گریجویشن تک پڑھی لکھی ہونے کی وجہ سے خاتون سرپنچ اپنے حقوق و فرائض کو اچھی طرح جانتی ہیں۔ اس وجہ سے خاتون سرپنچ پنچایت میںترقیاتی کاموںکو ایک نیا آیام دے رہی ہیں۔
سرپنچ کا عہدہ حاصل کرنے کے بعد انھو ںنے سب سے پہلے خواتین کے مفادات کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ اس سمت میںقدم بڑھاتے ہوئے دیہی خواتین کی خود اور ان کے بچوںکو تعلیم کے تئیں بیدار کرنے کے مشن سے کام شروع کیا۔تارا دیوی کی یہ مہم عوامی شعور کا سیلاب بن کر آگے بڑھنے لگی جس کا نتیجہ پنچایت کے سرکاری اسکولوں میںبچوںکے سوفیصد رجسٹریشن اور حاضری کی شکل میں سامنے آیا۔ سرکاری اسکولوں کی روز بروز گرتی ہوئی حالت کو دیکھ کر تارادیوی نے اپنی قیادت کے دم پر اسکولوںکی حالت بدلنے کے لیے سخت محنت کی۔ اس کوشش کا نتیجہ 2016-17 کے امتحانی نتائج میں صاف دکھائی دیا۔ اس امتحانی نتائج میںمیںپورے جھن جھنوں ضلع میںصد فیصد نتیجے کے ساتھ ساتھ کامرس میں سب سے زیادہ 93 فیصد نمبر لانے والی طالبہ گاؤں کے سرکاری اسکول کی تھی۔ اس طرح تارادیوی نے اپنی سخت محنت اور انتھک کوششوںسے سرکاری اسکولوں میںبچوںکے گرتے رجسٹریشن کو نہ صرف روکا بلکہ شاندار رزلٹ کے ذریعہ نئی اونچائیوںتک بھی پہنچادیا۔ تعلیمی شعبے میںمثالی کام کرنے کے بعد ان کا دھیان دیہی ناخواندہ اور بے روزگار مردوںپر گیاجو بیکاری کی وجہ سے شراب، چلم،گانجہ جیسے نشے کے عادی ہورہے تھے۔ تارادیوی نے لوگوںکو بیدار کرکے گاؤںمیں شراب بندی کرائی اور پنچایت کو شراب سے پاک کرکے جھن جھنوں ضلع میںایک خاتون نمائندے کے طور پر اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ پنچایت میںجرائم پیشہ عناصر پر لگام کسنے کے لیے تارا دیوی نے ایک نئی پہل کرتے ہوئے عام راستوںاور اہم چوک پر سی سی ٹی وی کیمرے لگوائے تاکہ مجرموں پر شکنجہ کسا جاسکے۔ تارا دیوی کی اس پہل کی ضلع انتظامیہ نے خوب تعریف کی اور جرائم پر پوری طرح کنٹرول ممکن ہوسکا۔
ترقی کی راہ پر آگے بڑھتے ہوئے خاتون سرپنچ ہمیشہ اس بات کے لیے فکر مند رہتی ہیں کہ پنچایت میںلوگوںکی آمدنی کی سطح کیسے بڑھائی جائے۔ اس دوران خاتون سرپنچ کے دماغ میںایک بات آئی کہ پنچایت کی زیادہ تر خواتین صبح ہی گھر کا کام کرنے کے بعد 11 بجے سے لے کر شام 3 بجے تک بالکل خالی رہتی ہیں۔ اس وقت کا استعمال کرکے پنچایت کی خواتین اپنی آمدنی بڑھا سکتی ہیں۔ خاتون سرپنچ نے یہ بھی سوچا کہ خواتین کو اس طرح کا ہی کام ملنا چاہیے، جس کو وہ گھر پر رہ کر ہی کرسکیں۔
اسی سمت میںقدم بڑھاتے ہوئے خاتون سرپنچ نے پنچایت میںسیلف ہیلپ گروپس کی تشکیل کرکے خواتین کو بندی، بندھیج، رنگائی، چھپائی،سلائی، پشو پالن اور ڈیری وغیرہ کے کاموںکے لیے آمادہ کیا۔ اسی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج پنچایت کی زیادہ تر خواتین کسی نہ کسی کام دھندے میںلگ کر پیسے کمارہی ہیں۔ تارادیوی نے اپنی پنچایت میںنریگا کے تحت نئے نئے کام کرائے، جس میںبڑی تعداد میںخواتین اور مردوں کو روزگار ملا۔ خاتون سرپنچ کی کوششوںسے ہی خاندان کی آمدنی کی سطح بڑھی۔ اس طرح سیلف امپلائمنٹ کی معلومات حاصل کرکے دیہی خواتین نئے نئے کاروبار سے جڑ کر اپنے خاندان کی اقتصادی حالت کو مضبوطی دینے لگیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

انیتا سنگھ کے کارنامے
انیتا سنگھ نے بھی اپنی پنچایت میںاپنے کاموں کی بدولت ایک الگ مقام بنایا ہے۔ انیتا سنگھ چھتیس گڑھ کے سرگوجا ضلع کی امبیکاپور بلاک کی رجپوری خورد گرام پنچایت کی سرپنچ ہیں۔ سرپنچ کے عہدے پر یہ ان کا دوسرا ٹرم ہے۔ پہلی بار وہ 2010 میںجبکہ دوسری بار 2015 میںسرپنچ چنی گئیں۔ سرپنچ کے عہدے پر دو بار چنے جانے کی وجہ سے انھیں پنچایت کے کاموںکی اچھی معلومات ہے۔ انھوں نے پنچایت میںآنگن باڑی مراکز کی تعمیر کرائی۔ 3 آنگن باڑی مراکز کی تعمیر ہوچکی ہے اور تین کا کام پروگریس میںہے جبکہ ایک کے لیے حکومت کو تجویز دی جاچکی ہے۔ ’پردھان منتری آواس یوجنا‘ کے تحت 20-25لوگوں کو رہائش دلائی۔ روزمرہ کی زندگی کی ضرورتوں اور پینے کے پانی کے لیے 27 ہینڈپمپ لگوائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پنچایت کو ’شوچ مکت ‘ بنانے کے لیے آنگن باڑی مرکز کے تحت پنچایت میںلڑکیوں کا ایک گروپ ہے جو کھلے میں رفع حاجت کرنے والے لوگوں پر 100 روپے جرمانہ ڈالتا ہے۔ اس گروپ میں پنچایت کی چھ لڑکیاں ہیں جو صبح سات بجے سے لے کر آٹھ بجے تک پنچایت میںایسے لوگوں پر نگرانی رکھتی ہیں جو کھلے میںرفع حاجت کرتے ہیں۔ اس گروپ کو گاؤں کے لوگ ’اورینج کمانڈو ‘کے نام سے جانتے ہیں۔’ اورینج کمانڈو‘ گروپ میں شامل پونم کہتی ہیںکہ ’’ہمارے اس گروپ میںکل چھ لڑکیاں ہیں۔ ہم کھلے میںرفع حاجت کرنے والے لوگوںپر سو روپے جرمانہ ڈالتے ہیں۔ اس وجہ سے لوگ ہم سے ڈرتے ہیں۔ ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ ہورہی ہے کہ ہماری پنچایت میںاب کھلے میںرفع حاجت کرنے والے ختم ہوچکے ہیں۔ اس دستے کے لیے زیادہ تر بولنے والی لڑکیوں کا انتخاب آنگن باڑی مرکز کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پنچایت کو’ شوچ مکت ‘ بنانے میں سرپنچ کا بڑا تعاون رہا ہے۔ ان کے ذریعہ پنچایت میںاب تک 540 ٹائلٹس کی تعمیر کرائی جاچکی ہے۔
انیتا سنگھ نے اپنی مدت کار میںپنچایت کے ہاڈورپارا محلے میںپرائمری اسکول اور محلہ گھٹراپار میںمیڈیکل اسکول بنوایا ہے۔ اس کے علاوہ 2016 میںراشن کی دوکان بناکر چالو کرائی۔ رجپوری خورد کے میڈیکل اسکول کی چہار دیواری کرائی۔ نریگا کے تحت گاؤںمیںپانی کی نکاسی کے لیے پانچ نالیوں اور مینڈھ بندی کرائی۔ پنچایت فنڈ سے ہینڈ پمپ کے پاس غسل خانوں کی تعمیر کرائی تاکہ لوگ آسانی سے نہا سکیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر زیادہ لوگ ہونے کی وجہ سے پنچایت بھون کے پاس ٹائلٹس تعمیر کرائے۔ اس کے علاوہ بارش کے پانی کے تحفظ کے لیے پنچایت میںایک تالاب کو گہراکرایا۔ آج کل تالاب کے پانی کا استعمال مویشیوں کے پینے اور کپڑے دھونے میںہوتا ہے۔ پنچایت میں پرائمری سب ہیلتھ سینٹر کی تعمیر کرائی۔ 127لوگوں کا نام ’پردھان منتری آواس یوجنا‘ کی ویٹنگ لسٹ میںشامل ہے، جس میںسے 10 لوگوں کو رہائش مل چکی ہے ۔ انیتا سنگھ کے کاموں کے بارے میںپنچایت کی ایک ایم اے پاس لڑکی ودھیواشنی یادو کا کہنا ہے کہ ’’انیتا سنگھ نے پنچایت میںترقی کے بہت سارے کام کیے ہیں۔ آنگن باڑی بھون کی تعمیر کرانے کے ساتھ ساتھ پنچایت میںپانی کی نکاسی کے لیے نالیوں کی تعمیر کرائی۔ منریگا کے تحت لوگوںکو روزگار سے جوڑا۔ انھوںنے خاتون ہوتے ہوئے بھی سابق سرپنچ کے مقابلے بہت زیادہ کام کیے ہیں۔‘‘
نیلو پینکراں کی سرگرمیاں
گھریلو ذمہ داری کے باوجود نیلو پینکرا بھی اپنی ذمہ داری کو بخوبی انجام دے رہی ہیں۔ نیلو پینکرا چھتیس گڑھ کے سرگوجا ضلع کی امبیکاپور بلاک کے رنپورخورد گرام پنچایت کی سرپنچ ہیں۔ ریاست میں2015 کے پنچایتی راج اداروں کے الیکشن میںخاتون کی ریزروڈ سیٹ ہونے کی وجہ سے انھیںسرپنچ بننے کا موقع ملا۔ خاندان اور گاؤں والوں نے انھیںسرپنچ کا الیکشن لڑنے کے لیے آمادہ کیا۔ نیلو پنیکرا نے 5 حریف خواتین کو ہراکر سرپنچ کی سیٹ حاصل کی۔ نیلو پینکرا کی مدت کار میںپنچایت میںایک 150 میٹی سی سی روڈ کی تعمیر مزار سے لے کر محلہ سرناپارا تک کی گئی۔ پنچایت میںپانی کی بھاری قلت تھی۔ پنچایت میںزیادہ تر آبادی اونچائی پر آباد ہونے کی وجہ سے بورنگ کرنے میںبہت دقت ہوتی ہے۔ لہٰذا انھوںنے نچلے میںبورنگ کراکر پنچایت کے لوگوں کو پانی کے مسئلے سے نجات دلائی۔ پینے کے پانی کے لیے دو ہینڈ پمپ لگوائے۔ گرام پنچایت کے محلہ بینی پور سے تقریباً پورے امبیکاپور کو بانک ندی پر بنے پلانٹ سے پانی ملتا ہے۔ مگر رنپور خورد گرام پنچایت کو ابھی تک اس پلانٹ سے پانی نصیب نہیںہوا ہے۔ پنچایت میں3 آنگن باڑی بلڈنگ کی تعمیر ہوچکی ہے جبکہ ایک ابھی بھی زیر تعمیر ہے۔ تقریباپونے پانچ سو ٹائلٹس کی تعمیر کراکر پنچایت کو’شوچالے مکت ‘ بنانے کے لیے لگاتار کوشش ہو رہی ہے۔
ایک بات سچ ہے کہ پنچایتی راج نظام کے الیکشن میں خواتین کے 50فیصد ریزرویشن سے خواتین کی حصہ داری ضرور بڑھی ہے۔ بہت سی خواتین اس ریزرویشن کا فائدہ اٹھاکر مقامی انتظامیہ میںکافی اچھا رول نبھا رہی ہیں۔ حقیقت میں کملا دیوی، تارا دیوی پونیا، انیتا سنگھ اور نیلو پینکرا لوکل ایڈمنسٹریشن میں اپنا رول نبھا کر حقیقت میںریزرویشن کا مقصد پورا کررہی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *