آفریں ، صد آفریں امام امداد الرشیدی !

بنگال کے معروف تاریخی شہر آسنسول کی نورانی مسجد کے امام وخطیب امداد الرشیدی نے گزشتہ 25 مارچ کو بھڑکے فرقہ وارانہ فساد میںاپنے 16 سالہ لخت جگر صبغت اللہ رشیدی کو کھونے کے بعد صبرو ضبط کی جو مثال پیش کی ہے، وہ تاریخ میںہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئی ہے۔ انھوں نے گزشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل سے پہلی مرتبہ بات کرتے ہوئے جو انکشاف کیاہے، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انسانیت ابھی مری نہیںہے اور ایسے لوگ ابھی ملک میںموجود ہیں جو اپنے لخت جگر کو کھو کر بھی انسانیت کو نہیںبھولتے اور ہندو – مسلم اتحاد ان کے لیے ہمیشہ مقدم ہوتا ہے۔ وہی ہندو – مسلم اتحاد جس کے تعلق سے مولانا آزاد نے ایک بار کہا تھا کہ ’’اگرآسماں سے کوئی فرشتہ اتر کر آئے اور قطب مینار کی بلندیوں سے آواز دے کر کہے کہ ہندو – مسلم اتحاد کو ترک کردو تو 24 گھنٹے کے اندر تمہیں سوراج مل جائے گا۔ تب میںہمیشہ ترجیح اول میںرکھنے والے سوراج کو لینے سے انکار کر دوں گامگر (ہندو مسلم اتحاد کے) اپنے موقف سے ایک انچ بھی نہیںہٹوںگا۔ کیونکہ سوراج کے انکار سے صرف ہندوستان متاثر ہوگا جبکہ ہمارے اتحاد کے ختم ہونے سے پوری انسانی دنیا کا نقصان ہوگا۔‘‘
ملاحظہ ہو مولانا امداد الرشیدی کے چند جملے جو کہ ان کے صبر کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہیں: ’’رام نومی کے دن میرا بیٹا صبغت اللہ رشیدی نماز پڑھ رہا تھا کہ تبھی باہر شور و شرابہ ہوا، لوگوںکے چلانے کی آواز آرہی تھی۔ وہ باہر دیکھنے گیاکہ معاملہ کیاہے۔ تبھی بھیڑ میںغائب ہوگیا۔ ہم تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ فساد کے دوران باہر نکلا ہر شخص فسادی نظر آتا ہے۔ اس کی تلاش میںنکلے بڑے بیٹے کو پولیس نے پکڑ لیا۔ کسی طرح سے اس کو چھڑایا۔ آئندہ صبح اسپتال سے ایک فون آیا کہ ایک نوجوان کی لاش ملی ہے، اس کی شناخت کے لیے کسی طرح خود کو سنبھالتے ہوئے وہاں پہنچا تو دیکھا کہ وہ میرا بیٹا ہی تھا۔ میرا بیٹا 16 سال کا نوجوان او ر مضبوط تھا، اسے بے رحمی سے مار گرایا تھا، ناخن توڑ دیے گئے تھے اور اس کے بعدآدھا جسم جلا ہوا تھا۔ میرے بیٹے کو اس طرح سے مارا گیا تھا کہ اسے دیکھنا بھی کوئی برداشت نہیںکرسکتا۔ بیٹے کی ایسی حالت کو دیکھ کر میںتڑپ اٹھا، بری طرح رونے لگا۔ تبھی خیال آیا کہ میںصرف ایک باپ نہیںبلکہ ایک مسجد کا امام و خطیب بھی ہوں۔ میرے آنسو لوگوںکے غصے کا سیلاب بن سکتے ہیں۔ اگر میںروتا تو پہلے جل رہا شہر مکمل طور پر جل کر راکھ ہوجاتا۔ میںنے اپنے آنسو پونچھ لیے اور باہر نہیں آنے دیے بلکہ میںنے لوگوںسے انتقام کا جذبہ نہ رکھنے کی اپیل کی۔بیٹے کی موت کے بعد ہزاروںلوگ میرے پاس آئے،سبھی برہم تھے۔ انھیںسمجھایا کہ بیٹے کی موت پر ذرا بھی تشدد ہوا تو شہر چھوڑ دوںگا۔پھر میری اس اپیل کا اثر بھی ہوا۔ میرے بیٹے کی موت کو آج کئی دن گزر گئے۔ وقت بہت بڑا مرہم ہے۔ اندر سے زخم چاہے جتنا زندہ رہے، باہر سے سوکھتا نظر آتا ہے۔میںروز مسجد جاتا ہوں، تسلی دینے والوںسے ملتا ہوں، بات کرتا ہوں لیکن ایک لمحہ کے لیے بھی بیٹے کا چہرہ میری آنکھوںسے اوجھل نہیںہوتا۔ خود کو یہ سوچ کر تسلی دیتا ہوں کہ اس کی عمر اللہ نے بس اتنی ہی لکھی تھی۔ ملاقاتیوں کے دلاسوں سے خود کو سمجھا لیتا ہوں لیکن اس کی ماں کی حالت خراب ہے۔ میرے پاس کہنے کے لیے الفاظ ہیں مگر اس کے پاس صرف آنسوؤںکا پیغام ہے۔ کوئی اس کے سوا بھلا کر بھی کیا سکتا ہے جس کا ہنستا بولتا بیٹا اچانک یوںدنیا چھوڑ جائے۔ باہر لوگوںکو سمجھا لیتا ہوں لیکن ان آنسوؤں کے سامنے تسلی کے الفاظ بھی کہاںسے لاؤں؟ خیر اس بات سے خود کو تسلی دیتا ہوں کہ اللہ نے ابھی ہمیںہمارے صبر کا حوصلہ دے دیا۔ بدلے کی آگ نہیں بھڑکی بلکہ وہ لوگ بھی شرمندہ ہوںگے، جنھوں نے اس بچے کے ساتھ ایسا بہیمانہ برتاؤ کیا۔ اب بس اس کے میٹرک کے رزلٹ کا انتظار ہے۔ اس نے بڑی محنت و لگن سے اپنے امتحان دیے تھے۔‘‘

 

 

 

 

 

 

 

 

آفرین، صد آفریں، امام امداد الرشیدی جنھوں نے صبر کا اعلیٰ نمونہ اپنے لخت جگر کی ناقابل دید لاش کو دیکھ کر پیش کیا۔ ان کا یہ صبر و ضبط صرف ایک شہر ہی کو نہیں پوری انسانیت کو بچا گیا۔ ایسے لوگ کرہ ارض کے لیے نمک کی حیثیت رکھتے ہیں جو خود غم سے نڈھال ہوکر پرسا کرنے والوںکے آنسوؤں کو روکتے ہیں اور انتقام کے کسی جذبے کو دوسروں کے دل و دماغ سے ختم کردیتے ہیں۔
خبر آئی کہ گورنر بنگال کیسری ناتھ ترپاٹھی فساد کے دوران آسنسول تشریف لے گئے مگر انھوں نے وہاں صرف ہندو علاقوں کا دورہ کیا جو کہ اس دوران متاثر ہوئے تھے۔ وہ علاقے جہاں مسلمان متاثر تھے، وہاں ان کا جانا نہیںہوا۔ وہ نہ امام رشیدی کے پاس گئے اور نہ ہی ان سے کوئی تعزیت کی۔ اگر وہ ایسا کرتے تو یہ یقیناً امام رشیدی کے لیے زخم کو بھرنے میںمعاون و مددگار ہوتا۔ توقع ہے کہ اگر یہ اس وقت نہیںکیا جا سکا تو اب بھی کیا جائے تاکہ ہندو – مسلم اتحاد اور قومی ہم آہنگی کا یہ جذبہ مزید آگے بڑھے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *