اب چینلوں پر بھی نظر رکھنے کا پلان بن رہا ہے

’فیک نیوز‘ کے بہانے پریس کی آزادی پر لگام لگانے میںناکام رہنے کے بعد مودی سرکار اب ٹی وی چینلوں کو نشانہ بنانے جا رہی ہے۔ سرکار یہ نظر رکھے گی کہ عموماً کون شخص کس کس نیوز چینل کو کتنی دیر تک دیکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے ذریعہ سرکار کا ارادہ ’گودی میڈیا‘ کے خلاف چل رہی مہم کو ٹھنڈ اکرناہے۔
وزارت برائے اطلاعات و نشریات نے ’ٹرائی‘ کے چیئرمین آر ایس شرما کو ایک خط بھیج کر ٹی وی کے سیٹ ٹاپ باکس میںایک نئی چپ لگانے کی تجویز پر رائے مانگی ہے۔ دراصل، یہ’ چپ‘ یہ بتائے گی کہ کون آدمی کس کس چینل کو کتنی دیر تک دیکھ رہا ہے۔ ’چپ‘ کے ذریعہ یہ سارا ڈاٹا سرکار کے ڈاٹا بیس میںاپنے آپ پہنچ جائے گا۔ اسی ڈاٹا کی بنیاد پر مرکزی سرکار کی وزارت اطلاعات و نشریات کسی چینل کی ٹی آر پی طے کر کے اس چینل کے اقتصادی مستقبل کے دروازے کھولے گی۔
موجودہ نظام میںچینلوں کی ٹی آرپی کا اندازہ براڈ کاسٹ آڈینس ریسرچ کونسل یعنی ’بارک‘ BARCکے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ ’بارک‘ اس عمل کے تحت ملک کے چنندہ 30 ہزار گھروں میںبی اے آر اور میٹر لگاتا ہے۔ان میٹروںکے ذریعہ ہی وہ ٹی آر پی کے اعداد و شمار حاصل کرنے کا کام کرتا ہے۔
عام طور پر یہ بی اے آر او میٹر گاہکوںکی رضا مندی لے کر ہی ان کے ٹی وی سیٹوں میںلگائے جاتے ہیں۔ لیکن اس کی معتبریت کو لے کر اکثر سوال اٹھتے رہے ہیں۔اس کے باوجود چینلوں کی ٹی آر پی کے بارے میںسرکار کا پورا انحصار ’بارک ‘کے اندازے پر ہی ٹکا ہوا ہے۔
کہا یہ جارہا ہے کہ سرکار اس’ چپ‘ کے ذریعہ’ BARC‘ کی اس اجارہ داری کو بھی توڑنا چاہتی ہے۔ پھر جب چینلوں کی ٹی آر پی طے کرنے کا حق وزارت اطلاعات و نشریات کے ہاتھوں میں ہوگا تو ’اپنوں‘ کو سرکاری خیرات باٹنا شاید سرکار کے لیے زیادہ آسان ہوجائے گا۔
حالانکہ دلیل یہ بھی دی جارہی ہے کہ سیٹ ٹاپ باکس میںنئی’ چپ‘ لگنے کے بعد ٹی آرپی ناپنے کا پیمانہ پوری طرح بدل جائے گا۔ یہ طریقہ زیادہ شفاف، آزاد اور غیر جانب دار ہوگا۔سرکار اسی نقطہ نظر سے سیٹ ٹاپ میںچپ لگانے کے فارمولے پر غور کر رہی ہے جو شاید زیاد ہ وسیع بنیاد والا اور کارگر ہوگا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اس کے ساتھ ہی سرکار ڈی ٹی ایچ (ڈائریکٹ ٹو ہوم) کے لائسنس ضابطوں میںبھی کچھ بنیادی پھیر بدل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ پچھلی 27فروری کو وزارت اطلاعات و نشریات سے جڑی انٹر منسٹریل کمیٹی نے ڈی ٹی ایچ لائسنس کے ضابطوں میںتبدیلی کے ایک مسودے پر بات چیت کی تھی۔ لیکن ان تبدیلیوں کو نافذ کرنے سے پہلے وزارت نے اس کے تکنیکی پہلوؤں پر ٹیلی کمیونکیشن ریگولیٹری سے رائے مانگی ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے جن نکات پر ریگولیٹری (TRAI) سے رائے مانگی ہے، ان میںنئی چپ لگانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ فی الحال ٹیلی کمیونکیشن ریگولیٹری نے ابھی اس پر اپنی رائے نہیںبھیجی ہے لیکن سمجھا جارہا ہے کہ ٹرائی اس معاملے میں سرکار کی منشا بھانپ کر ہی اپنی تجاویز بھیجے گا۔
امید یہ کی جارہی ہے کہ ٹیلی کمیونکیشن ریگولیٹری سرکار کی اس تجویز پر آخرکار اپنی مہر ہی لگائے گا، جس کے بعدسرکار کے لیے سبھی گاہکوں کا ڈاٹا حاصل کرنا آسان ہوجائے گا۔ غور طلب ہے کہ اس کے لیے سرکار کو گاہک کی منظوری لینا بھی ضروری نہیں ہوگی۔ حالانکہ ’بارک‘ گاہکوں کی رضامندی کے بعد ہی ان کے گھروںپر بی اے آر او میٹر لگتا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے انفارمیشن منسٹری نے ’بارک‘ کے اعداد و شمار کی صداقت جانچنے کے لیے ابتدائی طور پر تین سو میٹر خریدنے پر غور کیا تھا لیکن بعد میںلگا کہ اتنے میٹر ناکافی ہیں تب سیٹ ٹاپ باکس میںچپ لگا کر ویور شپ ڈاٹا حاصل کرنا کا فیصلہ ہوا۔
نئی چپ لگانے کے پیچھے سرکار کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ’بارک‘ پر انحصار کے چلتے دوردرشن کی ویورشپ کو کم کرکے آنکا جاتا ہے جبکہ نئی چپ کی معرفت جٹائے گئے اعداد وشمار زیادہ معتبر ہوںگے اور اس سے اشتہار دینے والے اور ڈی اے وی پی اپنے اشتہارات کا پرسار اور زیادہ محتاط طریقے سے کر سکیں گے۔
دوسری طرف ڈی ٹی ایچ معاملوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکار کے ذریعہ ٹی وی چینلوںکی نگرانی کرنا ذاتی آزادی پر سرکار کا منظم حملہ ہے۔ آئین کے آرٹیکل 21 میںہر شخص کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق ملا ہوا ہے جبکہ سرکار کا یہ قدم سیدھے طور پر اس کی پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ ہم کب کون سا چینل دیکھتے ہیں، اسے جاننے اور ہماری نجی زندگی میں تاک جھانک کرنے کا سرکار کو کوئی حق نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جانے مانے وکیل سوامی ناتھن کا ماننا ہے کہ اس سے کئی طرح کے اندازے لگائے جاسکتے ہیں کہ کون کتنی دیر تک کون سا چینل دیکھ رہا ہے۔ کیمبرج اینالیٹکا نے بھی اسی طرح سے فیس بک سے ڈاٹا اڑا کر اس کا سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ ’نمو ایپ‘ کے ذریعہ بھی اسی طرز پر عام شہریوں کا ڈاٹا جمع کرنے کا الزام ہے تو کیا آپ کے سیٹ ٹاپ باکس میںلگنے والی چپ بھی آپ کی پرائیویسی میںنقب لگانے کی جبریہ کوشش نہیںہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *