دہلی : مسلمانوں نے کرائی ایک یتیم غیرمسلم لڑکی کی شادی

non-muslim-marriage
ایک طرف جہاں پورے ملک میں نفرت کا ماحول ہے اور ایک دوسرے کو لڑانے کی سازشیں چل رہی ہیں وہیں دوسری طرف دہلی کے چھتر پور علاقے میں رہنے والے کچھ مسلمان ہیں ایک یتیم ہندو بچی کی شادی اور کنیا دان کر کے نفرت کی فضا کو روکنے اور آپسی میل جول کو پروان چڑھانے کی کوشش کی ہے اور ہند ومسلم ایکتا کی نئی مثال قائم کی ہے ۔چھتر پور میں واقع شیوالی والے چوپال میںیتیم بچی کماری پشپا کی شادی براڑی گاؤں کے رہنے والے مکیش سے کی گئی ہے ۔اس موقع پر پشپا کو علاقے کے لوگوں کی طرف سے جہیز کی شکل میں روزمرہ کے استعمال کی چیزیں بھی مہیا کرائی گئی ہیں۔
’ہندوستھان سماچار‘کے مطابق،پشپا کی پڑھائی لکھائی سے لے کر شادی تک کی پوری رسومات کٹوریا سرائے ،بال ودیالیہ کے ٹیچر نصیر احمد صدیقی نے نبھائی ہے ۔انہوں نے اپنے کچھ ساتھیوں اور اہلیہ نجمی بانوکی مدد سے پشپا کی شادی دھوم دھام سے کرائی ہے ۔ اس یتیم بچی کو والد کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ اس موقع پر تقریباً دو سو لوگ اس شادی کی تقریب میں شرکت کی ہے ۔سات سال پہلے پشپا جب چودہ سال کی تھی تب اس کے والد منوج کمار جھا کا انتقال ہو گیا ۔پشپا کے خاندان میں ماں لکشمی جھاکے علاوہ8اور دس سال کے دو بھائی بھی ہیں۔مہیلا جاگروکتا کیمپ کے تحت مزدوروں کو تعلیم دینے والا پروگرام کے ذریعہ لکشمی کی ملاقات سماج سویکا نجمی بانو اور نصیر احمد صدیقی سے ہوئی تھی ۔ اس جوڑے نے کچھ گھروں میں کھانا پکانے کا کام لکشمی کو دلا دیا تھا اور تینوں بچوں کی تعلیم اور تربیت کا ذمہ اپنے ذمے اٹھا لیا تھا ۔آج ان کی بدولت لکشمی کا خاندن پوری طرح سے پھل پھول رہا ہے ۔جہاں پشپا نے گریجویشن کی تعلیم پوری کرلی ہے وہیں اس کے دونوں بھائی بھی تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر پشپا کی ماں لکشمی کا کہنا ہے کہ آج بھی انسانیت زندہ ہے تبھی تو ہمارے خاندان کو سنبھالنے اور آگے بڑھانے میں اس مسلم خاندان نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *