فرقہ واریت کا ننگا ناچ متاثر ہورہا ہے بنگال کا کمپوزٹ کلچر

رام نومی براداران وطن کے ایک اہم مذہبی رہنما رام جی کی یوم پیدائش ہے ۔یقینا یہ دن ان کیلئے بہت ہی اہم دن ہے اور انہیں پورا حق حاصل ہے کہ وہ پورے عقیدت اور جذبے کے تحت اس دن کو منائیں ۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ تہوار صدیوں سے ہندوستان میں نہیںمنایا جاتا رہا ہے ، اس وقت کشیدگی اور گرما گرم کا ماحول کیوںنہیں ہوتا تھا اور اب کیوں ہورہا ہے؟۔آخر کس ضد میں ہتھیاروں کی نمائش کی جارہی ہے اور اس نمائش کا مقصد کیا ہے ؟ کیا کسی بھی مہذب سماج میں معصوم بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیار دینا اور ان کا استعمال اچھی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے؟ تو آخر رام نومی جیسے تہوار کو ہتھیاروں کی نمائش سے کیوں پراگندہ کیا جارہا ہے؟ آج جو ہندو انتہا پسند تنظیمیں اور بی جے پی رام نومی کے تہوار کو لے کر اس قدر ہنگامہ آرائی کررہی ہے سوال یہ ہے کہ اس سے قبل یہ جماعتیں کہاں تھیں ؟دو تین سالوں سے ہی اس تہوار کو اس انداز سے منانے کی کیوں ضرورت آن پڑی ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جس پر ہمارے سماج و معاشرہ کو ضرور غور کرنا چاہیے۔بنگال میں چار افراد کی جانیں چلی گئیں جس میں آسنسول کے نورانی مسجد کے امام مولانا امداد اللہ رشیدی کے بیٹے صبغۃ اللہ رشیدی کا قتل بھی شامل ہے۔مولانا امداد اللہ رشیدی نے بیٹے کے قتل پر صبر کرتے ہوئے پورے مسلمانوں کے غم و غصہ کو بھڑکانے کے بجائے نہ صرف خود تحمل اور برباری سے کام لیا بلکہ مسلمانوں کے جذبات کو قابو میں کرنے کیلئے پوری قوت صرف کردی اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے ۔یہ بات خودش آئند ہے کہ امام صاحب کے اس قدم کاملک بھر میں بالخصوص بنگالی میڈیا کے ذریعہ زبردست انداز میں خیر مقدم کیا گیا ۔
مغربی بنگال کے پرولیا، رانی گنج اور کانکی ناڑہ میں فرقہ وارانہ تشدد میں تین افراد کی جانوں کی ہلاکت کے علاوہ کئی پولس اہلکارزخمی ہوگئے جس میں ایک سینئر پولس آفیسر کے ہاتھ مکمل طور برباد ہوگئے ہیں ۔پولس کی پابندی کے باوجود بی جے پی ،وشو ہند و پریشد اور بجرنگ دل کا ہتھیاروں کی نمائش اور جلوس کو جان بوجھ کر مسلم علاقوں سے گزارنے کی کوشش اور مسلم مخالف نعرہ بازی یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ یہ جلوس رام جی کی عقیدت و محبت میں نہیں بلکہ سیاسی فائدہ اور پوری فضاء کو فرقہ واریت کے رنگ میں رنگنے کیلئے کیا گیا تھا ۔اس میں وہ کسی بھی حدتک کامیاب بھی ہوئے۔چوں کہ بنگال میں اگلے چند دنوں میں پنچایت انتخابات ہونے والے ہیں اور اس لیے پولرائزیشن کی کوشش کی جارہی تھی تاکہ سماج و معاشرہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے ۔اسی وجہ سے بنگال میں بی جے پی اور اس کی ہم نظریاتی جماعتوں نے رام نومی کے تہوار کے پوری شدت سے سیاسی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی ۔اس کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں تھا۔گرچہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پولس کو سخت ہدایات دے رکھی تھیں مگر اس کے باوجود جھڑپ اور تشدد کے واقعات کا رونما ہونا پولس کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے کہ پولس حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ۔
ایک طرف جہاں بی جے پی رام نومی کے تہوار کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہی تھی ، وہیں ترنمول کانگریس نے اکثریتی طبقے کے ووٹ کو پیش نظر رکھ کر رام نومی کے تہوار کو بڑے پیمانے پر منانے کا اعلان کیا ۔بادی نظرمیں یہ اچھا قدم معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی کو روکنے کی ترنمول کانگریس نے اسی انداز میں جواب دینے کی کوشش کی ہے۔مگر ترنمول کانگریس کے اس رویہ کا تجزیہ ووتحلیل کیا جائے تو یہ بہت ہی خطرناک قدم ہے اور ملک کی سیکولر ازم کیلئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے ۔کوئی بھی جمہوری اور سیکولرملک میں حکومت اور مذہب کا تعلق جدا گانہ ہوتا ہے ۔مذہب مکمل طور پر غیر سیاسی ہوتا ہے ۔سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہوداور ملک کی ترقی پر توجہ دے جب کہ ملک کے باشندے کو اپنے عقیدہ و مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہوتی ہے ۔مگر جب سیاسی جماعتیں ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح بہود پر توجہ دینے کے بجائے مذہب کا سہارا لینے لگے تو اس وقت خلفشار او ر بدامنی پھیلنا لازمی ہے ۔بنگال میں جو کچھ ہوا وہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان رام نومی کو لے کر مقابلہ آرائی تھی ۔اس میں سبقت لے جانے کیلئے کوئی گروہ مسلمانوں کے محلہ میں داخل ہوکر ہنگامہ آرائی کرنے لگا اور اس کے بعد خلفشارہونا یقینی تھا۔دوسرے یہ کہ جولوگ آج بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیار دینے کی وکالت کررہے ہیں انہیں یہ بات آج سمجھ میں نہیں آئے گی مگر جب ان بچوں میں سے کوئی انہی تلواروں کا غلط استعمال کرے گا تو پھر بات سمجھ میں آئے گی۔بندوق کلچر کے نقصانات کیا ہیںوہ ہمیں امریکی اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات سے سبق لینے کیلئے کافی ہیں ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مغربی بنگال کا الگ کلچر
بنگال میں ہنگامہ آرائی ،آر ایس ایس کی تگ دو اور بی جے پی کی بنگال کو فتح کرنے کی بے قراری کی وجہ یہ ہے کہ ہندی بولنے والوں اوربنگلہ والے ہندئوں کے ذہن و دماغ اور آئیڈیالوجی میں بہت ہی زیادہ فرق ہے۔ہندی بولنے والوں کی طرح بنگالی ہندئوں کی اکثریت ’’ہندتو‘‘ پر یقین نہیں رکھتے ہیں ۔چناں چہ ساری کوششیں اسی ذہنیت کو تبدیل کرنے کی ہے ۔جس طریقے سے بنگال کی سیکولر سیاسی جماعتیںہندتو کے سامنے خودسپردگی کررہی ہے ۔اس سے لگتا ہے کہ کسی حد تک آر ایس ایس کی مہم کامیاب ہورہی ہے۔تاہم بنگالی کلچر میں آر ایس ایس اور بی جے پی کی جارحانہ مہم کیلئے کوئی زیادہ گنجائش نہیں ہے کہ بنگالی پہلے بنگالی ہیں بعد میں ہندو اور مسلمان ہیں ۔
بنگال میں ایک مشہور مقولہ ہے’’بارو ماشے تیرو پربون‘‘یعنی 12مہینے میں تیرہ تہوار ہیں ۔جس میں سے بیشتر ہندی بولنے والی ریاستوں سے مختلف ہے۔جیسے رام نومی کا تہوار بنگال میں زیادہ مشہور نہیں رہا ہے ۔اس دن بنگال میں انا پرنا پوجا منایا جاتا ہے جو ’’شکتی ‘‘ سے ماخوذ ہے ۔مگر گزشتہ دو سالوں سے بی جے پی اور آر ایس ایس جارحانہ انداز میں منارہی ہے اور یہ کوشش ہے کہ بنگالی کلچر وتہذیب کو ختم کرنے کی ہے۔بنگالی تہواروں کا تعلق کلچر سے اور اس کی شروعات بدھشٹ کے دور میں ہوئی ہے ۔بنگالی زبان 1000-12000عیسوی کے درمیا ن سنسکرت اور مگھادھی پراکرتی سے جنمی ۔بنگالی تہواروں میں فیمینیز م کا اثر ہے ۔اس لیے یہاں کے مشہورتہواروں میں ’’ماں درگا پوجا، ماں کالی پوجا؟ شامل ہیں ۔بنگال میں ہی سب سے پہلے ستی کے خلاف ایشور چندرا ودیا ساگرنے مہم چلائی تھی ۔اس کے علاوہ بنگال میں کئی ایسی شخصیات پیدا ہوئی ہیں جنہوں نے قدامت پسندی ، تنگ خیالات کے خلاف جد و جہد کی اور سماجی اصلاحات ، سائنسی اورلٹریچر کو فروغ دیا ۔اس کے علاوہ بنگال میں غیر برہمن دیوتائوںجس میں دھرما، ٹھاکر ، شاستی ، مانشا ، چاندی ، شیتلا ، بسنتی اور بونی بیبی کی پوجاکی جاتی ہے ۔
بنگال کا یہی وہ کلچر و تہذیب ہے کہ اب تک آر ایس ایس اور بی جے پی ہندتو کی مہم کو خاص کامیابی نہیں ملی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بنگال میں رام نومی کے موقع پر جارحانہ انداز میں جلوس نکالنے اور اس میں ہتھیار وں کی نمائش کازور بھی اسی وجہ سے دیا گیا تاکہ بنگالی کلچر کو ختم کرکے رام کی حیثیت کو اجاگر کردیا جائے ۔یہی وجہ ہے کہ آ ر ایس ایس کے خیمے میں ان دنوں ایک نعرہ کی گونج ہے ’’نہ درگا ، نہ کالی کیول رام اور بجرنگ بلی‘‘۔
اس پورے فسادات کے دوران ریاست کے دوبڑے عہدیداران کا رویہ حیرت انگیز رہا ۔ایک طرف گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی حکومت کے صلاح کو درکنار کرتے ہوئے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کرنے پہنچ گئے مگر وہ صرف ہندئوں کے علاقے میں گئے اور مسلم فساد متاثرین سے ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔دوسری طرف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اس پورے معاملے میںنہ صرف خاموشی اختیار رکھی بلکہ دلتوں کے بھارت احتجاج کے دوران پانچ افراد کی موت پر ٹوئیٹ کرنے والی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے فسادات میں مرنے والے چار افرادکے اہل خانہ سے تعزیت کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جبکہ مولانا امداداللہ رشیدی کے تحمل و صبر اور ناراض مسلمانوں کو سنبھالنے کی کوشش کی ہر طرف پذیرائی ہورہی ہے مگر ہماری وزیر اعلیٰ بالکل خاموش رہیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *