اردو اکادمی ،دہلی کے زیر اہتمام سالانہ نئے پرانے چراغ کا سلسلہ جاری

naye-purane-charag
نئی دہلی :اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے دہلی کے بزرگ اور جوان قلمکاروں کے پانچ روزہ ادبی اجتماع نئے پرانے چراغ کا سلسلہ قمررئیس سلور جوبلی آڈیٹوریم، اردو اکادمی، کشمیری ،دہلی گیٹ میں جاری ہے ۔پانچ روزہ نئے پرانے چراغ کے دوسرے روز کے پہلے اجلاس کی صدارتی تقریر میں غالب انسٹی ٹیوٹ ،نئی دہلی کے ڈائرکٹر ڈاکٹرسیدرضا حیدر نے کہا کہ میں اردو اکادمی کے عہدیداران اور ذمے داران کو مبارک باد دیتاہوں، یہ نئے پرانے چراغ ہماری تہذیب کا خوبصورت حصہ بن چکا ہے مجھے امید ہے کہ دہلی کی تہذیبی زندگی کی تاریخ میں اس سمینار کو اولیت حاصل ہوگی ۔ اتنے بڑے مجمع کو اکٹھا کرنااردو اکادمی کے علاوہ کسی کے لیے بھی ناممکن ہے،اس سمینار کو بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ اس کے نظم و ضبط کو آپ حضرات بنائے رکھتے ہیں۔ غالب،حالی، عبدالحق اور جوش یہ ہماری شاعری اور دانش وری کے چار ستون ہیں، جن پر آج مقالے پیش کئے گئے ۔غالب کو پوری دنیا میں روشناس کرانے میں حالی کا جو کام ہے وہ بہت ہی اہم ہے، اب ایسا لگتا ہے جیسے غالب ہماری زندگی کا خوبصورت حصہ بن چکے ہیں۔ معروف صحافی سہیل انجم نے اپنی صدارتی گفتگو میں کہا کہ جوش نے اردو شاعری کے لیے گراں قدر خدمات پیش کی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اگلے اجلاس میں جوش پر اور مقالات پیش کئے جائیں گے۔غالب کی شاعری کا کیا ہم اس طرح سے بھی تجزیہ کرسکتے ہیں کہ غالب نے اپنی شاعری میں جو کچھ کہا انہیں موجودہ سائنسی عہد سے ان کا تطابق کریں ۔دوسرے روز کے پہلے اجلاس میں تحقیقی وتنقیدی مقالات پیش کیے گئے ،جس میں دہلی یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر شگفتہ پروین نے ’’اردو نثر اورمولوی عبدالحق‘‘ ،عبدالرحمان نے ’’جوش کی شاعری میں ادبی طبقے کے مسائل‘‘ ،شاہ نواز حیدرنے ’’اردو غزل کامعراج سخن:مرزاغالب‘‘ ،محمدرضوان خان نے ’’مولاناحالی کے روشن افکارمسدس مدوجزرکے تناظرمیں ‘‘،عذرا سہیل نے ’’حالی کی فکر تعلیم میں عورت کاتصور‘‘،عبدالباری نے ’’مولوی عبدالحق کانثری اسلوب‘‘،سراج الحق نے ’’حالی کی ادبی شخصیت کاارتقا‘‘،اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالرزعلام الدین نے ’’بچوں کے حالی‘‘ اورسروری خاتون نے ’’حالی کی نظم نگاری‘‘ جب کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرزحفظ الرحمان نے ’’ مولوی عبدالحق کی نثری خدمات‘‘،نازیہ حسن نے ’’خواجہ الطاف حسین حالی‘‘ اورمحمدرفیع نے ’’غالب کی شاعرانہ عظمت‘‘ کے عنوان سے اپنے مقالات پیش کیے ۔

 

ظہرانے کے بعد کے تخلیقی اجلاس کی صدارت معروف فکشن نگار مشرف عالم ذوقی اور سجادظہیرکی صاحبزادی نور ظہیر نے کی ۔اس اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نورظہیر نے کہاکہ کہانی اپنی شکل بدلتی رہتی ہے، افسانے میں یہ چلن عام ہے کہ اس میں تغیر کے امکانات بہت ہیں۔افسانہ صرف سماج کا آئینہ نہیں ہوتا بلکہ وہ سماج کو بھی بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے اس موقع پر نئے افسانہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں افسانے کے کرافٹ ،بیانیہ اور حقائق پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ بھی دیا ۔
اپنی صدارتی گفتگو میں مشرف عالم ذوقی نے کہا کہ فکشن کچھ بتانے اور کچھ چھپانے کا نام ہے۔ آج کا زمانہ تنقید کا نہیں ہے، تنقید یا تو محدود کرتی ہے یا ختم کردیتی ہے۔ اس پروگرام میں عورتوں کی خاصی تعداد ہے اور یہ خوش آئند بات ہے ۔ آج نفرتیں پیدا کی جارہی ہیں۔ آج بھی وہی ماحول ہے، جو انیس سو چھتیس میں تھا۔پریم چند نے کہا تھا اب ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگا۔ مگر مجھے آج بھی حسن کے معیار کو بدلنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے ۔ اردو آج پھر زندہ ہوگئی ہے، آج مدرسے اردو کے فروغ کے لئے اچھا کام کررہے ہیں۔ کئی نوجوان ایسے ہیں، جن کی شہرت سرحدوں کو پار کرچکی ہے۔ ان کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے، ان سے توقع بڑھ گئی ہے۔ کرداروں کی تخلیق کے لئے افسانہ نگاروں کو سخت محنت کرنی چاہیے۔کہانی کو چوہے بلی کا کھیل کرنا چاہیے۔نئے افسانہ نگاروں کو یہ کھیل کھیلنے کی ضرورت ہے۔ ان افسانوں میں وژن کی ضرورت ہے، صرف وژن آجائے تو بات بن جائے گی ۔ مجھے نئی نسل کے افسانہ نگاروں سے کافی توقعات وابستہ ہیں۔ نئے پرانے چراغ کا سلسلہ بہت اچھا ہے۔ فکشن کا معاملہ بہت مختلف ہے۔ فکشن کسی کے بتانے سے نہیں آتا۔ فکشن کی تعریف کو چھوڑ دیجئے۔ فکشن کی تعریف ،تعریف کی تشکیل کرنے والوں پرہی وہ تعریف ختم ہوچکی ہے،زمانہ بدل چکا ہے۔ اب معصوم، ولن بنائے جارہے ہیں اور ولن ہیرو، یہ تضاد کا وقت ہے۔ اس وقت کو ہمیں سمجھنا ہوگا اور ہم جیسے ہی اس عہد اور اس کے تضاد کو سمجھ لیں گے تو افسانہ خود بہ خود تیار ہوجائے گا۔زمانے کے تضادات سے نوجوان افسانہ نگارپنجہ آزمائی کریں ۔ اس تخلیقی اجلاس میں انیس مرزا نے افسانہ ’’سراب‘‘،ڈاکٹرممتازعالم رضوی نے افسانہ ’’ وقت‘‘،محمدنظام الدین نے افسانہ’’ نشتر‘‘،مسرورفیضی نے افسانہ ’’پاکسوایکٹ‘‘،نوازش مہدی نے افسانہ ’’ کائنات‘‘ ،محمدعلام اللہ نے ’’ کہرے کے پیچھے‘‘،نشاط حسن نے افسانہ ’’خون کی مہندی‘‘ ،فیصل نذیرنے افسانہ ’’چارلاشیں‘‘،شمس تبریز قاسمی نے افسانہ’’ خلع‘‘،سلمان عبدالصمدنے افسانہ ’’بجوکا‘‘ اورڈاکٹر شعیب رضا خان وارثی نے انشائیہ ’’اچھے دنوں کی یاد میں‘‘ پیش کیے ۔
نئے پرانے چراغ کے دوسرے روز شام سات بجے مشاعرے کاانعقادکیا گیا ،جس کی صدارت بزرگ اور معتبرشاعر وقارمانوی اور نظامت پیمبرنقوی نے کی ،جس میں تقریبا45؍شعرانے اپنے کلام پیش کیے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *