اب تو ہم بہت خراب دن میں آگئے

up-election

ملک کے سیاسی حالات بدلتے رہتے ہیں لیکن گزشتہ دنوں یہ تبدیلی اور تیز ہوئی ہے۔ یوپی اور بہار میںضمنی انتخابات تھے۔ یو پی کے دو ضمنی انتخابات اہم تھے کیونکہ یہ دونوںسیٹیں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی تھیں۔ دونوں ارکان پارلیمنٹ تھے۔ ان دونوںسیٹوںکو خالی کرنے کے بعد یہ طے تھا کہ دونوں سیٹیں بی جے پی جیتے گی۔ سبھی سوچتے تھے کہ ایسا آسانی سے ہو جائے گا۔ جب سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے طے کیا کہ دونوںمل جل کر امیدوار اتاریںگے تو بی جے پی کے کارکنوں نے ان کا مذاق اڑایا۔ بی جے پی کا یہ مزاج ہے کہ وہ خود کی بداخلاقی نہیںدیکھتی ہے اور دوسروں پر سوال اٹھاتی ہے۔ جو نتیجے آئے، اس کے لیے بی جے پی تیار نہیں تھی۔ بی جے پی دونوںسیٹیںہار گئی۔ یہ اس کے لیے ایک جھٹکا ہے۔ بی جے پی مانے یا نہیںلیکن یہ سبھی مانتے ہیں کہ بہار میںلالو یادو کو جیل میںڈالنے اور سی بی آئی کے تنگ کرنے کے باوجود عوام نے آر جے ڈی میںاعتماد جتایا ہے۔

 

 

 

ہار سے سبق

سیاسی نقطہ نظر سے اس سے کیا سبق ملتا ہے؟ دو تین چیزیںسمجھنی چاہئیں۔ ایک یہ کہ 2014 میںمودی جی ایک بڑے لیڈر کے طور پر ابھرے ۔ ان کی عمر منموہن سنگھ سے کم تھی۔وہ جاب دینے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئے۔ چار سال بعد اب بی جے پی کے کٹر حامی بھی سمجھتے ہیںکہ یہ پاسہ نہیں چلا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو وعدے کیے تھے، وہ پورے نہیں ہو پائے۔ اپوزیشن اس سے بھی سخت الفاظ میںمخالفت کرے گی لیکن لوگوں کو بھی اپنا تجزیہ کرنا چاہیے۔ مودی جی کے خلاف بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مودی جی خود جانتے تھے کہ یہ وعدے پورے نہیںہوسکتے ہیں۔ انھوںنے کہا تھا کہ سبھی کے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ روپے آجائیں گے۔ ہندوستانیوں کی جو دولت غیر ملکوںمیںچھپی ہے اسے ہم لاکر دے دیںگے۔
بعد میںامت شاہ مان گئے کہ یہ جملہ تھا۔ پندرہ لاکھ کا کوئی حساب کتاب ان کے پاس نہیںہے۔ پندرہ لاکھ چھوڑیے ، جن ہندوستانی لوگوںکا سرمایہ تھا، وہ بھی واپس نہیںآیا۔ یہ افسوس کی بات ہے۔ سویٹزرلینڈ میںسب سے زیادہ لوگ روپے رکھتے ہیں۔ وہاںکا قانون بہت سخت تھا۔ سبھی سویس بینک اکاؤنٹ غائب ہوگئے۔ پھر سبھی روپے کہاںگئے؟ ملک میںتو نہیںآئے۔ ہم سویٹزر لینڈ کے خلاف ہیںکیا؟ یہ پالیسیوںکا خوف ہے ۔ یہ پالیسیوںکی کھوٹ ہے۔ جو وعدے سرکار نے کیے تھے، وہ اتنی بری طرح فیل نہیںہوتے۔ سو فیصد وعدے تو نہیں ہوتے ہیںلیکن جو کامیابی کاراستہ تھا،وہ بھی سرکار نے خود چھوڑ دیاکیوں؟ انا،ضد اور غیر جمہوری طریقوں کو اپنانا ہی اس کی اہم وجہ تھی۔

 

 

 

 

 

غیر ملکی سرمایہ کی بات

پہلے غیر ملکی سرمایہ کی بات کرتے ہیں۔ راہل بجاج واحد صنعت کار ہیں، جنھوں نے کہا ہے کہ یہ سرکار کیا چاہتی ہے؟ اگر سرکار چاہتی ہے کہ ہندوستانی اپنے روپے واپس لے آئیں، تو اسے ایسے حالات بنانے چاہئیںتھے کہ لوگ خود اپنا پیسہ لے آئیں۔ اب داروغہ کی دھمکی سے کوئی ڈرتا نہیں ہے۔ سرکار نے دھمکی دی، اس کے باوجود کوئی اپنے روپے لے کر یہاںنہیںآیا۔ سرکار کو فکی، ایسوچیم، بیورکریٹ او رانکمٹیکس افسروںسے صلاح لینی چاہیے۔ یہ افسر روز ان مسئلوں کو ڈیل کرتے ہیں۔ وہ سرکار کو بتاسکتے ہیں کہ ایسا قانونی مسودہ بنائیے، جس سے سبھی روپے ملک میںآجائیں۔لیکن مودی جی اور امت شاہ ایسا کوئی ڈھانچہ نہیںبنائیں گے۔
روپیہ پانی کی طرح ڈھلان کی طرف جاتا ہے۔ پیسہ بھی وہیںجاتا ہے ، جہاں پیسے سے پیسہ پیدا ہو، پیسے سے ریٹرن ملے۔ روپیہ سویٹزر لینڈ کیوںگیا؟ وہاں اس لیے گیا کیونکہ سرکار نے سیفٹی کو لے کر لوگوں کو ڈرا دیا۔ اب چار سال میںسرکار نے اور ڈرا دیا۔ یہاںسے اچھے اچھے آنترپرنیور ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں ۔ سرکار کی کیا پالیسی ہے؟ لگتا ہے مودی جی اپنے کمرے میںاکیلے سوچتے رہتے ہیں جبکہ انھیںدوسروں سے صلاح لینی چاہیے۔ ورلڈ بینک نے ’اِز آف ڈوئنگ‘ بزنس کہہ دیا تو سرکار ڈھنڈورہ پیٹنے لگی۔ یہ سچ نہیںہے۔ سچ یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت انٹرپرینر شپ تھی۔ ہندوستان کا چھوٹے سے چھوٹا آدمی بھی دکاندار بننے کو تیار ہے۔ فیکٹری کھولنے کو تیار ہے۔ لوہا- لکڑ کا کام کرنے کو تیار ہے۔ یہی ہندوستان کی سب سے بڑا سرمایہ تھا۔
آج پورا افریقہ ترقی پذیر ہے، ہم آج بھی ترقی پذیر ملک بنے ہیں۔ منرلس کے معاملے میںہم خوشحال ہیں۔ ہندوستان انٹرپرینر شپ میں آگے ہے۔ لیکن مودی جی کو نہرو اور کانگریس کا نام پسند نہیں ہے۔ نجی پسند یا نا پسند الگ بات ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ کانگریس کا سب سے بڑا سرمایہ یہ ہے جو ملک کو یہاںتک لے کر آئی۔ آدمی اپنا خاندان چلانے یا انڈسٹری چلانے کے لیے دن میںسولہ – اٹھارہ گھنٹے محنت کرتا ہے۔ آج جو ہندوستانی ملک میںپچاس سال سے فیکٹریاںچلا رہے ہیں، ان کی فیکٹری اگر آپ چھین رہے ہیں یا روپے لے کر بند کر رہے ہیں یا گرفتار کرنے کی دھمکی دیتے ہیں تو وہ ملک چھوڑ کر بھاگ جائیںگے۔ پتہ نہیں،سرکار کیا چاہتی ہے؟ کیا مودی جی اپنے جانے کے بعد ہندوستان کو زیرو کر دینا چاہتے ہیں؟

 

 

 

 

 

سرکار کے پاس ایک سال

سرکار کے پاس ایک سال ہے۔ اس میںسرکار زیادہ کچھ نہیںکرپائے گی لیکن کم سے کم جو ٹرین ڈریل ہو گئی ہے، اسے واپس ٹریک پر لانے کی کوشش تو کر سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ 2019 کے بعد بھی مودی جی وزیر اعظم رہیں ۔ ہوسکتا ہے کم سیٹیںملیں، لیکن اس میںبھی کوئی غلط بات نہیںہے۔ مودی جی کو اپنی انا چھوڑنی ہوگی۔ انا سے اتنا بڑا ملک نہیںچل سکتا ہے۔ غیر ممالک سے روپے آئے نہیں اور یہاںبھی سب کمپنیاں بند ہورہی ہیں کیونکہ سرکار نے این پی اے پر اچانک ڈنڈا اٹھا لیا ہے۔
این پی اے کیا ہے؟ جن کی سود کی رقم بقایا ہوگئی، سے ادا نہیںکر پارہے ہیں۔ بینکوں نے صنعتوںکو جو روپے دے رکھے ہیں، ان کے بورڈ میںبینک کے نمائندے بھی بیٹھتے ہیں۔ جہاں بینک کو یہ لگے کہ کسی کمپنی کا مالک روپے کھا رہا ہے،لیکن بینک کو نہیںدے رہا ہے، وہاں سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ انھیں روپے دینا بند کر دیجئے، کمپنی بند کر دیجئے لیکن جہاں بینک کے نمائندے کو بھی معلوم ہے کہ مارکیٹ کے حالات خراب ہیں ، اس لیے نہیںدے پا رہے ہیںتو ان معاملوں میںکوئی بیچ کا راستہ نکالیے۔ بینکنگ تو دھندہ ہے۔ بینک گورنمنٹ نہیں ہے، ٹیکس نہیںہے۔ سود ٹیکس نہیںہوتا ہے۔ ٹیکس الگ ہے۔ بینکوں نے جو سرمایہ دیا ہے، کچھ وقت کے لیے سود کم کردیجئے۔ اس سے ہو سکتا ہے کہ کمائی تھوڑی کم ہو جائے گی لیکن اگر سونا دینے والی مرغی کو ہی مار دیںگے تو پھر آپ کو سونا کیسے ملے گا؟
سرکارنے بینکوں کو ڈرا دیا، ہر ایک کے خلاف سی بی آئی اور پولیس کو لگا دیا۔ سرکار چاہتی کیا ہے؟ بینک بند ہوجائیں،چھوٹی صنعتیں بند ہوجائیں، بڑی صنعتیں نیلام کردیں اور انھیںغیر ملکی لوگ خرید لیں۔ مودی جی، ہمیں نہیںپتہ کہ آپ کے صلاحکار ارون جیٹلی ہیںیا ہنس مکھ ادھیا،لیکن ہم کس سمت میںجا رہے ہیں۔ میںملک کی بات کر رہا ہوں، بی جے پی یا کانگریس کی بات نہیںکر رہا ہوں۔ جتنی انڈسٹریز لگی ہیں، ان کو سنجو کر رکھیے۔ ہوسکتا ہے کہ دس فیصد کمپنیاںاَنوائبل ہو گئی ہوں، یہ بینکوںکو معلوم ہے۔ بینک نے جو لون دوسروں کو دیا ہے،ان کے پاس سبھی کی فائل ہے۔ کمپنیوںکے بورڈ میںبینک کا نمائندہ بیٹھتا ہے۔ جن کمپنیوں نے گھپلہ کیا ہے تو ان کا پیسہ وصول لیجئے۔ وہ دس فیصد بھی نہیں،محض پانچ فیصد ہوںگی۔ 95 فیصد صنعت کار عا م لوگ ہیں۔ سرکار ان کو چن چن کر نشانہ بنا رہی ہے کیونکہ مودی جی کی کسی سے بنتی نہیںہے۔ جلن، بغض ، غصہ ، یہ سب انسانی فطرت ہے لیکن وزیر اعظم میںنہیںہونا چاہیے۔ غصہ سے آپ غلط فیصلے لیںگے۔

 

 

 

 

 

 

کیسے شروع ہوئی گڑبڑی؟

مودی جی شروع میں لوگوںسے اطمینان سے اور مثبت باتیںکرتے تھے۔ دو ڈھائی سال تک مجھے نہیںلگا کہ سرکار کچھ غلط کر رہی ہے لیکن کچھ قریبی لوگوں نے ہی مودی جی میںیہ احساس کمتری پیدا کردی کہ آ پ کچھ کر نہیں پائے۔ بچہ پیدا کرنے میںبھی نو مہینے لگتے ہیں۔ پانچ سال میںہی پانچ ہزار سال پرانے ملک کو نہیںبدلا جاسکتاہے۔ لیکن مودی جی نے سب گڑبڑ کردیا۔ مودی جی نے 8 نومبر کو اتاؤلے پن میںنوٹ بندی لاگو کردی۔ اس سے سارا معاملہ ملیا میٹ ہوگیا۔ 8 نومبر 2016 کے بعد ملک کی معیشت چرمرا گئی ہے جو آج تک ٹریک پر نہیںلوٹی ہے۔ سرکار روز کچھ ایسا کررہی ہے، جس سے معاملہ اور بگڑ رہا ہے، جیسے این پی اے ۔ کسی ایک بینک میںنیرو مودی کا اسکینڈل ہوگیا۔ اب بینک منیجر کو پکڑ کر جیل میںبند کیے ہیں۔ کیا جیل میںڈال دینے سے روپے مل جائیں گے؟
جیسے اندرا جی کو کچھ معاملوں میںلوگوں نے کہا تھا کہ اگر ہمیں جیل میںڈالنے سے ملک کی ترقی ہوتی ہے تو ہم خود جیل میںرہنے کو تیار ہیں۔ بتائیے کتنے سال جیل میںرہنا ہے؟ یہ حل نہیںہے۔ یہ صرف مودی جی کا 56 انچ کا سینہ فریم کرتے ہیں تاکہ بھرم بنا رہے کہ ان کا 56 انچ کا سینہ ہے۔ اس سے ملک کا کوئی فائدہ نہیںہوگا۔ انڈسٹری کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ نئی نوکریاں نہیںملیںگی۔ پرانی نوکریاں بھی خطرے میں ہیں۔ سبھی آدمی غصے میںہیں۔ کسان کچھ نہیںکر سکتے ہیں۔ فصل برباد ہوگی تو کسان ڈیری فارمنگ کرنا چاہے گا۔ اب تو وہ بھی نہیںکرسکتا کیونکہ اس کی گائے کو کب راستے میںکون پکڑ کر مار دے گا، پتہ نہیں سرکار نے تو معیشت کا ایسا بندوبست کردیا ہے کہ ملک کے لوگوںکی طاقت کو سنجوکر اوپر لانے کے سبھی راستے بند ہوگئے ہیں۔
یہا ں بہت سارے غیر ملکی ایجنٹ ہیں ۔ ایک غیر ملکی ایجنٹ کہتاہے کہ پبلک سیکٹر کے بینکوں کا ٹائم آگیا ہے۔ وہ چاہتے ہیںکہ یہ بینک ان کے حوالے کر دیے جائیں۔ سرکار کو بھی پتہ ہے کہ وہ لوگ کیا کررہے ہیں جبکہ سرکار کو بینکوںکا نیشنلائزیشن کرنا چاہیے، انشورنس کا نیشنلائزیشن کرنا چاہیے اور مائننگ کا بھی نیشنلائزیشن کرنا چاہیے۔ مائننگ میںسب سے بڑی چوری ہے۔ کول پر کانگریس نے بھی غلط کیالیکن بی جے پی اور کانگریس کا راستہ ایک ہی ہے۔ اب ریزرو بینک کے گورنر کہتے ہیںکہ ان کے پاس پاور ہونی چاہیے۔ پہلے ریزرو بینک پاورفل تھا۔ سبھی بینک ان کے انڈر تھے۔

 

 

 

 

 

بینکوںکا نیشنلائزیشن

اندرا گاندھی نے 19 جولائی 1969 کو 14بینکوں کا نیشنلائزیشن کردیا۔ 1980میںچھ بینکوںکو نیشنلائزیشن کردیا۔ 19 جولائی 1969 کو جب نیشنلائزیشن کیا گیا تب سرکار نے ڈپارٹمنٹ آف بینکنگ بنایا جو پہلے نہیںتھا۔ وزارت مالیات میںڈپارٹمنٹ آف ریونیو ، ڈپارٹمنٹ آف اکانومک افیئرز، ڈپارٹمنٹ آف بینکنگ کردیا۔ اس کے بعد ایک ایڈیشنل سکریٹری بنا دیاجو سب بینکوںپر نگرانی رکھے۔ یہ تو ریزرو بینک کے متوازی ایک اتھارٹی بنا دی۔ اٹل جی کی سرکار نے ڈپارٹمنٹ آف بینکنگ سے ڈپارٹمنٹ آف فنانشیل سروسز نام رکھ دیا۔ چاہے کانگریس سرکار ہو یا بی جے پی، کام کرنے کے طریقے نہیںبدلے ہیں۔ وزیر اعظم چاہتا ہے کہ فلاںکو لون دیا جائے تو وزیر مالیات بینک چیئرمین کو فون کردیتا ہے۔ فون سے کام ہوجاتا ہے کیونکہ اس کی نوکری وزیر صاحب کے ہاتھ میںہے۔ لون دیتا ہے پھر وہی این پی اے ہوجاتا ہے۔ پنجاب نیشنل بینک نے لون بینکنگ ڈپارٹمنٹ کے کہنے سے دیا ہے۔ وہ بینکنگ ڈپارٹمنٹ چدمبرم کے ہاتھ میںتھا یا جیٹلی کے انڈر میں،سوال یہ نہیں ہے۔ سوال سسٹم کا ہے۔
یہ سسٹم غلط ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیںکہ آگے ایسا نہ ہو تو پہلے اس ڈپارٹمنٹ کو ختم کیجئے۔ ساری پاور صرف ریزرو بینک کے پاس ہو، اپنے آپ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ریزرو بینک کے لاء میںہے۔ آڈٹ میںبھی کچھ نہیںہوتا ہے۔ ریزرو بینک کے آڈٹ میں وہ بول دیںگے کہ کیا کریںصاحب اوپر سے فون آگیا، مجھے لون دینا پڑا۔ یہ اوپر سے فون آنے کا سسٹم بند کیجئے۔ اوپر سے فون آنا ہے تو ریزرو بینک کو فون کریں۔ ریزرو بینک احتیاط برت کر کام کرے گا۔ یہ ڈپارٹمنٹ آف بینکنگ کو ہٹائیے۔ ہٹانے میںکافی دیر ہوچکی ہے۔ منموہن سنگھ کے دور میںجب 1991 نیو لبرل اکانومک شروع ہوئی، تبھی یہ ہو جانا چاہیے تھا۔
ڈپارٹمنٹ آف بینکنگ کا یہی مطلب تھا کہ لون ان ہی کو ملے گاجو وقت پر لون واپس دے۔ ٹیکسی والوں، ٹھیلے والوں، ٹرک والوں کو بھی لون ملا اور اس کا فائدہ بھی ہواہے۔ میںاس کے خلاف نہیںہوں لیکن دونوںباتیںچل سکتی ہیں۔ اگر ایک لون خراب ہوتا ہے تو کیا اسے پھانسی پر چڑھادیںگے؟ جیسے آپ بچہ پیدا کرتے ہیں ۔ اگر اس میںکوئی بچہ مرجائے تو کیا باپ کو پھانسی چڑھا دیںگے ؟ ایسے میںکوئی بچہ پیدا نہیں کرے گا۔ انڈسٹری اور انٹرپرائزز میںبھی کچھ غلطی ہوسکتی ہے۔

 

 

 

 

ضرورت انکوائری کی

سرکار کو ان معاملوں میںانکوائری کرنی چاہیے۔ میںآپ انڈسٹری سیکٹر میںپیدا ہوا ہوں۔ میںیہ ماننے کو تیار نہیںہوں کہ کوئی جان بوجھ کر اپنی انڈسٹری کیوں خراب کرے گا؟ ہندوستان کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی انڈسٹری سے جڑا پیسہ نکالتا ہے۔ امریکہ انگلینڈ میںایسا نہیںہے۔ یہاںکے مینجمنٹ کو ہی دیکھ لیجئے۔ آپ کسی کو اپائنٹ کرتے ہیں۔ اسے کمپنی کی کار دیتے ہیں لیکن کمپنی پرسنل کام کے لیے بھی کار استعمال کرتی ہے۔ یہاںکی روایت ہے۔
روایت بدلنے میںسالوںلگیںگے۔ اس چکر میںپڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن جو لون آپ نے نیرو مودی کو دیا تو پھر ڈرانے کی کیا ضرورت ہے؟ وجے مالیا کو ڈرانے کی کیا ضرورت ہے؟ ان سے کہیے کہ آپ کو کوئی گرفتار نہیںکرے گا۔ آپ نے کوئی مرڈر نہیںکیا ہے۔ آپ نے روپیہ لیا ہے، وہ ہمیں واپس چاہیے۔ ان کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کیجئے۔ کوئی راستہ نکالیے یہ تو گاؤں کا منی لینڈر بھی سمجھتا ہے کہ جس کے پاس پیسہ اٹک گیاہے، وہاں ہوشیاری کرنے کی ضرورت ہے ۔
اب حل کیا ہے؟

 

 

لیکن یہ سرکار ہے، اپنی طاقت دکھانا چاہتی ہے۔ سب جاکر لندن میںبیٹھ گئے۔ اس سے کیا حاصل ہوگیا؟ وہ ڈر کر لندن میںبیٹھ گئے ہیں لیکن سرکار نے مذاق بناد یا۔چار سال میںسرکار نے وہ کردیا جو آزاد ہندوستان میںکبھی نہیںہوا۔ اندرا گاندھی کی ایمرجنسی میںبھی یہ نہیںہوا۔ ایمرجنسی میںسیاسی مخالفین کو جیل میںڈال دیا گیاتھا، جو سیاست میںتھے اور آج بھی ہیں۔ انھیںتو اس سے اعتراض ہوسکتا ہے لیکن اس سے عام آدمی کو اعتراض نہیںتھا۔ ان کی زندگی کو سرکار نے تباہ نہیںکیا۔ حالانکہ لوگوںنے ان کے خلاف ووٹ دیا کیونکہ ان کو آزادی پسند ہے۔
سرکار کے ہاتھ میںچار سال تھے،وہ سب ختم کردیے۔ سترہ ہزار کسان پیدل چل کر ممبئی تک آئے۔ کسی کو پیدل مارچ کرنے کا شوق نہیںہے۔ مررہے ہیں،اب کیا کریں؟ بچے بھوکے مر جائیںگے۔ ان کی پڑھائی نہیںہورہی ہے۔ دوا کا پیسہ نہیں ہے۔ اب سرکار کیا کرے گی، سوال یہ نہیںہے۔ سوال یہ ہے کہ سرکار کچھ نہ کرے،پرانے سسٹم کو لوٹادے۔ جیسے ملک مودی جی کے اقتدار میںآنے سے پہلے چل رہا تھا، واپس ویسے چلے، تو وہی اچھے دن تھے۔ مودی جی نے جب کہا تھا کہ اچھے دن لائیںگے تو اس سے مطلب یہ تھا کہ پہلے سے اچھے دن لائیںگے۔ اب تو ہم بہت خراب دن میںآگئے۔ چھوٹا بزنس مین تکلیف میں ہے۔ بڑے صنعت کار تکلیف میںہیں۔ کسان تکلیف میںہیں تو پھر اچھے دن میںخوش کون ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *